Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بے مسئلہ انسان p. 113
5 ستمبر 1986ء کو کراچی ائیر پورٹ پر ہائی جیکنگ کا واقعہ ہوا۔ یہ پان ایم کا جہاز تھا۔ اس حادثہ میں جو لوگ مارے گئے ان میں سے ایک 24 سالہ خاتون نیرجا بھانوت (Neerja Bhanot) بھی تھی۔ وہ اس امریکی ہوائی کمپنی میں سینئر فلائٹ پرسر (Senior Purser) تھی۔ اس حادثہ کے بعد اس کے باپ ہریش بھانوت نے ایک مفصل یادداشت لکھی جو ہندوستان ٹائمس (5 اکتوبر 1986ء) میں شائع ہوئی۔ اس یادداشت میں مسٹر ہریش بھانوت نے اپنی لڑکی کے بارے میں جو باتیں لکھی تھیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ نیرجا اوّل دن سے بے مسئلہ لڑکی تھی: p. 113
Neerja was a no-problem child, right from day one. p. 113
عام طور پر چھوٹے بچے گھر کے اندر مسئلہ بنے رہتے ہیں۔ وہ طرح طرح سے اپنے ماں باپ کو پریشان کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے بچہ کو بے مسئلہ بچہ (no problem child) کہا جاتا ہے جو ہرحال میں مطمئن رہے اور کسی بھی بات پر گھر والوں کے لیے مسئلہ پیدا نہ کرے۔ سب سے بہتر بچہ بے مسئلہ بچہ ہے۔ یہی بات بڑوں کے لیے بھی صحیح ہے۔ وہ آدمی سب سے زیادہ قیمتی ہے جو بے مسئلہ ہو۔ جو دوسروں کے لیے مسائل پیدا کیے بغیر دوسروں کے ساتھ رہ سکے۔ اس دنیا میں ذاتی شکایت کا پیدا ہونا لازمی ہے، اس لیے قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ آدمی خود اپنے آپ کو بے شکایت بنا لے۔ p. 114
یہ انسانی خصوصیت عام زندگی کے لیے بھی نہایت ضروری ہے، اور تحریکوں کے لیے تو وہ لازمی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دنیا میں وہی تحریک کامیاب ہوتی ہے جو اپنے گرد ایسے افراد کو جمع کر سکے جو مسائل پیدا کرنے والے نہ ہوں۔ جو مسائل سے بھری ہوئی دنیا میں ایسے بن جائیں گویا دوسروں کی نسبت سے ان کا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ جو شخص بے مسئلہ ہو وہی دوسروں کے مسائل کو حل کرتا ہے۔ جو لوگ خود مسائل میں مبتلا ہو جائیں وہ صرف دنیا کے مسائل میں اضافہ کریں گے، وہ کسی بھی درجہ میں دنیا کے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔ p. 114