Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
چیلنج نہ کہ ظلم p. 136
ایڈمنڈبرک(Edmund Berke) کا قول ہے کہ جو شخص ہم سے لڑتا ہے وہ ہمارے اعصاب کو مضبوط کرتا ہے اور ہماری استعداد کو تیز بناتا ہے۔ ہمارا مخالف ہمارا مدد گار ہے: p. 136other source
He that wrestles with us, strengthens our nerves, and shapens our skill. Our antagonist is our helper. p. 136
یہ عین وہی بات ہے جو شیخ سعدی نے گلستاں کی ایک کہانی کے تحت تمثیلی طور پر اس طرح کہی ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ بلّی جب عاجز ہو جاتی ہے تو وہ اپنے چنگل سے شیر کی آنکھ نکال لیتی ہے: p. 136other source
نہ بینی کہ چوں گربہ عاجز شود برآرد بہ چنگال چشم پلنگ p. 137
دوسروں کی طرف سے آپ کے خلاف کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کے ردعمل کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس کو ظلم سمجھیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ اس کو چیلنج قرار دیں۔ ظلم سمجھنے کی صورت میں شکایت کا ذہن پیدا ہوتا ہے، اور چیلنج سمجھنے کی صورت میں مقابلہ کا۔ p. 137
شکایتی ذہن کو اپنے کرنے کا کام صرف یہ نظر آتا ہے کہ وہ فریق ثانی کے خلاف چیخ پکار شروع کر دے۔ وہ اس کے خلاف اپنے تمام احتجاجی الفاظ استعمال کر ڈالے۔ اس کے برعکس، مقابلہ کا ذہن عمل کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ حالات کو سمجھ کر جوابی طریقہ تلاش کرنے میں لگ جاتا ہے تاکہ حکمت اور تدبیر کے ذریعہ فریق ثانی کے مخالفانہ منصوبوں کو ناکام بنا دے۔ p. 137
شکایت اور احتجاج کا ذہن آدمی کو ایسے راستوں کی طرف لے جاتا ہے جہاں وہ اپنی بچی ہوئی قوت بھی بے فائدہ ہنگاموں میں ضائع کر دے۔ جب کہ چیلنج اور مقابلہ کا ذہن آدمی کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتا ہے، وہ اس کو نیا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ وہ اس کو اتنا عظیم بنا دیتا ہے کہ کمزور بھی طاقت ور پر غالب آ جائے، اور بلّی بھی شیر کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے۔ p. 137
موجودہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں شکایت کا ذہن آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور تدبیر کا ذہن تعمیر و ترقی کی طرف۔ آپ راستہ چل رہے ہیں۔ درمیان ایک جھاڑی کے کانٹے سے آپ کا دامن الجھ جاتا ہے۔ ایسے وقت میں آپ کیا کرتے ہیں۔ آپ ’’شکایت‘‘ کے بجائے ’’تدبیر‘‘ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ آپ جھاڑی کے خلاف احتجاج نہیں کرتے، بلکہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ کون سی صورت اپنائیں جس سے مسئلہ حل ہو جائے۔ p. 137
عقل مند آدمی جانتا ہے کہ یہی طریقہ اس کو انسان کے مقابلہ میں بھی اختیار کرنا ہے۔ انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص سے ٹکرائو ہو جاتا ہے۔ کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے۔ کسی شخص کے متعلق ہمارا احساس ہوتا ہے کہ اس نے ہمارا حق ہم کو نہیں دیا۔ ایسے ہر موقع پر دوبارہ ہمیں شکایت کے بجائے تدبیر کا انداز اپنانا چاہیے۔ p. 138
زندگی کا ہر مسئلہ ایک چیلنج ہے ، نہ کہ ایک شخص کے اوپر دوسرے شخص کی زیادتی۔ آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آئے، اور آپ اس کو زیادتی سمجھیں تو اس سے شکایت اور احتجاج کا ذہن پیدا ہوگا۔ حتیٰ کہ یہ ذہن آپ کو یہاں تک لے جا سکتا ہے کہ آپ مایوسی کا شکار ہو جائیں۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ موجودہ ماحول میں آپ کے لیے کچھ کرنا ممکن ہی نہیں۔ شکایت کا ذہن مایوسی تک لے جاتا ہے، اور مایوسی کا ذہن نفسیاتی خودکشی تک۔ p. 138
اس کے برعکس، اگر آپ کا یہ حال ہو کہ جب کوئی مسئلہ پیش آئے تو آپ اس کو اپنے لیے ایک چیلنج سمجھیں، تو اس سے آپ کی سوئی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہوں گی۔ آپ کے اندر حالات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ اول الذکر صورت میں آپ کا ذہن اگر منفی رخ پر چل رہا تھا تو اب آپ کا ذہن تمام تر مثبت رخ پر چل پڑے گا— یہی ایک لفظ میں، موجودہ دنیا میں کامیابی اور ناکامی کا راز ہے۔ اس دنیا میں جو شخص مسائل سے شکایت اور احتجاج کی غذا لے، اس کے لیے یہاں بربادی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔ اس کے برعکس جس شخص کا حال یہ ہو کہ مسائل کا سامنا پیش آنے کے بعد اس کا ذہن تدبیر تلاش کرنے میں لگ جائے۔ وہ لازماً کامیاب ہو کر رہے گا، کیوں کہ اس دنیا میں ہر مسئلہ کا ایک حل ہے، اور ہر مشکل کی ایک تدبیر۔ p. 138