Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یقینی حل p. 178
الرسالہ اکتوبر1986 کو پڑھ کر ایک صاحب نے طویل خط(7اکتوبر1986) لکھا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے، آپ کا سفر نامہ نہ صرف معلوماتی ہوتا ہے بلکہ انداز بیان کے لحاظ سے بھی منفرد۔ اس بار بھی بمبئی کا سفر نامہ ایسا ہی ہے۔ اس سفر نامہ میں ہیرا لال ڈرائیور سے آپ کی ملاقات اور ایکسیڈنٹ سے بچے رہنے کی تدبیر کے بارے میں پوچھے گئے آپ کے سوال کا جواب پڑھنے کو ملا۔ اور مجھے اس سے ملتا جلتا ایک قصہ یاد آگیا۔ p. 178
ایک ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی 55 سالہ زندگی میں ایک بھی ایکسیڈنٹ نہیں کیا۔ ایک بار وہ محفوظ ڈرائیونگ پر لیکچر دیتے ہوئے بولا: مجھے یہ بتانے میں ایک منٹ کا وقت بھی نہیں لگے گا کہ محفوظ ڈرائیونگ کس طرح کی جاتی ہے۔ اس کا طریقہ بہت آسان ہے۔ ڈرائیونگ کے وقت بس یہ بات ذہن میں رکھیے کہ آپ کے سوا دنیا کا ہر ڈرائیور پاگل ہے۔(محی الدین محمد۔ حیدر آباد) p. 178original + quote
’پاگل‘ اس شخص کا نام ہے جو مرفوع القلم ہو۔ جس سے کسی قسم کی توقع نہ کی جا سکے۔ اور جہاں فریق ثانی کی طرف سے کوئی توقع نہ ہو وہاں دوطرفہ بنیاد پر سوچنا بالکل بے معنی ہے۔ ایسے مواقع پر آدمی ہمیشہ یک طرفہ سوچتا ہے۔ اور یک طرفہ طور پر مسئلہ کا حل تلاش کرتا ہے۔ چنانچہ ہر آدمی جانتا ہے کہ پاگل سے لڑنا نہیں ہے بلکہ پاگل سے بچنا ہے۔ پاگل کے مسئلہ کا حل اس سے اعراض کرنا ہے ، نہ کہ اس سے ٹکرائو کرنا۔ جو ڈرائیور دوسرے ڈرائیور کو پاگل سمجھ لے وہ دوسروں کی شکایت نہیں کرے گا۔ وہ ساری توجہ خود اپنی طرف لگا دے گا۔ وہ کہیں اپنی گاڑی کو روک لے گا۔ کہیں وہ پیچھے ہٹ جائے گا اور کنارے کی طرف سے اپنا راستہ نکالے گا۔ سڑک کا جو مسافر اس طرح یک طرفہ طور پر ذمہ داری اپنے آپ پر ڈال لے وہ کبھی سڑک کے حادثہ سے دو چار نہیں ہو سکتا۔ p. 179
مذکورہ ڈرائیور نے ایک لفظ میں زندگی کا راز بتا دیا ہے۔ اس کی مراد دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ— آپ دوسروں سے کچھ امید نہ رکھیے۔ ساری ذمہ داری یک طرفہ طورپر خود قبول کیجیے اور اس کے بعد آپ یقینی طور پر ایکسیڈنٹ سے دو چار نہیں ہوں گے۔ p. 179
ڈرائیور نے جو بات سڑک پر حادثات سے بچنے کے بارے میں کہی۔ وہی وسیع تر زندگی میں حادثات سے بچنے کے بارے میں بھی درست ہے۔ آپ اپنی زندگی میں یقینی طور پر سماجی حادثات سے بچ سکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ آپ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار بنا لیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں مسائل کا سب سے زیادہ یقینی حل وہی ہے جس پر مذکورہ ڈرائیور نے عمل کیا اور اپنی ڈرائیونگ کی طویل زندگی میں حادثات سے مکمل طور پر محفوظ رہا۔ p. 179
خالص طبی معنوں میں پاگل انسانوں کی تعداد ساری دنیا میں بمشکل ایک فیصد ہوگی۔ مگر دوسرے اعتبار سے دنیا کے 99 فیصد انسان امکانی طور پر پاگل ہیں۔ عام حالات میں بظاہر لوگ بالکل ٹھیک نظر آتے ہیں۔ مگر جب آدمی کے ذاتی مفاد کا معاملہ آ جائے، جب اس کی انا کو ٹھیس لگے۔ جب فریق ثانی کی کسی بات پر اس کے اندر غصہ بھڑک اٹھے۔ جب اس کا سابقہ کسی ایسے شخص سے پڑے جس سے اس کی اَن بَن ہوگئی ہو، تو اس وقت شریف آدمی بھی غیر شریف بن جاتا ہے۔ صحیح دماغ کا انسان بھی پاگل پن پر اتر آتا ہے۔ p. 180
ایک بار حیدر آباد سے محبوب نگر جاتے ہوئے خود میرے ساتھ ایک سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ ہماری گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی کہ اچانک ایک بیل سڑک پر آگیا۔ جو صاحب کار کو چلا رہے تھے انہوں نے یہ نہیں کیا کہ بیل کے خلاف احتجاج کریں یا بدستور اپنی گاڑی دواڑتے رہیں۔ انہوں نے فوراً بریک لگا کرگاڑی کو روکا، اور ایک لمحہ رک کر اندازہ کیا کہ بیل کدھر جا رہا ہے۔ بیل نے جب سڑک کے آدھے سے زیادہ حصہ پار کر لیا، اور یہ واضح ہوگیا کہ وہ مشرق کی طرف جا رہا ہے تو انہوں نے اپنی گاڑی مغرب کی طرف گھمائی اور بیل کے کنارے کی طرف سے راستہ نکال کر آگے کے لیے روانہ ہوگئے— زندگی کے مسائل ہمیشہ یک طرفہ کارروائی کے ذریعے حل ہوتے ہیں۔ جو لوگ دوطرفہ بنیاد پر مسئلہ کو حل کرنا چاہیں، موجودہ دنیا میں ان کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں کہ وہ بے فائدہ احتجاج کرتے رہیں اور اسی حال میں دنیا سے چلے جائیں۔ p. 180unverified