Khuda ki Daryaft

اطمینان بخش توجیہ

Khuda ki Daryaft — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (165 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. دیباچہ
  3. خدا کی دریافت
  4. فلسفيانه تلاش كي ناكامي
  5. صحیح طریقِ کار
  6. گلیلیو گلیلی
  7. الکسس کیرل کا تبصرہ
  8. ايمان بالغيب
  9. کائنات کی توجیہ
  10. خلّاق علیم
  11. بگ بینگ، لٹل بینگ
  12. چھ بينگ
  13. بگ بینگ، ایک منظم واقعہ
  14. ایک تقابل
  15. بے نقص کائنات
  16. زیرو ڈفکٹ کائنات
  17. خدا کے بغیر کائنات بے تعبیر
  18. ایک علمی ملاقات
  19. خدا کا وجود
  20. سائنس كي واپسي
  21. سائنس سے معرفت تک
  22. معرفت کے دو درجے
  23. سائنس کی شہادت
  24. سائنس اور عقیدۂ خدا
  25. فائن ٹیوننگ
  26. تبصرہ
  27. خدا اور آخرت
  28. با معنٰی کائنات
  29. سائنسی ثبوت
  30. تین علمی اصول
  31. امید کی کرن
  32. تضاد کا خاتمہ
  33. آغاز کی تکمیل
  34. درست فریم ورک
  35. اطمینان بخش توجیہ
  36. جنت کی حقیقت
  37. فطرت کا حصہ
  38. جديد سائنس
  39. وحي والهام
  40. علم كا سفر
  41. سائنس توحيد كي طرف
  42. اختيار اور بے اختياري
  43. طبيعیات سے ما بعد الطبيعيات كي تصديق
  44. كائنات اتني يكساں كيوں
  45. كياكوئي زڈ ذره هے
  46. ڈي اين اے سے پهلےكيا تھا
  47. جين كس طرح متحرك اورغير متحرك هوتے هيں
  48. همارے اندر مدافعتی نظام كيوں
  49. ارتقا كي پيمائش هم كيسے كريں
  50. نظامِ عصبي كس طرح بنتا هے
  51. كوانٹم نظريه كيا كشش كےنظريے پر بھي چسپاں هوتاهے
  52. دماغ كے مختلف حصےكس طرح رابطه قائم كرتےهيں
  53. انسان كب سے زمين پر هے
  54. تبصره
  55. علم كى شهادت
  56. خدا سب سے بڑی حقیقت
  57. لامحدود کائنات، انسانی محدودیت
  58. خدا كا تصور
  59. مخالفينِ مذهب كا استدلال
  60. كائنات بول رهي هے
  61. حادثہ، توجیہ کے لیے کافی نہیں
  62. سائنس اور الٰہیات
  63. وضاحت
  64. عقلی موقف
  65. ذہین کائنات
  66. دو انتخاب(options)
  67. واحد انتخاب
  68. منطقی استدلال
  69. انتخابی منطق
  70. مجبورانہ منطق
  71. انسان کا وجود، خدا کے وجود کا ثبوت
  72. خلائی مشاہدہ
  73. زمین ایک استثنا
  74. سَفرِنگ کا مسئلہ
  75. غلط ریفرنس میں مطالعہ
  76. تقابلی مطالعہ
  77. سائنٹفک مطالعہ
  78. خدا کا تخلیقی پلان
  79. کائناتی معنویت کی توجیہ
  80. وقت کا شعور
  81. زَوجین کا اصول
  82. آئڈیل ازم کی ناکامی
  83. دنیا کا خاتمہ
  84. خدا اور سائنس
  85. عقیدۂ خدا اور سائنس
  86. خدا کا وجود
  87. خدا کو کس نے پیدا کیا
  88. ریاضیاتی ذہن
  89. زیادہ عجیب، کمتر عجیب
  90. اللہ کی رؤیت
  91. كون كنٹرول كرے
  92. حکمت ِ تخلیق
  93. تاريخ كے فكري مغالطے
  94. استدلال كي بنياد
  95. ڈارونزم کا نظریہ
  96. ہیومنزم کا نظریہ
  97. خاتمه
  98. خدا کا فلسفیانہ تصور
  99. خدا كا ثبوت
  100. كائنات ميں خدا كي گواهي
  101. ذهين كائنات
  102. زمین، ایک نشانی
  103. معنی خیز استثنا
  104. کائناتی نشانیاں
  105. کویزار ايك ارب سورج سے بھي زياده روشن
  106. عقيدهٔ خدا اور سائنس
  107. دریافت کی اہمیت
  108. كائناتي وحدت
  109. خدا كي عظمت
  110. عقيدهٔ خدا
  111. خدا اور انسان
  112. ناقابلِ توجيه
  113. انسانی دماغ
  114. يه محكم نظام
  115. جواہر لال نہرو کا بیان
  116. كائنات كي نشانياں
  117. انسان کی بے اختیاری
  118. انسان کے لیے سبق
  119. میں خالق کا شکر گزار ہوگیا ہوں
  120. حفاظتي ڈھال
  121. خلاصهٔ كلام
  122. کائنات ایک آئینہ
  123. رياضياتي دنيا
  124. كائنات اورانسان
  125. توازنِ فطرت
  126. نيم كا معجزه
  127. تخليق ميں ذهانت
  128. ذره بھي غائب نهيں
  129. زمين الله كي عجيب وغريب نعمت
  130. سائنس کی گواہی
  131. مشيني ذهانت
  132. ایک مثال
  133. كائناتي مشين
  134. مشيني تعبير
  135. بے خطا نظام
  136. ريموٹ كنٹرول
  137. برتر ہستی کا تصور
  138. فطرت كي آواز
  139. فلم ایکٹرس
  140. جوزف اسٹالن
  141. اسٹالن کی بیٹی
  142. ایک روسی پائلٹ
  143. میخائل گوربا چیف
  144. رچرڈ نکسن
  145. برٹرينڈ رسل
  146. خدا كي نشانياں
  147. حقيقت كي تلاش
  148. مذهب كي طرف واپسي
  149. تبصره
  150. معبود كي طلب
  151. خدا كي موجودگي كا تجربه
  152. انكار سے اقرار تك
  153. تبصره
  154. فطرت كي پكار
  155. ڈارون کا اعتراف
  156. برتر ہستی کی تلاش
  157. خلائي تهذيب
  158. ایلین کی تلاش
  159. بامعني كائنات
  160. ماورائے انسان ذهانت
  161. سب سے بڑا المیہ
  162. جس زندگي كي هميں تلاش هے
  163. توحيد كا تصور اسلام ميں
  164. توحيد كي عملي اهميت
  165. توحيد كا عقيده اور انسان

اطمینان بخش توجیہ p. 84

اس سائنسی اصول کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں تمام معلوم شواہد کی تشفی بخش توجیہ مل جاتی ہے، جب کہ عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں سب کچھ ناقابل توجیہ بنا رہتا ہے۔ p. 84

عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا ادھوری معلوم ہوتی ہے، جب کہ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا مکمل نظر آنے لگتی ہے۔ عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں یہ بات ناقابلِ فہم بنی رہتی ہے کہ بہت سے سچے اور اچھے انسان دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ انہیں اپنی سچائی کا کوئی انعام نہیں ملا۔ مگر عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں یہ اشکال پوری طرح ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا کا یہ واقعہ ناقابلِ توجیہ بنا رہتا ہے کہ یہاں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ برائی اور سرکشی کرتے ہیں، مگر یہاں وہ اپنی برائی کی سزا نہیں پاتے۔لیکن عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں ہم کو اس سوال کا اطمینان بخش جواب مل جاتا ہے۔ p. 85

اسی طرح عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں یہ بات مکمل طورپر ناقابلِ فہم رہتی ہے کہ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ انسان یہاں ایک آئیڈیل ورلڈ کا تصور لے کر پیدا ہوتا ہے، مگر ہر شخص اس آئیڈیل ورلڈ کو پائے بغیر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں یہ اشکال مکمل طورپر ختم ہوجاتا ہے۔ اب انسان اس یقین کے ساتھ موجودہ دنیا میں رہ سکتا ہے کہ جس مطلوب چیز کو وہ قبل از موت دنیا میں نہ پاسکا، وہ اس کو بعد از موت دنیا میں پالے گا۔ p. 85

مطالعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز عبث پیدا نہیں کی گئی۔ سورج چاند کا نظام ہو یا زمین کے کیڑے مکوڑے سب ایک مقصد کے تحت پیدا کیےگئے ہیں، اور وہ اپنے اس مقصد کو پورا کررہے ہیں۔ اس حالت میں اس دنیا میں صرف ایک ہی چیز ایسی ہے جو بظاہر بلا مقصد معلوم ہوتی ہے۔ ہر عورت اور مرد کے اندر پیدائشی طورپر حسین تمناؤں کا ایک تصور بسا ہوا ہے، کوئی بھی عورت یا مرد اس سے خالی نہیں۔ پھر جب اس دنیا کی دوسری تمام چیزیں واضح مقصد کے تحت پیدا کی گئی ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ انسان کی خواہشیں اور تمنائیں بھی اپنی ایک حقیقی منزل رکھتی ہوں۔ جس کائنات میں ہر چیز با مقصد ہو، وہاں انسان کی خواہشیں اور تمنائیں بے مقصد نہیں ہوسکتیں۔ p. 85

یقینی طورپر یہ خواہشیں اور تمنائیں بھی سوچی سمجھی تخلیق ہیں۔ ان کی پیدائش کا ایک واضح مقصد ہے۔ البتہ یہ مقصد موجودہ محدود دنیا میں پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ خواہشیں اور تمنائیں لامحدودہیں، اور وہ ایک لامحدود دنیا ہی میں پوری ہوسکتی ہیں۔ اسی لامحدود دنیا کا نام آخرت ہے۔ p. 85

آخرت کی اس لامحدود دنیا میں اچھے لوگوں کو ابدی جنت ملے گی، جو ہر قسم کی خوشیوں اور راحتوں سے بھری ہوئی ہوگی۔ اس کے برعکس جو لوگ موجودہ دنیا میں برے ثابت ہوں، ان کو آخرت کی دنیا میں کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا، جہاں وہ مجبور ہوں گے کہ وہ اپنی برائیوں کی سزا ابدی طورپر بھگتتے رہیں۔ p. 86