Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غیر معمولی انسان p. 138
وان وورسٹ(Bruce van Voorst) ایک امریکی جرنلسٹ ہے۔ اس نے جنگی رپورٹر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے۔ ڈامی نیکن(Dominican Republic) کی جنگ، ایرانی انقلابیوں کی شاہ کے خلاف جنگ، عراق اور ایران کی جنگ اور خلیجی جنگ(1991ء) میں اس نے میدان جنگ میں پہنچ کر براہ راست رپورٹنگ کی ہے۔ p. 138
ٹائم میگزین(4 فروری1991ء) میں وان وورسٹ کے کچھ تجربات شائع کیے گئے ہیں۔ اس نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات جنگ کے وقت فوجیوں کی صفت(Quality) اور سالمیت(Integrity) کے بارے میںتھی۔ اس نے کہا کہ جب جنگی مقابلہ جاری ہو تو فوجی حیرت انگیز طور پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ مشکلات سے بے پروا ہو کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ جنگ میں یہ فوجی عام فوجی نہیں ہوتے، وہ سب کے سب غیر معمولی لوگ بن جاتے ہیں: p. 138other source
In battle there are no ordinary soldiers, they are all extraordinary.(p.4) p. 138
امریکی صحافی نے جو بات فوجیوں کے بارے میں کہی، وہ ہر انسان اور ہر مقابلہ کے لیے یکساں طور پر صحیح ہے۔ انسان کے اندر پیدائشی طور پر بے شمار صلاحیتیں ہیں۔ عام حالات میں یہ صلاحیتیں سوئی ہوئی رہتی ہیں۔ مگر جب کوئی خطرہ پیش آتا ہے، جب چیلنج کی صورت حال سامنے آتی ہے تو اچانک انسان کی تمام سوئی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ اس سے پہلے اگر اس کے’’پاور ہائوس‘‘ کا صرف ایک بلب جل رہا تھا تو اب اس کے تمام بلب بیک وقت جل اٹھتے ہیں۔ p. 139original + quote
اب اس کی عقل زیادہ گہری سوچ کا ثبوت دیتی ہے۔ اس کا جسم مزید طاقتوںکے ساتھ متحرک ہو جاتا ہے۔ اس کی پوری ہستی ایک ہیروانہ کردار کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ چیلنج کمزور انسان کو طاقتور انسان بنا دیتا ہے۔ وہ نادان آدمی کو ہوشیار آدمی بنا دیتا ہے۔ چیلنج بظاہر ایک رکاوٹ ہے، مگر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ اعلیٰ ترین ترقی کا سب سے بڑا زینہ ہے— مقابلہ پیش آنے سے پہلے ہر انسان ایک معمولی انسان ہے، مگر مقابلہ پیش آنے کے بعد ہر انسان غیر معمولی انسان بن جاتا ہے۔ p. 139
جہاں اسکوپ نہ ہو وہاں زیادہ اسکوپ ہوتا ہے۔ جہاں بظاہر مواقع نہ ہوں وہاں اور زیادہ بڑے مواقع آدمی کے لیے چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ایک مسلم نوجوان ہیں، ان کے کچھ رشتہ دار امریکہ میں رہتے ہیں۔ وہ امریکہ گئے۔ وہاں تعلیم حاصل کی۔ دو سال تک امریکہ میں ملازمت بھی کی۔ پھر انہیں خیال آیا کہ اپنے ملک میں آئیں اور یہاں اپنی زندگی کی تعمیر کریں چنانچہ وہ ہندستان واپس آگئے۔ p. 139
ان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں ہندوستان واپس آ کر ذہنی انتشار میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ یہاں جو میرے دوست اور رشتہ دار ہیں، وہ سب کہہ رہے ہیں کہ تم نے بہت نادانی کی کہ تم امریکہ چھوڑ کر ہندوستان آگئے۔ وہاں تم کو ترقی کے بڑے بڑے مواقع مل سکتے تھے۔ یہاں تو تمہارے لیے کوئی اسکوپ نہیں۔ p. 139
میں نے جواب دیا کہ آپ کے دوست اور رشتہ دار سب الٹی باتیں کر رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ہندوستان میں اسکوپ نہیں، اسی لیے تو یہاں اسکوپ ہے۔ ہندوستان میں آپ کے لیے ترقی کے وہ تمام مواقع ہیں جو امریکہ میں ہیں، بلکہ یہاں آپ امریکہ سے بھی زیادہ بڑی ترقی کر سکتے ہیں۔ p. 139
اصل یہ ہے کہ ترقی کا تعلق دو چیزوں سے ہے۔ ایک، خارجی مواقع۔ دوسرے، اندرونی امکانات۔ خارجی مواقع سے مراد وہ مواقع ہیں جو آپ کے وجود کے باہر خارجی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ اندرونی امکانات سے مراد وہ فطری استعداد ہے جو آپ کے ذہن اور آپ کے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہے۔ p. 140
عام طور پر لوگوں کی نگاہ دنیا کے خارجی مواقع پر ہوتی ہے۔ اس لیے وہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں ملک میں مواقع ہیں اور فلاں ملک میں مواقع نہیں ہیں۔ مگر ترقی کے لیے اس سے بھی زیادہ اہمیت ان صلاحیتوں کی ہے جو فطرت سے ہر آدمی کو ملی ہوئی ہیں۔ کوئی بھی آدمی ان سے خالی نہیں۔ p. 140
جب زندگی کی مشکلیں آدمی کو چیلنج کرتی ہیں تو اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ حالات کا جھٹکا انہیں جگا کر متحرک کر دیتا ہے۔ یہ بیداری کسی انسان کی زندگی میں اس کی ترقی کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ امریکہ میں یہ اسکوپ ہے کہ وہاں خارجی مواقع موجود ہیں۔ ہندستان میں یہ اسکوپ ہے کہ یہاں چیلنج کی صورت حال پائی جاتی ہے جو آدمی کی فطری صلاحیتوں کو آخری حد تک جگا دیتی ہے۔ اور پہلے اسکوپ کے مقابلے میں دوسرا اسکوپ بلاشبہ کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ p. 140