Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حقیقت پسندی p. 235
ٹائم میگزین (13 فروری 1989) کے سرورق پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے: دوبارہ ساتھی (comrades again) جیسا کہ معلوم ہے ، چین اور روس دونوں اگرچہ کمیونسٹ ملک ہیں ، مگر ان کے درمیان کم از کم 30 سال سے باہمی عداوت چلی آ رہی تھی۔ اب دونوں ملک ایک دوسرے سے قریب آ رہے ہیں۔ ٹائم کے مذکورہ شمارہ میں اسی کو کور اسٹوری بنایا گیا ہے۔ اندر مضمون کے اوپر اس کی سرخی یہ ہے کہ ایک شگاف کی مرمت ، عداوت کا دور ختم ہو رہا ہے: p. 235unverified
To mend a rift — An era of hostility is coming to an end. p. 235
چین اور روس کے درمیان 4500 میل کی مشترک سرحد ہے۔ مگر پچھلے تین دہائیوں سے دونوں کے درمیان تعلقات خراب تھے۔ سابق روسی وزیر اعظم نکیتا خروشچیف نے 1959ء میں امریکہ سے واپس آتے ہوئے چین میں مختصر قیام کیا تھا اور ماوزے تنگ سے ملاقات کی تھی جو ناخوش گواری پر ختم ہوئی۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کا کوئی ذمہ دار شخص ایک ملک سے دوسرے ملک میں نہیں گیا۔ شدید دشمنی کے لمبے وقفہ کے بعد فروری 1989ء میں پہلی بار سوویت روس کے وزیر خارجہ (Eduard Shevardnadze) نے چینی راجدھانی بیجنگ کا سفر کیا۔ اس سفر کا مقصد امن اور ترقی (peace and development) بتایا گیا تھا۔ اس سفر میں جو باتیں طے ہوئیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ روسی وزیر اعظم میخائل گوربا چوف جلد ہی چین کا دورہ کریں گے (ٹائم 13 فروری 1989ء) ۔ p. 236
دو حریف ملکوں میں اس خلافِ توقع تبدیلی کے بارہ میں ایک چینی افسر نے کہاکہ بیجنگ اور ماسکو کو اس وقت جن مشکلات کا سامنا ہے ، اس نے ہم دونوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے: p. 236other source
The difficulties that Beijing and Mascow now confront have brought us closer to one another. (p. 7) p. 236
ایک روسی افسر نے یہی بات زیادہ کھل کر ان لفظوں میں کہی کہ ہم اس مشترک سوچ کے بہت قریب آ چکے ہیں کہ کس طرح دونوں ملکوں میں نئے تعلقات قائم کیے جائیں۔ ہم دونوں ہی نے ماضی میں غلطیاں کی ہیں: p. 236other source
We are very close to understanding how new relations should develop. We have both made mistakes in the past. (p. 6) p. 236
چین اورروس نے جب دیکھا کہ ان کی باہمی دشمنی ایک دوسرے کو نقصان پہنچا رہی ہے تو دونوں نے طے کیا کہ وہ بے فائدہ دشمنی کو ختم کرکے آپس میں دوستانہ تعلقات قائم کر لیں۔ اس نئے فیصلہ تک پہنچنے کے لیے انہیں اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑا۔ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنے مطالبات کو چھوڑ دینے پر راضی ہوئے۔ انہوں نے ایک ناقابل برداشت چیز کو برداشت کیا۔ تاکہ اپنے لیے زیادہ بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔ اسی کا نام حقیقت پسندی ہے۔ اس حقیقت پسندی کے بغیر موجودہ دنیا میں کامیابی تک پہنچنا ممکن نہیں۔ p. 237
امریکہ اور روس اور چین موجودہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ور قومیں ہیں۔ جب طاقت ور قوموں کا حال یہ ہے کہ حقیقت پسندی اور مفاہمت کے سوا ان کے لیے زندگی کاکوئی اور طریقہ نہیں ، تو کمزور قومیں کیوں کر ٹکرائو کی پالیسی اختیار کر کے زندہ رہ سکتی ہیں۔ ایسی حالت میں کمزور قوموں کے لیے حقیقت پسندی اور مفاہمت کا طریقہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے جتنا طاقت ور قوموں کے لیے۔ p. 237