Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
آسان طریقہ p. 117
پروفیسر رشید احمد صدیقی (1977۔ 1892)جون پور میں پیدا ہوئے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے صدر تھے۔ ان کی شہرت زیادہ تر مزاح نگار کی حیثیت سے ہوئی۔ مزاحیہ نگاری میں وہ اردو کے ممتاز لکھنے والوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ p. 117
موصوف کے ایک رفیق آل احمد سرور نے ا یک مضمون میں لکھا ہے کہ ’’پروفیسر رشید احمد صدیقی نے ایک دفعہ اپناایک مضمون مجھ سے لے کر کہیں اور شائع کر دیا ہے۔ میں اسے ماہنامہ اردو ادب میں دینا چاہتا تھا۔ میں نے اس پر احتجاج کیا تو انہوں نے نوٹس نہ لیا۔ پھر میں نے فریاد کی تو محرم کا مہینہ اسی زمانہ میں گزر چکا تھا۔ رشید صاحب نے لکھا کہ— محرم ختم ہو گیا، ماتم موقوف کیجیے۔‘‘ (قومی آواز 22 اپریل 1990) p. 117unverified
جواب کا یہ طریقہ بعض اوقات نہایت مفید ہوتا ہے۔ علمی تبادلۂ خیال میں منطقی طریقہ ہی مناسب ہے۔ علمی گفتگو میں طنز و مزاح کے الفاظ بولنا ایک معیوب فعل سمجھا جاتا ہے، مگر دوسرے بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں مذکورہ قسم کا ہلکا انداززیادہ کارآمد ہے۔ خاص طور پر جب دو شخص یا دو گروہ میں تلخی کی صورت پیدا ہو جائے تو ایسے موقع پر سنجیدہ مزاح کا طریقہ ہی زیادہ مناسب ہے۔ تلخی اور کشیدگی کے وقت آدمی اس حالت میںنہیں ہوتا کہ وہ دلائل کی زبان کو سمجھے۔ ایسے وقت میں بہترین صورت یہی ہے کہ کوئی پُرلطف جملہ بول کر ذہن کو ایک طرف سے دوسری طرف پھیر دیا جائے۔ p. 118
یہ ا صول گھریلو سطح پر بھی کارآمد ہے، اور جماعتی سطح پر بھی اور دو گروہوں کے باہمی نزاعات کے موقع پر بھی۔ آدمی اگر اپنے ہوش و حواس نہ کھوئے، اور جھنجھلاہٹ سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے تو وہ ہر ایسے موقع پر کوئی دلچسپ بات پا لے گا جس سے وہ لوگوں کی برہمی کو ٹھنڈا کر سکے۔ p. 118
مزاح کو اگر عادت کے طور پر اختیار کیا جائے تو وہ ایک معیوب بات ہے۔ لیکن مزاح کو اگر تدبیر کے طور پر اختیار کیا جائے تو وہ ایک پسندیدہ چیز بن جائے گی۔ کیوں کہ بعض اوقات مزاحیہ کلام وہ کر دیتا ہے جو سنجیدہ کلام نہیں کر سکتا۔ p. 118