Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خدا کا فلسفیانہ تصور p. 193
آرین مذاہب میں وحدتِ وجود (monism) کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کے مطابق، خدا کا اپنا کوئی فارم نہیں ہے۔ وہ ایک نراکار خدا (formless God) ہے۔ اِس تصور کے مطابق، خدا کی اپنی کوئی الگ ہستی نہیں ہے۔ دنیا میں جو چیزیں دکھائی دیتی ہیں، وہ سب کی سب اِسی بے وجود خدا کا وجودی اظہار ہیں۔ یہ تصور دراصل ایک فلسفیانہ تصور ہے۔ فلاسفہ عام طورپر اِسی معنیٰ میں خدا کو مانتے رہے ہیں۔ وہ خدا کو اسپرٹ (spirit) یا آئیڈیا (idea)جیسے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ یہی فلسفیانہ تصور آرین مذاہب میںایک عقیدے کے طورپر شامل ہوگیا۔ p. 193
خدا کا یہ غیر وجودی تصور محض ایک بے بنیاد قیاس (speculation) ہے۔ حقیقی معنوںمیں اس کی کوئی استدلالی بنیاد موجود نہیں۔ پہلی بات یہ کہ تخلیق کی صورت میں ہم جس کائنات کا تجربہ کرتے ہیں، وہ پورے معنوں میںایک فارم (form) ہے۔ p. 194
یہ کہنا ایک غیر منطقی بات ہے کہ ایک خدا جو محض ایک اسپرٹ یا آئڈیا تھا، جس کی اپنی کوئی ہستی نہ تھی، اس نے اتنے بے شمار قسم کے فارم پیدا کردیے۔ خدا وہی ہے جس کے اندر تخلیق کی صفت پائی جاتی ہو، اور اسپرٹ یا آئڈیامیں تخلیق کی صفت سرے سے موجود نہیں۔ اِس لیے یہ نظریہ بداہۃً ہی قابلِ رد ہے p. 194original + quote
Prima facie it stands rejected. p. 194
سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، اس کی تمام چیزیں ایٹم سے مرکب ہیں۔ اس کو لے کر کہا جاتا ہے کہ سائنس کے مطالعے سے کائنات میںوحدت (oneness) کا ثبوت ملتا ہے، یعنی تمام مادی چیزوں میں استثنا کے باوجود یکسانیت (uniformity amids exception)ہے۔مگر یہ استدلال درست نہیں۔ کائنات میں مادّی اجزا کے اعتبار سے ضرور وحدت ہے، لیکن اِن مادی اجزا کی ترکیب سے جو چیز بنی، اس کے اندر غیر معمولی ڈزائن (design) موجود ہے، اور ڈزائن صرف ایک ذہن کی تخلیق ہوتی ہے، نہ کہ کسی بے فارم اسپرٹ کی تخلیق۔ p. 195original + quote
کائنات میں خدا p. 195
کی گواہی p. 195