Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
طاقت کا خزانہ p. 198
انسانی دماغ (mind)ایک ناقابلِ یقین نظام ہے۔ اس کی جسامت ایک سنگترہ سے بھی کم ہوتی ہے۔ مگر وہ ایک سکنڈ میں800 یادداشتیں ریکارڈ کر لیتا ہے۔ وہ اوسطاً75 سال تک برابر یہ کام جاری رکھ سکتا ہے۔ p. 198
جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی بھی خیال جب ایک بار دماغ میں آجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسانی دماغ کا حصہ بن جاتا ہے۔یعنی انسانی دماغ میں جو بات بھی پڑتی ہے، وہ پوری طرح اس کو محفوظ کر لیتا ہے، اور پھر کبھی اس کے کسی جزء کو فراموش نہیں کرتا۔ خواہ ہم ان تمام معلومات کو شعوری طور پر یاد میں نہ لاسکیں۔ تاہم ہمارے دماغ کے مستقل فائل میں ہر چیز ہر وقت موجود رہتی ہے۔ p. 198
اگر ایک ایسا کمپیوٹر بنایا جائے جس کے امکانات انسانی دماغ کے برابر ہوں تو اس کا انفراسٹرکچر اتنا زیادہ ہوگا کہ وہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ جیسی عمارت کو گھیر لے گا۔ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ نیویارک میں ہے اس کی 102 منزلیں ہیں اور اس کی اونچی1250 فٹ ہے۔ ایسا سپر کمپیوٹر اگر بنایا جا سکے تو اس کو چلانے کے لیے ایک ارب واٹ بجلی کی توانائی درکار ہوگی۔ اس کی لاگت اتنی زیادہ ہوگی جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے: p. 199
The brain is a fabulous mechanism. About the size of half a grapefruit, it can record 800 memories a second for the average 75 years many of us live, without exhausting itself. The human brain retains everything it takes in and never forgets anything. Even though we don`t recall all the information received, everything is on permanent file in our brain. If a computer to match the brain`s potential was built, it would occupy space comparable to the size of the Empire State Building(1,250 feet tall) and need 1,000,000,000 watts of electrical power to run. The cost would be equally immense. The mind is one of God`s most amazing gifts to man. Yet most people use only a small fraction of their mental ability. For many, the power remains largely untapped. (The plain Truth, October 1988,p.29) p. 199other source
یہ دماغ انسان کے لیے اللہ کا ایک انتہائی حیرت ناک تحفہ ہے۔ تاہم بڑے سے بڑا سائنس دان بھی اس کو صرف جزئی طور پر استعمال کر پاتا ہے۔ دماغ کے تمام اعلیٰ امکانات ابھی تک غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ p. 199
امریکی میگزین اسپان(Span) کے شمارہ ستمبر1989 میں ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے— ہمارا حیرت ناک دماغ: p. 199
Our Amazing Mind p. 199
اس مضمون کے مرتب یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے سینیئر ایڈیٹر مسٹرولیم ایف آل مین(William F. Allman) ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دماغی تحقیق کا کام موجودہ زمانہ میں اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب اس کی ایک علیٰحدہ علمی شاخ وجود میں آ چکی ہے جس کو دماغ کی سائنس (Brain science) کہا جاتا ہے۔ اس سائنس کے تحت جو بے شمار نئی معلومات سامنے آئی ہیں وہ ایک قسم کے انفجار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ p. 200original + quote
ایک سائنس دان نے دماغ کو فکری انجن(thinking engine) سے تعبیر کیا ہے۔ حالانکہ یہ تعبیر بے حد ناقص ہے۔ کیونکہ دماغ کے ایک لاکھ ملین نیوران(100,000 million neurons) جس طرح متحدہ طورپر کام کرتے ہیں، اور ایک لمحہ کے اندر اشیاء کے مابین تمیز کر لیتے ہیں، وہ کوئی بڑی سے بڑی امکانی مشین بھی نہیں کر سکتی۔ اپنی حیرت ناک کارکردگی کے اعتبار سے ایک فرد واحد کا دماغ دنیا کی تمام مشینوں اور تمام کمپیوٹروں پر بھاری ہے: p. 200original + quote
An explosion of recent findings in brain science — aided by new computer programs that can simulate brain cells in action — is now revealing that the brain is for more intricate than any mechanical device imaginable. (p.24) p. 200other source
اس سلسلہ میں جدید تحقیقات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے آخر میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اگرچہ بیسویں صدی کے سائنس دانوں نے اس بات کی کافی کوشش کی کہ وہ ایسی مشینیں بنائیں جو انسانی دماغ جیسا کام کر سکیں۔ مگر انتہائی طاقتور قسم کا سپر کمپیوٹر بھی ابھی تک انسانی دماغ سے بہت پیچھے ہے: p. 200other source
Though 20th-century scientists have tried to make machines that mimic the brain`s functioning, even the most powerful supercomputer falls for short of the real thing. (p.28) p. 200
انسانی دماغ طاقت کا اتھاہ خزانہ ہے۔ یہ خزانہ ہر آدمی کو پیدائشی طور پر حاصل ہے۔ وہ کسب اور کوشش کے بغیر ہر آدمی کو اپنے آپ ملا ہوا ہے۔ دماغ کے ہوتے ہوئے کوئی بھی شخص مفلس نہیں، کوئی بھی شخص دوسروں سے کمزور نہیں، خواہ ظاہری سامان کے اعتبار سے وہ کتنا ہی زیادہ مفلس اور کمزور دکھائی دیتا ہو۔ p. 200
دماغ کی صورت میں سب سے زیادہ طاقت ور مشین آپ کے پاس موجود ہے، ایسی مشین جس کے مثل کوئی دوسری چیز ساری معلوم کائنات میں کہیں موجود نہیں۔ اس طاقت ور مشینی خزانہ کو استعمال کیجیے، اس کے اندر چھپے ہوئے امکانات کوبر وئے کار لانے کی کوشش کیجیے۔ اور پھر کبھی آپ کو ناکامیابی کی شکایت نہ ہوگی۔ p. 201
دنیا میں کسی بھی شخص نے جو بھی ترقی یا کامیابی حاصل کی ہے، وہ اسی دماغ کی طاقت کو استعمال کرکے حاصل کی ہے۔ فطرت کی دی ہوئی یہی عظیم طاقت آپ کے پاس بھی موجود ہے۔ امکانی طور پر آپ بھی عین اسی ترقی کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں جہاں کوئی بھی شخص کبھی پہنچا ہے۔ پھر مایوسی کیوں اور شکایت کس لیے۔ اپنے امکان کو واقعہ بنایئے۔ کامیابی کی ہر بلندی اس انتظار میں ہے کہ آپ وہاں پہنچیں اور اپنے آپ کو اس کے اوپر کھڑا کر دیں۔ p. 201