Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خاتمه p. 191
هسٹري آف تھاٹ كا مطالعه بتاتا هے كه افكار كے اعتبار سے انساني تاريخ كے دو دور هيں— قبل سائنس دور (pre-scientific era) ، اور بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور ميں لوگوں كو اشيا كي حقيقت معلوم نه تھي، اس ليے محض قياس آرائي كے تحت چيزوں كے بارے ميں رائے قائم كرلي گئي۔ اس ليے قبل سائنس دوركو توهماتي دور (age of superstition) كها جاتا هے۔ مذكوره اعتراض دراصل اسي قديم دور كي ايك يادگار هے۔ يه اعتراض دراصل توهماتي افكار كي كنڈيشننگ كے تحت پيداهوا، جو روايتي طورپر اب تك چلا جارها هے۔ p. 191
قديم توهماتي دور ميں بهت سے ايسے خيالات رائج هوگئے، جو حقيقت كے اعتبار سے بےبنياد تھے۔ سائنسي دور آنے كے بعد ان خيالات كا خاتمه هوچكا هے۔مثلاً شمسي نظام كے بارے ميں قديم جيوسنٹرك (geocentric) تھيوري ختم هوگئي، اور اس كي جگه هيليو سنٹرك (heliocentric) تھيوري آگئي۔ اسي طرح ماڈرن كيمسٹري كے ظهور كے بعد قديم آلكيمي (alchemy) ختم هوگئي۔ اسي طرح ماڈرن اسٹرانومي (astronomy) كے ظهور كے بعد قديم اسٹرالوجي (astrology) كا خاتمه هوگيا، وغيره۔ مذكوره اعتراض بھي اسي نوعيت كا ايك اعتراض هے، اور اب يقيني طورپر اس كا خاتمه هوجانا چاهيے۔ p. 192
گليليو سترھويں صدي عيسوي كا اٹيلين سائنٹسٹ تھا۔ اس نے قديم ٹالمي (ptolemy)كے نظريے سے اختلاف كرتے هوئے يه كها كه زمين شمسي نظام كا سنٹر نهيں هے، بلكه زمين ايك سياره هے، جو سورج كے گرد مسلسل گھوم رها هے۔ يه نظريه مسيحي چرچ كے عقيدے كے خلاف تھا۔ اس وقت مسيحي چرچ كو پورے يورپ ميں غلبه حاصل تھا۔ چنانچه مسيحي عدالت(inquisition) ميں گليليو كو بلايا گيا، اور سماعت كرنے كے بعد اس كو سخت سزادي گئي۔ بعد كو اس كي سزا ميں تخفيف كركے اس كو اپنے گھر ميں نظر بند (house arrest)كرديا گيا۔ گليليو اسي حال ميں 8 سال تك رها، يهاں تك كه 1642ء ميں وه اندھا هو كر مر گيا۔ p. 192
جیو سینٹرک نظريه اب سائنسي تحقيقات كے نتيجے ميں غلط ثابت هوچكا هے۔ چنانچہ اس واقعے كے تقريباً 400 سال بعد مسيحي چرچ نے اپنے عقيدے پر نظر ثاني كي۔ اس كو محسوس هوا كه گليليو كا نظريه صحيح تھا، اور مسيحي چرچ كا عقيده غلط تھا۔ اس كے بعد مسيحي چرچ نے سائنٹفك كميونٹي سے معافي مانگي، اور اپني غلطي كا اعلان كرديا۔ p. 193