Khuda ki Daryaft

جس زندگي كي هميں تلاش هے

Khuda ki Daryaft — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (165 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. دیباچہ
  3. خدا کی دریافت
  4. فلسفيانه تلاش كي ناكامي
  5. صحیح طریقِ کار
  6. گلیلیو گلیلی
  7. الکسس کیرل کا تبصرہ
  8. ايمان بالغيب
  9. کائنات کی توجیہ
  10. خلّاق علیم
  11. بگ بینگ، لٹل بینگ
  12. چھ بينگ
  13. بگ بینگ، ایک منظم واقعہ
  14. ایک تقابل
  15. بے نقص کائنات
  16. زیرو ڈفکٹ کائنات
  17. خدا کے بغیر کائنات بے تعبیر
  18. ایک علمی ملاقات
  19. خدا کا وجود
  20. سائنس كي واپسي
  21. سائنس سے معرفت تک
  22. معرفت کے دو درجے
  23. سائنس کی شہادت
  24. سائنس اور عقیدۂ خدا
  25. فائن ٹیوننگ
  26. تبصرہ
  27. خدا اور آخرت
  28. با معنٰی کائنات
  29. سائنسی ثبوت
  30. تین علمی اصول
  31. امید کی کرن
  32. تضاد کا خاتمہ
  33. آغاز کی تکمیل
  34. درست فریم ورک
  35. اطمینان بخش توجیہ
  36. جنت کی حقیقت
  37. فطرت کا حصہ
  38. جديد سائنس
  39. وحي والهام
  40. علم كا سفر
  41. سائنس توحيد كي طرف
  42. اختيار اور بے اختياري
  43. طبيعیات سے ما بعد الطبيعيات كي تصديق
  44. كائنات اتني يكساں كيوں
  45. كياكوئي زڈ ذره هے
  46. ڈي اين اے سے پهلےكيا تھا
  47. جين كس طرح متحرك اورغير متحرك هوتے هيں
  48. همارے اندر مدافعتی نظام كيوں
  49. ارتقا كي پيمائش هم كيسے كريں
  50. نظامِ عصبي كس طرح بنتا هے
  51. كوانٹم نظريه كيا كشش كےنظريے پر بھي چسپاں هوتاهے
  52. دماغ كے مختلف حصےكس طرح رابطه قائم كرتےهيں
  53. انسان كب سے زمين پر هے
  54. تبصره
  55. علم كى شهادت
  56. خدا سب سے بڑی حقیقت
  57. لامحدود کائنات، انسانی محدودیت
  58. خدا كا تصور
  59. مخالفينِ مذهب كا استدلال
  60. كائنات بول رهي هے
  61. حادثہ، توجیہ کے لیے کافی نہیں
  62. سائنس اور الٰہیات
  63. وضاحت
  64. عقلی موقف
  65. ذہین کائنات
  66. دو انتخاب(options)
  67. واحد انتخاب
  68. منطقی استدلال
  69. انتخابی منطق
  70. مجبورانہ منطق
  71. انسان کا وجود، خدا کے وجود کا ثبوت
  72. خلائی مشاہدہ
  73. زمین ایک استثنا
  74. سَفرِنگ کا مسئلہ
  75. غلط ریفرنس میں مطالعہ
  76. تقابلی مطالعہ
  77. سائنٹفک مطالعہ
  78. خدا کا تخلیقی پلان
  79. کائناتی معنویت کی توجیہ
  80. وقت کا شعور
  81. زَوجین کا اصول
  82. آئڈیل ازم کی ناکامی
  83. دنیا کا خاتمہ
  84. خدا اور سائنس
  85. عقیدۂ خدا اور سائنس
  86. خدا کا وجود
  87. خدا کو کس نے پیدا کیا
  88. ریاضیاتی ذہن
  89. زیادہ عجیب، کمتر عجیب
  90. اللہ کی رؤیت
  91. كون كنٹرول كرے
  92. حکمت ِ تخلیق
  93. تاريخ كے فكري مغالطے
  94. استدلال كي بنياد
  95. ڈارونزم کا نظریہ
  96. ہیومنزم کا نظریہ
  97. خاتمه
  98. خدا کا فلسفیانہ تصور
  99. خدا كا ثبوت
  100. كائنات ميں خدا كي گواهي
  101. ذهين كائنات
  102. زمین، ایک نشانی
  103. معنی خیز استثنا
  104. کائناتی نشانیاں
  105. کویزار ايك ارب سورج سے بھي زياده روشن
  106. عقيدهٔ خدا اور سائنس
  107. دریافت کی اہمیت
  108. كائناتي وحدت
  109. خدا كي عظمت
  110. عقيدهٔ خدا
  111. خدا اور انسان
  112. ناقابلِ توجيه
  113. انسانی دماغ
  114. يه محكم نظام
  115. جواہر لال نہرو کا بیان
  116. كائنات كي نشانياں
  117. انسان کی بے اختیاری
  118. انسان کے لیے سبق
  119. میں خالق کا شکر گزار ہوگیا ہوں
  120. حفاظتي ڈھال
  121. خلاصهٔ كلام
  122. کائنات ایک آئینہ
  123. رياضياتي دنيا
  124. كائنات اورانسان
  125. توازنِ فطرت
  126. نيم كا معجزه
  127. تخليق ميں ذهانت
  128. ذره بھي غائب نهيں
  129. زمين الله كي عجيب وغريب نعمت
  130. سائنس کی گواہی
  131. مشيني ذهانت
  132. ایک مثال
  133. كائناتي مشين
  134. مشيني تعبير
  135. بے خطا نظام
  136. ريموٹ كنٹرول
  137. برتر ہستی کا تصور
  138. فطرت كي آواز
  139. فلم ایکٹرس
  140. جوزف اسٹالن
  141. اسٹالن کی بیٹی
  142. ایک روسی پائلٹ
  143. میخائل گوربا چیف
  144. رچرڈ نکسن
  145. برٹرينڈ رسل
  146. خدا كي نشانياں
  147. حقيقت كي تلاش
  148. مذهب كي طرف واپسي
  149. تبصره
  150. معبود كي طلب
  151. خدا كي موجودگي كا تجربه
  152. انكار سے اقرار تك
  153. تبصره
  154. فطرت كي پكار
  155. ڈارون کا اعتراف
  156. برتر ہستی کی تلاش
  157. خلائي تهذيب
  158. ایلین کی تلاش
  159. بامعني كائنات
  160. ماورائے انسان ذهانت
  161. سب سے بڑا المیہ
  162. جس زندگي كي هميں تلاش هے
  163. توحيد كا تصور اسلام ميں
  164. توحيد كي عملي اهميت
  165. توحيد كا عقيده اور انسان

جس زندگي كي هميں تلاش هے p. 325

مشہور جرمن مفکر فريڈرش انگلس (Friedrich Engels, 1829-1895) نے كها هے— ’’آدمي كو سب سے پهلے تن ڈھانكنے كو كپڑا اور پيٹ بھرنے كو روٹي چاهیے، اس كے بعد هي وه فلسفه وسياست كے مسائل پر غور كرسكتاهے۔‘‘ مگر حقيقت يه هے كه انسان سب سے پهلے جس سوال كا جواب معلوم كرنا چاهتاهے ،وه يه سوال هے كه ’’ميں كيا هوں؟ يه كائنات كيا هے، ميري زندگي كيسے شروع هوئي اور كهاں جاكر ختم هوگي؟‘‘ يه انساني فطرت كے بنيادي سوالات هيں۔ p. 326original + quote

آدمي ايك ايسي دنياميں آنكھ كھولتاهے جهاں سب كچھ هے مگر يهي ايك چيز نهيں۔ سورج اس كو روشني اور حرارت پهنچاتاهے، مگر وه نهيں جانتا كه وه كياهے ،اور كيوں انسان كي خدمت ميں لگا هواهے۔ هوا اس كو زندگي بخشتي هے، مگر انسان كے بس ميں نهيں هے كه وه اس كو پكڑ كر پوچھ سكے كه تم كون هو، اور كيوں ايسا كررهي هو؟ وه اپنے وجود كو ديكھتا هے، اور نهيں جانتا كه ميں كيا هوں، اور كس ليے اس دنيا ميں آگيا هوں؟ ان سوالات كاجواب متعين كرنے سے انسان كا ذهن قاصر هے۔ مگر انسان بهر حال ان كو معلوم كرنا چاهتا هے۔ يه سوالات خواه لفظوں كي شكل ميں متعين هو كر هر شخص كي زبان پر نه آئيں مگر وه انسان كي روح كو بے چين ركھتے هيں، اور كبھي كبھي اس شدّت سے ابھرتے هيں كه آدمي كو پاگل بنا ديتے هيں۔ p. 326

انگلس كو دنيا ايك ملحد انسان كي حيثيت سے جانتي هے۔ مگر اس كا الحاد اس كے غلط ماحول كا ردّ عمل تھا جو بهت بعد كو اس كي زندگي ميںظاهر هوا۔ اس كي ابتدائي زندگي مذهبي ماحول ميں گزري، جب وه بڑاهوا اور نظر ميں گهرائي پيداهوئي تو رسمي مذهب سے بے اطميناني پيدا هوگئي۔ اپنے اس دور كا حال وه ايك دوست كے نام اپنے خط ميں اس طرح لكھتاهے p. 326original + quote

’’ميں هر روز دعا كرتاهوں اور تمام دن يهي دعا كرتا رها هوں كه مجھ پر حقيقت آشكارا هوجائے۔ جب سے ميرے دل ميں شكوك پيداهوئے هيں يهي دعا كرنا ميرا مشغله هے، ميں تمھارے عقيدے كو قبول نهيں كرسكتا۔ ميں يه سطريں لكھ رها هوں اور ميرادل آنسوؤں سے امڈا چلا آرهاهے۔ ميري آنكھيں رورهي هيں ليكن مجھے يه احساس هو رها هے كه ميں راندهٔ درگاه نهيں هوں۔ مجھے اميدهے كه ميں خدا تك پهنچ جاؤں گا جس كے ديدار كا ميں دل وجان سے متمني هوں اور مجھے اپني جان كي قسم! يه ميري جستجو اورعشق كياهے يه روح القدس كي جھلك هے ‘‘۔ p. 327

At the age of nineteen, Engels wrote as follows: "I pray every day; almost all day long I pray that the truth may be given to me. I have done this since doubts assailed me, but still I cannot return to our faith... I write these lines with tears in eyes, it is hard for me to control my emotion, but nevertheless I feel that I will not be lost, that I will find God, toward whom I aspire with all my heart." (David Riazanov: Essays on the History of Marxism, p. 36, copied from "Max Eastman: Marx, Lenin and the Science of Revolution," p. 148, Google Book, 07 April 2020) p. 327unverified

يه وهي حقيقت كي تلاش كا فطري جذبه هے جو نوجوان انگلس ميںاُبھرا تھا۔ مگر اس كو تسكين نه مل سكي، اور مروجه مسيحي مذهب سے غير مطمئن هو كر وه معاشي اور سياسي فلسفوں ميں گم هوگيا۔ p. 327

اس طلب كي حقيقت يه هے كه انسان كي فطرت ميں ايك خالق اور مالك كا شعور پيدائشي طور پر پيوست هے۔ وه اس كے لاشعور كا ايك لازمي جزء هے۔ ’’خدا ميرا خالق هے اور ميں اس كا بنده هوں۔‘‘ يه ايك خاموش عهد هے، جو هر شخص اوّل روز سے اپنے ساتھ لے كر اس دنياميں آتاهے۔ ايك پيدا كرنے والے آقا ومحسن كا تصور غير محسوس طورپر اس كي رگوں ميں دوڑتا رهتاهے۔ اس كے بغير وه اپنے اندر عظيم خلا محسوس كرتاهے۔ اس كي روح اندر سے زور كرتي هے كه جس آقا كو اس نے نهيں ديكھا اسے پالے۔ اس سے لپٹ جائے اور اپنا سب كچھ اس كے حوالے كردے۔ p. 327

خدا كي معرفت ملنا گويا اس جذبے كے صحيح مرجع كو پالينا هے، اور جو لوگ خدا كو نهيں پاتے ان كے جذبات كسي دوسري مصنوعي چيز كي طرف مائل هوجاتے هيں۔ هرشخص اپنے اندر يه خواهش ركھنے پر مجبور هے كه كوئي هو، جس كے آگے وه اپنے بهترين جذبات كو نذر كردے۔ p. 328

15 اگست 1947 كو جب هندستان كي سركاري عمارتوں سے برٹش ایمپائر کا يونين جيك اتار كر ملك كا قومي جھنڈا لهرايا گيا تو يه منظر ديكھ كر ان قوم پرستوں كي آنكھوں ميں آنسو آگئے، جو اپنے ملك كو آزاد ديكھنے كے ليے تڑپ رهے تھے۔ يه آنسو دراصل ’’آزادي كي ديوي‘‘ كے ساتھ ان كے تعلق كا اظهار تھا۔ يه اپنے معبود كو پالينے كي خوشي تھي، جس كے ليے انھوں نے اپني عمر كا بهترين حصه صرف كرديا تھا۔اسي طرح ايك ليڈر جب ’’قوم كے باپ‘‘ كي قبر پر جا كر پھول چڑھاتا هے، اور اس كے آگے سر جھكا كر كھڑاهو جاتا هے تو وه ٹھيك اسي عمل كو دهراتاهے، جو ايك مذهبي آدمي اپنے معبود كے ليے ركوع اور سجدے كے نام سے كرتاهے۔ ايك كميونسٹ جب لينن كے مجسمے كے پاس سے گزرتے هوئے اپني هيٹ اتارتا هے، اور اس كے قدموں كي رفتار سست پڑ جاتي هے تو اس وقت وه اپنے معبود كي خدمت ميں اپنے عقيدت كے جذبات نذر كررها هوتاهے۔ اسي طرح هر شخص مجبور هے كه كسي نه كسي چيز كواپنا معبود بنائے اور اپنے جذبات كي قرباني اس كے آگے پيش كرے۔ p. 328unverified

يه جذبه چونكه ايك فطري جذبه هے۔ اس ليے ابتداء ً وه هميشه فطري شكل ميں ابھرتا هے۔ اس كا پهلا رخ اپنے اصلي معبود كي طرف هوتا هے ۔مگر حالات اور ماحول كي خرابياں اس كو غلط سمت ميں موڑ ديتي هيں، اور كچھ دنوں كے بعد جب آدمي ايك مخصوص زندگي سے مانوس هوجاتاهے تو اس ميں اس كو لذّت ملنے لگتي هے۔ برٹرينڈ رسل اپنے بچپن ميں ايك كٹّر مذهبي آدمي تھا۔ وه باقاعده عبادت كرتاتھا۔ اسي زمانے ميں ايك روز اس كے دادا جان نے پوچھا۔ ’’تمھاري پسنديده دعا كون سي هے؟‘‘ چھوٹے رسل نےجواب ديا۔’’ميں زندگي سے تنگ آگيا هوں، اور اپنے گناهوں كے بوجھ سے دبا هوتا هوں۔‘‘اس زمانے ميں خدا برٹرينڈ رسل كا معبود تھا۔ ليكن جب رسل تيره برس كي عمر كو پهنچا تو اس كي عبادت چھوٹ گئي، اور مذهبي روايات اور پراني قدروں سے باغيانه ماحول كےاندر رهنے كي وجه سے خود اس كے اندر بھي ان چيزوں سے بغاوت كے رجحانات ابھرنے لگے۔ اور بالآخر برٹرينڈ رسل ايك ملحد انسان بن گيا۔ جس كي محبوب ترين چيزيں رياضي اور فلسفه تھے۔ 1959ء كا واقعه هے۔ بي بي سي لندن پر ايك بات چيت پروگرام ميں فري مين نے رسل سے پوچھا ’’كيا آپ نے مجموعي طورپر رياضي اور فلسفے كے شوق كو مذهبي جذبات كا نعم البدل پايا هے۔‘‘ رسل نے جواب ديا ’’جي هاں، يقيناً ميں چاليس برس كي عمر تك اس اطمينان سے هم كنار هوگيا تھا، جس كے متعلق افلاطون نےكها هے كه آپ رياضي سے حاصل كرسكتے هيں۔ يه ايك ابدي دنيا تھي۔ وقت كي قيد سے آزاد دنيا۔ مجھے يهاں مذهب سے ملتا جلتا ايك سكون نصيب هوگيا۔‘‘ p. 328unverified

برطانيه كے اس عظيم مفكر نے خداكو اپنا معبود بنانے سے انكار كرديا۔ مگر معبود كي ضرورت سے پھر بھي وه بے نياز نه ره سكا، اور جس مقام پر پهلے اس نے خدا كوبٹھا ركھا تھا۔ وهاں رياضي اور فلسفے كو بٹھانا پڑا — يهي نهيں بلكه رياضي اور فلسفے كے ليے وه صفات بھي تسليم كرني پڑيں، جو صرف خدا هي كي صفت هوسكتي هے— ابديت اور وقت كي قيد سے آزادي ؛ كيونكه اس كے بغير اسے مذهب سے ملتاجلتا وه سكون نهيں مل سكتا تھا، جو دراصل اس كي فطرت تلاش كررهي تھي۔ p. 329

ايسے لوگ جو خدا كو نهيں مانتے اور پرستش كو بے معني چيز سمجھتے هيں، وه اپنے خود ساخته بتوں كے آگے جھك كر اپنے اندروني جذبهٔ عبوديت كو تسكين ديتے هيں۔ يه حقيقت هے كه ’’الٰه‘‘ انسان كي ايك فطري ضرورت هے ،اور يهي اس كا ثبوت هے كه وه حقيقي هے۔ انسان اگر خدا كے سامنے نه جھكے تو اس كو دوسرے اِلہٰوں (معبودوں) كے سامنے جھكنا پڑے گا۔ كيونكه الٰه كے بغير اس كي فطرت اپنے خلا كو پُر نهيں كرسكتي۔ p. 329

مگر بات صرف اتني نهيں هے۔ اس سے آگے بڑھ كر ميں كهتا هوں كه جو لوگ خدا كے سوا كسي اور كو اپنا معبود بناتے هيں ،وه ٹھيك اسي طرح حقيقي سكون سے محروم رهتے هيں جيسے كوئي بچے سے محروم ماں پلاسٹك كي گڑيا خريد كر بغل ميں دبا لے اور اس سے تسكين حاصل كرنا چاهے۔ ايك ملحد انسان خواه وه كتنا هي كامياب كيوں نه هو۔ اس كي زندگي ميںايسے لمحات آتے هيں جب وه سوچنے پر مجبور هوتاهے كه حقيقت اس كے سوا كچھ اور هے، جو ميں نے پائي هے۔ p. 329

آزادي سے باره سال پهلے 1935ء ميں جب پنڈت جواهر لال نهرو نے جيل خانے ميں اپني آپ بيتي مكمّل كي تو اس كے آخر ميں انھوں نے لكھا’’ميں محسوس كرتاهوں كه ميري زندگي كا ايك باب ختم هوگيا اور اب اس كا دوسرا باب شروع هوگا۔ اس ميں كيا هوگا، اس كے متعلق ميں كوئي قياس نهيں كرسكتا۔ كتابِ زندگي كے اگلے ورق نامعلوم هيں‘‘۔ p. 330unverified

Nehru, An Autobiography, London, p. 597 p. 330

نهرو كي زندگي كے اگلے اوراق كھلے تو معلوم هوا كه وه دنيا كے تيسرے سب سے بڑے ملك كے وزير اعظم هيں،اور دنياكي آبادي كے چھٹے حصے پر بلا شركت حكومت كررهے هيں، مگر اس يافت نے نهرو كو مطمئن نهيں كيا، اور اپنے انتهائي عروج كے زمانے ميں بھي وه محسوس كرتے رهے كه كتابِ زندگي كے مزيد كچھ اوراق هيں، جو ابھي تك بند هيں، اور وهي سوال آخر عمر ميں بھي ان كے ذهن ميں گھومتا رها،جس كو لے كر هر انسان پهلے روز پيدا هوتا هے۔ جنوري 1964 كے پهلے هفتے ميں مستشرقين كي بين الاقوامي كانفرنس نئي دهلي ميں هوئي، جس ميں هندستان اور دوسرے ملكوں كے باره سوڈ يليگيٹ شريك هوئے۔ پنڈت نهرو نے اس موقع پر تقرير كرتے هوئے كها ’’ميں ايك سياستدان هوں، اور مجھے سوچنے كے ليے وقت كم ملتا هے۔ پھر بھي بعض اوقات ميں يه سوچنے پر مجبور هوجاتا هوں كه آخر يه دنيا كيا هے، كس ليے هے، هم كيا هيں اور كياكررهے هيں۔ ميرا يقين هے كه كچھ طاقتيں هيں جو هماري تقدير كو بناتي هيں‘‘ ۔ p. 330unverified

National Herald, 6 January, 1964 p. 331

يه ايك عدم اطمينان هے، جو ان تمام لوگوں كے روحوں پر گهرے كهر كي طرح چھايا رهتا هے، جنھوںنے خداكو اپنا الٰه اور معبود بنانے سے انكاركيا۔ دنيا كي مصروفيتوں اور وقتي دلچسپيوں ميں عارضي طورپر كبھي ايسا محسوس هوتا هے كه وه اطمينان سے هم كنار هيں مگر جهاں يه مصنوعي ماحول ختم هوا، حقيقت اندر سے زور كرنا شروع كرديتي هے،اور انھيں ياددلاتی هے كه وه سچے اطمينان سے محروم هيں۔ p. 331

ميك گل يونيورسٹي كے پروفيسر مائيكل بريچر (Michael Brecher, b. 1925) نے پنڈت جواهر لال نهرو كي سياسي سوانح حيات لكھي هے ۔ اس سلسلے ميں مصنف نے پنڈت نهرو سے ملاقات بھي كي تھي۔ نئي دهلي كي ايك ملاقات ميں 13 جون 1956ء كو انھوں نے پنڈت نهرو سے سوال كيا ’’آپ مختصر طورپر مجھے بتائيے كه آپ كے نزديك اچھے سماج كے ليے كيا چيزيں ضروري هيں اور آپ كا بنيادي فلسفهٔ زندگي كيا هے‘‘۔ p. 331other source

جواہر لال نہرو نے جواب ديا’’ميں كچھ معياروں كا قائل هوں، آپ ان كو اخلاقي معيار (moral standards) كهه ليجیے۔ يه معيار هر فرد اور سماجي گر وه كے لیے ضروري هيں۔ اگر وه باقي نه رهيں تو تم مادي ترقي كے باوجود آپ كسي مفيد نتيجے تك نهيں پهنچ سكتے ۔ان معياروں كو كيسے قائم ركھا جائے، يه مجھے نهيں معلوم۔ ايك تو مذهبي نقطهٔ نظر هے ۔ليكن يه اپنے تمام رسوم اور طريقوں كے ساتھ مجھے تنگ نظر آتا هے— ميں اخلاقي اور روحاني قدروں كو مذهب سے الگ كركے بهت اهميت ديتاهوں، ليكن ميں نهيں جانتا كه ان كو ماڈرن زندگي ميں كس طرح قائم ركھا جاسكتا هے۔ يه ايك مسئله هے‘‘۔ p. 332unverified

Nehru: A Political Biography, London 1959, pp. 607-08 p. 332

يه سوال وجواب جديد انسان كے اس دوسرے خلا كو بتاتا هے، جس ميں آج وه شدّت سے گرفتار هے۔ افراد كو ديانت واخلاق كے ايك خاص معيار پر باقي ركھناهرسماجي گروه كي ايك ناگزير ضرورت هے۔ اس كے بغير تمدن كا نظام صحيح طورپر برقرار نهيں ره سكتا۔ مگر خدا كو چھوڑنے كے بعد انسان كو نهيں معلوم كه وه اس ضرورت كو كيسے پورا كرے۔ سينكڑوں سال كے تجربے كے بعدوه ابھي بدستور تلاش كي منزل ميں هے۔ p. 332

يه علامتيں اس بات كا ثبوت هيں كه بے خدا تهذيب نے انسانيت كي گاڑي كو دلدل ميں لا كر ڈال دياهے۔ اس كو اس پٹري سے محروم كرديا هے، جس كے اوپر چل كر وه اپنا سفر بحسن وخوبي طے كرسكتي هے۔ زندگي كي كشتي بے لنگر اور بغير بادبان هوگئي هے ۔اس كا واحد حل يه هے كه انسان خدا كي طرف پلٹے۔ وه زندگي كے ليے مذهب كي اهميت كو تسليم كرے۔ يهي وه تنها بنياد هے، جس پر زندگي كي بهتر تعمير ممكن هے، اس كے سوا كسي بھي دوسري بنياد پر زندگي كي تعمير نهيں كي جاسكتي۔ p. 333