Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
رکاوٹیں زینہ ہیں p. 115
26 مئی 1987ء کو دہلی کے اخبارات نے اپنے پہلے صفحہ پر جو خبریں نمایاں طور پر دیں ان میں سے ایک خبر وہ تھی جو دہلی سینیئر سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ امتحان سے متعلق تھی: p. 115
Delhi Senior Secondary School Certificate examination, Class XII, 1987. p. 115
اس امتحان میںجن طالب علموں نے ٹاپ کیا ان میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔ اخبارات کے نمائندوں نے ان ٹاپ کرنے والے طلبہ اور طالبات سے ملاقات کر کے ان کاانٹرویو لیا اور اس کو باتصویر خبر کے طور پر شائع کیا۔ ان ممتاز طالب علموں کے حالات میں ایک نہایت سبق کی بات تھی۔ اکثر ٹاپ کرنے والوں میں مشترک طور پر یہ بات پائی گئی کہ وہ خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نہ تھے۔ درحقیقت ان میں سے کچھ طالب علموں کو سخت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کیوں کہ غریب گھرانوںکا فرد ہونے کی وجہ سے ان کے پاس لکھنے پڑھنے کے لیے مناسب جگہ نہ تھی۔ کتابیں بہت کم تھیں۔ مزید یہ کہ شور و غل ان کے ذہن کو منتشر کرتا رہتا تھا۔ تاہم وہ ان عوامل کو پار کر گئے اور اپنے دلچسپی کے مضمون میں امتیازی نمبر حاصل کیے: p. 116
A common thread running the family background of most toppers is that they do not belong to affluent families. In fact, quite a few faced stiff resistance. to their academic pursuits due to lack of space and books and noise disturbances. However, they overrode these factors and achieved distinction in their subjects of interest. (The Hindustan Times. New Delhi, May 26, 1987) p. 116
اسباب کی فراوانی آدمی کے اندر بے فکری پیدا کرتی ہے، اور اسباب کی کمی سے آدمی کے اندر فکر مندی کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اسباب کی فراوانی آدمی کو بے عملی کی طرف لے جاتی ہے اور اسباب کی کمی عمل کی طرف۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو وہ شخص زیادہ خوش قسمت نظر آئے گا جو اسباب کی کمی کے مسئلہ سے دوچار ہو۔ رکاوٹیں آدمی کے لیے زینہ ہیں، بشرطیکہ وہ ان کو زینہ کے طور پر استعمال کر سکے۔ p. 116