Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
علم کی اہمیت p. 148
جیفرسن(Thomas Jefferson) امریکہ کا تیسرا صدر تھا۔ وہ 1743 میں پیدا ہوا اور 1826 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ 1801ء سے لے کر1809 تک امریکہ کا صدر رہا۔ جیفر سن نہایت قابل آدمی تھا۔ وہ انگریزی، لاطینی، یونانی، فرانسیسی، اسپینی، اطالوی اور اینگلو سیکسن زبانیں جانتا تھا۔ مؤرخین اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی غیر معمولی قسم کا صاحب علم آدمی تھا: p. 148
He was an extraordinary learned man (EB 10/130). p. 148
اس نے اپنی طویل عمر میں فلسفہ اور سائنس سے لے کر مذہب تک تقریباً تمام علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ آخر عمر میں اس نے یہ کوشش کی کہ وہ انجیل کا تجزیہ کرے اور یہ معلوم کرے کہ حضرت مسیح نے واقعۃً کیا کہا تھا اور بیان کرنے والوں نے ان کے بارے میں کیا بیان کیا: p. 148
He attempted an analysis of the New Testament in order to discover what Jesus really said as distinguished from what he was reported to have said. p. 149
جیفرسن نے آخر عمر میں یہ وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر جوکتبہ لگایا جائے اس میں یہ نہ لکھا جائے کہ وہ امریکہ کا صدر تھا۔ بلکہ یہ لکھا جائے کہ وہ ورجینیا یونیورسٹی کا بانی تھا۔ چنانچہ اس کی وصیت کے مطابق اس کی قبر (Monticello) پر جو کتبہ لگا ہوا ہے اس میں یہ الفاظ درج ہیں: p. 149
Here was buried Thomas Jefferson....father of the University of Verginia (EB 10/131). p. 149other source
حقیقت یہ ہے کہ علم سب سے بڑی دولت ہے۔ جو لوگ علم کی اہمیت کو جان لیں، ان کو امریکہ کی صدارت بھی ہیچ معلوم ہوگی۔ علم سب سے بڑی دولت ہے۔ علم ہی وہ واحد چیز ہے جس سے آدمی کبھی نہیں اکتاتا، جس کی حد کبھی کسی کے لیے نہیں آتی۔ علم ہر معاملہ میں کارآمد ہے۔ وہ ہر میدان میں کامیابی کا زینہ ہے۔ علم سے آدمی کو وہ شعور ملتا ہے جس سے وہ دنیا کو جانے۔ جس سے وہ باتوں کو ان کی گہرائی تک سمجھ سکے۔ علم ایسا سکہ ہے جس سے آپ دنیا کی ہر چیز خرید سکتے ہیں۔ علم ہر قسم کی ترقی کا راز ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی، جس کے پاس علم ہو اس کے پاس گویا ہر چیز موجود ہے۔ p. 149
جناب عبدالرحمن انتولے(بیرسٹرایٹ لا، اور سابق چیف منسٹر مہاراشٹر) نے 5 فروری 1987ء کی ملاقات میں ایک واقعہ بتایا۔ غالباً1954ء کی بات ہے۔ اس وقت وہ لندن کی کونسل آف لیگل ایجوکیشن میں قانون کے طالب علم تھے۔ ایک لیکچر کے دوران ایک قانونی مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے انگریز پروفیسر نے انہیں یہ واقعہ سنایا تھا۔ p. 149other source
پروفیسر نے بتایا کہ ایک بڑا صنعتی کارخانہ چلتے چلتے ا چانک بند ہوگیا۔ کارخانہ کے انجینئر اس کو دوبارہ چلانے کی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ آخر ایک بڑے ایکسپرٹ کو بلایا گیا وہ آیا تو اس نے کارخانہ کا ایک رائونڈ لیا۔ اس نے اس کی مشینیں دیکھیں۔ اس کے بعد وہ ایک جگہ رک گیا۔ اس نے کہا کہ ایک ہتھوڑا لے آئو۔ ہتھوڑا لایا گیا تو اس نے ایک مقام پر ہتھوڑے سے مارا۔ اس کے بعد مشین حرکت میں آگئی اور کارخانہ چلنے لگا۔ p. 149other source
مذکورہ ایکسپرٹ نے واپس جا کر ایک سو پونڈ کا بل بھیج دیا۔ کارخانہ کے منیجر کو یہ بل بہت زیادہ معلوم ہوا۔ اس نے ایکسپرٹ کے نام اپنے خط میں لکھا کہ آپ نے تو کوئی کام کیا نہیں، یہاں آکر آپ نے صرف ایک ہتھوڑا مار دیا۔ اس کے لیے ایک سو پونڈ کا بل ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ براہ کرم آپ ہمارے نمائندہ کو مزید اور زیادہ بہتر تفصیلات عطا فرمائیں: p. 149
Please furnish my client with further and better particulars. p. 149
اس کے جواب میں مذکورہ ایکسپرٹ نے لکھا کہ میں نے جو بل روانہ کیا تھا وہ بالکل صحیح ہے۔ اصل یہ ہے کہ 99 پونڈ اور 19شلنگ تو یہ جاننے کے لیے ہیں کہ مشین میں غلطی کیا ہے اور کہاں ہے، اور ایک شلنگ ہتھوڑا اٹھا کر مارنے کے لیے: p. 150other source
99.19 to diagnose the disease and one shilling to pick up the hammer and to strike at the right spot. p. 150
اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمت علم کی ہے۔ سو میں ایک اگر محنت کی قیمت ہو تو سو میں ننانوے علم کی قیمت قرار پائے گی۔ p. 150