Kitab e Zindagi

باب سوم —مضامین حکمت طاقت کا خزانہ

Kitab e Zindagi — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (165 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. برتر حل
  3. تخلیقی صلاحیت
  4. محنت کے ذریعہ
  5. مقصدیت
  6. بچ کر چلیے
  7. حکیمانہ طریقہ
  8. تعمیر شعور
  9. کامیابی کیسے
  10. ایک نصیحت
  11. قیمت کا مسئلہ
  12. ناکامی، کامیابی
  13. کاروباری استقلال
  14. عمل نہ کہ ردعمل
  15. غصہ نہ دلاو
  16. اختیار اور بے اختیاری
  17. اپنی کمزوری
  18. سارا خون
  19. سبب اپنے اندر
  20. اپنی غلطی
  21. بچت سے اضافہ
  22. فتح بغیر جنگ
  23. حکمت کی بات
  24. سادہ اصول
  25. خطرہ نہیں
  26. جوش بغیر ہوش
  27. رواجی ذہن
  28. کامیابی کی شرط
  29. زندگی کا سفر
  30. دشمن سے سیکھنا
  31. بند ذہن
  32. بلند پروازی
  33. بے دانشی
  34. ہارمان کر
  35. کامیابی کا راز
  36. مجرم کون
  37. مشکل میں اسانی
  38. دکان داری
  39. موجودہ سماج
  40. خواب میں
  41. کامیاب سفر
  42. ممکن اور ناممکن
  43. ہر قسم کے مواقع
  44. معذوری کے باوجود
  45. کامیابی کا راز
  46. کتنا فرق
  47. مقصد کی اہمیت
  48. الٹا کام
  49. انصاف زندہ
  50. تخریب نہیں
  51. لفظ یا حقیقت
  52. عبرت ناک
  53. بڑا اندیشہ
  54. بعد از وقت
  55. چرچل کا اقرار
  56. کتنا مشکل کتنا اسان
  57. اعتراف
  58. حوصلہ
  59. اپنے خلاف
  60. بلندی فکری
  61. ضروری تیاری
  62. تجارتی کامیابی
  63. سادہ حل
  64. زمانے کے خلاف
  65. زندہ یا مردہ
  66. ایک خودکشی
  67. زندگی کا راز
  68. انسانی عظمت
  69. الو کا سبق
  70. کھونے کے بعد
  71. کم سمجھنا
  72. ذہنی ارتکاب
  73. قدرت کا فیصلہ
  74. بڑی ترقی
  75. کامیابی کا ٹکٹ
  76. دریافت
  77. خدمت کا کرشمہ
  78. ذہن کی تعمیر
  79. ناگزیر مسئلہ
  80. قدرت کی تعلیم
  81. سفر حیات
  82. فرضی وہم
  83. ایک مثال
  84. غصہ کا انجام
  85. سبب کیا ہے
  86. ایک میدان
  87. تخریبی منصوبہ
  88. بڑی سٹوری
  89. احساس اصلاح
  90. بہتر حکومت
  91. درست مشورہ
  92. بڑا ظرف
  93. فرق کیوں
  94. اقدام، نتیجہ
  95. جنگ، امن
  96. ایک واقعہ دو انجام
  97. قیمت ضروری
  98. تعمیر کی طاقت
  99. دو قسم کے رہنما
  100. زندگی ، موت
  101. فطرت کی طرف
  102. حکمت کا طریقہ
  103. اخلاق کا پھل
  104. محبت کا کرشمہ
  105. دانش مندی
  106. بے مسئلہ انسان
  107. واحد راستہ
  108. رکاوٹیں زینہ ہیں
  109. ایک واقعہ
  110. اسان طریقہ
  111. زندگی کا راز
  112. حکمت کی بات
  113. مقصد کا تقاضا
  114. تدبیر نہ کہ ٹکرائو
  115. دوسرا موقع
  116. کامیابی کا ٹکٹ
  117. مٹھاس کا اضافہ
  118. مستقبل پر نظر
  119. بیس سال بعد
  120. چیلنج نہ کہ ظلم
  121. غیر معمولی انسان
  122. وقت کی اہمیت
  123. شیر کا طریقہ
  124. خون کے بجائے پانی
  125. اسان حل
  126. علم کی اہمیت
  127. محرومی کے بعد
  128. مشتعل نہ کیجیے
  129. دشمن میں دوست
  130. ناکامی میں کامیابی
  131. فاصلہ پر رہو
  132. مقابلہ کی ہمت
  133. ضمیر کی طاقت
  134. دماغی اضافہ
  135. تاریخ کا سبق
  136. اتحاد کی طاقت
  137. فطری ڈھال
  138. مقصد کا شعور
  139. غلط فہمی
  140. نفع بخشی کی طاقت
  141. یقینی حل
  142. فتح بغیر جنگ
  143. سلیقہ مندی
  144. امید کا پیغام
  145. کامیابی کا راز
  146. تجربہ کی زبان سے
  147. سبق اموز
  148. برداشت کا مسئلہ
  149. مواقع کا استعمال
  150. زندگی کا اصول
  151. باب سوم —مضامین حکمت طاقت کا خزانہ
  152. امکان ختم نہیں ہوتا
  153. خدمت کا کرشمہ
  154. ٹالرنس:فطرت کا اصول
  155. ایک غلطی فہمی
  156. اتھاہ امکانات
  157. نمونہ کی اقلیت
  158. حل رخی پالیسی
  159. یہ اسلام نہیں
  160. حقیقت پسندی
  161. ایک تقابل
  162. اعلی کامیابی
  163. اس میں سبق ہے
  164. راز حیات
  165. تعمیر کی طاقت

طاقت کا خزانہ p. 198

انسانی دماغ (mind)ایک ناقابلِ یقین نظام ہے۔ اس کی جسامت ایک سنگترہ سے بھی کم ہوتی ہے۔ مگر وہ ایک سکنڈ میں800 یادداشتیں ریکارڈ کر لیتا ہے۔ وہ اوسطاً75 سال تک برابر یہ کام جاری رکھ سکتا ہے۔ p. 198

جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی بھی خیال جب ایک بار دماغ میں آجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسانی دماغ کا حصہ بن جاتا ہے۔یعنی انسانی دماغ میں جو بات بھی پڑتی ہے، وہ پوری طرح اس کو محفوظ کر لیتا ہے، اور پھر کبھی اس کے کسی جزء کو فراموش نہیں کرتا۔ خواہ ہم ان تمام معلومات کو شعوری طور پر یاد میں نہ لاسکیں۔ تاہم ہمارے دماغ کے مستقل فائل میں ہر چیز ہر وقت موجود رہتی ہے۔ p. 198

اگر ایک ایسا کمپیوٹر بنایا جائے جس کے امکانات انسانی دماغ کے برابر ہوں تو اس کا انفراسٹرکچر اتنا زیادہ ہوگا کہ وہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ جیسی عمارت کو گھیر لے گا۔ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ نیویارک میں ہے اس کی 102 منزلیں ہیں اور اس کی اونچی1250 فٹ ہے۔ ایسا سپر کمپیوٹر اگر بنایا جا سکے تو اس کو چلانے کے لیے ایک ارب واٹ بجلی کی توانائی درکار ہوگی۔ اس کی لاگت اتنی زیادہ ہوگی جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے: p. 199

The brain is a fabulous mechanism. About the size of half a grapefruit, it can record 800 memories a second for the average 75 years many of us live, without exhausting itself. The human brain retains everything it takes in and never forgets anything. Even though we don`t recall all the information received, everything is on permanent file in our brain. If a computer to match the brain`s potential was built, it would occupy space comparable to the size of the Empire State Building(1,250 feet tall) and need 1,000,000,000 watts of electrical power to run. The cost would be equally immense. The mind is one of God`s most amazing gifts to man. Yet most people use only a small fraction of their mental ability. For many, the power remains largely untapped. (The plain Truth, October 1988,p.29) p. 199other source

یہ دماغ انسان کے لیے اللہ کا ایک انتہائی حیرت ناک تحفہ ہے۔ تاہم بڑے سے بڑا سائنس دان بھی اس کو صرف جزئی طور پر استعمال کر پاتا ہے۔ دماغ کے تمام اعلیٰ امکانات ابھی تک غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ p. 199

امریکی میگزین اسپان(Span) کے شمارہ ستمبر1989 میں ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے— ہمارا حیرت ناک دماغ: p. 199

Our Amazing Mind p. 199

اس مضمون کے مرتب یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے سینیئر ایڈیٹر مسٹرولیم ایف آل مین(William F. Allman) ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دماغی تحقیق کا کام موجودہ زمانہ میں اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب اس کی ایک علیٰحدہ علمی شاخ وجود میں آ چکی ہے جس کو دماغ کی سائنس (Brain science) کہا جاتا ہے۔ اس سائنس کے تحت جو بے شمار نئی معلومات سامنے آئی ہیں وہ ایک قسم کے انفجار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ p. 200original + quote

ایک سائنس دان نے دماغ کو فکری انجن(thinking engine) سے تعبیر کیا ہے۔ حالانکہ یہ تعبیر بے حد ناقص ہے۔ کیونکہ دماغ کے ایک لاکھ ملین نیوران(100,000 million neurons) جس طرح متحدہ طورپر کام کرتے ہیں، اور ایک لمحہ کے اندر اشیاء کے مابین تمیز کر لیتے ہیں، وہ کوئی بڑی سے بڑی امکانی مشین بھی نہیں کر سکتی۔ اپنی حیرت ناک کارکردگی کے اعتبار سے ایک فرد واحد کا دماغ دنیا کی تمام مشینوں اور تمام کمپیوٹروں پر بھاری ہے: p. 200original + quote

An explosion of recent findings in brain science — aided by new computer programs that can simulate brain cells in action — is now revealing that the brain is for more intricate than any mechanical device imaginable. (p.24) p. 200other source

اس سلسلہ میں جدید تحقیقات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے آخر میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اگرچہ بیسویں صدی کے سائنس دانوں نے اس بات کی کافی کوشش کی کہ وہ ایسی مشینیں بنائیں جو انسانی دماغ جیسا کام کر سکیں۔ مگر انتہائی طاقتور قسم کا سپر کمپیوٹر بھی ابھی تک انسانی دماغ سے بہت پیچھے ہے: p. 200other source

Though 20th-century scientists have tried to make machines that mimic the brain`s functioning, even the most powerful supercomputer falls for short of the real thing. (p.28) p. 200

انسانی دماغ طاقت کا اتھاہ خزانہ ہے۔ یہ خزانہ ہر آدمی کو پیدائشی طور پر حاصل ہے۔ وہ کسب اور کوشش کے بغیر ہر آدمی کو اپنے آپ ملا ہوا ہے۔ دماغ کے ہوتے ہوئے کوئی بھی شخص مفلس نہیں، کوئی بھی شخص دوسروں سے کمزور نہیں، خواہ ظاہری سامان کے اعتبار سے وہ کتنا ہی زیادہ مفلس اور کمزور دکھائی دیتا ہو۔ p. 200

دماغ کی صورت میں سب سے زیادہ طاقت ور مشین آپ کے پاس موجود ہے، ایسی مشین جس کے مثل کوئی دوسری چیز ساری معلوم کائنات میں کہیں موجود نہیں۔ اس طاقت ور مشینی خزانہ کو استعمال کیجیے، اس کے اندر چھپے ہوئے امکانات کوبر وئے کار لانے کی کوشش کیجیے۔ اور پھر کبھی آپ کو ناکامیابی کی شکایت نہ ہوگی۔ p. 201

دنیا میں کسی بھی شخص نے جو بھی ترقی یا کامیابی حاصل کی ہے، وہ اسی دماغ کی طاقت کو استعمال کرکے حاصل کی ہے۔ فطرت کی دی ہوئی یہی عظیم طاقت آپ کے پاس بھی موجود ہے۔ امکانی طور پر آپ بھی عین اسی ترقی کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں جہاں کوئی بھی شخص کبھی پہنچا ہے۔ پھر مایوسی کیوں اور شکایت کس لیے۔ اپنے امکان کو واقعہ بنایئے۔ کامیابی کی ہر بلندی اس انتظار میں ہے کہ آپ وہاں پہنچیں اور اپنے آپ کو اس کے اوپر کھڑا کر دیں۔ p. 201