Kitab e Zindagi

تعمیر کی طاقت

Kitab e Zindagi — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (165 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. برتر حل
  3. تخلیقی صلاحیت
  4. محنت کے ذریعہ
  5. مقصدیت
  6. بچ کر چلیے
  7. حکیمانہ طریقہ
  8. تعمیر شعور
  9. کامیابی کیسے
  10. ایک نصیحت
  11. قیمت کا مسئلہ
  12. ناکامی، کامیابی
  13. کاروباری استقلال
  14. عمل نہ کہ ردعمل
  15. غصہ نہ دلاو
  16. اختیار اور بے اختیاری
  17. اپنی کمزوری
  18. سارا خون
  19. سبب اپنے اندر
  20. اپنی غلطی
  21. بچت سے اضافہ
  22. فتح بغیر جنگ
  23. حکمت کی بات
  24. سادہ اصول
  25. خطرہ نہیں
  26. جوش بغیر ہوش
  27. رواجی ذہن
  28. کامیابی کی شرط
  29. زندگی کا سفر
  30. دشمن سے سیکھنا
  31. بند ذہن
  32. بلند پروازی
  33. بے دانشی
  34. ہارمان کر
  35. کامیابی کا راز
  36. مجرم کون
  37. مشکل میں اسانی
  38. دکان داری
  39. موجودہ سماج
  40. خواب میں
  41. کامیاب سفر
  42. ممکن اور ناممکن
  43. ہر قسم کے مواقع
  44. معذوری کے باوجود
  45. کامیابی کا راز
  46. کتنا فرق
  47. مقصد کی اہمیت
  48. الٹا کام
  49. انصاف زندہ
  50. تخریب نہیں
  51. لفظ یا حقیقت
  52. عبرت ناک
  53. بڑا اندیشہ
  54. بعد از وقت
  55. چرچل کا اقرار
  56. کتنا مشکل کتنا اسان
  57. اعتراف
  58. حوصلہ
  59. اپنے خلاف
  60. بلندی فکری
  61. ضروری تیاری
  62. تجارتی کامیابی
  63. سادہ حل
  64. زمانے کے خلاف
  65. زندہ یا مردہ
  66. ایک خودکشی
  67. زندگی کا راز
  68. انسانی عظمت
  69. الو کا سبق
  70. کھونے کے بعد
  71. کم سمجھنا
  72. ذہنی ارتکاب
  73. قدرت کا فیصلہ
  74. بڑی ترقی
  75. کامیابی کا ٹکٹ
  76. دریافت
  77. خدمت کا کرشمہ
  78. ذہن کی تعمیر
  79. ناگزیر مسئلہ
  80. قدرت کی تعلیم
  81. سفر حیات
  82. فرضی وہم
  83. ایک مثال
  84. غصہ کا انجام
  85. سبب کیا ہے
  86. ایک میدان
  87. تخریبی منصوبہ
  88. بڑی سٹوری
  89. احساس اصلاح
  90. بہتر حکومت
  91. درست مشورہ
  92. بڑا ظرف
  93. فرق کیوں
  94. اقدام، نتیجہ
  95. جنگ، امن
  96. ایک واقعہ دو انجام
  97. قیمت ضروری
  98. تعمیر کی طاقت
  99. دو قسم کے رہنما
  100. زندگی ، موت
  101. فطرت کی طرف
  102. حکمت کا طریقہ
  103. اخلاق کا پھل
  104. محبت کا کرشمہ
  105. دانش مندی
  106. بے مسئلہ انسان
  107. واحد راستہ
  108. رکاوٹیں زینہ ہیں
  109. ایک واقعہ
  110. اسان طریقہ
  111. زندگی کا راز
  112. حکمت کی بات
  113. مقصد کا تقاضا
  114. تدبیر نہ کہ ٹکرائو
  115. دوسرا موقع
  116. کامیابی کا ٹکٹ
  117. مٹھاس کا اضافہ
  118. مستقبل پر نظر
  119. بیس سال بعد
  120. چیلنج نہ کہ ظلم
  121. غیر معمولی انسان
  122. وقت کی اہمیت
  123. شیر کا طریقہ
  124. خون کے بجائے پانی
  125. اسان حل
  126. علم کی اہمیت
  127. محرومی کے بعد
  128. مشتعل نہ کیجیے
  129. دشمن میں دوست
  130. ناکامی میں کامیابی
  131. فاصلہ پر رہو
  132. مقابلہ کی ہمت
  133. ضمیر کی طاقت
  134. دماغی اضافہ
  135. تاریخ کا سبق
  136. اتحاد کی طاقت
  137. فطری ڈھال
  138. مقصد کا شعور
  139. غلط فہمی
  140. نفع بخشی کی طاقت
  141. یقینی حل
  142. فتح بغیر جنگ
  143. سلیقہ مندی
  144. امید کا پیغام
  145. کامیابی کا راز
  146. تجربہ کی زبان سے
  147. سبق اموز
  148. برداشت کا مسئلہ
  149. مواقع کا استعمال
  150. زندگی کا اصول
  151. باب سوم —مضامین حکمت طاقت کا خزانہ
  152. امکان ختم نہیں ہوتا
  153. خدمت کا کرشمہ
  154. ٹالرنس:فطرت کا اصول
  155. ایک غلطی فہمی
  156. اتھاہ امکانات
  157. نمونہ کی اقلیت
  158. حل رخی پالیسی
  159. یہ اسلام نہیں
  160. حقیقت پسندی
  161. ایک تقابل
  162. اعلی کامیابی
  163. اس میں سبق ہے
  164. راز حیات
  165. تعمیر کی طاقت

تعمیر کی طاقت p. 105

دوسری عالمی جنگ سے لے کر 1991ء تک کا زمانہ امریکہ اور سوویت یونین کی عظمت کا زمانہ ہے۔ ان دونوں سلطنتوں کو سپر پاور کہا جانے لگا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہی دو ملک تھے جن کے پاس سب سے زیادہ ایٹم بم تھے۔ ایٹم بموں کی ملکیت نے انہیں سپرپاور بنا دیا۔ p. 105

مگر تحقیقات نے بتایا کہ ایٹم بم اپنی ساری فوجی طاقت کے باوجود قابل استعمال ہی نہیں ہیں۔ قدیم زمانہ کے ہتھیار (تلوار وغیرہ) کی تخریب کاری محدود ہوتی تھی۔ مگر ایٹم بم کی تخریب کاری لامحدود ہے۔ یہ بم اگر استعمال کیے جائیں تو ان سے عالمی تباہی پیدا ہو گی۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ مفتوح کے ساتھ خود فاتح بھی تباہ ہو چکا ہو گا۔ اس طرح کے مختلف حقائق نے ایٹم بم کے استعمال کوناممکن بنا دیا۔ p. 105

ایٹم بم اور دوسرے جدید ہتھیاروں کی تیاری میں امریکہ اور سوویت یونین دونوں کی اقتصادیات کو غیر معمولی نقصان پہنچا تھا۔ امریکہ کی اقتصادیات کھوکھلی ہو گئی۔ مثال کے طور پر امریکہ کے اوپر اس وقت چالیس بلین ڈالر سے زیادہ جاپان کا قرض ہے۔ سوویت یونین کی اقتصادیات مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ حتیٰ کہ اس کا عظیم ایمپائر ٹوٹ کر ختم ہو گیا۔ p. 105

1992ء سے جدید تاریخ کا نیا دور شروع ہوا۔ اس نئے دور کا نتیجہ امریکی میگزین ٹائم (10 فروری 1992ء) کے الفاظ میں یہ ہے کہ امریکہ میں اب عام طور پر یہ کہا جانے لگا ہے کہ سردجنگ ختم ہو گئی اور جاپان جیت گیا۔ امریکہ کی عالمی فوجی سیادت کی معقولیت باقی نہیں رہی۔ امریکہ کو دنیا کی پیچیدہ اقتصادیات میں اب نئی جگہ تلاش کرنا ہو گا۔ امریکہ اگرچہ اب بھی بہت طاقتور اقتصادیات کا مالک ہے مگر وہ محسوس کرنے لگا ہے جیسے کہ اب وہ ایک تخفیف شدہ چیز ہے: p. 106

This is becoming a familiar line: ''The cold war is over , and Japan won.'' Much of the rationale for America's global military role is gone ,and the U.S. must now find a new Place in a complex world economy...America, still the most powerful economy, nonetheless feels itself to be somehow the diminished thing. (p.9) p. 106other source

جنگ کے حالات میں وہ قوم دنیا کی قائد نظر آتی ہے جس کے پاس تخریب کی طاقت ہو۔ مگر امن کے حالات میں وہ قوم قیادت کرتی ہے جو دنیا کو امن کا تحفہ دے سکے۔ p. 106