Khuda ki Daryaft

كائنات ميں خدا كي گواهي

Khuda ki Daryaft — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (165 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. دیباچہ
  3. خدا کی دریافت
  4. فلسفيانه تلاش كي ناكامي
  5. صحیح طریقِ کار
  6. گلیلیو گلیلی
  7. الکسس کیرل کا تبصرہ
  8. ايمان بالغيب
  9. کائنات کی توجیہ
  10. خلّاق علیم
  11. بگ بینگ، لٹل بینگ
  12. چھ بينگ
  13. بگ بینگ، ایک منظم واقعہ
  14. ایک تقابل
  15. بے نقص کائنات
  16. زیرو ڈفکٹ کائنات
  17. خدا کے بغیر کائنات بے تعبیر
  18. ایک علمی ملاقات
  19. خدا کا وجود
  20. سائنس كي واپسي
  21. سائنس سے معرفت تک
  22. معرفت کے دو درجے
  23. سائنس کی شہادت
  24. سائنس اور عقیدۂ خدا
  25. فائن ٹیوننگ
  26. تبصرہ
  27. خدا اور آخرت
  28. با معنٰی کائنات
  29. سائنسی ثبوت
  30. تین علمی اصول
  31. امید کی کرن
  32. تضاد کا خاتمہ
  33. آغاز کی تکمیل
  34. درست فریم ورک
  35. اطمینان بخش توجیہ
  36. جنت کی حقیقت
  37. فطرت کا حصہ
  38. جديد سائنس
  39. وحي والهام
  40. علم كا سفر
  41. سائنس توحيد كي طرف
  42. اختيار اور بے اختياري
  43. طبيعیات سے ما بعد الطبيعيات كي تصديق
  44. كائنات اتني يكساں كيوں
  45. كياكوئي زڈ ذره هے
  46. ڈي اين اے سے پهلےكيا تھا
  47. جين كس طرح متحرك اورغير متحرك هوتے هيں
  48. همارے اندر مدافعتی نظام كيوں
  49. ارتقا كي پيمائش هم كيسے كريں
  50. نظامِ عصبي كس طرح بنتا هے
  51. كوانٹم نظريه كيا كشش كےنظريے پر بھي چسپاں هوتاهے
  52. دماغ كے مختلف حصےكس طرح رابطه قائم كرتےهيں
  53. انسان كب سے زمين پر هے
  54. تبصره
  55. علم كى شهادت
  56. خدا سب سے بڑی حقیقت
  57. لامحدود کائنات، انسانی محدودیت
  58. خدا كا تصور
  59. مخالفينِ مذهب كا استدلال
  60. كائنات بول رهي هے
  61. حادثہ، توجیہ کے لیے کافی نہیں
  62. سائنس اور الٰہیات
  63. وضاحت
  64. عقلی موقف
  65. ذہین کائنات
  66. دو انتخاب(options)
  67. واحد انتخاب
  68. منطقی استدلال
  69. انتخابی منطق
  70. مجبورانہ منطق
  71. انسان کا وجود، خدا کے وجود کا ثبوت
  72. خلائی مشاہدہ
  73. زمین ایک استثنا
  74. سَفرِنگ کا مسئلہ
  75. غلط ریفرنس میں مطالعہ
  76. تقابلی مطالعہ
  77. سائنٹفک مطالعہ
  78. خدا کا تخلیقی پلان
  79. کائناتی معنویت کی توجیہ
  80. وقت کا شعور
  81. زَوجین کا اصول
  82. آئڈیل ازم کی ناکامی
  83. دنیا کا خاتمہ
  84. خدا اور سائنس
  85. عقیدۂ خدا اور سائنس
  86. خدا کا وجود
  87. خدا کو کس نے پیدا کیا
  88. ریاضیاتی ذہن
  89. زیادہ عجیب، کمتر عجیب
  90. اللہ کی رؤیت
  91. كون كنٹرول كرے
  92. حکمت ِ تخلیق
  93. تاريخ كے فكري مغالطے
  94. استدلال كي بنياد
  95. ڈارونزم کا نظریہ
  96. ہیومنزم کا نظریہ
  97. خاتمه
  98. خدا کا فلسفیانہ تصور
  99. خدا كا ثبوت
  100. كائنات ميں خدا كي گواهي
  101. ذهين كائنات
  102. زمین، ایک نشانی
  103. معنی خیز استثنا
  104. کائناتی نشانیاں
  105. کویزار ايك ارب سورج سے بھي زياده روشن
  106. عقيدهٔ خدا اور سائنس
  107. دریافت کی اہمیت
  108. كائناتي وحدت
  109. خدا كي عظمت
  110. عقيدهٔ خدا
  111. خدا اور انسان
  112. ناقابلِ توجيه
  113. انسانی دماغ
  114. يه محكم نظام
  115. جواہر لال نہرو کا بیان
  116. كائنات كي نشانياں
  117. انسان کی بے اختیاری
  118. انسان کے لیے سبق
  119. میں خالق کا شکر گزار ہوگیا ہوں
  120. حفاظتي ڈھال
  121. خلاصهٔ كلام
  122. کائنات ایک آئینہ
  123. رياضياتي دنيا
  124. كائنات اورانسان
  125. توازنِ فطرت
  126. نيم كا معجزه
  127. تخليق ميں ذهانت
  128. ذره بھي غائب نهيں
  129. زمين الله كي عجيب وغريب نعمت
  130. سائنس کی گواہی
  131. مشيني ذهانت
  132. ایک مثال
  133. كائناتي مشين
  134. مشيني تعبير
  135. بے خطا نظام
  136. ريموٹ كنٹرول
  137. برتر ہستی کا تصور
  138. فطرت كي آواز
  139. فلم ایکٹرس
  140. جوزف اسٹالن
  141. اسٹالن کی بیٹی
  142. ایک روسی پائلٹ
  143. میخائل گوربا چیف
  144. رچرڈ نکسن
  145. برٹرينڈ رسل
  146. خدا كي نشانياں
  147. حقيقت كي تلاش
  148. مذهب كي طرف واپسي
  149. تبصره
  150. معبود كي طلب
  151. خدا كي موجودگي كا تجربه
  152. انكار سے اقرار تك
  153. تبصره
  154. فطرت كي پكار
  155. ڈارون کا اعتراف
  156. برتر ہستی کی تلاش
  157. خلائي تهذيب
  158. ایلین کی تلاش
  159. بامعني كائنات
  160. ماورائے انسان ذهانت
  161. سب سے بڑا المیہ
  162. جس زندگي كي هميں تلاش هے
  163. توحيد كا تصور اسلام ميں
  164. توحيد كي عملي اهميت
  165. توحيد كا عقيده اور انسان

كائنات ميں خدا كي گواهي p. 198

زمين پر زندگي كےوجودكے ليے مختلف پیچیدہ حالات كي موجودگي ضروری ہے۔ یہ زمینی ظاہرہ رياضياتي طورپران مختلف پیچیدہ حالات کےاتفاقی وقوع کےتصور کو ناقابل قبول بناتاهے ، یعنی یہ ناممکن ہے کہ ایسے پیچیدہ حالات اپنے مخصوص تناسب کے ساتھ محض اتفاقاً زمين كے اوپر اكٹھا هوجائيں۔ اب اگر ايسے حالات پائے جاتے هيںتو لازماً يه ماننا هوگا كه فطرت ميں كوئي ذي شعور رهنمائي موجود هے، جوان حالات كو پيدا كرنے كا سبب هے۔ p. 198

زمين اپني جسامت كے اعتبار سے كائنات ميں ايك ذرّے كے برابر بھي حيثيت نهيں ركھتي، مگر اس كے باوجود هماري تمام معلوم دنياؤں ميں اهم ترين هے۔ كيونكه اس كے اوپر حيرت انگيز طور پر وه حالات مهيا هيں، جو همارے علم كے مطابق اس وسيع كائنات ميں كهيں نهيں پائے جاتے۔ p. 199

سب سے پهلے زمين كي جسامت كو ليجیے۔ اگر اس كا حجم كم يا زياده هوتا تو اس پر زندگي محال هوجاتي۔ مثلاً يه كرهٔ زمين اگر چاند جتنا چھوٹاہوتا يعني اس كا قطر (diameter)موجوده قطر كي نسبت سے ¼هوتا تو اس كي كشش ثقل زمين كي موجوده كشش كا 1/6 ره جاتي۔ كشش كي اس كمي كا نتيجه يه هوجاتا كه وه پاني اور هوا كو اپنے اوپر روك نه سكتي، جيسا كه جسامت كي اسي كمي كي وجه سے چاند ميں واقع هوا هے۔ چاند پر اِس وقت نه تو پاني هے، اور نه كوئي هوائي كره۔ هوا كا غلاف نه هونے كي وجه سے وه رات كے وقت بے حد سرد هوجاتا هے، اور دن كے وقت تنور كي مانند جلنے لگتا هے۔ اسي طرح كم جسامت كي زمين كشش كي كمي كي وجه سے پاني كي اس كثير مقدار كو روك نه سكتي، جو زمين پرموسمي اعتدال كو باقي ركھنے كا ايك اهم ذريعه هے۔ زمین کی اسي خصوصیت کی بنا پر ايك سائنسداں نے اس كو عظيم توازني پهيه (great balance wheel) كا نام ديا هے۔ p. 199unverified

Man Does not Stand Alone, p. 28 p. 199

اسی طرح اگر یہ ہوتا کہ هوا كا موجوده غلاف اڑ كر فضا ميں گم هوجاتا تو زمین کی حالت يه هوتی كه اس كي سطح پر درجهٔ حرارت میں اضافہ ہوتا تو انتهائي حد تك بڑھ جاتا، اور گرتا تو انتهائي حد تك گر جاتا۔ اس كے برعكس اگر زمين كا قطر، موجوده قطر كي نسبت سے دگنا هوتا تو اس كي كششِ ثقل بھي دگني بڑھ جاتي۔ كشش كے اس اضافے كا نتيجه يه هوتا كه هوا، جو اس وقت زمين كے اوپر پانچ سو ميل كي بلندي تك پائي جاتي هے، وه كھنچ كر بهت نيچے تك سمٹ جاتي۔ اس كے دباؤ ميں في مربع انچ 15تا 30 پونڈ كا اضافه هوجاتا، جس كا ردِ عمل مختلف صورتوں ميں زندگي كے ليے نهايت مهلك ثابت هوتا،اور اگر زمين سورج سے اتني بڑي هوتي، اور اس كي كثافت برقرار رهتي تو اس كي كشش ثقل ڈيڑ سوگنا بڑھ جاتي۔ p. 200unverified

زمین کے گرد گیسوں کا ایک غلاف (Atmosphere) ہے۔اس کو عام زبان میں ہوا (air) کہا جاتا ہے۔ اس کی وسعت پانچ سو میل کی ہے۔اگر زمین پر هوا كے غلاف كي موٹائی گھٹ كر پانچ سو ميل كے بجائے صرف چارسو ميل ره جاتي۔ نتيجه يه هوتا كه هوا كا دباؤ ايك ٹن في مربع انچ تك جاپهنچتا۔ اس غير معمولي دباؤ كي وجه سے زمین میں زنده اجسام كا نشوونما ممكن نه رهتا۔ ايك پونڈ وزني جانور كا وزن ايك سو پچاس پونڈ هوجاتا۔ انسان كا جسم گھٹ كر گلهري كے برابر هوجاتا، اور اس ميں كسي قسم كي ذهني زندگي ناممكن هوجاتي۔ كيوں كه انساني ذهانت حاصل كرنے كے ليے بهت كثير مقدار ميں اعصابي ريشوں كي موجودگي ضروري هے، اور اس طرح كے پھيلےهوئے ريشوں كا نظام ايك خاص درجے كي جسامت هي ميں پايا جاسكتا هے۔ p. 200

بہ ظاهر هم زمين كے اوپر هيں مگرزياده صحيح بات يه هے كه هم اس كے نيچے سر كے بل لٹكے هوئے هيں۔ زمين گويا فضا ميںمعلق ايك گيند هے، جس كے چاروں طرف انسان بستے هيں۔ كوئي شخص هندستان كي زمين پر كھڑا هو تو امريكا كے لوگ بالكل اس كے نيچے هوں گے، اور امريكا ميں كھڑا هو تو هندستان اس كے نيچےهوگا۔ پھر زمين ٹھهري هوئي نهيں هے، بلكه ايك هزار ميل في گھنٹے كي رفتار سے مسلسل گھوم رهي هے۔ ايسي حالت ميں زمين كي سطح پر همارا انجام وهي هونا چاهيے جيسے سائيكل كے پهيے پر كنكرياں ركھ كر پهيے كو تيزي سے گھماديا جائے۔ مگر ايسا نهيں هوتا۔ كيونكه ايك خاص تناسب سے زمين كي كشش اور هوا كا دباؤ هم كو ٹھهرائے هوئے هے۔ زمين كے اندر غير معمولي قوتِ كشش هے، جس كي وجه سے وه تمام چيزوں كو اپني طرف كھينچ رهي هے، اور اوپر سے هوا كا مسلسل دباؤ پڑتا هے۔ اس دو طرفه عمل نے هم كو زمين كے گولے پر چاروں طرف لٹكا ركھا هے۔ هوا كے ذريعے جو دباؤ پڑتا هے، وه جسم كے هر ايك مربع انچ پر تقريباً ساڑھے سات سير تك معلوم كيا گيا هے۔ يعني ايك اوسط آدمي كے سارے جسم پر تقريباً280 من كا دباؤ۔ آدمي اس وزن كو محسوس نهيں كرتا۔ كيونكه هوا جسم كے چاروں طرف هے۔ دباؤ هر طرف سے پڑتا هے اسي ليے آدمي كو محسوس نهيں هوتا۔ جيسا كه پاني ميں غوطه لگانے كي صورت ميں هوتا هے۔اس كے علاوه هوا جو مختلف گيسوں كے مخصوص مركب كا نام هے، اس كے بے شمار ديگر فائدے هيں، جن كا بيان كسي كتاب ميں ممكن نهيں۔ p. 200

نيوٹن اپنے مشاهدے اور مطالعے سے اس نتيجه پر پهنچا تھا كه تمام اجسام ايك دوسرے كو اپني طرف كھينچتے هيں۔ مگر اجسام كيوں ايك دوسرے كو كھينچتے هيں۔ اس سوال كا اس كے پاس كوئي جواب نهيں تھا ۔ چنانچه اس نے كها كه ميں اس كي كوئي توجيه پيش نهيں كرسكتا۔ p. 201

وائٹ هيڈ (Alfred North Whitehead, 1861-1947) اس كا حواله ديتے هوئے كهتا هے’’نيوٹن نے يه كهه كر ايك عظيم فلسفيانه حقيقت كا اظهار كياهے۔ كيونكه فطرت اگر بے روح فطرت هے تو وه هم كو توجيه نهيں دے سكتي۔ ويسے هي جيسے مرده آدمي كوئي واقعه نهيں بتا سكتا۔ تمام عقلي اور منطقي توجيهات آخري طورپر ايك مقصديت كا اظهار هيں۔ جب كه مرده كائنات ميں كسي مقصديت كا تصور نهيں كياجاسكتا‘‘۔ p. 201unverified

The Age of Analysis, p. 85 p. 201

وائٹ هيڈ كےالفاظ كو آگے بڑھاتے هوئے ميں كهوں گا كه كائنات اگر كسي صاحبِ شعور كے زير انتظام نهيںهے تو اس كے اندر اتني معنويت كيوں پائي جاتي هے۔ p. 202

زمين اپنے محور پر چوبيس گھنٹے ميں ايك چكر پورا كرليتي هے۔ يا يوں كهيے كه وه اپنے محور پر ايك هزار ميل في گھنٹه كي رفتار سے چل رهي هے۔ فرض كرو اس كي رفتار دو سو ميل في گھنٹه هو جائے، اور يه بالكل ممكن هے، ايسي صورت ميں همارے دن اور هماري راتيں موجوده دن اور رات كي نسبت سے دس گنا زياده لمبے هوجائيں گے۔ گرميوں كا سخت سورج هر دن تمام نباتات كو جلادے گا، اور جو بچے گا وه لمبي رات كي ٹھنڈك ميں پالے (frost)كي نذر هوجائے گا۔ سورج جو اس وقت همارے ليے زندگي كا سرچشمه هے،اس كي سطح پر باره هزار ڈگري فارن هائٹ كا ٹمپريچر هے، اور زمين سے اس كا فاصله تقريباً نوكرور تيس لاكھ ميل هے، اور يه فاصله حيرت انگيز طورپر مسلسل قائم هے۔يه واقعه همارے ليے بے حد اهميت ركھتا هے۔ كيوں كه اگر يه فاصله گھٹ جائے، مثلاً سورج نصف كے بقدر قريب آجائے تو زمين پر اتني گرمي پيداهو كه اس گرمي سے كاغذ جلنے لگے، اور اگر موجوده فاصله دگنا هوجائے تو اتني ٹھنڈك پيدا هو كه زندگي باقي نه رهے۔ يهي صورت اس وقت پيدا هوگي ،جب موجوده سورج كي جگه كوئي دوسرا غير معمولي ستاره آجائے۔ مثلاً ايك بهت بڑا ستاره هے، جس كي گرمي همارے سورج سے دس هزار گنا زياده هے۔ اگر وه سورج كي جگه هوتا تو زمين كو آگ كي بھٹي بنا ديتا۔ p. 202

زمين 23درجے كا زاويه بناتي هوئي فضا ميں جھكي هوئي هے۔ يه جھكاؤ هميں همارے موسم ديتے هيں۔ اس كے نتيجے ميں زمين كا زياده سے زياده حصه آبادكاري كے قابل هوگياهے، اور مختلف قسم كي نباتات اور پيداوار حاصل هوتي هيں۔ اگر زمين اس طرح سے جھكي هوئي نه هوتي تو قطبَین (North Pole & South Pole)پر هميشه اندھيرا چھايا رهتا۔ سمندر كے بخارات شمال اور جنوب كي جانب سفر كرتے، اور زمين پر يا تو برف كے ڈھير هوتے يا صحرائي ميدان۔ اس طرح كے اور بهت سے اثرات هوتے جس كے نتيجے ميں بغير جھكي هوئي زمين پر زندگي ناممكن هوجاتي۔ يه كس قدر ناقابلِ قياس بات هے كه ماده نے خود كو اپنے آپ اس قدر موزوں اور مناسب شكل ميں منظم كرليا۔ p. 202

اگر سائنسدانوں كا قياس صحيح هے كه زمين سورج سے ٹوٹ كر نكلي هے تو اس كا مطلب يه هے كه ابتداء ً زمين كا درجهٔ حرارت وهي رها هوگا جو سورج كا هے، يعني باره هزار ڈگري فارن هائٹ۔ اس كے بعد وه دھيرے دھيرے ٹھنڈي هونا شروع هوئي۔ آكسيجن اور هائيڈروجن كا ملنا اس وقت تك ممكن نهيں هوسكتا جب تك زمين كا درجهٔ حرارت گھٹ كر چار هزار ڈگري پر نه آجائے۔ اسي موقع پر دونوں گيسوں كے باهم ملنے سے پاني بنا۔ اس كے بعد كروروں سال تك زمين كي سطح اور اس كي فضا ميں زبردست انقلابات هوتے رهے۔ يهاں تك كه غالباً ايك بلين سال پهلے زمين اپني موجوده شكل ميں تيار هوئي۔ زمين كي فضا ميں جو گيسيں تھيں ان كا ايك بڑا حصه خلا ميں چلا گيا، ايك حصے نے پاني كے مركب كي صورت اختيار كي، ايك حصه زمين كي تمام چيزوں ميں جذب هوگيا ،اور ايك حصه هوا كي شكل ميں هماري فضا ميں باقي ره گيا ،جس كا بيشتر جزء آكسيجن اور نائٹروجن هے۔ يه هوا اپني كثافت كے اعتبار سے زمين كا تقريباً دس لاكھواں حصه هے— كيوں نهيں ايسا هوا كه تمام گيسيں جذب هوجاتيں، يا كيوں ايسا نهيں هوا كه موجوده نسبت سے هوا كي مقدار زياده هوتي۔ دونوں صورتوں ميں انسان زنده نهيں هوسكتا تھا، يا اگر بڑھي هوئي گيسوں كے هزاروں پونڈ في مربع انچ بوجھ كے نيچے زندگي پيدا بھي هوتي تو يه ناممكن تھا كه وه انسان كي شكل ميں نشوونما پاسكے۔ p. 202original + quote

زمين كي دوهري پرت اگر صرف دس فٹ موٹي هوتي تو هماري فضا ميں آكسيجن كا وجود نه هوتا، جس كے بغير حيواني زندگي ناممكن هے۔ اسي طرح اگر سمندر كچھ فٹ اور گهرے هوتے تو وه كاربن ڈائي آكسائڈ اور آكسيجن كوجذب كرليتے اور زمين كي سطح پر كسي قسم كي نباتات کازنده رهنا ناممکن تھا۔ اگر زمين كے اوپر كي هوائي فضا موجوده كي نسبت سے لطيف هوتي تو شهاب ثاقب (meteorite)جو هر روز اوسطاً دوكرور كي تعداد ميں اوپري فضا ميں داخل هوتے هيں، اور رات كے وقت هم كو جلتے هوئے دكھائي ديتےهيں، وه زمين كے هر حصے ميں گرتے۔ يه شهابيے (meteorites)چھ سے چاليس ميل تك في سكنڈ كي رفتار سے سفر كرتے هيں۔ وه زمين كے اوپر هر آتش پذير مادے كو جلا ديتے اور سطح زمين كو چھلني كرديتے۔ شهاب ثاقب بندوق كي گولي سے نوے گنا زياده رفتار سے آدمي جيسي مخلوق كو محض اپني گرمي سے ٹكڑے كرديتي۔ مگر هوائي كره اپني نهايت موزوں دبازت (thickness)كي وجه سے هم كو اس آتشي بوچھار (fiery onslaught)سے محفوظ ركھتا هے۔ p. 203

هوائي كره ٹھيك اتني كثافت ركھتا هے كه سورج كي كيمياوي اهميت ركھنے والي شعاعيں (actinic rays) اسي موزوں مقدار سے زمين پرپهنچتي هيں، جتني نباتات كو اپني زندگي كے ليے ضرورت هے، جس سےمضر بيكٹيريا مرسكتے هيں، جس سے وٹامن تيار هوتے هيں، وغيره وغيره — كميت كا اس طرح عين هماري ضرورتوں كے مطابق هونا كس قدر عجيب هے۔ p. 203

زمين كي اوپري فضا چھ گيسوں كا مجموعه هے، جس ميں تقريباً 78 فيصدي نائٹروجن اور 21 فيصدي آكسيجن هے۔ باقي گيسيں بهت خفيف تناسب ميں پائي جاتي هيں۔ اس فضا سے زمين كي سطح پر تقريباً پندره پونڈ في مربع انچ كا دباؤ پڑتاهے، جس ميں آكسيجن كا حصه تين پونڈ في مربع انچ هے۔ موجوده آكسيجن كا بقيه حصه زمين كي تهوں ميں جذب هے،اور وه دنيا كے تمام پاني كا 8/10 حصه بناتاهے۔ آكسيجن تمام خشكي كے جانوروں كے ليے سانس لينے كا ذريعه هے، اور اس مقصد كے ليے اس كو فضا كے سوا كهيں اور سے حاصل نهيںكيا جاسكتا۔ p. 203

يهاں يه سوال پيدا هوتا هے كه يه انتهائي متحرك گيسيں كس طرح آپس ميں مركب هوئيں، اور ٹھيك اس مقدار اور اس تناسب ميں فضا كے اندر باقي ره گئيں جو زندگي كے ليےضروري تھا۔ مثال كے طورپر آكسيجن اگر 21 فيصدي كے بجائے پچاس فيصدي يا اس سے زیادہ مقدار ميں فضا كا جزو هوتا تو سطح زمين كي تمام چيزوں ميں آتش پذيري (inflammability) كي صلاحيت اتني بڑھ جاتي كه ايك درخت ميں آگ پكڑتے هي سارا جنگل بھك سے اڑ جاتا۔ اسي طرح اس كا تناسب گھٹ كر دس فيصدي رهتا تو ممكن هے زندگي صديوں كے بعد اس سے هم آهنگي اختيار كرليتي۔ مگر انساني تهذيب موجوده شكل ميں ترقي نهيں كرسكتي تھي، اور اگر آزاد آكسيجن بھي بقيه آكسيجن كي طرح زمين كي چيزوں ميں جذب هوگئي هوتي تو حيواني زندگي سرے سے ناممكن هوجاتي۔ p. 204unverified

آكسيجن، هائيڈروجن، كاربن ڈائي آكسائڈ اور كاربن گيسيں الگ الگ اور مختلف شكلوں ميں مركب هوكر حيات كے اهم ترين عناصر هيں۔ يهي وه بنياديں هيں، جن پر زندگي قائم هے۔ اس كا ايك في ارب (1 in 1,000,000,000) بھي امكان نهيں هے كه وه تمام ايك وقت ميں كسي ايك سياره پر اس مخصوص تناسب كے ساتھ اكھٹا هوجائيں۔ ايك عالم طبيعيات كے الفاظ ميں— سائنس كے پاس ان حقائق كي توجيه كے ليے كوئي چيز نهيں هے، اور اس كو اتفاق كهنا رياضيات سے كشتي لڑنے كے هم معني هے p. 204

Science has no explanation to offer for the facts, and to say it is accidental is to defy mathematics (p. 33) p. 204

هماري دنيا ميں بے شمار ايسے واقعات موجود هيں، جن كي توجيه اس كے بغير نهيں هوسكتي كه اس كي تخليق ميںايك برتر ذهانت كا دخل تسليم كياجائے۔ p. 205

پاني كي اهم خصوصيات ميں سے ايك يه هے كه برف كي كثافت(density) پاني سے كم هوتي هے۔ پاني وه واحد معلوم ماده هے، جو جمنے كے بعد هلكا هوجاتا هے۔ يه چيز بقا ئے حيات كے ليے زبردست اهميت ركھتي هے۔اس كي وجه سے يه ممكن هوتا هے كه برف پاني كي سطح پر تيرتا رهتاهے، اور درياؤں، جھيلوں اور سمندروں كي تهه ميں بيٹھ نهيں جاتا۔ ورنه آهسته آهسته سارا پاني ٹھوس اور منجمد هوجائے۔ يه پاني كي سطح پر ايك ايسي حاجب تهه بن جاتا هے كه اس كے نيچے كا درجهٔ حرارت نقطهٔ انجماد سے اوپر هي اوپر رهتا هے۔ اس نادر خاصيت كي وجه سے مچھلياں اور ديگر آبي جانور زنده رهتے هيں۔ اس كے بعد جونهي موسم بهار آتا هے برف فوراً پگھل جاتا هے۔ اگر پاني ميں يه خاصيت نه هوتي تو خاص طورپر سرد ملكوں كے لوگوں كو بهت بڑي دقت كا سامنا كرنا پڑتا۔ p. 205

بيسويں صدي كے آغاز ميں جب امريكا ميں انڈوتھيا (Endothia) نام كي بيماري شاه بلوط (Chestnut) كے درختوں پر حمله آور هوئي، اور تيزي سے پھيلي تو بهت سے لوگوں نے جنگل كي چھتري ميں شگاف ديكھ كر كها ’’يه شگاف اب پُر نهيں هوں گے‘‘۔ امريكي شاه بلوط كي بالادستي كو ابھي تك كسي اور قسم كے اشجار نے نهيں چھينا تھا۔ اونچے درجے كي دير پا عمارتي لكڑي اور اس طرح كے دوسرے فوائد اس كے ليے خاص تھے۔يهاں تك كه 1900ء ميں ايشيا سے انڈوتھيا نام كي بيماري كا ورود هوا۔ اس وقت تك يه جنگلات كا بادشاه خيال كيا جاتا تھا۔ مگر اب جنگلات ميں يه درخت ناپيد هوچكا هے۔ p. 205

ليكن جنگلات كے يه خالی جگہیں جلد هي دوسری قسم کے درختوں سے پُر هوگئے۔امریکن ٹیولپ ٹری (Tulip Trees) اپني نشوونما كے ليے شايد انھيں شگافوں كا انتظار كررهے تھے۔ شگاف پيدا هونے سے پهلے تك يه درخت جنگلات كا معمولي جزء تھے ،اور بہت ہی کم بڑھتے اور پھولتے تھے۔ ليكن اب شاه بلوط كي عدم موجودگي كا كسي كو احساس تك نهيں هوتا۔ كيونكه اب دوسري قسم كے درخت پوري طرح ان كي جگه لےچكے هيں۔ يه دوسرے درخت سال بھر ميں ايك انچ محيط ميںاور چھ فٹ لمبائي ميں بڑھتے هيں۔ اتني تيزي كے ساتھ بڑھنے كے علاوه بهترين لكڑي ان سے حاصل كي جاتي هے، جو بالخصوص باريك تهوں كے كام آسكتي هے۔ p. 206

اسي صدي كا واقعه هے۔ ناگ پھني كي ايك قسم آسٹريليا ميں كھيتوں كي باڑھ قائم كرنے كے ليے بوئي گئي هے ۔ آسٹريليا ميں اس ناگ پھني كا كوئي دشمن كيڑا نهيں تھا۔ چنانچه وه بهت تيزي سے بڑھنا شروع هوگئي۔ يهاں تك كه انگلينڈ كے برابر رقبه پر چھاگئي۔ وه شهروں اور ديهاتوں ميںآبادي كے اندر گھس گئي ، كھيتوں كو ويران كرديا۔ اور زراعت كو ناممكن بناديا۔ كوئي تدبير بھي اس كے خلاف كارگر ثابت نهيں هوتي تھي۔ ناگ پھني آسٹريليا كے اوپر ايك ايسي فوج كي طرح مسلط تھي، جس كا اس كے پاس كوئي توڑ نهيں تھا۔ بالآخر ماهرين حشرات الارض دنيا بھر ميں اس كا علاج تلاش كرنے كے ليے نكلے۔ يهاں تك كه ان كي رسائي ايك كيڑے تك هوئي جو صرف ناگ پھني كھا كر زنده رهتا تھا۔ اس كے سوا اس كي كوئي خوراك نهيں تھي۔ وه بهت تيزي سے اپني نسل بڑھاتا تھا اور آسٹريليا ميں اس كا كوئي دشمن نهيں تھا۔ اسي كيڑے نے آسٹريليا ميں ناگ پھني كي ناقابلِ تسخير فوج پر قابو پاليا، اور اب وهاں سے اس مصيبت كا خاتمه هوگيا — قدرت كے نظام ميں يه ضبط وتوازن (checks and balances) كي عظيم تدبيريں كيا كسي شعوري منصوبے كے بغير خود بخود وجود ميں آجاتي هيں۔ p. 206unverified

كائنات ميں حيرت انگيز طورپر رياضياتي قطعيت پائي جاتي هے۔ يه جامد بے شعور ماده جو همارے سامنے هے، اس كا عمل غير منظم اور بے ترتيب نهيں بلكه وه متعين قوانين كا پابند هے۔ ’’پاني‘‘ كا لفظ خواه دنيا كے جس خطه ميں اور جس وقت بھي بولا جائے، اس كا ايك هي مطلب هوگا — ايك ايسا مركب جس ميں 11.1 في صد هائيڈروجن اور 88.9 في صد آكسيجن۔ ايك سائنسداں جب تجربه گاه ميں داخل هو كر پاني سے بھرے هوئے ايك پيالے كو گرم كرتاهے تو وه تھرماميٹر كے بغير يه بتا سكتا هے كه پاني كا نقطهٔ جوش 100 سنٹي گريڈ هے جب تك هوا كا دباؤ (atmospheric pressure) 760 ايم-ايم رهے۔ اگر هوا كا دباؤ اس سے كم هو تو اس حرارت كو لانے كے ليے كم طاقت دركار هوگي جو پاني كے سالمات كو توڑ كر بخارات كي شكل ديتي هے۔ اس طرح نقطهٔ جوش سودرجه سے كم هوجائے گا۔ اس كے برعكس اگر هوا كا دباؤ 760mm سے زياده هو تو نقطهٔ جوش بھي اسي لحاظ سے زياده هوجائے گا۔ يه تجربه اتني بار آزمايا گيا هے كه اس كو يقيني طورپر پهلے سے بتايا جاسكتا هے كه پاني كا نقطهٔ جوش كيا هے۔ اگر ماده اور توانائي كے عمل ميں يه نظم اور ضابطه نه هوتا تو سائنسي تحقيقات اور ايجادات كے ليےكوئي بنياد نه هوتي۔ كيونكه پھر اس دنياميں محض اتفاقات كي حكمراني هوتي اور علمائے طبيعيات كے ليے يه بتانا ممكن نه رهتا كه فلاں حالت ميں فلاں طريقِ عمل كے دهرانے سے فلاں نتيجه پيداهوگا۔ p. 206

كيميا كے ميدان ميں نووارد طالب علم سب سے پهلے جس چيز كا مشاهده كرتا هے، وه عناصر ميں نظم اور دَوری ضابطہ (Periodic Law) هے۔ سوسال پهلے ايك روسي ماهر كيميا منڈليف (Dmitri Mendeleev, 1834-1907) نے جوهري قدر كے لحاظ سے مختلف كيميائي عناصر كو ترتيب ديا تھا جس كو دَوري نقشه (periodic chart)كها جاتا هے۔ اس وقت تك موجوده تمام عناصر دريافت نهيںهوئے تھے اس ليے اس كے نقشے ميں بهت سے عناصر كے خانے خالي تھے جو عين اندازے كے مطابق بعد كو پُر هوگئے، ان نقشوں ميں سارے عناصر جوهري نمبروں كے تحت اپنے اپنے مخصوص گروپوں ميں درج كيے جاتے هيں۔ جوهري نمبر سے مراد مثبت برقيوں (protons) كي وه تعداد هے جو ايٹم كے مركز ميں موجود هوتي هے۔ يهي تعداد ايك عنصر كے ايٹم اور دوسرے عنصر كے ايٹم ميں فرق پيدا كرديتي هے۔ p. 207

هائيڈروجن جو سب سے ساده عنصر هے، اس كے ايٹم كے مركز ميںايك پروٹون هوتا هے۔ هيليم ميں دو اور ليتھيم ميں تين۔ مختلف عناصر كي جدول تيار كرنا اسي ليے ممكن هوسكا هے كه ان ميں حيرت انگيز طورپر ايك رياضياتي اصول كار فرما هے۔ نظم وترتيب كي اس سے بهتر مثال اوركيا هو سكتي هے كه عنصر نمبر 101 كي شناخت محض اس كے 17پروٹونوں كے مطالعه سے كرلي گئي۔ قدرت كي اس حيرت انگيز تنظيم كو هم دَوري اتفاق(periodic chance)نهيں كهتے بلكه اس كو دَوري ضابطه (periodic law) كهتے هيں۔ مگر نقشه اور ضابطه جو يقيني طور پر ناظم اور منصوبه ساز كا تقاضا كرتے هيں، اس كا انكار كرديتے هيں۔ حقيقت يه هے كه جديد سائنس اگر خدا كو نه مانے تو وه خود اپني تحقيق كے ايك لازمي نتيجے كا انكار كرے گي۔ p. 207

مثال کے طور پر’’11 اگست 1999ء ميں ايك سورج گرهن واقع هوا، جوانگلینڈ کے كارنوال (Cornwall)ميں مكمل طورپر ديكھا گیا‘‘ — لیکن اس کی قياسي پيشين گوئي پہلے کردی گئی تھی۔اس لیے یورپ میں دیکھا گیا 1999ء کا مکمل سورج گرہن تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سورج گرہن تھا۔سائنسدانوں سمیت بہت سے لوگ اس سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں پہنچے تھے۔ اسی طرح 22 جولائی 2009ء کو لگنے والا گرہن اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن تھا، جس کا دورانیہ ساڑھے پانچ گھنٹے تھا۔ اسے پاکستان، بھارت اور چین میں دیکھا گیا۔ اس قسم کا طویل سورج گرہن اس کے بعد 123 سال بعد 2132ء میں دیکھا جا سکے گا۔ p. 207

علمائے فلكيات يقين ركھتے هيں كه نظام شمسي كے موجوده گردشي نظام كے تحت متعین وقت اور تاریخ میں اس قسم کے گرہن كا پيش آنا يقيني هے۔ جب هم آسمان ميں نظر ڈالتے هيں تو هم لاتعداد ستاروں كو ايك نظام ميں منسلك ديكھ كر حيران ره جاتےهيں۔ ان گنت صديوں سے اس فضائے بسيط ميں جو عظيم گينديں معلق هيں، وه ايك هي معين راستے پر گردش كرتي چلي جارهي هيں۔ وه اپنے مداروںميں اس نظم كے ساتھ آتي اور جاتي هيں كه ان كے جائے وقوع اور ان كے درميان هونے والے واقعات كا صديوں پيشتر بالكل صحيح طورپر اندازه كيا جاسكتا هے۔ پاني كے ايك حقير قطرے سے لے كر فضائے بسيط (space)ميں پھيلے هوئے دور دراز ستاروں تك ايك بے مثال نظم وضبط پايا جاتا هے۔ ان كے عمل ميں اس درجه يكسانيت هےكه هم اس بنياد پر قوانين مرتب كرتے هيں۔ p. 208

نيوٹن كا نظريهٔ كشش فلكياتي كروں كي گردش كي توجيه كرتاهے۔ اس كے نتيجے ميںبرٹش سائنٹسٹ جے سي ايڈمس (John Couch Adams, 1819-1892) اورفرنچ سائنٹسٹ لاويرے (Urbain Jean Joseph Le Verrier, 1811-1877) كو وه بنياد ملي، جس سے وه ديكھے بغير صرف ریاضیاتی بنیادوں پر ايك ايسے سيارے كے وجود كي پيشين گوئي كرسكيں، جو اس وقت تك نامعلوم تھا۔ چنانچه ستمبر1846ء كي ايك رات كو جب برلن آبزرويٹري كي دور بين كا رخ آسمان ميں ان كے بتائے هوئے مقام كي طرف كياگيا تو في الواقع نظر آيا كه ايسا ايك سياره نظام شمسي ميں موجود هے، جس كو اب هم نيپچون (Neptune) كے نام سے جانتے هيں۔ p. 208

كس قدر ناقابلِ قياس بات هے كه كائنات ميں يه رياضياتي قطعيت خود بخود قائم هوگئي هے۔ p. 208