Place
Hudaybiyyah
Location of the Treaty of Hudaybiyyah (6 AH) between Prophet Muhammad and the Quraysh
Mentioned in 240 book passages
and 27 lecture moments.
Cite / permalink: entity/place/hudaybiyyah
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…IBM was so advanced in the field of computers that it was often referred to as the “computer giant.” A few years ago, IBM executives mocked Japanese computer companies, saying, “When IBM sneezes, Japanese computer makers are blown away.”
However, Japanese industrialists did not react angrily to this “provocation.” They focused wholeheartedly on improving the quality of their computers. According to Time (September 17, 1990), Japan eventually surpassed the world in the computer industry. In fact, Japanese company Fujitsu announced that its latest, largest computer could process up to 600 million instructions per second, compared to IBM’s best computer, which could only process 210 million instructions per second.
Becoming provoked by incitement is called reaction, while ignoring provocation to focus on development and stability is called action. The law of this world is that those who prove themselves through “action” progress, while those absorbed…
…divine laws. In this world you are free, but your freedom has to have some limitations, and that is to avoid anarchy and adhere to the laws of nature laid down by God. Your freedom should be a disciplined freedom and not unlimited freedom.
The other way is to discover the Laws of Nature and apply these laws to your life. The Quran is only a literal statement of those laws hidden in nature. If one is sincere, one will discover these laws without fail.
Interaction should definitely be engaged in,
whatever the situation.
The result showed that this had been a piece of master-strategy. Where the war-time situation had suspended all kinds of interaction, after the peace treaty the door to interaction was thrown wide open. It is a fact that where there is…
…calibre. He has that admirable quality of being realistic in his approach. He is a positive thinker and free of all kinds of negative thought. Only men of predictable character can build a better society. There is no alternative to this.
The whole of nature is completely predictable. Nature will accept only those men and women who prove to be as predictable as other parts of nature.
Greater than Political Victory
Never lose hope in the face of current circumstances. History often reveals that what appears to be a fading force can revive and rise to prominence once more.
B. Tuchman states that history is the unfolding of miscalculation. This means that observers form an opinion about history based on the present. However, when the present becomes the future, it becomes clear that people’s estimations are…
Those, who control their desires, making every effort to know God’s laws as demonstrated in Nature and literally stated in the Quran, have adopted
the right path and, sooner or later, they
will reach their destination.
Man cannot afford to ignore these laws. Neither can man set up a parallel system of laws. We have no choice but to discover these laws and plan our activities in accordance with them. Going against these laws will benefit no one, neither…
Interaction should definitely be engaged in,
whatever the situation.
The result showed that this had been a piece of master-strategy. Where the war-time situation had suspended all kinds of interaction, after the peace treaty the door to interaction was thrown wide open. It is a fact that where there is interaction there is discussion, and where there is discussion, there is ideological exchange, and where there is ideological exchange, there is every opportunity to establish one’s ideological supremacy over the other party. And that is exactly what happened.
A few years after the signing of this treaty, almost the whole of Arabia accepted the ideology of the Prophet of Islam. Peaceful combat through ideology proves to be far more effective than the might of the sword.
The early history of Islam is a clear proof of this fact. Before the peace agreement of Hudaybiyyah was signed, Islam seemed to be trapped in a blind alley. But after the Hudaybiyyah Agreement, the Prophet of Islam and his companions endeavoured to avail of all those opportunities that had been opened up to them and, within two years, Islam had spread all over the Arabian peninsula.
This principle covers all human life—family life, social life, as well as international life; everywhere you can see the miracle of this master formula. The whole of history testifies to the fact that no one has ever been able to achieve…
بائی ٹائم اسٹریٹجی
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ أَفْضَلَ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ مِنَ اللہِ(مسند البزار، حدیث نمبر 6297)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا بے شک افضل عبادت اللہ کی جانب سے کشادگی کا انتظار کرنا ہے۔ ایک شارح نے اس حدیث کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے بترک الشِّکایة من البلاء النازل(شرح مصابیح السنةلابن الملک، حدیث نمبر1602)۔ یعنی نازل شدہ مصیبت کے موقع پر شکایت کو ترک کرنا۔
موجودہ زمانے میں ایک اسٹریٹجی وجود میں آئی ہے۔ اس کو بائنگ ٹائم (buying time) کہا جاتا ہے۔یعنی کسی کام کےلیے وقتی طور پر تاخیر کرنا تاکہ اپنی پوزیشن کو ٹھیک کیا جاسکے
بائی ٹائم اسٹریٹجی
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ أَفْضَلَ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ مِنَ اللہِ(مسند البزار، حدیث نمبر 6297)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا بے شک افضل عبادت اللہ کی جانب سے کشادگی کا انتظار کرنا ہے۔ ایک شارح نے اس حدیث کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے بترک الشِّکایة من البلاء النازل(شرح مصابیح السنةلابن الملک، حدیث نمبر1602)۔ یعنی نازل شدہ مصیبت کے موقع پر شکایت کو ترک کرنا۔
موجودہ زمانے میں ایک اسٹریٹجی وجود میں آئی ہے۔ اس کو بائنگ ٹائم (buying time) کہا جاتا ہے۔یعنی کسی کام کےلیے وقتی طور پر تاخیر کرنا تاکہ اپنی پوزیشن کو ٹھیک کیا جاسکے
عمرہ کا سبق
بعد کے زمانے کے لیے حدیث رسول میں بہت سی پیشین گوئیاں ہیں۔ ایک پیشین گوئی کے مطابق، بعد کے زمانے میں امت کے پاس مال کی فراوانی ہوجائے گی۔ وہ تفریح کے لیےحج اور عمرہ کا سفر کرنے لگیں گے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں یَأْتِی عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ یَحُجُّ أَغْنِیَاءُ أُمَّتِی لِلنُّزْہَةِ، وَأَوْسَاطُہُمْ لِلتِّجَارَةِ، وَقُرَّاؤُہُمْ لِلرِّیَاءِ وَالسُّمْعَةِ، وَفُقَرَاؤُہُمْ لِلْمَسْأَلَةِ (تاریخ بغداد للخطیب بغدادی، حدیث نمبر 5433)۔ یعنی ،لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، جب کہ میری امت کے مالدار تفریح کے لیے حج کریں گے، ان کا مڈل کلاس تجارت کےلیے، اور ان کے علما دکھاوا کے لیے اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے۔
آج کل مسلمانوں میں عمرہ کی دھوم ہے۔ عمرہ کے لیے لوگ اتنا زیادہ مکہ جانے لگے ہیں، جو تقریباً حج کے برابر ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ کا عمرہ کے بارے میں…
…میں پوچھا کہ آخر مجھ سے کیا غلطی ہوگئی ہے۔ میزبان نے کہا کہ تم رسوئی گھر میں ایک پاؤں آگے ایک پاؤں پیچھے کرکے داخل ہوگئے۔ تم کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ دونوں پاؤں برابر کرکے ملاتے اس کے بعد چوکھٹ کے اوپر سے کود کر کمرے میں داخل ہوتے۔
مشرکانہ مذاہب میں اس قسم کی ظاہری رسموں کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ بلکہ مشرکانہ مذہب سارا کا سارا رسوم ورواج ہی کے اوپر قائم ہوتاہے۔
24 جون 1985
پریکٹکل وزڈم
اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا، جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا۔ ایسے موقع پر ہمیشہ یہ عقل کی بات ہوتی ہے کہ آدمی کم پر راضی ہوجائے۔ آئڈیل کی مانگ کرنا، عملاً اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ جو ممکن ہے، وہ بھی نہ ملے، اور زیادہ تو ملنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ اِس دنیا میں ا جتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔
عام طور پر انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ متاثر ذہن (conditioned mind)سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتا ہے۔جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا…
حکمت کی تعلیم
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کا رسول انسانوں کو اللہ کی کتاب دیتا ہے، جس میں اللہ کے قوانین درج ہیں، اور اسی کے ساتھ وہ انسان کوحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ حکمت کی تعلیم سے کیا چیز مراد ہے۔اصل یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم پر عمل کرنا،کوئی سادہ بات نہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ دنیا ایک میدان ہے، اور اس میں ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جو کچھ کرنا چاہے، بلا روک ٹوک اپنی مرضی کے مطابق انجام دے سکے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ دنیا میں دوسرے بہت سے انسان آباد ہیں۔ ہر ایک کے اپنے منصوبے ہیں، ہر ایک کا اپنا الگ الگ ایجنڈا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنائے۔ اگر لوگ ایسا نہ کریں تو سارے لوگ آپس میں لڑیں گے، اور کوئی بھی شخص اپنا کام درست طور پر انجام نہ دے سکے گا۔
ایسی حالت میں انسان کو اپنا کام انجام دینے کے لیے دانش مندانہ منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ اس دانش مندانہ منصوبے کو ایک لفظ میں پریکٹکل وزڈم کہا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی ان آیات میں حکمت سے مراد عملی دانش مندی (practical wisdom) ہے۔ یعنی…
پریکٹکل وزڈم
عملی دانش مندی در اصل حسنِ تدبیر کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک روش جو بظاہر نظری اعتبار سے درست نہ ہو، اس کو دانش مندانہ تدبیر کے طور پر اختیار کرنا، تاکہ عملی اعتبار سے کوئی غیر مطلوب نتیجہ سامنے نہ آئے۔ مثلاً آپ کے اور کسی شخص کے درمیان پراپرٹی کو لے کر ایک نزاع قائم ہوجائے۔اس وقت آپ اس پر مقدمہ بازی کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ کچھ نقصان اٹھا کر آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کرلیں، تو یہ پریکٹکل وزڈم کی ایک مثال ہوگی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جانے والا تھا تو آپ نے لکھایا : ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ ، تو اس پر فریق ثانی نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو پیغمبر نہیں مانتے، آپ محمد بن عبد اللہ لکھیے۔ آپ اس پر راضی ہوگئے ،اور معاہدے کے کاغذ پر لکھوایا: محمد بن عبداللہ(مسند احمد، حدیث نمبر3187)۔ یہ پریکٹکل وزڈم کی ایک مثال تھی۔
سلطان ٹیپو میسورکی ایک بڑی سلطنت کا مالک تھے۔ ان کا مقابلہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجوں سے ہوا۔ ٹیپو سلطان کے لیے اس وقت دو آپشن تھے۔ ایک یہ کہ وہ برٹش فوجوں سے صلح کرلے، اور دوسرا یہ کہ وہ برٹش فوجوں سے لڑائی کا طریقہ اختیار کرے۔ٹیپو سلطان…
کامیاب منصوبہ بندی
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سن 6 ہجری کے آخر میں مکہ کے لیڈروں سے ایک معاہدہ کیا تھا۔ جو حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ عام طور پر حدیبیہ کو غزوۃ الحدیبیہ کہاجاتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ کیوں کہ حدیبیہ کے موقع پر فریقین کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی امن کا معاہدہ ہوا۔
الحدیبیہ عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے، جو مدینہ اور مکہ کے تقریباً درمیانی مقام پر واقع ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نےایک پروگرام کے تحت یہاں دوہفتہ قیام کیا۔ یہاں آپ نے مکہ کے لیڈروں سے گفت و شنید (negotiation) کی۔ اس کے بعد فریقَین…
انجام کو دیکھنا
پیغمبر اسلام کا یہی حکیمانہ طریقہ آپ کے پورے تیرہ سالہ مکی دور میں جاری رہا۔ اس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ آپ کی نبوت کے انیسویں سال طویل گفت و شنید کے بعد قدیم مکہ کے لیڈروں کے ساتھ یہ طے ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کے لیے امن کا معاہدہ (treaty of peace) ہوجائے۔ حدیبیہ کے مقام پر یہ گفت و شنید ہورہی تھی۔ جب معاہدہ لکھنے کا وقت آیا تو آپ نے اس معاہدہ کے آغاز میں لکھوایا:اے علی لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم، تو مکہ کے نمائندہ لیڈر سہیل بن عمرو نے کہا، ہم اس کو نہیں جانتے، آپ لکھیں، باسمک اللہم، آپ نے ایسا ہی کیا۔پھر آپ نے کہا، لکھو یہ وہ (دفعات) ہیں، جن پر محمد رسول اللہ نے سہیل بن عمر و سےصلح کی ۔ تو سہیل بن عمرو نے دوبارہ کہا ، اگر میں مانتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ سے جنگ نہیں کرتا ،یعنی آپ "رسول اللہ" کا لفظ مٹائیں، آپ نے ایساہی کیا، اور کہا لکھو، یہ وہ دفعات ہیں، جن پر محمد بن عبد اللہ نے سہیل بن عمرو سے صلح کی کہ دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، اس میں لوگ امن سے رہیں گے (مسند احمد، حدیث نمبر 18910)۔
اس معاہدہ کے معاملے میں متعلق پہلو یہ تھا کہ کسی بھی طریقے سے دونوں فریق کے درمیان امن قائم ہوجائے۔ اس معاملے میں یہ غیر متعلق پہلو تھا کہ معاہدہ میں کس قسم کے الفاظ لکھے جائیں۔ چناں چہ رسول اللہ نے یہ حکیمانہ طریقہ اختیار کیا کہ متعلق…
انجام کو دیکھنا
پیغمبر اسلام کا یہی حکیمانہ طریقہ آپ کے پورے تیرہ سالہ مکی دور میں جاری رہا۔ اس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ آپ کی نبوت کے انیسویں سال طویل گفت و شنید کے بعد قدیم مکہ کے لیڈروں کے ساتھ یہ طے ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کے لیے امن کا معاہدہ (treaty of peace) ہوجائے۔ حدیبیہ کے مقام پر یہ گفت و شنید ہورہی تھی۔ جب معاہدہ لکھنے کا وقت آیا تو آپ نے اس معاہدہ کے آغاز میں لکھوایا:اے علی لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم، تو مکہ کے نمائندہ لیڈر سہیل بن عمرو نے کہا، ہم اس کو نہیں جانتے، آپ لکھیں، باسمک اللہم، آپ نے ایسا ہی کیا۔پھر آپ نے کہا، لکھو یہ وہ (دفعات) ہیں، جن پر محمد رسول اللہ نے سہیل بن عمر و سےصلح کی ۔ تو سہیل بن عمرو نے دوبارہ کہا ، اگر میں مانتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ سے جنگ نہیں کرتا ،یعنی آپ "رسول اللہ" کا لفظ مٹائیں، آپ نے ایساہی کیا، اور کہا لکھو، یہ وہ دفعات ہیں، جن پر محمد بن عبد اللہ نے سہیل بن عمرو سے صلح کی کہ دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، اس میں لوگ امن سے رہیں گے (مسند احمد، حدیث نمبر 18910)۔
اس معاہدہ کے معاملے میں متعلق پہلو یہ تھا کہ کسی بھی طریقے سے دونوں فریق کے درمیان امن قائم ہوجائے۔ اس معاملے میں یہ غیر متعلق پہلو تھا کہ معاہدہ میں کس قسم کے الفاظ لکھے جائیں۔ چناں چہ رسول اللہ نے یہ حکیمانہ طریقہ اختیار کیا کہ متعلق…
…صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اُتر گئے۔ اُس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ(idiot) ۔ اس انگریزی لفظ کے معنیٰ ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ اُنہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا:
Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.
جناب، میں مسٹر ایڈیٹ نہیں ہوں۔ میں ذاکر حسین ہوں۔ یہ سُن کر اُس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ ساری(sorry) کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہوگیا۔
…اے خدا کے رسول، اُس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے، خدا کی قسم، اللہ آپ کو ہمارے پاس لے آیا اور اُس کی قوم کے لوگ اُس کے لیےجواہر کا تاج تیار کررہے تھے تاکہ وہ اُس کوبادشاہ بنائیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اُس کا مقام اُس سے چھین لیا ہے۔
یہ حسن اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ بن اُبی کی شر انگیزی کا جواب سختی کے ساتھ دیا جاتا۔ صحابی نے گویا اپنے جواب میں یہ بتایا کہ اس معاملہ میں سختی کی ضرورت نہیں۔ حسن اعراض ہی اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔
4۔ اوپر ہجرجمیل کی وہ مثالیں ہیں جو سطور میں ہوتی ہیں۔ اب ایک بین السطور کی مثال لیجئے۔ جب کسی معاملہ میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اُس میںایک اور بات پوشیدہ ہوتی ہے جو اگر چہ زبان سے بولی نہیںجاتی مگر وہ حقیقی مطلوب کے طورپر…
نا انصافی کا مسئلہ
تمام مصلحین ہمیشہ ایک کام کرتے رہے ہیں۔ اور وہ ہے نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانا۔ لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو ان کے احتجاج (protest) کا کبھی کوئی مثبت فائدہ نہیں نکلا۔ احتجاج کی کثرت کے باوجود نا انصافی کے واقعات میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ بلکہ مصر کے حالیہ واقعات یہ بتاتے ہیں کہ نا انصافی کے خلاف پروٹسٹ کے طریقے نے صرف ناانصافی میں مزید اضافہ کیا ۔
اصل یہ ہے کہ ’’ناانصافی‘‘ فطرت کے نظام کا ایک حصہ ہے۔ ناانصافی ہمیشہ آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ کوئی طاقت انسانی آزادی کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔ اس لیے نانصافی کا امکان بھی کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ اس معاملے میں دانش مندی کا طریقہ…
خوف اور حکمت
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:رأس الحکمة مخافة اللہ عز وجل (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر730)۔ یعنی حکمت کا سرا اللہ کا خوف ہے۔ حکمت سے مراد وہی چیز ہے جس کو وزڈم کہاجاتا ہے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اللہ کے خوف سےانسان کے اندر وزڈم کی صفت کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ خوفِ خدا اور وزڈم میں کیا تعلق ہے۔ اس حدیث رسول میں جاننے کی جو بات ہے وہ یہی ہے۔
وزڈم کیا ہے۔ وزڈم یہ ہے کہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ کسی معاملے کے غیر متعلق پہلوؤں (irrelevant aspects)سے الگ ہوکر سوچے۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ معاملے کے بارے میں پوری طرح موضوعی رائے (objective…
…دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر، اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
While those who deny the truth made it a prestige issue [ in their hearts ], the bigotry of the days of ignorance, God sent His tranquility down on to His Messenger and believers and firmly established in them the principle of righteousness, for they were indeed better entitled to it and more worthy of it. God has full knowledge of all things.
صلح حدیبیہ کا معاملہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں پیش آیا، وہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ فریق ثانی نے اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کو اپنے لیے عزت کا سوال بنا لیا۔ اس بنا پر وہ اس معاملے میں بے حد جذباتی ہوگیے۔…
…میں اس اصول کو قرآن میںأَمْرُہُمْ شُورَى بَیْنَہُمْ (42:38) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں شوری کے اس اصول نے ایک باقاعدہ تنظیم (institutionalized form) کی حیثیت اختیار کر لی ہے، جس کو جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔
فرد کے معاملے میں معیار پسندی اور اجتماعی زندگی کے معاملے میں جمہوریت کا طریقہ عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔ اس طریقہ کو غلط طورپر ویٹیکنائزیشن (Vaticanization)یا مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ طریقہ مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا طریقہ نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقت کے اعتراف (acceptance of reality) کا طریقہ ہے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے انسانی سماج میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔اس کے مقابلے میں دوسرا طریقہ عملا ناقابلِ عمل طریقہ ہے۔ کیوں کہ مذہب اور سیاست کو ایک کرنے کے نام پر سماج میں ابدی ٹکڑاؤ کا ماحول قائم کرنے کے مترادف ہے۔ ایک ایسا ٹکڑاؤ جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ویٹیکنزم اپنی حقیقت کے اعتبار سے ناممکن کے مقابلے میں ممکن کا آپشن لینے کا نام ہے، نہ کہ مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا نام۔
مشن کی حیثیت سے اسلام کا نشانہ فرد ہے ، نہ کہ سسٹم۔ایک لفظ میں اسلامی مشن کا نشانہ فرد کا اسلامائزیشن ہے، سسٹم کو اسلامائز کرنا اسلام کا نشانہ نہیں۔زندگی کے بارے میں اسلام کی اسکیم (scheme of things) یہ ہے کہ ہر فرد کو یہ موقع دیا جائے کہ…
…کیا۔ آپ نے مسلح ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پُرامن ہجرت کا طریقہ اختیار کرکے آپ مدینہ چلے گیے۔ اگر چہ ظاہر پسندوں کی نظر میں یہ کوئی باعزت طریقہ نہ تھا۔ چنانچہ سیکولر مؤرخین نے اِس واقعے کو ہجرت کے بجائے فرار (flight) کا نام دیا ہے۔
اِسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلحِ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ چھوڑ کر مدینہ آگیے تو آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ دعوتِ توحید کا کام زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دے سکیں۔ یہ بات مکہ کے سرداروں کو پسند نہیں آئی۔ انھوںنے آپ کے خلاف باقاعدہ حملہ شروع کردیا۔ اُس وقت آپ نے مکہ کے سرداروں سے گفت و شنید (negotiation) کا سلسلہ شروع کیا۔ اِس گفت و شنید کا مقصد یہ تھا کہ آپ اور مکہ والوں کے درمیان امن کا سمجھوتہ ہوجائے۔ یہ گفتگو، حدیبیہ کے مقام پر دو ہفتے تک جاری رہی۔
اِس گفت وشنید کے دوران یہ واضح ہوا کہ فریقِ ثانی اپنی یک طرفہ شرطوں پر اصرار کررہا ہے۔ وہ لوگ اِس معاملے میں کسی بھی طرح جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ آخر کار، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سردارانِ قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مان لیا،…
امن ایک اقدام
اسلام میں جنگ، دفاع کا اشو (issue of defence) ہے۔ اور امن، اقدام کا اشو (issue of advancement) ہے۔ اسلام میں اہل ایمان کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی طرف سے جنگ چھیڑیں ۔ البتہ جہاں تک امن کا تعلق ہے ، اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پرامن اقدام کا منصوبہ بنائیں۔ اسلام کا یہ اصول فطرت کے قانون پر مبنی ہے۔
فطرت کے قانون کے مطابق، جنگ کے ذریعہ کسی مثبت نتیجہ کا حصول ممکن نہیں۔ کیوں کہ جنگ سے کسی بات کا فیصلہ نہیں ہوتا، نہ ہارنے کی صورت میںاور نہ جیتنے کی صورت میں۔ جنگ میں اگر فتح حاصل ہو، تب بھی ہارنے والے فریق کے دل میں انتقام کا جذبہ بھڑک…
…کو ہر تدبیر اختیار کرنا جائز ہے۔ شرط اگر ہے تو صرف یہ کہ مومن کی نیت کسی ذاتی مفاد کو حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہو کہ مدعو کے دل میں اسلام کے لیے نرم گوشہ (soft corner) پیدا ہو، اور وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے۔
پیغمبر اسلام کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہر ممکن طریقے سے مدعو کی تالیف قلب کرنے کی کوشش کی۔ مثلا مکی دور میں کعبہ کے اندر بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرکے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچانا، کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا بغیر احتجاج کیے ہوئےجب کہ کعبہ کے اندر 360 بت رکھے ہوئے تھے، غزوہ حنین میں آپ کو بڑی تعداد میں مالِ غنیمت حاصل ہوا تھا، آپ نے اس کی بڑی مقدار ان لوگوں کو دے دی جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ایسا آپ نے ان لوگوں کی تالیف قلب کے لیے کیا تھا۔
تالیف قلب کا ایک واقعہ وہ ہے جو حدیبیہ معاہدہ کی بات چیت کے دورا ن پیش آیا۔ حدیبیہ معاہدہ کی بات چیت تقریبا دو ہفتہ تک جاری رہی تھی۔ اس مدت میں تالیف کے مختلف واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہوا کہ قبیلہ بنی…
راستہ بدلنا
سیرتِ رسول کی کتابوں میںایک واقعہ آتا ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سفر میں مدینہ سے نکلے، درمیان میں معلوم ہوا کہ فریق مخالف کے ایک سردار ایک فوجی دستہ کے ساتھ مقابل سمت سے آرہے ہیں- آپ نے چاہا کہ دونوں گروہوں میں ٹکراؤ نہ ہو- چنانچہ آپ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: من رجل یخرج بنا على طریق غیرطریقہم التی ہم بہا (ابن ہشام: 4/276) تم میں سے کون شخص ہے جو ہم کو ایک ایسے راستے سے لے جائے جو ان لوگوں کے راستے سے مختلف ہو- حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں ایسا کرسکتاہوں- چنانچہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب اس بدلے ہوئے راستے سے آگے چلے گئے اور دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش نہیں آیا-
اس سے معلوم ہوا کہ ٹکراؤ سے بچنے کے لئے راستہ بدلنا بھی ایک سنت ہے- مثلاً دو جلوس ایک ہی راستے پر آمنے سامنے سے آرہے ہوں تو رسول اللہ کی سنت پر چلنے والا وہ ہے، جو ٹکراؤ سے بچنے کے لئے اپنا راستہ (route) بدل دے-
قرآنی طریق ِ کار
قرآن نے جس طرح انسانی زندگی کی ایک آئڈیالوجی دی ہے، اسی طرح قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس آئڈیا لوجی کے مطابق زندگی گزارنے کا درست طریقہ کیا ہے- اگر آدمی قرآن کا نام لے، لیکن وہ طریق کار کے معاملے میں قرآن کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی نہ کرے تو محض قرآن کا نام لینے کی بنا پر اس کا کیس قرآن کا کیس نہیں بن جائے گا-طریق کار کے معاملے میں قرآن میں اصولی ہدایات موجود ہیں، اس کے علاوہ قرآن میں پیغمبروں کاجو تذکرہ ہے وہ گویا قرآنی طریق کار کا عملی ماڈل ہے- آدمی کو چاہئے کہ وہ اس معاملے میں کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے- وہ ایک طرف قرآن سے طریق کار کا اصول دریافت کرے، اور دوسری طرف پیغمبروں کے حالات سے اس کا عملی نمونہ بھی دریافت کرے- خدا کی اس دنیا میں کسی انسان کے لیے کامیابی کا یہی واحد طریقہ ہے-
اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَلَا تُطِعِ ٱلْکَـٰفِرِینَ وَٱلْمُنَـٰفِقِینَ وَدَعْ أَذَاہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَى اللَّـہِ ۚ وَکَفَىٰ بِاللَّـہِ وَکِیلًا (33:48) اور تم منکروں اور منافقوں کی بات نہ مانو اور ان کے ستانے کو نظر…
زیادہ بڑی فتح
قرآن میں فتح (victory) کا لفظ اس معنی میں دو سورتوں میں آیا ہے، سورہ النصر اور سورہ الفتح- سورہ النصر میں فتح کا لفظ سیاسی فتح کے معنی میں ہے، یعنی مکہ کی فتح-لیکن سورہ الفتح میں یہ لفظ سیاسی فتح کے معنی میں نہیں ہے- کیونکہ یہ سورہ معاہدۂ حدیبیہ کے وقت اتری تھی، اور معاہدہ حدیبیہ میں رسول اور اصحابِ رسول کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی- حدیبیہ کا سفر رسول اور اصحابِ رسول نے اس لئے کیا تھا کہ مکہ جاکر عمرہ ادا کریں، لیکن اس وقت مکہ پر قریش کا غلبہ تھا- انھوں نے آپ کو اجازت نہ دی اور آپ کو اور آپ کے اصحاب کو عمرہ کی ادائیگی کے بغیر درمیان سے مدینہ کی طرف واپس ہونا پڑا تھا-
سورہ النصر میں صرف فتح کا لفظ آیا ہے، جب کہ سورہ الفتح میں فتح مبین (open victory) کا لفظ استعمال ہوا ہے- گویا سورہ الفتح میں جس فتح کا ذکر ہے، وہ اللہ کی نظر میں رسول اور اصحاب کے لئے زیادہ بڑی فتح تھی- یہ زیادہ بڑی فتح کیا تھی، یقیناً…
سکینہ، فتح
قرآن کی سورہ الفتح میں زمانہ رسالت کے اُس واقعے کا ذکر ہے جس کو معاہدہ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ اِس معاہدے کے وقت رسو ل اور اصحابِ رسول کو حدیبیہ سے بظاہر ناکام لوٹنا پڑا تھا۔ لیکن اِس معاہدے کے بعد یہ ہوا کہ رسول اور اصحابِ رسول صرف دو سال کے اندر دوبارہ فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوئے-
ظاہری حالات کے اعتبار سے اصحابِ رسول بوقت معاہدہ سخت پریشان تھے۔ اُس وقت قرآن میں یہ آیت اتری: فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:27)۔ قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مطلوب فتح (فتح مکہ) اُس وقت ایک بعید فتح…
انتخابِ اول، انتخابِ ثانی
ذاتی زندگی کا معاملہ ہو تو ایک شخص معیار (ideal)کا انتخاب کرسکتا ہے، لیکن اجتماعی زندگی کے معاملے میں کبھی معیار کا انتخاب ممکن نہیں ہوتا-اِس لیے اجتماعی زندگی کے بارے میں صحیح اصول یہ ہےکہ جب انتخابِ اول (first choice) ممکن نہ ہو تو انتخابِ ثانی (second choice) کو اختیار کرلیا جائے-
اِس اصول کی حکمت یہ ہے کہ انتخابِ اول کو اختیار کرنے کی صورت میں اگر معیار حاصل ہوتا تھا، تو انتخابِ ثانی کی صورت میں امن اور استحکام (stability) حاصل ہوجاتا ہے- اجتماعی زندگی کے لیے یہی واحد عملی طریقہ ہے، اِس کے سوا کوئی اور طریقہ عملاً…
…نے یہ اعلان کردیا: یا معشر قریش، ہذا محمد قد جاءکم فیما لا قِبل لکم بہ، فمن دخل دار أبی سفیان فہو آمن (سیرة ابن ہشام: 4/23 ) یعنی اے قریش کے لوگو، یہ محمد ہیں جو اِس طرح مکہ میں داخل ہوگئےہیں کہ تمھارے اندر اُن کے مقابلے کی طاقت نہیں-
معاہدۂ حدیبیہ کے نتیجے میں جو تاریخی واقعہ پیش آیا، اس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے: اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا (110:1-2) یعنی جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح، اور تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہورہے ہیں-قرآن کی اِس آیت میں ’نصر اللہ‘ سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر نصرِ عزیز (48:1-2) کہاگیا ہے- ’یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا ‘ کے الفاظ میں اُس واقعے کا ذکر ہے جو معاہدہ حدیبیہ کے بعد پیش آیا- لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے کہ ان کی کثرتِ تعداد ہی فتح کا سبب بن گئی-
حکمتِ حدیبیہ
War and Peace, by LeoTolstoy—1865
مگر جیساکہ معلوم ہے، ٹالسٹائے کی کتاب صرف ایک ناول ہے، یعنی وہ فکشن کے پیرایے میں لکھی گئی ہے، اور کوئی فکشن حقیقی زندگی (real life) کے لیے گائڈ بک نہیں بن سکتا-
قرآن کا بیان
…میں فریقِ ثانی نے زبردست کامیابی حاصل کی- انھوں نے لڑائی کے میدان میں اہلِ ایمان کے 70 آدمیوں کو ہلاک کردیا- ایسا انتقامی نفسیات کی بنا پر ہوا- بدر کی لڑائی اہلِ ایمان کے لیے فتح تھی، لیکن فریقِ ثانی کے لیے وہ انتقام کے ہم معنی بن گئی:
Battle of Badr was victory for Muslims and revenge for the other party.
اِس تجربے سے معلوم ہوا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں-جنگ میں کامیابی صرف اُس وقت مسئلے کا حل بن سکتی ہے جب کہ فریقِ ثانی اپنی شکست (defeat) کو تسلیم کرے- مگر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ہارا ہوا فریق اپنی ہار کو نہیں مانتا، بلکہ اس کے اندر انتقام کے…
…ہیں- یہ جدید موافق حالات جن اسباب کے ذریعے ظہور میں آئے، وہ وہی ہیں جن کو مغربی تہذیب ، جمہوری افکار، اقوامِ متحدہ، وغیرہ کہاجاتا ہے- یہ بظاہر سیکولر انقلابات تھے، لیکن اللہ نے اِن بظاہر سیکولر انقلابات کو دین کی تائید کا ذریعہ بنادیا-
ساتویں صدی عیسوی میں حدیبیہ معاہدے کا جو موافق نتیجہ ظاہر ہوا تھا، اس کو قرآن میں ’فتحِ مبین‘ کہاگیا ہے- حدیبیہ معاہدہ کوئی پراسرار چیز نہ تھی، وہ ایک معلوم حکیمانہ تدبیر تھی- ساتویں صدی عیسوی میں اِس تدبیر کو صرف محدود طورپر استعمال کیا جاسکتا تھا- وہ بھی اِس طرح کہ رسول اور اصحابِ رسول کو یہ قربانی دینی پڑی تھی کہ وہ فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طورپرمان لیں، حتی کہ لفظ ’’رسول اللہ‘‘ کو وہ معاہدے کی دستاویز سے مٹا دیں- مگر بعد کو اللہ کی مدد سے جو حالات پیدا ہوئے، اُس کے بعد ایسا ہوا کہ حدیبیہ انقلاب وسیع تر معنی میں ایک عالمی انقلاب بن گیا-
حدیبیہ معاہدے کے ذریعے جو امکانات صرف دس سال کے لیے حاصل کیے گئے تھے، موجودہ زمانے میں انھوں نے مستقل طورپر عالمی اصول (universal norm) کی حیثیت حاصل کرلی ہے- اب نہ دوسروں کی شرطوں کو ماننے کی ضرورت ہے اور نہ کسی دستاویز سے ’’رسول…
…ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب ٹکراؤ کی صورت پیش آئے تو اُس وقت تم ٹکراؤ کا آپشن نہ لو، بلکہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعے اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان ایک آڑ یا فاصل (buffer) قائم کرلو- اِس طرح تم متشددانہ ٹکراؤ اور اس کے نقصان سے بچ جاؤ گے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں مختلف صورتوں میں اِس طریقے کو اختیار کیا- مثلاً غزوۂ حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر آپ نے فریقِ ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طورپر مان کر اُن سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ (no-war pact) کرلیا- یہ بھی اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان فاصل قائم کرنے کی ایک صورت تھی- اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الصبر معول المؤمن (حلیة الأولیاء: 342/5 )یعنی صبر مومن کی ڈھال ہے- گویا اجتماعی زندگی میں صبر کا طریقہ اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان فاصل قائم کرنے کی ایک صورت ہے-
نزاع کے موقع پر اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان فاصل (buffer) قائم کرنا ایک حکیمانہ تدبیر ہے- دوسرے لفظوں میں اس کو مہلت حاصل کرنے کی تدبیر (buying-time method) کہاجاسکتا ہے- اِس تدبیر کے ذریعے آدمی کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کو ٹکراؤ…
فطرت کا ایک اصول
علمِ نباتات کی ایک اصطلاح ہے جس کو ٹرانسپلانٹیشن (transplantation) کہا جاتا ہے، یعنی پودے کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانا، تاکہ وہ بہتر نشو ونما پائے:
The act of removing a plant from one location and introducing it in another location.
…سے مجبور ہوکر اصحابِ رسول کا ایک قافلہ مکہ سے ہجرت کرکے حبش جارہا ہے، کبھی آپ اپنے مشن کے تحت طائف اوردوسرے مقامات پر جاتے ہیں، کبھی دار الندوہ میں پیغمبر اسلام کے خلاف مشورہ ہورہا ہے اور آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے، وغیرہ-
پھر جب مکہ میں 13 سال قیام کے بعد آپ مکہ سے 300 میل کی دوری پر واقع شہر مدینہ چلے جاتے ہیں تواِس تذکرے میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتاہے- اب غزوات اور سرایا اور جھڑپوں (skirmishes) جیسے واقعات کے نتیجے میں آپ کا اور آپ کے مشن کا چرچا تمام عرب میں، حتی کہ اطرافِ عرب میں پھیل جاتاہے- آپ کے مخالفین کی مخالفانہ کارروائیوں کے نتیجے میں بظاہر بہت سے واقعات ہورہے تھے جو مسلسل لوگوں کے علم میں آرہے تھے- اسی کے ساتھ ایک بلا اعلان عمل جاری تھا- یہ عمل اِن واقعات کے درمیان ایک انڈر کرنٹ یا زیر سطح عمل (under the surface process) کی حیثیت رکھتا تھا- وہ لوگوں کے اندر نہایت تیزی سے تجسس کی نفسیات پیدا کررہا تھا- لوگ فطری طور پر جاننا چاہتے تھے کہ یہ مشن کیا ہے اور اِس مشن سے وابستہ افراد کا معاملہ کیا ہے- تجسس کی یہ زیریں رو اللہ کے منصوبے کے مطابق، عین مطلوب تھی، کیوں کہ اُس سے پیغمبر اسلام کے مشن کے دعوتی مواقع مسلسل طورپر بڑھ رہے تھے- یہی وہ عمل ہے جس کو ہم نے نصرت باعتبار پراسس کا نام دیا ہے-
نصرت باعتبارِ فتح
…کہ آپ اہلِ مکہ سے یہ کہیں کہ ہمارے اور تمھارے درمیان ٹکراؤ اور جنگ کی جو صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، وہ ایک غیر مطلوب چیز ہے- اور ضروری ہے کہ اس کو ختم کردیا جائے- آخر کار یہ طے ہوا کہ فریقین کے درمیان صلح کا معاہدہ (peace treaty)ہوجائے-
صلح کا یہ معاہدہ جب کاغذ پر لکھا جانے لگا تو اہلِ مکہ کے نمائندہ سردار نے شدید انداز میں حمیتِ جاہلیہ(48:26) کا مظاہرہ کیا- انھوں نے ضد اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر معاہدہ کیا جائے، حتی کہ انھوںنے اصرار کیا کہ ’’رسول اللہ‘‘ کے لفظ کو معاہدے کی تحریر سے مٹا دیا جائے- پیغمبر اسلام نے اہلِ مکہ کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا، صرف اِس لیے کہ اِس معاہدے کے ذریعے دونوں فریق کے درمیان امن کا ماحول قائم ہورہا تھا-
حدیبیہ کا معاہدۂ صلح اہلِ مکہ کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر ہوا تھا- چناں چہ صحابہ کے اندر اس کے خلاف شدید رد عمل پیداہوا- عمر فاروق نے کہا: لما نعطی الدنیة من دیننا (صحیح البخاری،رقم الحدیث:2731) یعنی ہم اپنے دین کے معاملے میں اِس ذلت…
…کریں، لیکن اب اُن کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ اپنی پوری قوت کو یکسوئی کے ساتھ دعوت کے میدان میں استعمال کریں- میدانِ عمل کی یہ تبدیلی بے حد اہم تھی- اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ صرف دو سال کے محدود عرصے میں اسلام پورے جزیرہ عرب میں پھیل گیا-
اِس نتیجے کو دیکھتے ہوئے مشہور تابعی ابن شہاب الزہری (وفات: 124 ہجری) نے کہا تھا کہ: لقد کان الحدیبیة أعظم الفتوح(القرطبی، 16/261) یعنی حدیبیہ اسلام میں سب سے بڑی فتح تھی- مگر یہ سادہ طورپر صرف نتیجے کی بات نہیں، بلکہ وہ منصوبہ (planning) کی بات تھی- یہ کوئی اتفاقی نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک گہری منصوبہ بندی کے ذریعے پیش آنے والا منصوبہ تھا- یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے نصرت باعتبار فتح کا عنوان دیا ہے-
یہ معاملہ دراصل نصرت بذریعہ پراسس کا معاملہ تھا-حدیبیہ سے پہلے تقریباً 20 سال تک بظاہر ٹکراؤ اور مخالفت کے جو واقعات پیش آرہے تھے، اُن کے ساتھ فطری طورپر ایک زیر سطح پراسس جاری تھا- اِس پراسس کو ایک لفظ میں، منفی تعارف کہاجاسکتا ہے- اِس…
…سے مراد وہ علم ہے جس کا تعلق مذکورہ موافق امکانات سے ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے خصوصی طورپر اِن موافق امکانات کی خبر دی، تاکہ آپ شعوری طورپر اِن امکانات سے واقف ہوں اور ان کو اپنے مشن کے حق میں استعمال کرسکیں-
6 ہجری میں پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا، وہ اس معاملے کی ایک واضح مثال ہے- جیسا کہ معلوم ہے، حضرت عمر فاروق کو اِس معاہدے پر سخت اختلاف ہوگیا تھا- اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے درمیان جوگفتگو ہوئی، اس کا ایک حصہ کتابوں میں اِس طرح نقل ہوا ہے: قال عمر: فأتیتُ أبابکر، فقلتُ یا أبابکر، ألیس ہذا نبی اللہ حقاً؟ قال: بلى- قلت: ألسنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال: بلى، قلتُ: فلم نعطی الدنیة فی دیننا إذاً؟ قال: أیہا الرجل، إنہ رسول اللہ ولیس یعصی ربہ، وہو ناصرہ، فاستمسک بغرزہ، فواللہ إنہ على الحق-(تفسیر ابن کثیر4/199) یعنی عمر فاروق کہتےہیں کہ پھر میں ابوبکر کے پاس گیا- میں نے کہا کہ اے ابوبکر، کیا رسول اللہ نبی برحق نہیں ہیں- انھوں نے کہا کہ ضرور آپ نبی برحق ہیں- میں نے کہا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر ہے- انھوں نے کہا کیوں نہیں- میں نے کہا کہ پھر کیوں ہم اپنے دین کے معاملے میں ذلت کو اختیار کریں- ابوبکر نے کہا کہ اے شخص، وہ اللہ کے رسول ہیں- وہ کبھی اپنے رب کی خلاف ورزی نہیں کریں گے- اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا- تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو لازم پکڑو- خدا کی قسم، وہ حق پر ہیں-
دورِ جدید کی مثال
… کا عہدہ قبول کرلیں۔ قرآن میں اِس کے لیے دینِ ملِک (12:76) کے الفاظ آئے ہیں، اور بائبل میں اس کی بابت یہ الفاظ ہیں: سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے، میں بزرگ تر ہوںگا:
You shall be over my house, and all my people shall be ruled according to your word; only in regard to the throne, will I be greater than you. (Genesis, 41: 40)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں 610 عیسوی میںہوئی۔ اُس زمانے میں قریش کو عرب میں قیادت کا مقام حاصل تھا۔ پیغمبر اسلام نے قریش سے امن کا معاہدہ کیا، جو اسلام کی تاریخ میں، معاہدۂ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ اِس معاہدے کے تحت،…
سوال وجواب
میں سی پی ایس کے دعوتی مشن سے وابستہ ہوں۔ میں غیر مسلموں کو قرآن کا ترجمہ (ہندی، انگریزی) مطالعے کے لیے دیتا ہوں۔ اِس پر بعض لوگوںنے اعتراض کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ علماء کے نزدیک، غیر مسلم کے لیے قرآن کا چھونا ہی جائز نہیں۔ میں اِس سلسلے میں علماء کا مسلک جاننا چاہتا ہوں ( خرم قریشی، نئی دہلی)۔
ابراہیم نخعی اپنے استاد علقمہ بن قیس (وفات: 62 ہجری) کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کو جب مصحف (قرآن) کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ ایک نصرانی سے کہتے تھے، اور وہ ان کے لیے مصحف لکھ دیتا تھا (إنہ کان إذا أراد أن یتخذ مصحفاً أمر نصرانیاً فنسخہ…
…گاندھی (وفات: 1991 ) کو پارلیمنٹ سے ایک نیا ایکٹ بنوانا پڑا۔ یہ دروازہ بلاشبہہ ہندوؤں کے لیے بھی کھلا ہوا ہے۔ وہ یہ کہہ کر سپریم کورٹ کے فیصلے کو رد کرسکتے ہیں کہ یہ فیصلہ ہمارے مذہبی جذبات کے خلاف ہے، اِس لیے ہم اس کو قبول نہیں کرسکتے۔
5 - بابری مسجد کے معاملے میں اسلام اور دانش مندی دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ اب اِس معاملے میں کاما (comma) نہ لگایا جائے، بلکہ فل اسٹاپ (full stop) لگادیا جائے۔ دوسرا کوئی بھی طریقہ صرف مسئلے کو مزید پیچیدہ کرے گا، وہ اِس مسئلے کو حل کرنے والا نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اب اِس معاملے میں مسلمانوں کے لیے عملاً ایک ہی ممکن انتخاب (option) باقی رہاہے اور وہ مسجد کا ری لوکیشن (re-location) ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کو پٹرول کے ظہور کے بعد عرب ملکوں میں بڑے پیمانے پر اختیار کیا گیا ہے، یعنی سٹی…
فتح ، فتحِ مبین
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا۔ اِس فتح کے لیے قرآن میں صرف فتح (النصر:1 ) کا لفظ آیا ہے۔ دوسری طرف 6 ہجری میں مخالفین کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر ایک امن معاہدہ ہوا۔ اِس کے لیے قرآن میں فتحِ مبین (الفتح:1 ) کا لفظ آیا ہے۔ اِن دونوں کے درمیان تقابل (comparison)سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
سورہ النصر میں جس فتح کا ذکر ہے، وہ جدید اصطلاح کے مطابق، ایک سیاسی فتح تھی۔ اِس کے برعکس، سورہ الفتح میں جس واقعے کو فتحِ مبین کہاگیا ہے، وہ کوئی سیاسی فتح نہ تھی۔ اِس موقع پر جو واقعہ پیش آیا ، وہ صرف یہ تھا کہ فریقین کے درمیان حالتِ…
پریکٹکل وزڈم
اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا، جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا۔ ایسے موقع پر ہمیشہ یہ عقل کی بات ہوتی ہے کہ آدمی کم پر راضی ہوجائے۔ آئڈیل کی مانگ کرنا، عملاً اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ جو ممکن ہے، وہ بھی نہ ملے، اور زیادہ تو ملنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ اِس دنیا میں ا جتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔
عام طور پر انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ متاثر ذہن (conditioned mind)سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتا ہے۔جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا…
…چیزوں کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، بلکہ وہ کلچرل نوعیت کی چیزیں ہیں۔ اور کلچرل نوعیت کی چیزوں کے بارے میں اسلام کا اصول تالیفِ قلب ہے، نہ کہ کٹرپن ۔ ایک داعی کو چاہیے کہ وہ اِس قسم کی چیزوں کو تالیف قلب کے طورپر قبول کرے۔ یہی دعوت کا تقاضا ہے۔
تجارتی اخلاقیات میں جس چیز کو کسٹمز فرینڈلی بہیوئر(customer-friendly behaviour) کہا جاتا ہے، دعوتی اخلاقیات میں اُسی کو تالیف قلب کہا جاتا ہے، یعنی مدعو فرینڈلی بہیوئر (mad‘u-friendly behaviour) ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تالیفِ قلب ایک ابدی اصول ہے۔ آپ کی زندگی میں تالیفِ قلب کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً حدیبیہ کے موقع پر قریش کے سردار حلیس بن علقمہ کی آمد پر قربانی (ھَدْی)…
پریکٹکل وزڈم
اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا، جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا۔ ایسے موقع پر ہمیشہ یہ عقل کی بات ہوتی ہے کہ آدمی کم پر راضی ہوجائے۔ آئڈیل کی مانگ کرنا، عملاً اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ جو ممکن ہے، وہ بھی نہ ملے، اور زیادہ تو ملنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ اِس دنیا میں ا جتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔
عام طور پر انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ متاثر ذہن (conditioned mind)سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتا ہے۔جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا…
…تھا۔ ایک یہ کہ مکہ کے سرداروں کے حربی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے، اُن سے مسلّح مقابلہ کریں۔ اُس وقت تک مکہ اور اطرافِ مکہ میں کئی سو افراد آپ پر ایمان لا کر آپ کے ساتھی بن چکے تھے، اِس لحاظ سے آپ کے لیے یہ انتخاب بظاہر ایک ممکن انتخاب تھا۔
آپ کے لیے دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ مسلح ٹکراؤ سے اعراض کریں، خواہ اِس مقصد کے لیے آپ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑے، یعنی آپ پُر امن طورپر مکہ کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں، آپ نے یہی دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے مسلح ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پُرامن ہجرت کا طریقہ اختیار کرکے آپ مدینہ چلے گیے۔ اگر چہ ظاہر پسندوں کی نظر میں یہ کوئی باعزت طریقہ نہ تھا۔ چناں چہ سیکولر مؤرخین نے اِس واقعے کو ہجرت کے بجائے فرار (flight) کا نام دیا ہے۔
اِسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلحِ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ چھوڑ کر مدینہ آگیے تو آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ دعوتِ توحید کا کام زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دے سکیں۔ یہ بات مکہ کے سرداروں کو پسند نہیں آئی۔…
…پرافٹ کا تعلق، دین کے نظریاتی حصے سے ہے۔ اور نظریاتی اعتبار سے بلا شبہہ ایک پیغمبر فائنل پیغمبر ہوسکتا ہے، لیکن ماڈل کا تعلق، خارجی حالات سے ہے۔ یہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، اِس لیے عملی اعتبار سے کوئی ایک پیغمبر فائنل ماڈل نہیں بن سکتا۔
قرآن کی اصطلاح کے مطابق، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ’الدّین‘ کے اعتبار سے فائنل پیغمبر تھے، لیکن ’منہاج‘ کے اعتبار سے آپ فائنل ماڈل نہ تھے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں مسیح دوبارہ نازل ہوں گے۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرآخر الزماں کا زمانۂ نبوت قیامت تک ہے، اس لیے اب آپ کے بعد کسی اور پیغمبر کا شخصی طورپر آنا ناقابلِ فہم بات ہے۔ اِس لیے اِن روایات کو درست مانتے ہوئے ان کی صحیح تاویل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جو چیز واقع ہوگی،…
ایک خط
برادرِ محترم عبد السلام اکبانی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
30 مارچ 2007 کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ اُس کے بعد آپ کو یہ خط لکھ رہاہوں۔ 6 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان معاہدۂ حدیبیہ پیش آیا۔ اِس پر قرآن کی سورہ نمبر 48 میں یہ آیت اُتری: إنا فتحنا لک فتحاً…
…ممکن ہے کہ سب سے پہلے آپ خود اسلام کی معرفت حاصل کریں۔ اور اُس کے بعد قرآن کے صحیح انگریزی ترجمے کی اشاعت اور الرسالہ کی مطبوعہ کتابوں کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے کا کام کریں۔ اور اِس طرح حقیقی معنوں میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیں۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے اندر سارے انسانوں کی خیر خواہی کی اسپرٹ موجود ہو۔ آپ سارے انسانوں کے حقیقی خیر خواہ بن کر اٹھیں۔ آپ کے دل میں ہر ایک کے لیے محبت اور ہمدردی ہو۔ آپ کا ٹارگیٹ کیا ہو، اس کو ایک حدیث میںاِن الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لا یبقیٰ علی وجہ الأرض بیت مدر و لا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمۃ الإسلام (مسنداحمد، مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 42)یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر اور کوئی خیمہ ایسا باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ فرمادے۔
یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ یہ حدیث کی زبان میں امکاناتِ دعوت کا اظہار ہے۔ یہ اُس دور کی پیشین گوئی ہے جب کہ ذرائع ابلاغ کا ظاہرہ سامنے آئے گا اور اُس کو استعمال کرکے ہر انسان تک کلمۂ اسلام کو پہنچانا ممکن ہوجائے گا۔ یہ کام صرف اِس طرح…
…بات لکھنا یا بولنا نہیں ہے جو دوسروں کے لیے اشتعال انگیز ثابت ہو‘اور جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ بھڑک اٹھیں اور مسلمانوں کے دین کے خلاف منفی باتیں بولنے لگیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کو اس سے روکا گیا ہے کہ وہ دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔
دوسری آیت صلح حُدیبیہ کے موقع کی ہے۔ اس موقع پر فریقِ مخالف نے سخت اشتعال انگیز باتیں کیں‘ مثلاً انھوں نے معاہدے کی تحریر میں رسول اللہ کے لفظ پر سخت اعتراض کیا اور رسول اور اصحابِ رسول کو معاہدے کی تحریر سے اس کو مٹانے پر مجبور کیا‘ وغیرہ۔ اِن باتوں سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تھی۔ لیکن خدا کی تعلیم کے مطابق‘ اُنھوں نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھا۔ مذکورہ آیت کے مطابق‘ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خود اپنے آپ کو ایمان اور تقویٰ کی روش پر قائم رکھیں۔ یہ کوئی صحیح بات نہیں ہے کہ مسلمان دوسروں سے یہ مطالبہ کریں کہ تم ہمارے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچاؤ۔ یہی اسلام کا اصول ہے اور یہی عقل کا تقاضا بھی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میںایسی تعلیم کیوں دی گئی ہے جو بظاہر نابرابری کی تعلیم معلوم ہوتی ہے۔ یعنی مسلمانوں کو مشتعل ہونے سے روکنا‘ اور دوسروں کی اشتعال انگیزی پر مسلمانوں کو صبر اور اعراض کی تلقین کرنا‘ یک طرفہ اخلاقیات کا یہ…
قیادت کا مسئلہ
قائد خدا پیداکرتاہے۔ مگر قائد کو قائد ماننا انسان کا کام ہے۔ خدا کے تخلیقی نظام کے مطابق، کسی گروہ کے لیے کوئی ایسا وقت نہیں آسکتا جب کہ اس کے درمیان قائدانہ اوصاف والی شخصیت موجود نہ ہو۔ مگر کوئی حقیقی قائد اپنا قائدانہ رول صرف اس وقت ادا کرسکتا ہے جب کہ اس کی قوم اس کو اپنا قائد مانے اور اس کی اطاعت کرے۔
اس معاملہ میں سب سے زیادہ نازک (crucial) با ت یہ ہے کہ حقیقی قائد کو اکثر کوئی غیر مقبول فیصلہ (unpopular decision) لینا پڑتا ہے۔ یعنی ایک ایسا فیصلہ جو عوامی مزاج کے مطابق نہ ہو۔ مگر صورت حال کے مطابق اس فیصلہ سے قوم کا نیا مستقبل بننے…
…بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ لیکن سیاسی ماڈل کا مائنس پائنٹ یہ ہے کہ اس میں individual ذہن ایڈریس نہیں ہوتا۔ اس لیے اس میں فرد کی تعمیر ممکن نہیں ہوتی۔کمیاتی اعتبار سے مشن بہت بڑا دکھائی دیتا ہے لیکن کیفیاتی اعتبار سے وہ بالکل nill ہوتا ہے۔
اس کے مقابلہ میں دوسرا ماڈل روحانی ماڈل ہے۔ روحانی ماڈل میں فردکے ذہن کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے نہ کہ کسی کراؤڈ کو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روحانی ماڈل کے تحت بھیڑ اکھٹا نہیں ہوتی۔ البتہ اس میں فرد کی تعمیر گہرائی کے ساتھ ہوتی ہے۔ مشن سے وابستہ ایک ایک فرد prepared mind اور purified soul بن جاتا ہے۔روحانی ماڈل کو انٹٹی کے اعتبار سے بظاہر کم دکھائی دیتا ہے۔ مگر کوالٹی کے اعتبار سے وہ بہت عظیم ہوتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سیاسی ماڈل صرف تخریبی واقعہ وجود میں لاتا ہے۔ جب کہ روحانی ماڈل تعمیری واقعہ کو وجود میں لانے کا سبب بنتا ہے۔ الرسالہ مشن میں سیاسی ماڈل کو اختیار نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس میں روحانی ماڈل کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں ساری کوشش اس بات کی کی گئی ہے کہ ایک ایک فرد کا ذہن بنایا جائے۔ تیار افراد کی ایک ٹیم بنائی جائے۔ ایسے افراد جن میں سے ہر شخص ایک طرف سنجیدہ ہو اور دوسری طرف وہ آرٹ آف تھنکنگ کو بخوبی طور پر جانتا ہو۔الرسالہ مشن کا فطری کورس یہ ہے کہ افراد کی ایک مضبوط ٹیم بنے اور پھر یہ ٹیم مشن کے پیغام کو وسیع تر انسانیت تک پہنچا دے۔
مشہور سیرت نگار محمد بن اسحاق (وفات: ۱۵۱ھ۔۷۶۸ء) نے ایک روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرۃ الحدیبیہ (۶۲۳ء) کی ادائیگی کے بعد، اپنے منتخب اصحاب کو خطاب کیا۔ آپ نے فرمایا کہ: ’’اللہ نے مجھے سارے عالم کے لیے…
…کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار! پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی۔ پس وہ غالب ہوگئے۔ (الصف ۱۴)
جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح الحدیبیہ کے بعد اطرافِ عرب کے تقریباً ایک درجن حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے اور اُنہیں اپنے سفیروں کے ساتھ متعلقہ حکمرانوں کی طرف روانہ کیا۔ ان حکمرانوں میں سے کچھ نے آپ کے مکتوب کا مثبت جواب دیا اور کچھ نے ان کو پڑھنے کے بعد منفی رویّہ اختیار کیا۔ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے (ملاحظہ ہو، سیرت ابن کثیر، جلد ۳)
اس روایت سے دعوتی تحریک کا پیغمبرانہ ماڈل معلوم ہوتا ہے۔ یعنی دعوتی مہم کا تین مرحلوں سے گذر کر اپنی تکمیلی منزل تک پہنچنا۔
…کی سائنسی تفسیر ہے۔ اس کتاب میں دورِ جدید کی سائنسی دریافتوں کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ یہ دریافتیں قرآن کی تعلیمات کی سائنسی تصدیق ہیں۔ گویا کہ جو بات پہلے وحی کے ذریعہ بتائی گئی تھی وہ اب خود علمِ انسانی کی سطح پر ثابت شدہ بن گئی ۔
قرآن میں حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ آخری مرحلہ میں جب فرعون پانی میںغرق ہوا تو قرآن کے بیان کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے اس کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا: فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلفک آیۃ (یونس ۹۲) یعنی آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔
جیسا کہ معلوم ہے، فرعون پانی میں ڈوب کر مرا۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ تھا کہ فرعون کا جسم اس کی موت کے بعد بھی محفوظ رہے اور بعد کے زمانہ میں ظاہر ہو کر وہ لوگوں کے لیے خدائی نشانی بنے۔ یہ واقعہ مسلم…
…کے لئے رخصت نہیں بلکہ عزیمت بن جاتا ہے۔ اگر ایسے موقع پر وہ نہ کھائے تو وہ گنہگار ہوگا۔ مسروق تابعی نے کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جو شخص مردار کھانے پر مجبور ہو جائے اور وہ اس کو نہ کھائے اور اسی حالت میں مرجائے تو وہ جہنم میںجائے گا:
بَل رُبمَا یأثم بترک التناول (روح المعانی) وَھٰہُنا یَتَحقَّقُ معنی الوُجوب (تفسیر الرازی) ولا خلاف انّہ لَا یَجُوزُ لَہ قَتلُ نَفْسِہٖ بامساک عن الأکل و انہ مامور بالأکل علی وجہ الوجوب (تفسیر القرطبی) لو ترک الأکل تلف نفسہ تلک أکبر المعاصی (تفسیر القرطبی) وقال الطبری لیس عند الضرورۃ رخصۃ بل ذلک عزیمۃ واجبۃ و لَو امتَنَع مِنَ الاکل کانَ عَاصِیاً (البحر المحیط) و قال مَسْروقٌ بَلَغَنِی أنَّہ مَنِ اضطُرَّ الَی المَیْتَۃِ فلم یأکل حتی مات دخل النار کأنہ اشار الی أنہ قاتِلُ نفسِہ بِتَرکِہ مَا اَباحَ اللّٰہُ لہ (البحر المحیط)ھذا یقتضی أن أکل المیتۃ للمضطر عزیمۃ لا رخصۃ (تفسیر ابن کثیر)
اس شرعی مسئلہ کا انطباق اگر بابری مسجد کے مسئلہ پر کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ مسئلہ اس ضرورت شدیدہ کی حد تک پہنچ چکا ہے جہاں اب تبدیلی ٔ مقام صرف ایک جواز کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہ وجوب کے درجہ کو پہنچ چکا ہے۔ ایسا نہ کرنا…
…کاموضوع آج کا سب سے بڑا فکری چیلنج بنا ہواہے۔ ایسی حالت میں لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میںپیغمبر اسلام کی زندگی سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔ مگر مذکورہ قسم کی تقریروں میں اس کا کوئی جواب نہیں۔اس پہلو سے یہاں میں چند باتیں عرض کروں گا۔
اہل علم امن کی تعریف عدم جنگ (absence of war) کے الفاظ میں کرتے ہیں۔ یہ تعریف خالص فنّی اعتبار سے درست ہوسکتی ہے مگر وہ آج کے انسان کو بہت زیادہ اپیل نہیں کرتی۔ آج کے انسان کے نزدیک اس قسم کا امن صرف ایک انفعالی امن (passive peace) ہے۔ امن کی اس تعریف میں اس سوال کا جواب نہیںہے کہ تشدد کے بغیر اپنے مسائل کا حل کس طرح نکالا جائے۔ اس اعتبار سے یہ انسان کے لیے پیغمبر اسلام کی بہت بڑی دین ہے۔ انہوں نے ربّانی ہدایت کے تحت یہ کیا کہ انفعالی امن کو فعّال امن (active peace) میں تبدیل کردیا۔اُنہوں نے امن برائے امن کے اصول کو امن برائے عمل کے اصول کی حیثیت دے دی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اُنہوں نے امن کو ایک وقفۂ تعمیر (constructive interlude)کے طورپر استعمال کرنا سکھایا:
The policy of the Prophet in bilateral matters was based on the principle of buying time.
…صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اُتر گئے۔ اُس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ(idiot) ۔ اس انگریزی لفظ کے معنیٰ ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ اُنہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا:
Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.
جناب، میں مسٹر ایڈیٹ نہیں ہوں۔ میں ذاکر حسین ہوں۔ یہ سُن کر اُس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ ساری(sorry) کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہوگیا۔
…اے خدا کے رسول، اُس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے، خدا کی قسم، اللہ آپ کو ہمارے پاس لے آیا اور اُس کی قوم کے لوگ اُس کے لیے تاج تیار کر رہے تھے تاکہ وہ اُس کو اپنا بادشاہ بنائیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اُس کا مقام اُس سے چھین لیا ہے۔
یہ حسن اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ بن ابیّ کی شر انگیزی کا جواب سختی کے ساتھ دیا جاتا۔ صحابی نے گویا اپنے جواب میں یہ بتایا کہ اس معاملہ میں سختی کی ضرورت نہیں۔ حسن اعراض ہی اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔
۴۔ اوپر ہجرجمیل کی وہ مثالیں ہیں جو سطور میں ہوتی ہیں۔ اب ایک بین السطور کی مثال لیجئے۔ جب کسی معاملہ میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اُس میںایک اور بات پوشیدہ ہوتی ہے جو اگر چہ زبان سے بولی نہیںجاتی مگر وہ حقیقی مطلوب کے طورپر…
…کی بصیرت پر اعتماد کریں۔ وہ صرف اعتماد اور حسن ظن کی بنا پر یہ عقیدہ رکھیں کہ اُن کے رہنما نے جو بات کہی ہے اُس کے پیچھے ضرور کوئی گہری مصلحت ہوگی۔ ہمارا کام اپنے رہنما کی اتباع کرنا ہے، نہ کہ اُس کی دیانت داری (integrity) پر شک کرنا۔
۵۔ صُلح حدیبیہ بظاہر ایک ایسی صُلح تھی جو دشمن کے مقابلہ میں دب کر کی گئی۔ مگر اس کے اندر ایک غیر اعلان شدہ مقصد چھپا ہوا تھااور وہ تھا ـــــٹکراؤ کو ایوائڈ کرکے اپنے لیے وقفۂ تعمیر حاصل کرنا۔ اگر یہ بات معاہدہ کے متن میں لکھ دی جاتی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان اُسی وقت اس کا اعلان کر دیتے تو صلح کے مقاصد سرے سے فوت ہوجاتے۔ اس قسم کے مقاصد ہمیشہ اعلان کے بغیر ہوتے ہیں، نہ کہ اعلان کے ساتھ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہاں تک کہ بعد کو جب اس کا عملی نتیجہ ظاہر ہوگیا، اُس وقت لوگوں نے جانا کہ اس صلح کے اندر کتنی بڑی مصلحت چھپی ہوئی تھی۔
یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت ابو بکر صدیق نے بعد کے زمانہ میں ان الفاظ میں بیان کی: ماکان فتح اعظم فی الإسلام من فتح الحدیبیۃ، ولکن الناس یومئذٍ قصررأیہم عمّا کان بین محمد وربّہ، والعباد یعجلون واللہ لا یعجل کعجلۃ العباد حتی یبلغ الامور ما…
ہائی جیکنگ ایک جرم
ہائی جیکنگ (ہوائی قذّافی) بلا شبہہ ایک فعل حرام ہے۔ اس کو جس پہلو سے بھی دیکھا جائے، یقینی طورپر وہ شرعی اعتبار سے حرام اور انسانی اعتبار سے جرم قرار پائے گا۔ ہائی جیکنگ کو جائز ثابت کرنا صرف جرم کے اوپر سرکشی کا اضافہ ہے۔ ہائی جیکنگ ایک ایسا جرم ہے جس میں بیک وقت کئی سنگین جرائم شامل ہو جاتے ہیں ــــرہزنی (highway robbery) ، یرغمال (hostage) بنانا، ناحق قتل کرنا، دھوکہ کی جنگ، کسی کے مال کو غصب کرنا اور اس کو نقصان پہنچانا۔
۱۔ رہزنی کیا ہے، رہزنی یہ ہے کہ کسی آدمی کو غیر محفوظ (vulnerable) حالت میں پاکر اس پر حملہ کرنا اور اس کو جانی اور مالی نقصان پہنچانا۔ پہلے زمانہ میں برّی رہزنی (highway robbery)کا رواج تھا۔ اس کے بعد بحری قذافی (piracy) کی جانے لگی۔ اب…
…جنگ(fullfledged war) ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۸۰ غزوات میں پیغمبر اسلام نے اعراض اور حسن تدبیر کے ذریعہ دونوں فریقوں کے درمیان عملی مقابلہ کو ٹال دیا۔ صرف تین بار (بدر، احد، حنین) میں مجبورانہ حالات کی بنا پر آپ کوجنگی مقابلہ کرنا پڑا۔
جنگی مقابلہ سے اعراض کی اسی پالیسی کی ایک مثال وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ جب پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان جنگی صورت حال پیدا ہوگئی تو آپ نے یہ کوشش شروع کی کہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ جنگی حالات کو ختم کر دیا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان پر امن فضا کو بحال کیا جائے۔
اس مقصد کے لئے آپ نے اپنے مخالفین سے صلح کی گفت و شنید شروع کی جو دو ہفتہ تک جاری رہی۔ یہ گفت وشنید مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر ہوئی اس لئے اس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان ایک امن معاہدہ تھا۔ گفت وشنید کے…
فتحِ مبین کا راز
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے مگر مکہ کے سرداروں نے سراسر ناحق طورپر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہوسکے۔
صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فورًا بعد قرآن کی سورہ نمبر ۴۸ نازل ہوئی۔ اس سورہ میںاعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لئے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو …
Those, who control their desires, making every effort to know God’s laws as demonstrated in Nature and literally stated in the Quran, have adopted
the right path and, sooner or later, they
will reach their destination.
Man cannot afford to ignore these laws. Neither can man set up a parallel system of laws. We have no choice but to discover these laws and plan our activities in accordance with them. Going against these laws will benefit no one, neither men nor women. Here the formula is very simple—either follow the natural path—or perish.
The Importance of Interaction
…discussion, and where there is discussion, there is ideological exchange, and where there is ideological exchange, there is every opportunity to establish one’s ideological supremacy over the other party. And that is exactly what happened.
A few years after the signing of this treaty, almost the whole of Arabia accepted the ideology of the Prophet of Islam. Peaceful combat through ideology proves to be far more effective than the might of the sword.
The Hudaybiyyah experience was not simply a matter of religion. It is relevant to all the affairs of human life. It gives us a master formula to manage all controversial matters, within the family and in society, as well as at the national…
…کہا بے شک افضل عبادت اللہ کی جانب سے کشادگی کا انتظار کرنا ہے۔ ایک شارح نے اس حدیث کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے بترک الشِّکایة من البلاء النازل(شرح مصابیح السنةلابن الملک، حدیث نمبر1602)۔ یعنی نازل شدہ مصیبت کے موقع پر شکایت کو ترک کرنا۔
موجودہ زمانے میں ایک اسٹریٹجی وجود میں آئی ہے۔ اس کو بائنگ ٹائم (buying time) کہا جاتا ہے۔یعنی کسی کام کےلیے وقتی طور پر تاخیر کرنا تاکہ اپنی پوزیشن کو ٹھیک کیا جاسکے
to delay an event temporarily so as to have a longer time to improve one's own position.
…لِلْمَسْأَلَةِ (تاریخ بغداد للخطیب بغدادی، حدیث نمبر 5433)۔ یعنی ،لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، جب کہ میری امت کے مالدار تفریح کے لیے حج کریں گے، ان کا مڈل کلاس تجارت کےلیے، اور ان کے علما دکھاوا کے لیے اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے۔
آج کل مسلمانوں میں عمرہ کی دھوم ہے۔ عمرہ کے لیے لوگ اتنا زیادہ مکہ جانے لگے ہیں، جو تقریباً حج کے برابر ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ کا عمرہ کے بارے میں اسوہ کیا تھا۔ ہجرت کے بعد 6ہجری میں رسول اللہ نے مدینہ میں اعلان کیا تھا کہ عمرہ کے لیے مکہ جانا ہے۔پھر مدینہ سے آپ تقریباً چودہ سوا صحاب کے ساتھ نکلے تاکہ مکہ پہنچ کر عمرہ کریں۔ لیکن حدیبیہ کے مقام پر پہنچ کر حالات بدل گئے۔ اب آپ نے نیا فیصلہ لیا۔ وہ یہ کہ درمیان سفر سے مدینہ واپس چلے جائیں، اور اگلے سال ، 7ھ میں دوبارہ مکہ جاکر عمرہ کریں۔ اس عمرہ کو اسلامی تاریخ میں عمرۃُ القضاء کے نام سے جانا جاتا ہے۔
رسول اللہ کے اس عمل سے ایک اصول ملتا ہے۔ وہ یہ کہ زندگی کا منصوبہ ناقابلِ تبدیل (unchangeable) منصوبہ نہیں ہے، بلکہ حالات کے تحت ہے۔ اگر حالات بدل جائیں تو منصوبہ بھی بدل سکتا ہے۔ خواہ وہ عمرہ جیسے مقدس عبادت کا منصوبہ ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن…
…کی مانگ کرنا، عملاً اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ جو ممکن ہے، وہ بھی نہ ملے، اور زیادہ تو ملنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ اِس دنیا میں ا جتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔
عام طور پر انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ متاثر ذہن (conditioned mind)سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتا ہے۔جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں پر امن تدبیر کے ذریعہ مسئلہ حل کرنا چاہیے، وہاں وہ تشدد کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ جہاں رد عمل (reaction) سے بچ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہیے، وہاں وہ ری ایکشن کا شکار ہوکر ایسا منصوبہ بناتا ہے، جو مسائل میں صرف اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے اس کا مطلوب آئڈیل کی بنیاد پر حاصل ہو۔اس بنا پر وہ ایسا کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو نتیجے کے اعتبار سے دیکھے۔ اس طرح مسئلہ کسی مزید دشواری کے بغیر بہ آسانی حل ہوجائے گا۔
اس دنیا میں اختلاف کے معاملے میںآپشن دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر (lesser evil)اور بڑے شر (greater evil)کے درمیان ہوتا ہے۔اسی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خیر الشرین کہا ہے(العقد الفرید، جلد2، صفحہ109-110)، یعنی عقل مند وہ…
…پیش آیا۔ اسلام میں حدیبیہ کا واقعہ ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ حدیبیہ کا واقعہ پورے معنوں میں ایک سنت رسول ہے۔ حدیبیہ کے موقعہ پر جو واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو بین اقوامی معاملات کے لیے ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔
حدیبیہ کے موقعہ پر رسول اللہ اور قدیم مکہ کے مشرک لیڈروں کے درمیان صلح کی گفت و شنید (negotiation) شروع ہوئی۔ یہ گفت و شنید تقریباً دوہفتہ تک جاری رہی۔ جب اس کی شرطیں طے ہوگئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کاغذ پر صلح نامے کے دستاویز لکھوانا شروع کیا۔ آپ نے علی بن ابی طالب سے کہا:اکْتُبْ یَا عَلِیُّ:ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ (اے علی لکھو،یہ وہ شرائط ہیں جس پر محمد رسول اللہ نے صلح کی )۔ سہیل بن عمرو جو اس وقت مشرک قیادت کی نمائندگی کررہے تھے، انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے، آپ وہ لکھیے جس کو ہم مانتے ہیں(اکْتُبْ فِی قَضِیَّتِنَا مَا نَعْرِفُ) ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعتراض کو مان لیا ،اور کہا خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن اے علی تم ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹاؤ اور اس کی جگہ لکھو ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ ۔ علی ابن ابی طالب نے ایسا کرنے سے انکار…
18 فروری 1983
اسلام کا ماخذ بنیادی طور پر قرآن ہے ۔ اس کے بعد حدیث اور سیرت۔ مگر حدیث اور سیرت کے سلسلہ میں ایک دقت یہ ہے کہ اس کی ترتیب قرآن کی ترتیب پرقائم نہ ہو گی ۔ حدیث کی تدوین کا کام زیادہ تر فقہ کے رد عمل میں ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حدیث کی ترتیب میں فقہ کا پیٹرن رائج ہوگیا۔ فقہ کے ابواب مسائل کی بنیاد پر قائم کئے گئے تھے ، اسی طرح حدیث کے ابواب بھی مسائل کی بنیاد پر قائم کردے گئے۔ میں ذاتی طور پر مسانید کی ترتیب کو زیادہ سائنٹفک سمجھتا ہوں۔
سیرت نگاری کا کام اس زمانہ کی تاریخ نگاری سے متاثر ہوا۔ اس زمانہ میں تاریخ جنگوں اور فتوحات کا نام تھی۔ چنانچہ اس کے زیراثر سیرت کو بھی" کتاب المغازی" بنا دیا گیا ۔ حتیٰ کہ ہمارے سیرت نگار حدیبیہ کا واقعہ لکھتے ہیں تو اس پر یہ عنوان قائم…
…ہے، بلکہ مواقع کو پیدا کرنا ہے۔ امن پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں امن کا ماحول موجود ہو، اس کو انسانی ترقی کے لیے استعمال کرنا، اور اگر امن کے حالات موجود نہ ہوں، تو یک طرفہ کوشش کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنا، جو پرامن ماحول بنانے والے ہوں۔
مثلاً اگر کہیں دو قومی نظریہ کا کلچر پایا جاتا ہو، تو اس کو ختم کرنا، اور انسانی نظریے کو فروغ دینا۔ اگر کہیں مطالباتی سیاست کا رواج ہو، تو اس کو یک طرفہ اصلاح کے ذریعے ختم کرنا، اور جدید نظریے کے مطابق، پرامن اور صحت مند مسابقت کو رواج دینا، وغیرہ۔
جدید تہذیب کے تحت جو کلچر بنا ہے، وہ پرامن اور صحت مند مسابقت کا کلچر ہے۔ یہی کلچر اسلام میں بھی مطلوب ہے۔ مسلمانوں میں اگر کہیں اس کے برعکس کوئی کلچر پایا جاتا ہو، تو وہ قدیم قبائلی کلچر کی باقیات کے طور پر ہیں۔ دو قومی نظریہ بھی اسی قسم…
…مطابق انھوں نے جواب دیا : نحن مجتهدون الله ولرسوله ۔ ـنهفـاعـلـمأعـدامـاغـفـونوانماكانتوقعةبعـاتعـامالاول،يوممنايامنااقتلنافيهناستقدموغنكذالايكون لن اجتماعـنـدمـــاحـتىترجعإلىعشـاشـرينا. لعلاللهيمـلحذات بيننا. وموعدك الموسم العام المقبل.
ہم اللہ اور اس کے رسول کے لئے پوری کوشش کریں گے۔ مگرہم، آپ جانئے کہ اس وقت آپس کی بغض وعداوت میں مبتلا ہیں۔ اور ابھی پچھلے سال ہمارے یہاں بعاث کی جنگ ہوئی ہے ۔ اگر آپ ایسی حالت میں مدینہ آتے ہیں تو ہم آپ پر جمع نہ ہوسکیں گے ۔ پس آپ ہمیں اپنے لوگوں کی طرف جانے دیجیے، شاید اللہ ہمارے باہمی معاملہ کو درست کر دے۔ اور آپ سے اگلے سال یہیں ملاقات کا وعدہ ہے۔
اس کے بعد دوسری بارنبوت کے بارہویں سال اور تیسری بار نبوت کے تیرھویں سال آپ کی ملاقات مومنین مدینہ سے ہوئی ۔ یہاں تک کہ آپ نے مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت فرمائی۔
…سابق امت میں سے نہ تھے اور نہ کسی پچھلے نبی کے پیرو تھے۔ اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ فلاں پیغمبر (مثلا حضرت موسیٰ یا عیسیٰ) کے طریقہ پر عبادت کرتے تھے۔حضرت جبرئیل ابھی تک آپ کے پاس آۓ نہیں تھے کہ وہ اسلام کا طریق عبادت آپ کو بتائیں ۔
پھریہ عبادت کیسی تھی۔ اس کا جواب حدیث کی شرح کرنے والوں نے یہ دیا ہے کہ غارحراء میں آپ کی عبادت کا طریقہ یہ تھا کہ آپ وہاں غور وفکر کرتے تھے اور عبرت حاصل کرتے تھے (كان صفة تعبدہ في غار حراء التفكر والاعتبار)
2 فروری 1984
…منصوبے ہیں، ہر ایک کا اپنا الگ الگ ایجنڈا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنائے۔ اگر لوگ ایسا نہ کریں تو سارے لوگ آپس میں لڑیں گے، اور کوئی بھی شخص اپنا کام درست طور پر انجام نہ دے سکے گا۔
ایسی حالت میں انسان کو اپنا کام انجام دینے کے لیے دانش مندانہ منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ اس دانش مندانہ منصوبے کو ایک لفظ میں پریکٹکل وزڈم کہا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی ان آیات میں حکمت سے مراد عملی دانش مندی (practical wisdom) ہے۔ یعنی دوسروں سے ٹکراؤ کیے بغیر اپنے منصوبے کو مکمل کرنا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مکہ میں جب آپ نے توحید کا مشن شروع کیا تو وہاں کی اکثر آبادی شرک پر قائم تھی۔ رسول اللہ کو یہ کرنا تھا کہ مشرکین سے ٹکراؤ کیے بغیر اپنا توحید کا منصوبہ پر امن انداز میں عمل میں لائیں۔ توحید کا اصول ایک مطلق اصول…
…(violence) کے واقعات ہورہے ہیں، ان علاقوں کے لیڈر یہ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں امن اس وقت قائم ہوگا جب کہ اس علاقے کے عوام کی جائز خواہشات کو پورا کیا جائے۔ جب تک اس علاقے کے عوام کو ان کا حق نہ دیا جائے، وہاں کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔
یہ بات جو کہی جاتی ہے، وہ گرامر کے اعتبار سے درست ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ تاریخ میں کبھی اس قسم کا امن قائم نہیں ہوا۔ تاریخ میں اگر کبھی امن قائم ہوا ہے، تو وہ ہمیشہ عوامی مطالبات کو چھوڑنے کی بنیاد پر ہوا ہے، نہ کہ ان کو پانے کی بنیاد پر۔
اسلام کے دورِ اول میں پیغمبرِ اسلام اور مکہ کے قریش کے درمیان نزاع قائم تھی۔ دس سالہ ناجنگ معاہدہ ، صلحِ حدیبیہ کے ذریعے اس نزاع کا خاتمہ ہوا، اور علاقے میں امن قائم ہوا۔ مگر یہ امن قریش کی شرطوں پر قائم ہوا تھا، نہ کہ اہل ایمان کی شرطوں…
…حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ عام طور پر حدیبیہ کو غزوۃ الحدیبیہ کہاجاتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ کیوں کہ حدیبیہ کے موقع پر فریقین کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی امن کا معاہدہ ہوا۔
الحدیبیہ عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے، جو مدینہ اور مکہ کے تقریباً درمیانی مقام پر واقع ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نےایک پروگرام کے تحت یہاں دوہفتہ قیام کیا۔ یہاں آپ نے مکہ کے لیڈروں سے گفت و شنید (negotiation) کی۔ اس کے بعد فریقَین کے درمیان دس سال کے لیےایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) ہوا۔ اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد مدینہ پہنچنے سے پہلے وہ سورہ نازل ہوئی جو الفتح کے نام سے قرآن میں شامل ہے۔ اس سورہ میں حدیبیہ کے واقعہ کو فتح مبین (clear victory) بتایا گیا ہے۔
جب حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس وقت اہل اسلام کو کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ صرف یہ ہوا تھا کہ فریقَین کے درمیان امن کا معاہدہ ( peace treaty)عمل میں آیا تھا۔ ایسی حالت میں اس واقعہ کو فتح مبین کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ حال کی نسبت سے…
Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.
جناب، میں مسٹر ایڈیٹ نہیں ہوں۔ میں ذاکر حسین ہوں۔ یہ سُن کر اُس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ ساری(sorry) کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہوگیا۔
2۔ ہجرت کے بعد حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ مکہ کے سرداروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اورآپ کے صحابہ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اُس وقت حدیبیہ کے مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدۂ امن تیار کیا گیا ۔ اس معاہدہ کے وقت…
…مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں، بیشک یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔ تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو تاریخی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، وہ فطرت کے قوانین کے بنا پر ہوتی ہیں۔ اس کا سبب کسی کی دشمنی یا کسی کی سازش نہیں ہوتا۔ اس لیے جب کسی قوم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا صحیح رسپانس یہ نہیں ہے کہ کھوئی ہوئی چیز پر غم کیا جائے۔ بلکہ اس کا صحیح رسپانس ہے ہونے والے واقعے کو فطرت کے خانے میں ڈالنا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان کے اندر صحیح سوچ جاگے گی۔ وہ حقیقت واقعہ کا بے لاگ جائزہ لے گا۔ اس طرح وہ اس قابل بن جائے گا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کرے، اور کھوئی ہوئی چیز کو نئے عنوان سے از سر نو حاصل کرلے۔
پیغمبر اسلام کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ احد کی جنگ میں آپ کے ساتھیوں کو شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد آپ اور آپ کے ساتھی غم میں نہیں پڑے، بلکہ انھوں نےسارے معاملے پر از سر نو سوچنا شروع کیا ۔ اس طرح ان کے اندر یہ سوچ ابھری کہ وہ جنگ کے میدان…
…کرنا
چاہتے تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدے کی دفعات طے ہوگئیں، اور اس کو کاغذ پرلکھا
جانےلگا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کو لکھواتے ہوئے کہا: اکتب یا
علی، ہذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ ۔
فریق ثانی کے لیڈر نے فوراً اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔
آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھیے، جو کہ ہمارے اور آپ کے درمیان
مشترک ہے۔آپ نے بلابحث کہا: امح یا علی، اللہم إنک تعلم أنی رسولک،امح یا علی واکتب،
ہذا ما صالح علیہ محمد بن عبد اللہ(مسند احمد، حدیث نمبر3187)۔یعنی اے علی، اس کو مٹادو۔
اے اللہ ، تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں۔ اے علی، مٹادو اور لکھو، یہ وہ (دفعات)
ہیں جن پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کیا۔ اس کے بعد صلح کا معاہدہ طے پاگیا۔ اور آپ
اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ واپس آگیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاملہ بلاشبہ اللہ کی رہنمائی کے مطابق تھا۔ اللہ
کی رہنمائی کے بغیر آپ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ سورہ الفتح میں اس کی بابت یہ الفاظ
آئے ہیں: وَیَہْدِیَکَ صراطًا مُسْتَقِیمًا (48:2)۔ آپ کا…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدوّ، واسئلوا اللہ العافیۃ (صحیح البخاری، کتاب الجہاد) یعنی تم دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنّا نہ کرو، بلکہ خدا سے عافیت مانگو:
Don't wish for confrontation with your enemy, instead ask for peace from God.
جیسا کہ عرض کیا گیا،حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: ما خُیّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرین، إلاّ اختارَ أیسرہما، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا…
…کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ صرف مسئلہ کے حل کی طرف لے جاتی ہے۔ پر امن منصوبہ بندی کے تحت اقدام کرنا، ایک ایسے انجام کی طرف لے جاتا ہے جہاں جنگ کا خاتمہ ہوجائے اور لوگوں کو پر امن سرگرمیوں کے لیے مواقع (opportunities) حاصل ہوجائیں۔
اسلام کے دورِ اول کی تاریخ اس اصول کی تصدیق کرتی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل ایمان اور ان کے مخالفین کے درمیان کچھ لڑائیاں ہوئیں۔ مثلاً غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ حنین، وغیرہ۔ مگر ان لڑائیوں سےٹکراؤ ختم نہیں ہوا۔ گویا باعتبارِ نتیجہ عمل کی کوئی حد نہیں آئی۔ قرآن میں فتح کی آیت صرف صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ فتح کا مطلب ہے ٹکراؤ کا خاتمہ اور پرامن سرگرمیوںکے لیے موافق ماحول پیدا ہوجانا۔کسی اور غزوہ کے بعد فتح کی آیت نہیں اتری۔
حدیبیہ کا واقعہ 6 ھجری میں پیش آیا۔ اس موقع پر فریق ثانی کی کوشش صرف یہ تھی کہ رسول اور اصحابِ رسول مکہ میں داخل نہ ہوں اور عمرہ کیے بغیر واپس مدینہ چلے جائیں۔ مگر پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے امن (peace) کی بات چیت…
…ۭ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِــیْمًا حَکِـیْماً (48:4) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اہلِ ایمان کے دلوں میں سکینہ نازل کیا تاکہ اور بڑھ جائے اُن کا ایمان اپنے ایمان کے ساتھ۔ اور اللہ ہی کے ہیں سب لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ ہے خبر دار، حکمت والا۔
سکینہ کا لفظی مطلب اطمینان (tranquillity) ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں سکینہ کا مطلب یہ ہے کہ حدیبیہ معاہدے کی شرطیں اگرچہ اصحاب رسول کی مرضی کے خلاف تھیں، لیکن اللہ کے حکم کی بنا پر وہ اُس پر راضی ہوگئے۔ اِس رضامندی کے باعث، اللہ نے اُن پر یہ خصوصی فضل کیا کہ اُن پر اپنی وہ خاص رحمت نازل فرمائی جو اُنھیں قلبی اعتبار سے اُس پر مطمئن کردے اور جس فیصلے پر وہ بظاہر ناگواری کے ساتھ راضی ہوئے تھے، اُس کو اُن کے لیے ایک خوش گوار تجربہ بنادے۔
زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے ساتھ کوئی ناپسندیدہ صورت پیش آتی ہے۔ مثلاً کسی عزیز کی موت، کوئی مالی نقصان، کسی کی طرف سے بے عزتی کا معاملہ، وغیرہ۔ اِس طرح کامعاملہ آدمی کے لیے ہمیشہ صدمہ (shock) کا سبب بنتا ہے۔ لیکن اگر…
…کے دل میں اسلام سے قربت پیدا ہو، وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے، وہ کسی تعصب کے بغیر کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو سمجھے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو تجارتی تعلقات کے دائرے میں کسٹمر فرینڈلی بیہیویر (customer-friendly behaviour) کہا جاتا ہے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تالیف قلب کی ایک مثال وہ ہے جب کہ ہجرت کے بعد آپ نے اپنی نماز کے لیے کعبہ کے بجائے یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنالیا۔ مفسر النسفی نے اپنی تفسیر مدارک التنزیل و حقائق التاویل میں تالیف قلب کی پیغمبرانہ مثال دیتے ہوئے لکھا ہے: روى أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کان یصلی بمکة إلى الکعبة ثم أمر بالصلاة إلى صخرة بیت المقدس بعد الہجرة تألیفاً للیہود ثم حول إلى الکعبة (تفسیر النسفی، بیروت، 1998، جلد 1، البقرۃ آیت143) ۔ یعنی روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کعبہ کا طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے، پھر ہجرت کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ آپ اپنی نماز قبلہ ٔ یہود صخرۃ کی طرف رخ کرکے ادا کریں، ایسا یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا گیا، پھر بعد کو آپ کا قبلہ کعبہ کی طرف کردیا گیا۔
تالیف قلب اسلام کی ایک جامع تعلیم ہے۔ اس کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔ مومن کے لیے ہر انسان مدعو ہے۔ اس لیے مومن کو ہر انسان کے ساتھ تالیف قلب کے اصول پر معاملہ کرنا ہے۔ تالیف قلب کا اصول کو ئی وقتی یا محدود اصول نہیں ہے، وہ ہمیشہ کے لیے اہل…
…نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی- ہجرت کا لفظی مطلب ہے، ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر جانا- اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میںہجرت کوئی پراسرار واقعہ نہ تھا- یہ حالات کے پیش نظر ایک تدبیر کا معاملہ تھا، جو نتیجہ کے پہلو سے نہایت کامیاب ہوا-
ہجرت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مقام عمل کو بدلنے کا نام ہے- اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے- اصولی اعتبار سے اسلام کا مشن ہمیشہ ایک رہے گا- لیکن تدبیر کا تعلق حالات سے ہوتا ہے- اس لئے داعی کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کرے، وہ ہر قسم کی جذباتیت سے الگ ہو کر وقت کی صورت حال کا گہرا جائزہ لے۔ اس کے بعد حالات کے اعتبار سے دعوت کا ایسا منصوبہ بنائے جو اپنے مقصد کے اعتبار سے زیادہ موثر ہونے والا ہو-
تدبیر کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوتی جدوجہد کے آغاز میں تین سال تک دعوت کا کام انفرادی ملاقاتوں کے انداز میں کیا، یہ ایک تدبیر کا معاملہ تھا- اس زمانے میں کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے…
…أیسرہما (صحیح البخاری، حدیث : 6786) یعنی رسول اللہ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے۔ دوسرے الفاظ میں آپ کا مستقل اصول یہ تھا کہ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔
Ignore the problems, avail the opportunities
اس پیغمبرانہ طریقے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مکی دور میں کعبہ کی عمارت میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان بتوں سے عملاً کوئی تعرض نہیں کیا۔ بلکہ وہاں جو لوگ ملتے تھے ان کو آپ توحید کا پرامن پیغام پیش کرتے رہے۔ قریش نے آپ کے خلاف مقاطعہ…
…کا ذکر ہے جس کو معاہدہ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ اِس معاہدے کے وقت رسو ل اور اصحابِ رسول کو حدیبیہ سے بظاہر ناکام لوٹنا پڑا تھا۔ لیکن اِس معاہدے کے بعد یہ ہوا کہ رسول اور اصحابِ رسول صرف دو سال کے اندر دوبارہ فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوئے-
ظاہری حالات کے اعتبار سے اصحابِ رسول بوقت معاہدہ سخت پریشان تھے۔ اُس وقت قرآن میں یہ آیت اتری: فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:27)۔ قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مطلوب فتح (فتح مکہ) اُس وقت ایک بعید فتح کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اللہ نے اپنی رحمت خاص سے اصحابِ رسول کو ایک فتحِ قریب (near victory) عطا کردی-
یہ فتحِ قریب کیا تھی، اِس کا جواب خود قرآن کی اِس سورہ میں موجود ہے۔ اِس آیت کے الفاظ یہ ہیں: فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَةَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:18) یعنی پس اُس نے اُن پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو ایک قریبی فتح دے…
…present. However, when the present becomes the future, it becomes clear that people’s estimations are entirely incorrect. The future often manifests in ways that differ significantly from what those initially understanding it perceived.
For instance, in 6 AH, the Treaty of Hudaybiyyah was concluded between the Messenger of God, Prophet Muhammad and the Quraysh. At that time, all the Quraysh believed that the Muslims had effectively signed their death warrant. Yet subsequent years revealed that this seemingly disastrous loss contained a great victory in disguise. Similarly, in 1945, when American warplanes roared into the skies to drop atomic bombs on Japan, America believed it was turning Japan into a pile of ashes forever. However, forty years later, the world witnessed Japan rising as the largest industrial power.
This demonstrates that it is not humans who shape history; rather, it is God who determines the course of human history according to His will. The shaping of history is decided from the unseen, not from observable conditions.
The Importance of Interaction
The Quran holds interaction to be of great importance. Interaction should definitely be engaged in, whatever the situation. This principle is laid down in the chapter Al-Fath (Victory). The translation of the relevant verses is as follows:
Truly, We have granted you a clear victory, so that God may forgive you your past and future sins and complete His favour to you and guide you to a straight path, and so that God might bestow on you His mighty help. (48:1-3)
موجودہ زمانے میں ایک اسٹریٹجی وجود میں آئی ہے۔ اس کو بائنگ ٹائم (buying time) کہا جاتا ہے۔یعنی کسی کام کےلیے وقتی طور پر تاخیر کرنا تاکہ اپنی پوزیشن کو ٹھیک کیا جاسکے
to delay an event temporarily so as to have a longer time to improve one's own position.
اس کا مطلب ہے وہی کام کرنا، جو آپ کے لیے ممکن ہو۔ زندگی میں جذباتیت کو ترک کرکے حقیقت پسند بننا۔اگر انتظار کی ضرورت ہو تو جلد بازی کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائےانتظار کرنا اور صبر سے کام لینا۔ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ نے قریش مکہ کے…
موجودہ زمانے میں ایک اسٹریٹجی وجود میں آئی ہے۔ اس کو بائنگ ٹائم (buying time) کہا جاتا ہے۔یعنی کسی کام کےلیے وقتی طور پر تاخیر کرنا تاکہ اپنی پوزیشن کو ٹھیک کیا جاسکے
to delay an event temporarily so as to have a longer time to improve one's own position.
اس کا مطلب ہے وہی کام کرنا، جو آپ کے لیے ممکن ہو۔ زندگی میں جذباتیت کو ترک کرکے حقیقت پسند بننا۔اگر انتظار کی ضرورت ہو تو جلد بازی کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائےانتظار کرنا اور صبر سے کام لینا۔ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ نے قریش مکہ کے…
follow one, respect all
س: فرقہ وارانہ تشدد کی فضا کو ختم کرنے کے لیے کون کیا کردار ادا کرے؟
جنفرت کی فضا کو ختم کرنے کا صرف ایک اصول ہے، یک طرفہ طور پر صلح کرلینا۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا۔
25 جون 1985
زندگی بے حد مشکل امتحان ہے۔ اس مشکل کا ایک پہلو یہ ہے کہ اکثر معاملات میں آدمی کو کٹھن فیصلہ لیناہوتا ہے، کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف۔ یہ طے کرنا کہ کب کس رُخ پر اقدام کیا جائے، یہ بے حد نازک اور مشکل کام ہے، بلکہ شاید اکثر اوقات میں انسانی عقل سے باہر۔ کیوں کہ صحیح فیصلہ لینے کے لیے مستقبل کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے، اور مستقبل کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فیصلہ وہ ہے جو آپ نے صلح حدیبیہ کے وقت لیا اور دوسرا فیصلہ وہ ہے جو آپ نے فتح مکہ کے وقت لیا۔ دونوں دو انتہائی فیصلے تھے۔ صلح حدیبیہ کے وقت مکمل طورپر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا گیا اور فتح مکہ کے سفر میں…
…ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے اس کا مطلوب آئڈیل کی بنیاد پر حاصل ہو۔اس بنا پر وہ ایسا کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو نتیجے کے اعتبار سے دیکھے۔ اس طرح مسئلہ کسی مزید دشواری کے بغیر بہ آسانی حل ہوجائے گا۔
اس دنیا میں اختلاف کے معاملے میںآپشن دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر (lesser evil)اور بڑے شر (greater evil)کے درمیان ہوتا ہے۔اسی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خیر الشرین کہا ہے(العقد الفرید، جلد2، صفحہ109-110)، یعنی عقل مند وہ ہے، جو دو برائیوں (evils) میں سے کمتر بُرائی (شر)کو پہچانے۔ اگر آدمی چھوٹے شر پر راضی نہ ہو تو اس کے بعد اس کو جس چیز پر راضی ہونا پڑتا ہے، وہ بڑا شر ہے۔اس حقیقت کو صحابی رسول عمیر بن حبیب بن خماشہ اس طرح بیان کیا ہے: جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والے چھوٹے شر پر راضی نہیں ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2258)۔
اختلاف کے وقت دانش مند آدمی کے لیے پہلا آپشن کیا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہےکہ فریقِ ثانی کی شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اس سے صلح کرلی جائے۔پیغمبر اسلام کی یہی سنت رہی ہے۔ اسی سنت کو قرآن میں حکمت کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو…
…معاہدے کا یہ تاریخ ساز فائدہ ہو ا کہ اسلامی تحریک جنگی انحراف سے ہٹ کر دعوت الی اللہ کے راستے پر آگئی۔ اِس کے بعد رسول اور اصحابِ رسول کو یہ موقع ملا کہ وہ نہ صرف عرب میں، بلکہ بیرونِ عرب تک اسلامی دعوت کے کام کو منظم طورپر پھیلا سکیں۔
حدیبیہ ایگری مینٹ کی اِسی غیر معمولی اہمیت کی بنا پر اُس کو فتح مبین (الفتح، 48:1)کہا گیا ہے، یعنی کھلی ہوئی فتح۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ حدیبیہ ایگری مینٹ فریقِ مخالف کی شرطوں پر کیاگیا تھا۔ حتی کہ اس کے بارے میں صحابہ کی اکثریت کا یہ خیال تھا کہ یہ معاہدہ پسپائی کا معاہدہ ہے۔ اِس کے باوجود کیوں قرآن نے اس کو فتحِ مبین قرار دیا۔
قرآن کا یہ اعلان دراصل فطرت کے اس قانون کا بیان ہےکہ اس دنیا میں ٹکراؤ کے مقام پر پیچھے ہٹنے والے آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں شکست پر راضی ہونے والے کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اِس دنیامیں ہار کا نتیجہ جیت کی صورت میں…
…کہیں دو قومی نظریہ کا کلچر پایا جاتا ہو، تو اس کو ختم کرنا، اور انسانی نظریے کو فروغ دینا۔ اگر کہیں مطالباتی سیاست کا رواج ہو، تو اس کو یک طرفہ اصلاح کے ذریعے ختم کرنا، اور جدید نظریے کے مطابق، پرامن اور صحت مند مسابقت کو رواج دینا، وغیرہ۔
جدید تہذیب کے تحت جو کلچر بنا ہے، وہ پرامن اور صحت مند مسابقت کا کلچر ہے۔ یہی کلچر اسلام میں بھی مطلوب ہے۔ مسلمانوں میں اگر کہیں اس کے برعکس کوئی کلچر پایا جاتا ہو، تو وہ قدیم قبائلی کلچر کی باقیات کے طور پر ہیں۔ دو قومی نظریہ بھی اسی قسم کی قبائلی باقیات کا نتیجہ ہے۔
امن پسندی کی دو نظریاتی بنیادیں ہیں۔ ایک ہے مبنی بر افادیت امن پسندی۔ مثلاً تجارتی فائدے کے لیے امن پسندی۔ یہ بھی ایک مطلوب امن پسندی ہے۔لیکن اس کا کوئی اخروی انعام نہیں۔ دوسرا ہے، مبنی بر دعوت امن پسندی۔یہ مبنی بر اصول امن پسندی ہے، اور…
…مندانہ منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ اس دانش مندانہ منصوبے کو ایک لفظ میں پریکٹکل وزڈم کہا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی ان آیات میں حکمت سے مراد عملی دانش مندی (practical wisdom) ہے۔ یعنی دوسروں سے ٹکراؤ کیے بغیر اپنے منصوبے کو مکمل کرنا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مکہ میں جب آپ نے توحید کا مشن شروع کیا تو وہاں کی اکثر آبادی شرک پر قائم تھی۔ رسول اللہ کو یہ کرنا تھا کہ مشرکین سے ٹکراؤ کیے بغیر اپنا توحید کا منصوبہ پر امن انداز میں عمل میں لائیں۔ توحید کا اصول ایک مطلق اصول ہے۔ اس کے مقابلے میں توحیدکو زیر عمل لانا، دانش مندانہ منصوبے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹکراؤ کیے بغیر توحید کے منصوبے کو زیر عمل لانے کے لیے اس حکمت کو اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کو پریکٹکل وزڈم کہاجاتاہے۔ پیغمبر یہ کرتا ہے کہ وہ ایک طرف توحید کے اصول لوگوں کو بتا تا ہے، اور دوسری طرف وہ پریکٹکل وزڈم یعنی اس کے اختیار کرنے کے عملی پہلوؤں سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ کوئی نیا مسئلہ کھڑا کیے بغیر توحید کے عامل بن سکیں۔
غور و تدبر سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں رسول کی نسبت سے جس چیز کو حکمت کہا گیا ہے۔ اس سے مراد یہی پریکٹکل وزڈم ہے۔ پیغمبر نے اپنی پوری زندگی میں اس پریکٹکل وزڈم کو اختیار کیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو رسول اور اصحابِ رسول لڑائی اور ٹکراؤ…
…گرامر کے اعتبار سے درست ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ تاریخ میں کبھی اس قسم کا امن قائم نہیں ہوا۔ تاریخ میں اگر کبھی امن قائم ہوا ہے، تو وہ ہمیشہ عوامی مطالبات کو چھوڑنے کی بنیاد پر ہوا ہے، نہ کہ ان کو پانے کی بنیاد پر۔
اسلام کے دورِ اول میں پیغمبرِ اسلام اور مکہ کے قریش کے درمیان نزاع قائم تھی۔ دس سالہ ناجنگ معاہدہ ، صلحِ حدیبیہ کے ذریعے اس نزاع کا خاتمہ ہوا، اور علاقے میں امن قائم ہوا۔ مگر یہ امن قریش کی شرطوں پر قائم ہوا تھا، نہ کہ اہل ایمان کی شرطوں پر۔ حتی کہ اس امن کو پانے کے لیے پیغمبرِ اسلام کو معاہدہ کی دستاویز سے بوقتِ معاہدہ رسول اللہ کا لفظ مٹانا پڑا تھا۔ امن کبھی اپنی شرطوں کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ وہ فریقِ مخالف کی شرطوں کو مان کر ہوتا ہے۔
آج کی دنیا میں جہاں جہاں تشدد کے واقعات ہورہے ہیں، وہ سب اسی لیے ہورہے ہیں کہ لوگ اس شرط کو نہیں جانتے، وہ امن کے لیے اس شرط کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی مانگ کو پورا کیا جائے۔ یہ ایک ایسی شرط ہے، جو پر جوش تقریروں میں تو دہرائی جاسکتی ہے،…
…فریقَین کے درمیان دس سال کے لیےایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) ہوا۔ اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد مدینہ پہنچنے سے پہلے وہ سورہ نازل ہوئی جو الفتح کے نام سے قرآن میں شامل ہے۔ اس سورہ میں حدیبیہ کے واقعہ کو فتح مبین (clear victory) بتایا گیا ہے۔
جب حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس وقت اہل اسلام کو کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ صرف یہ ہوا تھا کہ فریقَین کے درمیان امن کا معاہدہ ( peace treaty)عمل میں آیا تھا۔ ایسی حالت میں اس واقعہ کو فتح مبین کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ حال کی نسبت سے نہیں، بلکہ مستقبل کی نسبت سے تھا۔ اس اعتبار سے فتح مبین کا مطلب گویا فاتحانہ منصوبہ (victorious planning) کے ہم معنی ہے۔ رسول اللہ کی سنتوں میں سےایک اہم سنت وہ ہے جس کو فاتحانہ منصوبہ بندی کہا جاسکتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مدینہ سے نکلے تھے، مکہ جانے کے لیے ۔ لیکن وہ معاہدہ کے مطابق حدیبیہ سے واپس مدینہ آگیے۔ اس لحاظ سےحدیبیہ کا واقعہ بظاہر ایک پسپائی کا واقعہ تھا۔ پھر اس کو فتح مبین کیوں کہا…
…مڈبھیڑ ہوئی۔ اس وقت اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی، اور ان کے ہاتھ تقریباً 70 مشرکین قید ہوگئے۔ ان کی رہائی کایہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھادیں (فداءہم أن یعلموا أولاد الأنصار الکتابة) مسند احمد، حدیث نمبر2216 ۔
بدرمیں قیدکیے ہوئے مکہ کے یہ لوگ جنگی اصطلاح میں جنگی قیدی (prisoners of war) تھے۔ اس زمانے کےعام رواج کے مطابق پیغمبر اسلام یہ کرسکتے تھے کہ ان کو قتل کروادیتے۔ لیکن آپ نے انتقام سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ اس طرح آپ کے لیے ممکن ہوا کہ یہاں اپنے ایک مائنس (minus)کو پلس (plus)میں بدل دیں۔ جو لوگ بظاہر آپ کے دشمن تھے، ان کو اپنے معاون کے طور پر استعمال کیا۔ یعنی دشمن کو اپنے بچوں کے لیے ٹیچر کے طور پر استعمال کیا۔ آپ کی اس پالیسی کے تحت مدینہ میں پہلا اسکول قائم ہوا، جس کے ٹیچر سب کے سب آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔
راستہ بدلنا
…مڈبھیڑ ہوئی۔ اس وقت اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی، اور ان کے ہاتھ تقریباً 70 مشرکین قید ہوگئے۔ ان کی رہائی کایہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھادیں (فداءہم أن یعلموا أولاد الأنصار الکتابة) مسند احمد، حدیث نمبر2216 ۔
بدرمیں قیدکیے ہوئے مکہ کے یہ لوگ جنگی اصطلاح میں جنگی قیدی (prisoners of war) تھے۔ اس زمانے کےعام رواج کے مطابق پیغمبر اسلام یہ کرسکتے تھے کہ ان کو قتل کروادیتے۔ لیکن آپ نے انتقام سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ اس طرح آپ کے لیے ممکن ہوا کہ یہاں اپنے ایک مائنس (minus)کو پلس (plus)میں بدل دیں۔ جو لوگ بظاہر آپ کے دشمن تھے، ان کو اپنے معاون کے طور پر استعمال کیا۔ یعنی دشمن کو اپنے بچوں کے لیے ٹیچر کے طور پر استعمال کیا۔ آپ کی اس پالیسی کے تحت مدینہ میں پہلا اسکول قائم ہوا، جس کے ٹیچر سب کے سب آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔
راستہ بدلنا
…پرورش ہونے لگے۔ اس لیے جب بھی ایسا کوئی موقع پیش آتا ہے تو مومن کہہ اُٹھتا ہے کہ میںاس قسم کی منفی سوچ کا تحمل نہیں کرسکتا۔ یہاںاس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے رسو ل اور اصحاب رسول کی زندگی سے حسن اعراض کی کچھ عملی مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
1۔ ابن اسحق کی روایت ہے کہ قدیم مکہ کے قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتے تھے اور سبّ وشتم کرتے تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذمّم رکھ دیا تھا۔ محمد کا مطلب ہے، تعریف کیا ہوا۔اس کے بجائے وہ آپ کو مذمّم (مذمت کیا ہوا) کہتے تھے۔ روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: ألا تعجبون لما یصرف اللہ عنی من أذى قریش، یسبون ویہجون مذمما، وأنا محمد (سیرت ابن ہشام 1/356)۔ یعنی کیا تم کو تعجب نہیں کہ اللہ نے مجھے قریش کی اذیت سے کس طرح بچا لیا، وہ سبّ وشتم کرتے ہیںاور مذمم کہہ کر ہجو کرتے ہیں، حالانکہ میں محمد ہوں۔
پیغمبر اسلام کے اس قول کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ مثلاً قریش اگر یہ کہیں کہ ’’مذمّم مجنون ہے‘‘ تو رسول اللہ اس کا بُرا اثر نہ لیتے ہوئے یہ کہہ دیں گے کہ تمہاری یہ بات اُس کے اوپر پڑے گی جس کا نام مذمّم ہو،میرا نام تو محمد ہے۔ یہ حسن…
…آج جو خاکہ بھی پیش کریں گے، بشرطیکہ اُس میں صلہ رحمی کو ملحوظ رکھا گیا ہو ، میں ضرور اُس پر راضی ہوجاؤں گا۔دشمن کی یک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت ناگوار معاملہ تھا۔ مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس ناگوارکو ایک خوش گوار معاملہ بنا لیا۔
پیغمبر اسلام کا یہ قول ہجر جمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔قدیم عربوں کے نزدیک صلہ رحمی بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی۔ اور قطع رحمی کو وہ بہت بُرا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو۔ باعتبار حقیقت رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں ہر قیمت پر قریش سے صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طورپر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو ۔ حالانکہ پیشگی طورپر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میںایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن اُبی تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ…
…ہوگی۔ اس طرح یہ معاہدہ گویا دس سال کے لیے ناجنگ معاہدہ (no-war pact) تھا۔ اس معاہدہ کے تحت پیغمبر اسلام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ پر امن حالات میں اپنے مشن کی منصوبہ بندی کریں، جو آخر کار قرآن کے الفاظ میں فتح مبین (الفتح 1:) تک پہنچا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ حدیبیہ کا معاہدہ یقیناً فتح مبین (clear victory) کا معاہدہ تھا۔ لیکن یہ معاہدۂ امن کس طرح واقعہ بنا۔ وہ اس وقت واقعہ بنا جب کہ پیغمبر اسلام نےفریق ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر تسلیم کرلیا۔
فریقِ ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لینے کی آخری حد یہ تھی کہ جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو اس پر یہ الفاظ لکھے گیے:ہذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ ۔ فریق ثانی کے نمائندہ نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو رسول نہیں مانتے ، آپ لکھیے محمد بن…
…opinion) تک پہنچ جائے۔ وہ معاملے کےبارے میں ایز اٹ از (as it is) انداز میں سوچ سکے۔ اس صلاحیت کی بنا پر آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ معاملے کے بارے میں وہی رائے قائم کرے، جو از روئے واقعہ ہونا چاہیے۔ اس عین درست رائے کا نام وزڈم ہے۔
انسان عام طور پر مختلف قسم کے غیر متعلق اثرات کے تحت سوچتا ہے۔ مثلاً غصہ ، نفرت، احساس برتری، جذباتیت، انانیت، وغیرہ ۔ یہ چیزیں آدمی کی رائےکو متاثر رائے (biased opinion) بنادیتی ہیں۔ اس طرح کی غیر درست سوچ آدمی کو غیر حکیمانہ سوچ والا انسان بنادیتی ہے۔
اگر واقعی معنی میں کسی کے اندر اللہ کا خوف ہو تو وہ آدمی کی شخصیت کو نہایت گہرائی کے ساتھ متاثر کرتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر ایک فکری انقلاب پیدا کردیتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر نہایت گہرائی کے ساتھ اپنا محاسبہ آپ…
…پھر یہ ٹکڑاؤ کبھی ختم نہ ہوگا۔سسٹم کو کسی وحدانی اصول پر قائم کیا جائے توسماج میں کبھی امن قائم ہونے والا نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے نشانے کے مطابق جنتی شخصیت کی تعمیر صرف امن کے حالات میں بنتی ہے، نفرت اور تشدد کے حالات میں نہیں۔
اس بنا پر اجتماعی سسٹم کے معاملے میں اسلام نے پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کے اصول کو اختیار کیا ہے۔ یعنی ایسی پالیسی اختیار کرنا ، جو سماجی امن کی یقینی ضمانت ہو۔اس قسم کی یقینی ضمانت صرف اس وقت ممکن ہے، جب کہ سماج کے معاملہ میں ایڈجسٹمنٹ کا اصول اختیار کیا جائے۔اسلام کی ابتدائی تاریخ میں حدیبیہ اگریمنٹ اسی قسم کے ایڈجسٹمنٹ کی ایک مثال ہے۔ اس وقت پیغمبر ِ اسلام نے یک طرفہ ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر فریقِ ثانی سے امن کا معاہدہ کر لیا، اور پھر اس کے بعدفطری طورپرسماج میں وہ معتدل ماحول قائم ہوگیا، جس کے اندر اسلام کا اصل مشن (Islamization of the individual) کا عمل (process) کامیابی کے ساتھ جاری رکھا جاسکے۔
اس معاملے کو سمجھنا اس وقت زیادہ آسان ہوجا تا ہے جب کہ اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے کہ اسلام کا مشن پر امن دعوت کا مشن ہے،اسلام کا مشن کسی پولیٹیکل سسٹم کو نافذ کرنے کا مشن نہیں۔ اسلام کا دعوتی مشن صرف اس وقت کامیابی کے ساتھ چل سکتا ہے، جب…
…ہمدردانہ انداز میں سمجھاتے۔ وہ ایک ایسی کتاب لکھتے جس میں وہ بتاتے کہ شتم رسول جیسا غیر فطری معاملہ ہمیشہ غلط فہمی کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے آدمی کے اوپر تبلیغ کرنا چاہیے، اور پر امن دعوتی عمل کے ذریعے اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہیے۔
سید ابوالاعلی مودودی کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا، اس کے بعد انھوں نے اپنی اردو کتاب الجہاد فی الاسلام لکھی۔ اس وقت وہ اپنی جوانی کی عمر میں تھے۔ چنانچہ انھوں نے جوش و خروش کے انداز میں ایک ایسی کتاب لکھی جس میں جہاد بمعنی قتال کی زبردست وکالت کی گئی تھی۔ حالاں کہ اگر وہ اس وقت پختگی کی عمر میں ہوتے تو شاید وہ ایک اور کتاب لکھتے جس کا عنوان یہ ہوتا، الدعوۃ الی اللہ۔ اس کتاب میں وہ پر امن دعوت کی اہمیت بتاتے اور مسلمانوں کو راغب کرتے کہ وہ پرامن دعوت کے اصول پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ یہی معاملہ دوسرے مسلم مفکرین کے ساتھ پیش آیا۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے براہ راست طور پر قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جائے ،نہ کہ بعد کے زمانے میں لکھی ہوئی کتابوں کا۔
امن ایک اقدام
…صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کعبہ کا طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے، پھر ہجرت کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ آپ اپنی نماز قبلہ ٔ یہود صخرۃ کی طرف رخ کرکے ادا کریں، ایسا یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا گیا، پھر بعد کو آپ کا قبلہ کعبہ کی طرف کردیا گیا۔
تالیف قلب اسلام کی ایک جامع تعلیم ہے۔ اس کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔ مومن کے لیے ہر انسان مدعو ہے۔ اس لیے مومن کو ہر انسان کے ساتھ تالیف قلب کے اصول پر معاملہ کرنا ہے۔ تالیف قلب کا اصول کو ئی وقتی یا محدود اصول نہیں ہے، وہ ہمیشہ کے لیے اہل ایمان سے مطلوب ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتدائی زمانے میں سورہ المدثر اتری۔ اس سورہ میں دعوت کا حکم دیتے ہوئےایک اصول یہ دیا گیا کہ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ (74:6) یعنی اور ایسا نہ کرو کہ احسان کرو اور بہت بدلہ چاہو۔ اس حکم کا تعلق دعوت کے…
…کے علماء نے ردعمل (reaction) کے تحت منفی موقف اختیار کر لیا۔ تمام دنیا کے علماء نے متفقہ طور پر یہ اعلان کردیا کہ جدید تہذیب اسلام دشمن تہذیب ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا موقف نفرت اور تشدد کا ہونا چاہئے، نہ کہ امن اور مصالحت (compromise)کا۔
امت کی تاریخ میں یہ بلاشبہ سب سے بڑی اجتہادی غلطی تھی۔اس غلطی کے نتائج امت کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہوئے۔ اس کی بنا پر یہ ہوا کہ جدید تہذیب کے مقابلے میں امت اپنا مثبت موقف (positive stand)دریافت نہ کر سکی۔وہ صرف رد عمل کی نفسیات کے تحت مغربی تہذیب اور مغربی اقوام کے خلاف منفی سرگرمیوں میں مبتلا رہی۔ اس منفی موقف کا نقصان جدید تہذیب کو تو نہیں پہنچا، البتہ امت جدید دور میں ایک پس ماندہ امت (backward community) بن کر رہ گئی۔
اب امت اپنے اس موقف کے آخری دور میں ہے۔ یہ دور مایوسی (frustration) کا دور ہے۔ چنانچہ مایوسانہ نفسیات کی بنا پر پوری امت یا تو شکایت اور احتجاج میں مبتلا ہے، یابے نتیجہ قسم کے گن کلچر اورخود کش بمباری (suicide bombing) میں۔
…مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:27)۔ قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مطلوب فتح (فتح مکہ) اُس وقت ایک بعید فتح کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اللہ نے اپنی رحمت خاص سے اصحابِ رسول کو ایک فتحِ قریب (near victory) عطا کردی-
یہ فتحِ قریب کیا تھی، اِس کا جواب خود قرآن کی اِس سورہ میں موجود ہے۔ اِس آیت کے الفاظ یہ ہیں: فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَةَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:18) یعنی پس اُس نے اُن پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو ایک قریبی فتح دے دی۔ یہاں فتحِ قریب سے مراد سکینہ ہے اور فتح بعید سے مراد فتحِ مکہ۔ فتحِ مکہ اگر خارجی فتح تھی تو سکینہ ایک داخلی فتح (internal victory)-
سکینہ کے لفظی معنی اطمینان(tranquillity) کے ہیں۔ یہاں سکینہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی اطمینان (peace of mind) کہاجاتا ہے۔ یہ سکینہ اللہ کی خصوصی مدد ہے، جو مشکل اوقات میں اہلِ ایمان کے اوپر نازل ہوتی ہے۔ مشکل اوقات حقیقتاً مشکل نہیں…
…یہ ہے کہ انتخابِ اول کو اختیار کرنے کی صورت میں اگر معیار حاصل ہوتا تھا، تو انتخابِ ثانی کی صورت میں امن اور استحکام (stability) حاصل ہوجاتا ہے- اجتماعی زندگی کے لیے یہی واحد عملی طریقہ ہے، اِس کے سوا کوئی اور طریقہ عملاً ممکن ہی نہیں-
یہی فطری اصول پیغمبر کی سنت بھی ہے- مثلاً ہجرتِ مدینہ کے وقت فرسٹ چوائس یہ تھا کہ مکہ میں تیرہ سال کی جدوجہد سے جو جزئی کامیابی ہوئی تھی، وہ مزید جدوجہد کے ذریعے مکمل کامیابی تک پہنچے- اور سکنڈ چوائس یہ تھا کہ مکہ چھوڑ دیا جائے، تاکہ ٹکراؤ سے بچ کر پُرامن ماحول میں اپنا مشن جاری رکھا جائے- اُس وقت پیغمبر نے اپنے لیے سکنڈ چوائس کو اختیار کرلیا-اِسی طرح حدیبیہ کے موقع پر فرسٹ چوائس یہ تھا کہ سفر کو جاری رکھتے ہوئے آپ مکہ پہنچیں اور عمرہ کریں- اور سکنڈ چوائس یہ تھا کہ وہ درمیان میں اپنےسفر کو ختم کرکے مدینہ واپس چلے جائیں- پیغمبر نے اُس وقت بھی سکنڈ چوائس کو لینے کا فیصلہ کیا-
یہی فطرت کا اصول ہے اور یہی پیغمبر کی سنت بھی- اِس دنیا میں کسی بھی میدان میں کامیابی اِسی اصول کو اختیار کرکے حاصل ہوسکتی ہے- یہی قدیم زمانے میں بھی ممکن تھا او ر یہی موجودہ زمانے میں بھی ممکن ہے- فرسٹ چوائس ہمیشہ آدمی کی ذاتی خواہش کے…
سائنس کا دور
قدیم بادشاہی نظام میں آزادانہ سوچ کا ماحول موجود نہ تھا- بادشاہ ہر نئی فکر کو کچل دیتے تھے- مثال کے طورپر رومن ایمپائر تقریباً دو ہزار سال تک قائم رہا- مگر اِس طویل مدت میں کوئی سائنسی دریافت نہ ہوسکی- موجودہ زمانے میں جمہوریت کا دور آیا تو انسان کو مکمل معنوں میں فکری آزادی حاصل ہوگئی- اب فطرت (nature) میں آزادانہ تحقیق کا عمل شروع ہوگیا- اِس کے نتیجے میں فطرت میں چھپے ہوئے قوانین دریافت ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ دور پیدا ہوگیا جس کو جدید سائنسی دور کہا جاتا ہے-
جدید سائنس کے دو پہلو ہیں — نظری سائنس (theoretical science)اور انطباقی سائنس (applied science)- نظری سائنس میں تحقیقات کے ذریعے عالم فطرت کے اُن مخفی قوانین کا ایک حصہ دریافت ہوا جس کو قرآن میں آیات اللہ (signs of God) کہا گیا ہے- اِن…
…قرآن میں کثرت سے اِس طرح کے حوالے پائے جاتے ہیں- ضرورت تھی کہ اُن کےمتعلق تاریخی اور سائنسی معلومات دریافت کی جائیں، تاکہ قرآن کے یہ بیانات انسان کے لیے پوری طرح قابلِ فہم ہوجائیں- یہ کام بھی پہلی بار مغربی علوم کے ذریعے انجام پایا ہے-
6- قدیم زمانے میں مذہبی جبر عام تھا- اِس بنا پر دعوتِ حق کا کام معتدل انداز میں نہیں ہوسکتا تھا- یہ صورتِ حال ایک سیاسی سبب کی بنا پر تھی- قدیم زمانے کے حکمراں اپنا حقِ حکمرانی (mandate) مذہب کی بنیاد پر حاصل کرتے تھے، اِس لیے وہ اِس کو برداشت نہیں کرتے تھے کہ اُن کے علاقے میں سلطنت کے مذہب کے سوا کوئی اور مذہب پایا جائے- مذکورہ آیت میں اظہارِ دین کا ایک پہلو یہ تھا کہ حقِ حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے جدا کردیا جائے- دورِ اول میں جو اسلامی انقلاب آیا، اُس نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا- یورپ کی جمہوریت اِسی عمل کی تکمیل ہے- مغربی جمہوریت نے یہ کیا کہ حقِ حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے الگ کرکے اس کو عوامی رائے سے وابستہ کردیا- اِس کے نتیجے کے طور پر دنیا میں پہلی بار مذہبی امن کا دور آگیا- اِس دور کی باقاعدہ تکمیل اقوامِ متحدہ کی صورت میں ہوئی- جس کے تحت مذہب کے معاملے میں تشدد کو بطور اصول ممنوع قرار دے دیا گیا- یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے گویا دورِ جدید میں حکمتِ حدیبیہ کی عالمی توسیع ہے جو اسلامی دعوت کے حق میں ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہے-
7- مغربی دنیا کے سیکولر اہلِ علم نے اسلام کا مطالعہ اپنے اصول کے مطابق، خالص موضوعی انداز میں کیا- اِس بنا پر وہ اسلام کے کئی ایسے پہلو کو دریافت کرسکے جو مسلم اہلِ علم سے اعتقادی مطالعے کی بنا پر مخفی تھے- مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ…
…اللّٰہُ نَــصْرًا عَزِیْزًا (48:1-3) یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی تاکہ اللہ تمھاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کردے اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے اور تم کو زبردست مدد عطا کرے-
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ الفتح دورانِ سفر اُس وقت اتری جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے بعد حدیبیہ سے مدینہ جارے تھے- اُس وقت جو واقعہ ہوا تھا، وہ صرف معاہدۂ امن تھا- جہاں تک فتح کی بات ہے، وہ ابھی مستقبل کی چیز بنی ہوئی تھی- پھر کیوں ایسا ہوا کہ ماضی کے صیغے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے تم کو فتح دے دی، کھلی ہوئی فتح- یہ اسلوب دراصل امن کی اہمیت بتانے کے لیے تھا- اس کا مطلب یہ تھا کہ جب حقیقی معنوں میں پرامن طریقہ (peaceful method) اختیار کیاجائے، تو اُس کے بعد موافق نتیجے کا نکلنا یقینی ہوجاتا ہے-اس کے بعد فرمایا کہ ’لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ ‘ اِس آیت میں ’ذنب‘ کا لفظ ہے- ’ذنب‘ کے لفظی معنی گناہ (sin) کے ہوتے ہیں- مگر یہاں ’دنب‘ کا لفظ اپنے معروف معنی کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ شدتِ اظہار کے لیے استعمال ہوا ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالی نے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر یک طرفہ امن کی طرف رہنمائی کی تو تمھارے اندر اِس کے درست ہونے پر شک کیوں پیدا ہوا-
جیسا کہ روایات میں آیا ہے، صحابہ نے اِس معاہدے پر برہمی کا اظہار کیا تھا- حضرت عمر فاروق نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ: لم نعطی الدنیة فی دیننا (ہم اپنے دین کے بارے میں ذلت کا طریقہ کیوں اختیار کریں)- اِسی طرح یہاں’ مغفرت‘ سے مراد معروف معنی…
4- مکہ میں تیرہ سالہ دعوتی جدوجہد کے ذریعے تمام صالح افراد کا اسلام میں داخل ہوجانا- اِنھیں منتخب افراد کو قرآن میں خیر امت (3:110)کہا گیا ہے-
5- ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ بدر کا پیش آنا اور اِس غزوہ میں فرشتوں کی مدد کے ذریعہ تمام سرکش افراد کا قتل کیا جانا-
6- ہجرت سے پانچ سال پہلے جنگِ بُعاث میں دو قبیلوں کے درمیان جنگ ہونا، اِس جنگ میں قبائلی سرداروں کا زور ٹوٹ جانا-
علمِ نباتات کی ایک اصطلاح ہے جس کو ٹرانسپلانٹیشن (transplantation) کہا جاتا ہے، یعنی پودے کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانا، تاکہ وہ بہتر نشو ونما پائے:
The act of removing a plant from one location and introducing it in another location.
یہی اصول انسانی زندگی کے لیے بھی ہے- انسانی گروہ کے لیے بھی کبھی یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کے عمل کے مقام کو بدلا جائے، تاکہ وہ زیادہ بہتر طورپر اپنا کام انجام دے سکے- اسلام میں ہجرت کا مقصد یہی ہے- اسلام کےمطابق، ہجرت سادہ طورپر صرف ترکِ…
…کیا جائے- مگر مخالف فریق نے جنگ اور ٹکراؤ کا جو ماحول بنا رکھا تھا، اس کی موجودگی کی بنا پر اِس پیدا شدہ موقع کو استعمال کرنا عملاً ناممکن ہوگیا تھا- اِس لیے اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت حکمت کے ساتھ ایک نیا منصوبہ بنایا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت مدینہ میں تھے- اللہ تعالی نے آپ کو خواب دکھایا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ جارہے ہیں- آپ نے یہ خواب اپنے اصحاب کو بتایا- اِس کو سن کر لوگ بہت خوش ہوئے- وہ عمرہ کے لیے مکہ جانے کی تیاری کرنے لگے- اِس کے مطابق، آپ یکم ذی القعدہ 6 ہجری کو عمرہ کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے- اُس وقت تقریباً 15 سو مہاجرین اور انصار آپ کے ساتھ تھے-اہلِ مکہ کو پیغمبر اسلام کے اِس سفر کی اطلاع ہوگئی- انھوںنے طے کیا کہ وہ کسی قیمت پر پیغمبر اسلام کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے- چناں چہ انھوں نے آگے بڑھ کر حدیبیہ کے مقام پر آپ کے قافلے کو روک دیا جو کہ مکہ سے 9 میل کے فاصلے پر واقع تھا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ میں پڑاؤ ڈال دیا- اِس کے بعد اہلِ مکہ کے نمائندے وہاں آنے لگے اور تقریباً دو ہفتے تک دونوں فریق کے درمیان گفت وشنید جاری رہی- اِس گفتگو کے دوران پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ…
…جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یقیناً وہ فتح ہے- اِسی طرح ایک اور صحابی نے کہا: ما ہذا بفتح- فقال: بل ہو أعظم الفتوح- (القرطبی 16/260) یعنی یہ تو کوئی فتح نہیں- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ فتح ہے، بلکہ سب سے بڑی فتح ہے-
معاہدہ حدیبیہ دراصل ایک تدبیر تھی- اُس نے عمل کے میدان کو بدل دیا- اِس سے پہلے اہلِ ایمان مجبور تھے کہ وہ ٹکراؤ اور جنگ کے میدان میں فریقِ ثانی سے مقابلہ کریں، لیکن اب اُن کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ اپنی پوری قوت کو یکسوئی کے ساتھ دعوت کے میدان میں استعمال کریں- میدانِ عمل کی یہ تبدیلی بے حد اہم تھی- اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ صرف دو سال کے محدود عرصے میں اسلام پورے جزیرہ عرب میں پھیل گیا-
اِس نتیجے کو دیکھتے ہوئے مشہور تابعی ابن شہاب الزہری (وفات: 124 ہجری) نے کہا تھا کہ: لقد کان الحدیبیة أعظم الفتوح(القرطبی، 16/261) یعنی حدیبیہ اسلام میں سب سے بڑی فتح تھی- مگر یہ سادہ طورپر صرف نتیجے کی بات نہیں، بلکہ وہ منصوبہ (planning)…
…وہ ایسا کرسکتے ہیں کہ وہ اس کے ری لوکیشن (re-location) پر راضی ہوجائیں، یعنی کسی دوسرے غیر نزاعی مقام پر اُسی شکل کی مسجد تعمیر کرنا۔ سابق مقام پر دوبارہ بابری مسجد کی تعمیر ایک ایسا غیر حقیقت پسندانہ تصور ہے جو کبھی واقعہ بننے والا نہیں۔
6 - اجودھیا کے متنازع مقام پر عدالتی فیصلہ آنے کے بعد عام طورپر مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ اِس فیصلے میں ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا عام ذہن ہے۔ ہر جگہ مسلمانوں کو دوسرے فریق سے یہی شکایت ہے۔ مگر یہ شکایت یقینی طورپر غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ شکایت صرف یہ بتاتی ہے کہ مسلمان معاملات کو صرف جذباتی اعتبار سے دیکھتے ہیں، نہ کہ عقل وفہم کے اعتبار سے۔ اسلام کا اصول یہ ہے کہ فرد اور اجتماع کے درمیان فرق کیا جائے۔ قرآن اور حدیث میں اِس بات کی سخت تاکید کی گئی ہے کہ فرد کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ انصاف کے راستے پر چلے، وہ اِس معاملے میں کسی چیز کو عذر (excuse) نہ بنائے۔ لیکن اجتماع کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ جب کسی اجتماعی معاملے میں دو فریقوں کے درمیان نزاع پیدا ہوجائے تو اُس وقت یہ ممکن نہیں ہوتا کہ خالص نظری بنیاد (theoretical reason) پر ایسا فیصلہ کیا جائے جو دونوں فریقوں کو منصفانہ فیصلہ نظر آئے۔ ایسے موقع پر صرف یہی ممکن ہوتا ہے کہ عملی تقاضے (practical reason) کو دیکھا جائے اور عملی طورپر جو ممکن ہو، اس کے مطابق، فیصلہ کردیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت سی ایسی مثالیں ہیں جو اِس اصول کی تصدیق کرتی ہیں۔ آپ نے اجتماعی نزاع کے معاملے میں ہمیشہ عملی بنیاد پر فیصلہ کیا، نہ کہ نظری انصاف کی بنیاد پر۔ اِس معاملے کی ایک نمایاں مثال صلح حدیبیہ ہے۔
7 - اگر نزاعی معاملے میں یہ صورت پیدا ہوجائے کہ اس میں تبدیلی ممکن نظر نہ آتی ہو، ایسی حالت میں عقل اور اسلام دونوں کا یہ تقاضا ہے کہ موجودہ صورت حال (status quo) کو مان کر مسئلے کو ختم کردیا جائے۔ کیوں کہ کوئی نزاعی معاملہ جب اِس نوبت…
…وہ ایسا کرسکتے ہیں کہ وہ اس کے ری لوکیشن (re-location) پر راضی ہوجائیں، یعنی کسی دوسرے غیر نزاعی مقام پر اُسی شکل کی مسجد تعمیر کرنا۔ سابق مقام پر دوبارہ بابری مسجد کی تعمیر ایک ایسا غیر حقیقت پسندانہ تصور ہے جو کبھی واقعہ بننے والا نہیں۔
6 - اجودھیا کے متنازع مقام پر عدالتی فیصلہ آنے کے بعد عام طورپر مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ اِس فیصلے میں ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا عام ذہن ہے۔ ہر جگہ مسلمانوں کو دوسرے فریق سے یہی شکایت ہے۔ مگر یہ شکایت یقینی طورپر غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ شکایت صرف یہ بتاتی ہے کہ مسلمان معاملات کو صرف جذباتی اعتبار سے دیکھتے ہیں، نہ کہ عقل وفہم کے اعتبار سے۔ اسلام کا اصول یہ ہے کہ فرد اور اجتماع کے درمیان فرق کیا جائے۔ قرآن اور حدیث میں اِس بات کی سخت تاکید کی گئی ہے کہ فرد کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ انصاف کے راستے پر چلے، وہ اِس معاملے میں کسی چیز کو عذر (excuse) نہ بنائے۔ لیکن اجتماع کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ جب کسی اجتماعی معاملے میں دو فریقوں کے درمیان نزاع پیدا ہوجائے تو اُس وقت یہ ممکن نہیں ہوتا کہ خالص نظری بنیاد (theoretical reason) پر ایسا فیصلہ کیا جائے جو دونوں فریقوں کو منصفانہ فیصلہ نظر آئے۔ ایسے موقع پر صرف یہی ممکن ہوتا ہے کہ عملی تقاضے (practical reason) کو دیکھا جائے اور عملی طورپر جو ممکن ہو، اس کے مطابق، فیصلہ کردیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت سی ایسی مثالیں ہیں جو اِس اصول کی تصدیق کرتی ہیں۔ آپ نے اجتماعی نزاع کے معاملے میں ہمیشہ عملی بنیاد پر فیصلہ کیا، نہ کہ نظری انصاف کی بنیاد پر۔ اِس معاملے کی ایک نمایاں مثال صلح حدیبیہ ہے۔
7 - اگر نزاعی معاملے میں یہ صورت پیدا ہوجائے کہ اس میں تبدیلی ممکن نظر نہ آتی ہو، ایسی حالت میں عقل اور اسلام دونوں کا یہ تقاضا ہے کہ موجودہ صورت حال (status quo) کو مان کر مسئلے کو ختم کردیا جائے۔ کیوں کہ کوئی نزاعی معاملہ جب اِس نوبت…
…صرف فتح (النصر:1 ) کا لفظ آیا ہے۔ دوسری طرف 6 ہجری میں مخالفین کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر ایک امن معاہدہ ہوا۔ اِس کے لیے قرآن میں فتحِ مبین (الفتح:1 ) کا لفظ آیا ہے۔ اِن دونوں کے درمیان تقابل (comparison)سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
سورہ النصر میں جس فتح کا ذکر ہے، وہ جدید اصطلاح کے مطابق، ایک سیاسی فتح تھی۔ اِس کے برعکس، سورہ الفتح میں جس واقعے کو فتحِ مبین کہاگیا ہے، وہ کوئی سیاسی فتح نہ تھی۔ اِس موقع پر جو واقعہ پیش آیا ، وہ صرف یہ تھا کہ فریقین کے درمیان حالتِ جنگ کو ختم کرکے حالت امن کو قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ گویا کہ یہ ایک جنگ بندی (cease fire) کا معاہدہ تھا، جو سیاسی حقوق کی دست برداری کے ذریعے حاصل کیا گیا۔
اِس سے واضح طور پر معلوم ہوتاہے کہ قرآن کے مطابق، امن کا قیام زیادہ بڑی چیز ہے۔ سیاسی فتح اگر صرف فتح ہے تو امن کا قیام فتحِ عظیم۔ دونوں کے درمیان یہ فرق کیوں ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ سیاسی فتح کسی کو صرف انتظامی بالادستی عطا کرتی ہے۔ اِس…
…کی مانگ کرنا، عملاً اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ جو ممکن ہے، وہ بھی نہ ملے، اور زیادہ تو ملنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ اِس دنیا میں ا جتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔
عام طور پر انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ متاثر ذہن (conditioned mind)سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتا ہے۔جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں پر امن تدبیر کے ذریعہ مسئلہ حل کرنا چاہیے، وہاں وہ تشدد کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ جہاں رد عمل (reaction) سے بچ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہیے، وہاں وہ ری ایکشن کا شکار ہوکر ایسا منصوبہ بناتا ہے، جو مسائل میں صرف اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے اس کا مطلوب آئڈیل کی بنیاد پر حاصل ہو۔اس بنا پر وہ ایسا کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو نتیجے کے اعتبار سے دیکھے۔ اس طرح مسئلہ کسی مزید دشواری کے بغیر بہ آسانی حل ہوجائے گا۔
اس دنیا میں اختلاف کے معاملے میںآپشن دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر (lesser evil)اور بڑے شر (greater evil)کے درمیان ہوتا ہے۔اسی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خیر الشرین کہا ہے(العقد الفرید، جلد2، صفحہ109-110)، یعنی عقل مند وہ…
The True Jihad
پروفیسر رام جی سنگھ حاضرین کے نزدیک اُن کے بڑے کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کے اِس اعتراف کے بعد لوگوں نے راقم الحروف کی کتابوں کے معاملے میںجس ذوق وشوق کا اظہار کیا، اُس میںایک بہت بڑا سبق موجود ہے۔ وہ یہ کہ کسی قوم کے بڑوں کا اعتراف اُس کے چھوٹوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے، اور ان کے بڑوں کی بے اعترافی ان کے چھوٹوں کے لیے بھٹکاؤ کا ذریعہ۔ قرآن کے مطابق، سچائی کے معاملے میں بڑوں کی خاموشی اُنھیں دہرے عذاب (الأحزاب: 68 ) تک پہنچانے والی ہے، وہ ہر گز اُنھیں نجات دلانے والی نہیں۔
اِس جلسے میںمراری باپو بھی موجود تھے۔ وہ حاضرین کے ساتھ فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میری تقریر سے پہلے اپنے طریقے کے مطابق، انھوں نے مجھ کو ہاتھ کے ذریعہ کتے ہوئے سوت کی مالا اور دستی طورپر بنی ہوئی سوتی چادر اڑھائی۔ مگر انھوںنے ایسا نہیں کیا…
…کی مانگ کرنا، عملاً اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ جو ممکن ہے، وہ بھی نہ ملے، اور زیادہ تو ملنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ اِس دنیا میں ا جتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔
عام طور پر انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ متاثر ذہن (conditioned mind)سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتا ہے۔جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں پر امن تدبیر کے ذریعہ مسئلہ حل کرنا چاہیے، وہاں وہ تشدد کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ جہاں رد عمل (reaction) سے بچ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہیے، وہاں وہ ری ایکشن کا شکار ہوکر ایسا منصوبہ بناتا ہے، جو مسائل میں صرف اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے اس کا مطلوب آئڈیل کی بنیاد پر حاصل ہو۔اس بنا پر وہ ایسا کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو نتیجے کے اعتبار سے دیکھے۔ اس طرح مسئلہ کسی مزید دشواری کے بغیر بہ آسانی حل ہوجائے گا۔
اس دنیا میں اختلاف کے معاملے میںآپشن دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر (lesser evil)اور بڑے شر (greater evil)کے درمیان ہوتا ہے۔اسی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خیر الشرین کہا ہے(العقد الفرید، جلد2، صفحہ109-110)، یعنی عقل مند وہ…
…کا مطالعہ غیر متعصبانہ انداز میں کرسکتے ہیں اور اس مطالعے سے وہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں جس کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیاگیا ہے: الحکمۃ ضالۃ المؤمن حیث وجدھا فہو أحق بہا (حکمت مومن کا گُم شدہ مال ہے، وہ جہاں اس کو پائے وہ اُسی کا ہے)۔
مثال کے طورپر میں کہوں گا کہ آپ اپنے والد کو عزت کا اعلیٰ مقام دیتے ہوئے دوسرے انسانوں کو بھی قابلِ احترام سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے اپنے والد کے حق میں آپ کا اعلیٰ جذبہ کسی بھی طورپر متاثر نہیںہوگا۔ اسی طرح ایک مومن دین اسلام کو واحد مستند دین مانتے ہوئے دوسرے مذاہب کا نہ صرف احترام کرسکتا ہے بلکہ اُن کے مطالعے کووہ اپنے ذہنی ارتقاء میںمددگار بنا سکتا ہے۔
مذاہب کا تقابلی مطالعہ (comparative study) ایک مقبول موضوع ہے۔ مگر میرے علم کے مطابق، یہ مطالعہ زیادہ صحت مند انداز میں نہیں کیا جاتا۔ مثلاً عیسائی اور یہودی علماء اپنے تقابلی مطالعے میںزیادہ تر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام کوئی…
…پر زیر بحث امر کا تجزیہ کرنا۔اس کے برعکس تعییب یہ ہے کہ آدمی زیر بحث مسئلہ پر دلائل پیش نہ کرے۔ وہ صرف اس میں عیب نکالے وہ اس پر الزام لگا کر اس کو مطعون کرے۔ تنقید کا طریقہ سراسر جائز طریقہ ہے، مگر تعییب کا طریقہ سراسر ناجائز طریقہ۔
جو لوگ کسی کی مخالفت میں یہ کریں کہ وہ دلیل کے طریقہ کو چھوڑ کر عیب جوئی اور کردار کُشی کا طریقہ اختیار کریں، وہ اپنے مفروضہ حریف کو بدنام کرنے کی مہم چلائیں، ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ قرآن کے مطابق، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے یہاں اہلِ کفر کی روش اختیار کرنے والے قرار پائیں۔
متعصبانہ ضد
برادرِ محترم عبد السلام اکبانی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
30 مارچ 2007 کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ اُس کے بعد آپ کو یہ خط لکھ رہاہوں۔ 6 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان معاہدۂ حدیبیہ پیش آیا۔ اِس پر قرآن کی سورہ نمبر 48 میں یہ آیت اُتری: إنا فتحنا لک فتحاً مبیناً (الفتح : 1)۔ اِس آیت میں ’فتح‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں فَتَحَ کے معنٰی ہیںکھولنا (to open) ۔ لسان العرب میں بتایا گیا ہے کہ : الفتح نقیض الإغلاق۔ یعنی ’فتح‘ بند کرنے کا اُلٹا ہے۔ عربی میں کہاجاتا ہے کہ : فتح القناۃَ، فجّرہا لیجری فیہا الماء۔یعنی پانی بہنے کے لیے نالی نکالنا۔
حدیبیہ کے موقع پر وہ کون سی بات ہوئی جس کو یہاں فتح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حالاں کہ روایات میں آتا ہے کہ اِس سفر میں شریک ہونے والے جب حدیبیہ سے لوٹ کر مدینہ پہنچے تو یہاں کے لوگوں نے اُن سے کہا: ماہٰذا بفتحٍ( یہ تو کوئی فتح نہیں) سورہ…
…کے کسی دور میں یہ واضح نہ ہوسکا کہ یہ کون لوگ ہوں گے اور مستقبل میںان کا رول کیا ہوگا۔اسلامی تاریخ میںجس طرح، امکانی طورپر، یہ لفظ پہلی بار ایک گروپ پر منطبق ہورہا ہے اُسی طرح یہ بھی پہلی بارواضح ہورہا ہے کہ اخوانِ رسول کا رول کیا ہوگا۔
اِس حدیث سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مابعد سائنس دَور(post scientific era) میںدعوت الی اللہ کا پیغمبرانہ رول ادا کرنا ابھی باقی ہے، یعنی آج کی زبان میں خدائی سچائی کو اُس کی خالص اور بے آمیز صورت میں انسانوں کے سامنے پیش کرنا۔
سی پی ایس انٹرنیشنل اور الرسالہ مشن کی دعوتی ٹیم ’اخوانِ رسول‘ کے اِس ٹائٹل کے لیے امکانی امیداوار(potential canditates) گروپ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ میں سے ہر عورت اور مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِس امکان کو واقعہ بنائے۔
…نظام کے مطابق، کسی گروہ کے لیے کوئی ایسا وقت نہیں آسکتا جب کہ اس کے درمیان قائدانہ اوصاف والی شخصیت موجود نہ ہو۔ مگر کوئی حقیقی قائد اپنا قائدانہ رول صرف اس وقت ادا کرسکتا ہے جب کہ اس کی قوم اس کو اپنا قائد مانے اور اس کی اطاعت کرے۔
اس معاملہ میں سب سے زیادہ نازک (crucial) با ت یہ ہے کہ حقیقی قائد کو اکثر کوئی غیر مقبول فیصلہ (unpopular decision) لینا پڑتا ہے۔ یعنی ایک ایسا فیصلہ جو عوامی مزاج کے مطابق نہ ہو۔ مگر صورت حال کے مطابق اس فیصلہ سے قوم کا نیا مستقبل بننے والا ہو۔ یہ صورت حال مذہبی قائد کے ساتھ بھی پیش آتی ہے اور غیر مذہبی قائد کے ساتھ بھی۔
مذہبی اعتبار سے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر فریقِ ثانی سے یَک طرفہ صلح کا معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ آپ کے ساتھیوں کے لیے سخت ناگوار تھا۔ حتیٰ کہ عمر فاروق نے اس کو دنیئہ (ذلیل) معاہدہ قرار…
…شاعری کا عام رواج تھا۔ اکثر صحابہ اسلام سے پہلے شاعری کیا کرتے تھے مگر اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی شاعری چھوٹ گئی۔ عرب شاعر لبید نے جب اسلام قبول کیا تو انہوں نے بھی شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا أبعد القرآن۔
أصل یہ ہے کہ تحریر کے دو الگ الگ مقصد ہیں۔ ایک ہے ،تفریح کا مواد فراہم کرنااور دوسرا ہے، انسان کے اندر فکری انقلاب لانا۔ افسانہ یا شاعری فنون لطیفہ کی چیز یں ہیں۔ وہ انسان کو صرف سستی تفریح فراہم کرسکتی ہیں۔ مگر اسلام کا مقصد یہ ہے کہ انسان کا طرز فکر بدلے، وہ ربانی انداز میں سوچنے لگے۔ یہ دوسرا مقصد صرف سنجیدہ نص کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے۔
بمبئی کے ایک روزنامہ میں آپ کے خلاف ایک مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون کا عنوان یہ ہے: مولانا وحیدالدین صاحب، صلح حدیبیہ سے پہلے بیعت رضوان بھی ہے۔مضمون میں بتایا گیا ہے کہ مولانا وحیدالدین صاحب مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کی نصیحت کرتے ہیں۔ وہ بھول…
…ایک حقیقت ہے کہ ہر شخص اپنے ذاتی معاملہ میں یہی کرتا ہے کہ اس طرح کے موقع پر وہ جان ومال کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے قانونی یا منطقی بے انصافی کو برداشت کرلیتا ہے۔ پھر اس عمومی مسلک کو اجودھیا کے معاملہ میں بھی کیوں نہ اختیار کر لیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو صلح حدیبیہ کی گئی وہ اس معاملہ میں ایک رہنما مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ معاہدہ فریقِ ثانی کی جن یک طرفہ شرطوں پر ہوا وہ واضح طورپر ایک ناانصافی کا معاملہ تھا۔ مگر آپ نے اس ناانصافی کو چھوٹی برائی (lesser evil) سمجھ کر قبول فرمالیا۔ کیونکہ اگر آپ اُس وقت اس بظاہر نا انصافی کو قبول نہ فرماتے اور نظری انصاف پر اصرار کرتے تو قتل وخون کی نوبت آتی جو یقینا زیادہ بڑی برائی (greater evil) کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ ایک سنت رسول ہے جووقتی نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس سنت میں اگلے زمانہ کے تمام مسلمانوں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔
اس سلسلہ میں یہ اندیشہ ایک بے بنیاد اندیشہ ہے کہ اگر ایک مسجد کے معاملہ میں سمجھوتہ کر لیا گیا تو بقیہ مسجدوں کے معاملہ میں بھی اسی قسم کے سمجھوتے کا دروازہ کھل جائے گا۔ قرآن اس قسم کے اندیشہ کو بے بنیاد بتاتا ہے (الأنفال ۶۲)ملک کے…
…مواقع یکسر ختم ہوجاتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں امن سے کام کے تمام مواقع کھلتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے یہ فارمولا دیا کہ یکطرفہ تحمل کے ذریعہ جنگ سے اوائڈ کرو اور امن کی حالت میں پیدا ہونے والے مواقع کو اپنی تعمیر اور استحکام کے لیے استعمال کرو۔
پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اسی اعلیٰ حکمت کی مثال ہے۔ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں کعبہ (بیت اللہ) میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر اسلام نے بت کے سوال پر عملی ٹکراؤ سے بچتے ہوئے پرامن انداز میں دعوت توحید کا کام شروع کردیا۔ مکہ کے آخری زمانہ میں جب کہ وہاں کے سردار آپ کو قتل کرنے کے درپے ہوگئے تب بھی آپ نے اُن سے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور وہاں اپنا دعوتی مرکز قائم کیا۔ ہجرت کے بعد قریشِ مکہ نے آپ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی مگر آپ نے حسن تدبیر کے ذریعہ اُن سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ کرلیا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔اس صلح نے آپ کو اپنے دعوتی کام کے لیے وسیع مواقع دے دیے۔
پیغمبر اسلام نے اس طرح امن کو ایک مستقل پالیسی کی حیثیت دے دی۔ اس حکیمانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ۲۳ سال میں پورے عرب میں اسلامی انقلاب آگیا۔ یہ انقلاب اتنا زیادہ پرامن تھا کہ اس کو بجا طور پر غیر خونی انقلاب (bloodless revolution)…
…پرورش ہونے لگے۔ اس لیے جب بھی ایسا کوئی موقع پیش آتا ہے تو مومن کہہ اُٹھتا ہے کہ میںاس قسم کی منفی سوچ کا تحمل نہیں کرسکتا۔ یہاںاس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے رسو ل اور اصحاب رسول کی زندگی سے حسن اعراض کی کچھ عملی مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
۱۔ ابن اسحق کی روایت ہے کہ مکہ کے قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتے تھے اور سبّ وشتم کرتے تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذمّم رکھ دیا تھا۔ محمد کا مطلب ہے، تعریف کیا ہوا۔اس کے بجائے وہ آپ کو مذمّم (مذمت کیا ہوا) کہتے تھے۔ روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: ألا تعجبون لما صرف اللہ عنی من اذی قریش، یسبون ویہجون مذمما وأنا محمد۔ (سیرت ابن ہشام جلد ۱، صفحہ ۳۷۹) یعنی کیا تم کو تعجب نہیں کہ اللہ نے مجھے قریش کی اذیت سے کس طرح بچا لیا، وہ سبّ وشتم کرتے ہیںاور مذمم کہہ کر ہجو کرتے ہیں، حالاں کہ میں محمد ہوں۔
پیغمبر اسلام کے اس قول کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ مثلاً قریش اگر یہ کہیں کہ ’’مذمّم مجنون ہے‘‘ تو رسول اللہ اس کا بُرا اثر نہ لیتے ہوئے یہ کہہ دیں گے کہ تمہاری یہ بات اُس کے اوپر پڑے گی جس کا نام مذمّم ہو،میرا نام تو محمد ہے۔ یہ حسن…
…اُس میں صلہ رحمی کو ملحوظ رکھا گیا ہو ، میں ضرور اُس پر راضی ہوجاؤں گا (سیرت ابن ہشام ،الجزء ۳، صفحہ ۳۵۸) دشمن کی یک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت ناگوار معاملہ تھا۔ مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس ناگوارکو ایک گوارا معاملہ بنا لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہجر جمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔قدیم عربوں کے نزدیک صلہ رحمی بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی۔ اور قطع رحمی کو وہ بہت بُرا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو۔ باعتبار حقیقت رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں ہر قیمت پر قریش سے صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طورپر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو ۔ حالاںکہ پیشگی طورپر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔
۳۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میںایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن اُبیّ تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ…
…کاایک ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا ہے تواب صرف پر امن طریق کار ہی کا انتخاب کیا جائے گا۔ کیوں کہ وقت کے مسلّمہ اصول کے مطابق، پر تشدد طریق کار کو اختیار کرنے میں تو یقینًا رکاوٹیں ہیں مگر پر امن طریق کار کو اختیار کرنے میںکوئی رکاوٹ نہیں۔
یہاں یہ اضافہ کرنا مناسب ہوگا کہ پیغمبر اسلام کے زمانہ میں محدود نوعیت کی جو چند لڑائیاں پیش آئیں ان میں دراصل زمانی عامل (age-factor) کام کررہا تھا۔ یہ لڑائیاں ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ہوئیں۔ یہ زمانہ مذہبی جبر اور مذہبی ایذا رسانی (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں موجودہ قسم کا مذہبی ٹالرنس نہیں پایا جاتا تھا۔ اس بنا پر توحید کے مخالفوں نے پیغمبراسلام کے خلاف جارحانہ کارروائی کرکے آپ کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی ہر فرد اور ہر گروہ کا ایک مسلّم حق بن چکی ہے ۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں مذہبی حقوق کے لئے جنگ کا کوئی سوال نہیں۔
اسلام میں امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر ناخوش گوار صورت حال کو برداشت کرتے ہوئے حالت امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔ فریقِ مخالف کی ایذا رسانی پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا اور اس کو ہر قیمت پر یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ باقی…
…حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان ایک امن معاہدہ تھا۔ گفت وشنید کے دوران پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ فریقِ ثانی اپنی ضد کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔ چنانچہ آپ نے فریقِ مخالف کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر ان سے امن کامعاہدہ کر لیا۔
اس معاہدہ کا مقصد یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ کو ختم کیا جائے اور نارمل فضا کو قائم کیا جائے تا کہ معتدل حالات میں دعوت و تعمیر کا وہ کام کیا جاسکے جو اصلاً اسلامی مشن کا مقصود تھا۔ چنانچہ حدیبیہ کا معاہدہ ہوتے ہی حالات معمول پر آگئے اور اسلام کی تمام تعمیری سرگرمیاں پوری طاقت کے ساتھ جاری ہوگئیں جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ اسلام پورے علاقہ میں پھیل گیا۔
یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق، جنگ صرف باقاعدہ طورپر قائم شدہ حکومت کا کام ہے، وہ غیرحکومتی افراد یااداروں کا کام نہیں۔ غیر حکومتی ادارے اگر کسی اصلاح کی ضرورت محسوس کریں تو وہ صرف امن کے دائرے میں رہ کر اپنی…
…کو محسوس کرنے سے عاری ہوتا ہے اور جوئے باز کے لیے دوسرا آدمی صرف استحصال کا موضوع ہوتا ہے۔ ان خصوصیات کے لوگ جس معاشرہ میں جمع ہوجائیں وہاں آپس کی بے اعتمادی، ایک دوسرے سے شکايات، باہمی ٹکراؤ اور دشمنی کے سوا اور کیا چیز پرورش پائے گی۔
حج یا عمرہ کے لیے یہ قاعدہ ہے کہ کعبہ پہنچنے سے پہلے مقررہ مقامات سے احرام باندھ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کعبہ تک کے سفر میں جانور یا چڑیاں سامنے آتی ہیں جن کو بآسانی شکار کیا جاسکتا ہو۔ مگر ایسے شکار کو حرام قرار دیاگیا ہے۔ آدمی خواہ خود شکار کرے یا کسی دوسرے کو شكار کرنے میں مدد دے، دونوں چیزیں احرام کی حالت میں ناجائز ہیں۔ روایات کے مطابق یہ آیت حدیبیہ کے سفر میں اتری جب کہ مسلمانوں نے عمرہ کے ارادہ سے احرام باندھ رکھا تھا۔ اس وقت چڑیاں اور جانور کثیر تعداد میں اتنے قریب پھر رہے تھے کہ بآسانی انھیں تیر یا نیزے سے مارا جاسکتا تھا۔ مسلمان اس وقت اپنی عادت اور ضرورت کے تحت چاہتے بھی تھے کہ ان کا شکار کریں۔ مگر حکم اترتے ہی ہر ایک نے اپنا ہاتھ روک لیا — یہ حکم جو احرام کی حالت میںجانوروں کے بارے میں دیاگیا ہے وہی روز مرہ کی زندگی میں عام انسانوں کے ساتھ مطلوب ہے۔
اس حکم کا اصل مقصد یہ ہے کہ ’’اللہ جان لے کہ کون ہے جو اللہ کو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے‘‘۔ دنیا میں انسان کو رکھ کر خدا اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ اب وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگوں میں کون اتنا حقیقت شناس ہے کہ بظاہر خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کو اس کی تمام طاقتوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کون اتنا غافل ہے کہ خدا کو اپنے سامنے نہ پاکر بے خوف ہوجاتا ہے اور مَن مانی کارروائیاں کرنے لگتا ہے۔ اس کا تجربہ حج کے سفر میں چند دن اور انسانی تعلقات میں روزانہ ہوتا ہے۔ ایک آدمی کسی کی زد میں اس طرح آتا ہے کہ اس کے لیے بالکل ممكن ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی جان پر حملہ کرے۔ وہ اس کو مالی نقصان پہنچائے۔ وہ اس کے بارے میں ایسی بات کہے جس سے اس کی رسوائی ہوتی ہو۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس طرح قابو پانے کے باوجود خدا کے ڈر سے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کواس کے معاملہ میں روک لیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو کسی پر قابو پاتے ہی اس کو ذلیل کرتاہے اور اس کو اپنی طاقت کا نشانہ بناتا ہے۔ ان میں سے پہلے شخص نے یہ ثابت کیا کہ وہ دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے اور دوسرے نے اپنے بارے میں برعکس حالت کا ثبوت دیا۔ پہلے کے لیے خدا کے یہاں بے حساب انعامات ہیں اور دوسرے کے لیے دردناک عذاب۔
حج یا عمرہ کے لیے یہ قاعدہ ہے کہ کعبہ پہنچنے سے پہلے مقررہ مقامات سے احرام باندھ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کعبہ تک کے سفر میں جانور یا چڑیاں سامنے آتی ہیں جن کو بآسانی شکار کیا جاسکتا ہو۔ مگر ایسے شکار کو حرام قرار دیاگیا ہے۔ آدمی خواہ خود…
…اس نے دوبارہ
586
ق م میں اپنی پوری طاقت سے فلسطین پر حملہ کیا۔ یہود کو مکمل شکست ہوئی۔ شاہ بابل نے نہ صرف یہود کو زبردست دنیوی نقصانات پہنچائے بلکہ یروشلم میں یہود کے عبادت خانہ کو مکمل طور پر ڈھا دیا جو یہود کی عظمت کا آخری نشان تھا۔
لوگ خدا کے داعی سے اکثر اپنے تجویز کردہ معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ اگر وہ کھلے ذہن کے ساتھ دیکھیں تو داعی کی خصوصی نصرت کی شکل میں وہ معجزہ انھیں دکھایا جاچکا ہوتاہے، جس کو وہ داعي کی صداقت کو جانچنے کے لیے دیکھنا چاہتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین آپ سے حسی معجزات مانگ رہے تھے۔ فرمایا کہ کیا یہ معجزہ تمھاری آنکھ کھولنے کے لیے کافی نہیں کہ دعوت کے ابتدائی دور میں جب اس کی بظاہر کوئی طاقت نہیں تھی، یہ اعلان کیاگیا کہ خدا تمھیں گھیرے میں لیے ہوئے ہے (وَاللَّهُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُحِيطٌ)۔ یہ پیشین گوئی قبائلِ عرب میں اسلام کی توسیع سے پوری ہوگئی۔ پھر اس کی تکمیل بدر کی فتح اور صلح حدیبیہ کے بعد مکہ کی فتح کی صورت میں ہوئی۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی صبح کو جب یہ اعلان کیا کہ آج رات میںبیت الحرام سے بیت المقدس تک گیا تو لوگوں کو یقین نہیں آیا۔ اس کے بعد ایسے افراد بلائے گئے جو بیت المقدس کو دیکھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے آپ نے بیت المقدس کی عمارت کی پوری تفصیل بیان کردی۔
مگر ان واقعات کو لوگوں نے مذاق میں ٹال دیا حالاں کہ وہ آپ کی صداقت کا معجزاتی ثبوت تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ حسی معجزہ دکھانے کا نہیں ہے بلکہ دعوت پر سنجیدہ غور وفکر کا ہے۔ اگر لوگ دعوت کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ہرچیز کو مذاق اور استہزاء کی نذر کردیں گے۔ خواہ وہ بات بذات خود کتنی ہی قابل لحاظ کیوں نہ ہو۔
قرآن میں جب ڈرایا گیا کہ جہنم میں زقوم کا کھانا ہوگا (الصافات،
37:62
) تو روایات میں آتا ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ ہمارے لیے کھجور اور مکھن لے آؤ جب وہ لایا گیا تو وہ دونوں کو ملا کر کھانے لگا اور کہا تم لوگ بھی کھاؤ یہی زقوم ہے (قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَاتُوا لَنَا تَمْرًا وَزُبْدًا، وَجَعَلَ يَأْكُلُ هَذَا بِهَذَا وَيَقُولُ تَزَقَّموا، فَلَا نَعْلَمُ الزَّقُّومَ غَيْرَ هَذَا( تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ
92
۔
اسی طرح قرآن میں شجرۂ ملعونہ (بنی اسرائیل،
17:60
) کا ذکر ہےجو جہنمیوںکا کھانا ہوگا۔ جب قرآن میں یہ آیت اتری تو قریش کے ایک سردار نے کہا ابو کبشہ کے لڑکے کو دیکھو۔ وہ ہم سے ایسی آگ کا وعدہ کرتاہے جو پتھر تک کو جلا دے گی۔ پھر اس کا گمان ہے کہ اس کے اندر ایک درخت اگتا ہے حا لانکہ معلوم ہے کہ آگ جلانے والی چیز ہے (إِنَّ ابْنَ أَبِي كَبْشَةَ يُوعِدُكُمْ بِنَارٍ تُحْرِقُ الْحِجَارَةَ ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّهُ يَنْبُتُ فِيهَا شَجَرَةٌ، وَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّارَ تُحْرِقُ الشَّجَرَةَ) تفسیر البغوی، جلد5، صفحہ
103
۔
فرشتے اور ابلیس کا قصہ بتاتاہے کہ ماننے والے کیسے ہوتے ہیں اور نہ ماننے والے کیسے۔ ماننے والے لوگ حق کو حق کے لحاظ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اس کو سمجھنے میں انھیں دیر نہیں لگتی۔ وہ فوراً اس کو سمجھ کر اسے مان لیتے ہیں۔ جیسا کہ آدم کی پیدائش…
…بن کر گھیرے ہوئے ہیں۔ اور صرف اتنی سی دیر ہے کہ موت آئے اور اس کو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں ڈال دے۔
انسان کی بہت سی سرکشی صرف اپنی حقیقت سے بے خبری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر اس کی یہ بے خبری ختم ہوجائے تو اچانک وہ بالکل دوسرا انسان بن جائے۔
ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں آنا۔
ان آیات میں مکہ کے اہل ایمان سے کہاگیا کہ مکہ کے لوگ اگر تم کو ستاتے ہیں تو تم مکہ کوچھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلے جاؤ اور وہاں اللہ کی عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر اور توکل کا مطلب عبادت پر جمنا ہے، نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا۔ اگر ہر حال میں دشمن سے ٹکراتے رہنا مقصود ہوتا تو ان سے کہا جاتا کہ مخالفین سے لڑتے رہو اور وہاں سے کسی حال میں قدم باہر نہ نکالو۔
ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں…
6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔
یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔
اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے…
…دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔
صلح حدیبیہ سے پہلے یہود مسلمانوں کی دشمنی میں بہت جری تھے۔ کیوں کہ اس سے پہلے انہیں اس معاملہ میں قریش کا پورا تعاون حاصل تھا۔ حدیبیہ میں قریش سے نا جنگ معاہدہ نے یہود کو قریش سے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ اکیلے رہ گئے۔ اس سے خیبر، تیما، فدک وغیرہ کے یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ چنانچہ صلح کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی تو وہاں کے یہود نے لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے اور ان کے کثیر اموال مسلمانوں کو غنیمت میں ملے۔
کمزور ایمان کے لوگ جو حدیبیہ کے سفر کو پر خطر سمجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے، اب انہوں نے چاہا کے وہ یہودیوں کے خلاف کارروائی میں شریک ہوں اور مال غنیمت میں اپنا حصہ حاصل کریں۔ مگر ان کو ساتھ جانے سے روک دیا گیا۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ جو خطرہ مول لے وہ نفع حاصل کرے۔ آدمی جب خطرہ مول لیے بغیر حاصل کرنا چاہے تو گویا وہ قانون الٰہی کو بدل دینا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا میں خدا کے قانون کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔
جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے…
…قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔
یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے…
…رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔
یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے…
…قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔
پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔
مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔
پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے…
…ضد اور اور قومی عصبیت کا زبردست مظاہرہ کیا۔ مگر صحابہ ہر چیز کو خدا کے خانہ میں ڈالتے چلے گئے۔ ان کے متقیانہ مزاج نے ان کو اس سخت امتحان میں جوابی ضد اور جوابی عصبیت سے بچایا۔ وہ مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود آخر وقت تک مشتعل نہیں ہوئے۔
حدیبیہ کا سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خواب پر ہوا تھا۔ آپ نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ مکہ پہنچ کر عمرہ ادا فرما رہے ہیں۔ اس خواب کو لوگوں نے خدا کی بشارت سمجھا اور مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر حدیبیہ میں قریش نے روکا اور بالآخر عمرہ ادا کیے بغیر لوگوں کو واپس آنا پڑا۔ اس سے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ کیا پیغمبر کا خواب سچا نہ تھا۔ مگر یہ محض شبہ تھا۔ کیونکہ خواب میں یہ صراحت نہ تھی کہ عمرہ اسی سال ہوگا۔ چنانچہ خود معاہدہ کی شرائط کے مطابق اگلے سال ذوالقعدہ 7 ھ میں یہ عمرہ پورے امن و امان کے ساتھ ادا کیا گیا۔ اس عمرہ کو اسلامی تاریخ میں عمرۃ القضاء کہا جاتا ہے۔
اس سال عمرہ کا التوا ایک عظیم مصلحت کی قیمت پر ہوا تھا۔ یہ مصلحت کہ اس کے ذریعہ قریش سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ طے پایا اور نتیجۃً دعوت کے کام کے لیے موافق فضا پیدا ہوئی۔ یہ خود ایک فتح تھی۔ کیوں کہ اس کے ذریعہ سے علم بردارانِ شرک کے اوپر آخری اور کلی فتح کا دروازہ کھلا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حیثیتیں تھیں۔ ایک یہ کہ آپ پیغمبر تھے اور دوسرے یہ کہ آپ پیغمبر آخر الزماں تھے۔ آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں۔ پہلی حیثیت کے اعتبار سے آپ کو بھی وہی کام کرنا تھا جو تمام پیغمبروں نے کیا،…
…مکہ سے شروع ہوگی۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور درخت بن جائے گی۔ یہاں تک کہ اس کا استحکام اس درجہ کو پہنچ جائے گا کہ اہل حق اس کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور اہل باطل غصه و حسد میں مبتلا ہوں گے کہ وہ چاہنے کے باوجود اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔
6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔
یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔
اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔
یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان…
…اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔
یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔
خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔
یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کی طرف اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ نے اس کا پورا منصوبہ نہایت خاموشی کے ساتھ بنایا تاکہ مکہ والے مقابلہ کی تیاری نہ کرسکیں۔ اس وقت ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اس منصوبہ کو ایک خط میں لکھا اور اس کو خفیہ طور پر مکہ والوں کے نام روانہ کردیا۔ تاکہ مکہ والے ان سے خوش ہوجائیں اور ان کے اہل وعیال کو نہ ستائیں جو مکہ میں مقیم ہیں۔ مگر وحی کے ذریعہ آپ كو اس کی اطلاع ہوگئی اور قاصد کو راستہ ہی میں پکڑ لیا گیا۔ اس قسم کا ہر فعل ایمانی تقاضے کے خلاف ہے۔
جب یہ صورت حال ہو کہ اسلام اور غیر اسلام کے الگ الگ محاذ بن جائیں تو اس وقت اہل اسلام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ غیر اسلامی محاذ سے دل چسپی کا تعلق توڑ لیں۔ خواہ غیر اسلامی محاذ میں ان کے عزیز اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ حق کو ماننا اور حق کا انکار کرنے والوں سے قلبی تعلق رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔
یہاں صلح حدیبیہ کے بعد پیدا شدہ حالات کی روشنی میں اسلام کے بعض ان قوانین کو بتایا گیا ہے جن کا تعلق مسلمان اور غير مسلموں کے درمیان پیش آنے والے عائلی مسائل سے ہے۔
صراط مستقیم
قرآن کی سورہ نمبر48 معاہدہ حدیبیہ کے فوراً بعد اتری۔ اس سورہ کا نام الفتح ہے اور اس کی ابتدائی تین آیتیں یہ ہیں
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا۔ لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا۔(48:1-2)یعنی، بےشک ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی۔ تاکہ اللہ…
…کرنا چاہیے، خواہ اس کے حصول کے لیے کتنا ہی بڑا خطرہ مول لینا پڑے۔ علم وہ طاقت ہے جو بالآخر آدمی کو ہر چیز دے دیتا ہے، حتیٰ کہ وہ چیز بھی اس کو مزید اضافے کے ساتھ مل جاتی ہے جس کو ابتداءً علم کو حاصل کرنے کی راہ میں اسے کھونا پڑا تھا۔
اس سلسلے کی دوسری مثال وہ ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آپ کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ آپ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزید اصرار کے بغیر وہیں رک گئے۔
اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کی بات شروع ہوئی۔ اس گفتگو میں اہل مکہ نے بے حد سرکشی دکھائی۔ انہوں نے معاہدہ کے لیے ایسی شرطیں پیش کیں جو یک طرفہ طور پر ان کے حق میں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ان نازیبا شرطوں کو…
یعنی سب کو ایک پیمانہ سے دو۔ ایسا نہ کرو کہ کسی کو اچھے الفاظ کے ساتھ خطاب کرو اور کسی کو برے الفاظ کے ساتھ۔ انسان اور انسان کے درمیان امتیاز نہ کرو۔ پھر آپ نے فرمایا
ليس لابن البيضاء على ابن السوداء فضل (کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں)۔
ابو ذر غفاری کو اس تنبیہ کے بعد فی الفور اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ شدت خوف سے زمین پر لیٹ گئے اور اس شخص سے کہا
…کل تک اس نے چند اشرفیوں کے لیے آپ کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ مگر آپ کے اعلیٰ کر دار نے اس پر اتنا اثر کیا کہ اس نے اپنی ساری دولت آپ کی خدمت میں پیش کردی اور کہا کہ آپ اس کو جس طرح چاہیں خرچ کریں (دلائل النبوة للبيهقي، جلد6، صفحہ280-81)۔
عبداللہ بن ابی الحسماءبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار میں نے خرید و فروخت کا ایک معاملہ کیا۔ ابھی معاملہ پورا نہیں ہو ا تھا کہ مجھے کچھ ضرورت پیش آگئی۔ میں نے کہا کہ آپ ٹھہریے۔ میں گھر سے واپس آتاہوں تو بقیہ معاملہ کو مکمل کروں گا۔ گھر پہنچنے کے بعد میں بعض کاموں میں ایسا مشغول ہوا کہ اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین دن کے بعد یاد آیا تو میں اس مقام پر پہنچا۔ دیکھا کہ وہاں رسول اللہ موجود ہیں۔ آپ نے مجھ کو دیکھنے کے بعد صرف اتنا کہا تم نے مجھ کو بہت تکلیف دی (يَا فَتًى لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ أَنَا هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ)۔ میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں (ابوداؤد، حدیث نمبر 4996)۔ اس طرح کا عمل اپنے اندر اتنی کشش رکھتا ہے کہ انتہائی کٹر آدمی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ یہودی عالموں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ جب وہ لوگ آپ کےپاس پہنچے تو انہوں نے کہالسَّامُ عَلَيْكُمْ (تباہی ہو تم پر) حضرت عائشہ نےسنا تو ان سے بر داشت نہ ہو سکا، انہوں نے کہا ’’بلکہ تم…
…وسلم مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ چودہ سوا صحاب بھی آپ کے ساتھ ہوگئے۔ غدیر اشطاط کے مقام پرپہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش آپ کے سفر کی خبر پا کر سرگرم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک لشکر جمع کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔
کعبہ کی زیارت سے کسی کو روکنا عرب روایات کے بالکل خلاف تھا۔ مزید یہ کہ آپ اشارۂ خدا وندی کے تحت یہ سفر کر رہے تھے۔ مگر اس کے با وجود آپ اس خبر کو سن کر مشتعل نہیں ہوئے۔ آپ کے جا سوس نے بتایا کہ خالد بن ولید دو سو سواروں کو لے کر مقام غمیم تک پہنچ گئے ہیں تاکہ آپ کا راستہ روکیں۔ یہ خبر سن کر آپ نے یہ کیا کہ معروف راستہ کو چھوڑ دیا اور ایک غیرمعروف اور دشوار گزار راستہ سے چل کر حدیبیہ تک پہنچ گئے تاکہ خالد سے ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ اس واقعہ کو ابن ہشام نے جن الفاظ میںنقل کیا ہے وہ یہ ہیں
قَالَ مَنْ رَجُلٌ يَخْرَجُ بِنَا عَلَى طَرِيقٍ غَيْرِ طَرِيقِهِمْ الَّتِي هُمْ بِهَا؟...قَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَفَسَلَكَ بِهِمْ طَرِيقًا وَعْرًا أَجْرَلَ بَيْنَ شِعَابٍ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْهُ، وَقَدْ شَقَّ ذَلِكَ…
…بھر پور وار کر کے آپ کے خلاف اپنے دشمنانہ حوصلوں کو پورا کرسکیں۔ اسی لیے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح آپ مشتعل ہو کر لڑ پڑیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شرارت کو نظر انداز کرتے رہے اور کسی طرح اشتعال کی نوبت نہ آنے دی۔
یہ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ حضرت ابو بکر کے سوا صحابہ کرام میں سے کوئی شخص نہ تھا جو یہ محسوس نہ کر رہا ہو کہ ہم ظالم کے آگے جھک گئے ہیں اور اپنے کو تو ہین آمیز شرائط پر راضی کر لیا ہے۔ قرآن میں جب اس معاہدہ کے بارے میں آیت اتری کہ یہ فتح مبین ہے تو صحابہ نے کہا کیا یہ فتح ہے (أَوَفَتْحٌ هُوَ؟) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3182۔ ایک مسلمان نے کہا یہ کیسی فتح ہے کہ ہم بیت اللہ جانے سے روک دیے گئے۔ ہماری قربانی کے اونٹ آگے نہ جاسکے۔ خد ا کے رسول کو حد یبیہ سے واپس آنا پڑا۔ ہمارے مظلوم بھائی (ابو جندل او ر ابو بصیر ) کو اس صلح کے تحت ظالموں کے حوالے کر دیا گیا۔ وغیرہ۔ مگر اسی ذلّت آمیز صلح کے ذریعہ خدانے فتح عظیم کا دروازہ کھول دیا۔
یہ معاہد ہ بظاہر دشمن کے آگے جھک جانا تھا۔ مگر حقیقۃً وہ اپنے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کا وقفہ حاصل کرنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے تمام مطالبات منظور کر کے ان سےصرف ایک یقین دہانی لے لی۔ یہ کہ قریش اور مسلمانوں کے…
…اور مسجد میں رات کے وقت اندھیرا رہتا تھا تو اسلام اور مسلمانوں کو دنیا میں عزت و غلبہ حاصل تھا۔ آج مسلمانوں کے گھر روشن ہیں۔ ان کی مسجدیں جدید طرز کے قمقموں سے جگمگارہی ہیں، مگر دنیا میں اسلام کا غلبہ نہیں، مسلمانوں کو کہیں عزت حاصل نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عزت و غلبہ کا مقام حاصل کرنے کے لیے اصل اہمیت انسان کی ہوتی ہے۔ آج مسلمانوں کے یہاں سب کچھ ہے مگر وہی چیز نہیں جس کو’’انسان‘‘کہا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا مردہ روحوں کا ایک عظیم قبر ستان معلوم ہوتی ہے جہاں روشنیوں کی رونقیں اور در و دیوار کی عظمتیں تو بہت ہیں مگر وہ انسان نہیں جو خدا کے لیے تڑپے، جو سچائی کے آگے جھک جائے، جو آخرت کی خاطر اپنی دنیا کو قربان کر سکے،جو اپنی خواہشوں کو بر تر اصولوں کے تابع کر دے۔ اسلام کو سر بلند کرنے کے لیے وہ انسان درکا رہیں جن کو عظمت خدا وندی کے احساس نے متواضع بنادیاہو، جن کا خوفِ آخرت ان سے ان کی اکڑ چھین لے۔ اور یہی وہ انسان ہیں جو اسلام کے بھرے ہوئے شاندار پنڈال میں آج کہیں موجود نہیں ۔
_13_
خدائی منصوبہ سے مطابقت
کسان کا معاملہ قدرت کےکاگ (دندانہ) میں اپنا کاگ دینے کا معاملہ ہے۔ خدا نے ہماری زمین پر فصل اگانے کے بہترین امکانات پیدا کیے ہیں۔ مگر ان امکانات کو اپنے حق میں واقعہ بنا نے کے لیے کسان کو ایک حصہ ادا کرنا پڑتاہے۔ مثال کے طور پر زمین کی سطح پر زرخیز مٹی (soil) کی تہ رکھی گئی ہے جو معلوم کائنات میں کسی بھی دوسرے مقام پر نہیں۔ مگر تمام زرخیزی کے با وجود اس مٹی سے فصل اسی وقت اُگتی ہےجب کہ اس میں نمی بھی ہو۔اس نمی کے نہ ہونے کی وجہ سے خشک علاقوں کے صحراچٹیل بیابان بن کر رہ گئے ہیں، اس حقیقت کو قدرت لاؤڈاسپیکر پر اعلان کر کے نہیں بتاتی بلکہ خاموش اشارہ کی زبان میں بتاتی ہے۔ کسان کو اسے خاموش اشارہ کی زبان میں جاننا پڑتاہے۔ چنانچہ کسان یہ کرتا ہے کہ وہ یا تو بارش سےنم ہونےوالی زمین میں اپنی فصل بوتا ہے یا آب پاشی کے ذریعہ پہلے اس میں نمی پہنچاتا ہے، پھر اپنا دانہ اس میں ڈالتا ہے۔ یہی معاملہ داعی کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عرب میں اگر چہ بہترین حالات پیدا کر دیے گئے تھے اس کے باوجود ضروری تھا کہ آپ ربانی حکمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے کام کو آگے بڑھائیں۔ اگر آپ کا منصوبہ خدائی منصوبہ کی رعایت کے بغیر چلتا تو آپ کو کبھی وہ کامیابی حاصل نہ ہوتی جو عملاً آپ کو حاصل ہوئی۔
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا بنیادی اصول یہ تھا کہ دعوتی عمل میں ساری اہمیت مسئلۂ آخرت کو دی جائے۔ مسئلۂ دنیا کو کسی بھی حال میں دعوت کا اِشونہ بنایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی مسئلہ انسان کا ابدی اور حقیقی مسئلہ ہے۔…
فتح اسلام
بدر کی شکست نے دوبارہ قریش کو بھڑکا یا اور مختصر سی مدت میں ان سے کئی معر کے پیش آئے، جن میں احد (3ھ) اور احزاب (5ھ)خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان غزوات میں مسلمانوں کو شدید ترین مصائب پیش آئے۔ غزوہ خندق میں 800آدمی تھے۔ مگر سردی اور بھوک اورتکان کا عالم یہ تھا کہ جب آپ نے دشمن کی جاسوسی کے لیے ایک شخص کو بھیجنا چاہاتو تین بار آواز دینے کے بعد بھی کوئی نہ اٹھا، یہاں تک کہ آپ حضرت حذیفہ کے پاس آئے اور نام لے کر ان کو بلایا اور ان کو اس کام پر متعین کیا۔
دوسری طرف مدینہ کے یہود ایک مستقل اندرونی مسئلہ بنے ہوئے تھے۔ قریش سے مل کر دونوں کے درمیان اسلام کے خلاف سازشیں جاری رہتی تھیں۔ خندق کے 20روزہ محاصرہ کے بعدجب ایک شدید آندھی سے مجبور ہو کر قریش کی فوج مکہ واپس ہوئی تو آپ نے اس موقع کو…
…آدمی کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ خدا کی قسم وہ اپنی بات سے باز آنے والا نہیں۔ تم ان کے اور تمام عرب کے درمیان سے ہٹ جاؤ۔ اگر وہ عرب پر غالب آگئے تو ان کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور اگر وہ مغلوب ہوگئے تو تم دوسروں کےہاتھوں ان سے نجات پالوگے۔
یہ فکر جو خود قریش کے اندر دبا ہوا موجود تھا۔ اسی کو آپ نے استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود دشمن کے اندر آپ کو اپنے نقطہ نظر کے حامی مل گئے۔
ایک طرف آپ نے یہ پیغام کہلایا۔ دوسری طرف قریش کو مختلف طریقوں سے متاثر کرنے کا عمل بھی شروع ہوگیا۔ بنی کنانہ کا ایک شخص، حُلَيس بن علقمة الكناني مکہ سے روانہ ہوکر حدیبیہ پہنچاتا کہ یہ معلوم کرے کہ مسلمان کس لیے آئے ہیں لوگوں نے آپ کو…
…کچھ میری اولاد کے برابر نہیں۔ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ۔ عروہ نے کہا کیا تمہیں میرے اوپر کوئی شک ہے۔ لوگوں نے کہا نہیں۔ عروہ نے کہا اس آدمی نے تمہارے سامنے ایک بہترین تجویز پیش کی ہے، تم اس کو مان لو اور مجھے جانے دو کہ میں ان سے بات کروں۔
آپ نے اعلان کردیا کہ قریش جس چیز کا بھی مطالبہ کریں گے، میں اس کو مان لوں گا (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لاَ يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا)۔ تاہم نا جنگ معاہدہ لکھا جانے لگا تو انہوں نے طرح طرح سے حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کیا۔ معاہدہ کے مسودہ سے ’’محمد رسول اللہ ‘‘ کو مٹاکر محمد بن عبد اللہ لکھوایا۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بجائے بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ لکھنے پر اصرار کیا۔ یہ دفعہ بڑھائی کہ قریش کا کوئی آدمی مسلمانوں کے ہاتھ لگے تو وہ اس کو واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس کے برعکس، کوئی مسلمان قریش کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس کو واپس نہیں کریں گے۔ اس کی اجازت نہ دی کہ مسلمان اس سال مکہ جاکر عمرہ کریں۔ سارے صحابہ کے لیے یہ شرطیں انتہائی گراں ہورہی تھیں۔ حتٰی کہ ایک موقع پر جب عروہ بن مسعود نے کہا اے محمد ! یہ جو ادھر اُدھر کے لوگ آپ نے اپنے گرد جمع کر رکھے ہیں، یہ سب آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے (إِنِّي لَأَرَى أَوْشَابًا مِنَ النَّاسِ خَلِيقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ)۔اس کو سن کر ابوبکر جیسا سنجیدہ آدمی بھی غصہ میں آگیا۔ ان کی زبان سے نکلا
امْصُصْ بِبَظْرِ اللَّاتِ، أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ؟ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731) ۔یعنی، تو لات کی شرم گاہ چوس، کیا ہم آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
…تھا کہ ایک دوسرے کو کاٹ ڈالیں گے (وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا)صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731۔مگر دب کر کیے جانے والے اس معاہدہ کے اتنے عظیم الشان فائدے ہوئے جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔
صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں کے دو طاقت ور حریف تھے، ایک خیبر کے یہودی، دوسرے مکہ کے قریش۔ مسلمان ابھی اتنے طاقت ورنہ ہوئے تھے کہ بیک وقت دونوں سے نمٹ سکیں۔ ایک پر حملہ کرنا گویا دوسرے کو موقع دینا تھا کہ وہ پیچھے سے آکر مدینہ میں گھس جائے اور مسلمانوں کے مرکز کو برباد کردے۔ آپ نے یہ کیا کہ قریش مکہ کے سارے مطالبات منظور کر کے ان کو دس سال تک کے ’’نا جنگ معاہدہ‘‘ پر راضی کر لیا۔ اور اس طرح انہیں ’’بطن مکہ‘‘ میں روک دیا (الفتح، 48:24)۔اس کے بعد مدینہ واپس آکر پہلی فرصت میں خیبر پر حملہ کر کے یہود ی مسئلہ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ پہلا واقعہ ذی قعدہ 6ھ میں ہوا اور دوسرا محرم 7ھ میں ۔
خیبر میں یہودیوں کے آٹھ پتھر کے قلعے تھےجن میں 20ہزار جنگجو ایسے ہتھیاروں کے ساتھ موجود تھے جن سے اسلامی فوج بالکل خالی تھی۔ ان قلعوں کے استحکام کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا جس کو 1700ء میں فرانس کے فوجی انجینئر مارشل وابان…
…کیا کہ انہوں نے ازخود معاہدہ کی یہ دفعہ ختم کردی۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری عجلت اور ظاہر پرستی ہے۔ اگر آدمی ظواہر سےبلند ہو جائے تو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ایسے امکانات رکھے ہیں جو آدمی کو کامیابی تک پہنچانے کی یقینی ضمانت ہیں
وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ الصّدّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُمَا كَانَ فَتْحٌ فِي الْإِسْلَامِ أَعْظَمَ مِنْ فَتْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَلَكِنّ النّاسَ يَوْمئِذٍ قَصَرَ رَأْيُهُمْ عَمّا كَانَ بَيْنَ مُحَمّدٍ وَرَبّهِ، وَالْعِبَادُ يَعْجَلُونَ، وَاَللهُ تَبَارَك وَتَعَالَى لَا يَعْجَلُ كَعَجَلَةِ الْعِبَادِ حَتّى تَبْلُغَ الْأُمُورُ مَا أَرَادَ اللهُ(مغازی الواقدی، جلد2، صفحہ610)۔حضرت ابوبکر فرماتے تھے اسلام میں فتح حدیبیہ سے زیادہ بڑی فتح کوئی نہیں ہوئی، مگر اس دن لوگوں کی نظریں وہاں تک نہ پہنچ سکیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کے درمیان تھا۔ بندے جلدی چاہتے ہیں۔ مگر اللہ بندوں کی طرح جلدی نہیں کرتا یہاں تک کہ معاملات وہاں پہنچ جائیں جہاں وہ ان کو پہنچانا چاہتا ہے۔
حقیقت پسندی دنیا میں سب سے زیادہ کمیاب ہے، اگر چہ حقیقت پسندی ہی وہ چیز ہے جو کسی کامیابی تک پہنچنے کا واحد یقينی ذریعہ ہے۔
…کرنا۔ راقم الحروف نے اِس اعتبار سے متعدد کتابیں تیار کیں۔ اِن میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کا اردو ٹائٹل ’مذہب اور جدید چیلنج‘ (God Arises) ہے۔ وہ مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں شائع ہوچکی ہے۔ عربی زبان میں اس کا ٹائٹل ’الاسلام یتحدّی ‘ہے۔
سائنس کی جدید دریافتوں کی بنیاد پر کلامیاتی استدلال کی ایک مثال وہ ہے جس کو ضابطۂ ناکارگی (Law of entropy) کہاجاتا ہے۔ اِس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادّی کائنات ازلی نہیں ہوسکتی۔ قدیم یونانی فلاسفہ مادّہ (matter) کو قدیم مانتے تھے۔ اس کے زیر اثر مسلم فلسفی ابن رُشد (وفات1198 ء) نے مادّہ کو قدیم مان لیا۔ مگر مادّہ کی قدامت کانظریہ اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ اِس کے مطابق، خدا اور مادّہ دونوں قدیم ہوجاتے ہیں، جب کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق، خدا قدیم اور ازلی ہے، اور مادّہ بعد کی تخلیق۔ یہ جدید دریافت اسلامی عقیدے کے حق میں سائنسی تصدیق (scientific affirmation) کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضابطۂ ناکارگی کے قانون کی تفصیل كے ليے ملاحظه هو ’مذہب اور جدید چیلنج‘ صفحہ 55 ۔
اوپر کی بات نظریاتی اعتبار سے ذہنی فریم ورک سے تعلق رکھتی ہے۔ اب اِس معاملے کے دوسرے پہلو کو لیجیے، یعنی وہ مسئلہ جس کو عملی فریم ورک کہاجاسکتا ہے۔ اِس دوسرے معاملے میں مسلمان موجودہ زمانے میں اتنے اجنبی ہوگئے ہیں کہ موجودہ زمانے کے تعلیم…
…تاريخ كو ديكھ رهے هو، اِس ليے تاريخ تم كو فساد اور خوں ريزى كا جنگل معلوم هوتى هے۔ ليكن تم تاريخ كو افراد كے اعتبار سے ديكھو، پھر تم كو نظر آئے گا كه تاريخ كے هر دور ميں بهترين افراد پيدا هورهے هيں۔ يهى استثنائى افراد تاريخ كا حاصل هيں۔
تاريخ كے مطالعے كا صحيح طريقه يه هے كه مطالعه كرنے والا يه كرے كه وه انسان كى طرف سے آزادى كے غلط استعمال كو الگ كركے تاريخ كا مشاهده كرے۔ خالق نے چونکہ انسان كو آزادى دى هے، اِس ليے آزادى كو غلط استعمال كرنے كے نتيجے ميں طرح طرح كى خرابياں پيدا هوتى هيں۔
يهى وه چيز هے جس كو فلاسفه عمومى حيثيت دے كر، پرابلم آف اول (problem of evil) كهتے هيں۔ مگر انسان كى آزادى مصلحتِ امتحان كى بنا پر هے، اِس ليے تاريخ كے مطالعے كا صحيح طريقه يه هے كه آزادى كے غلط استعمال كے پهلو كو الگ كركے تاريخ كا…
…سے مجبور هوكر اصحابِ رسول كا ايك قافله مكه سے هجرت كركے حبش جارها هے، كبھى آپ اپنے مشن كے تحت طائف اوردوسرے مقامات پر جاتے هيں، كبھى دار الندوه ميں پيغمبر اسلام كے خلاف مشوره هورها هے اور آپ كو قتل كرنے كا منصوبه بنايا جارها هے، وغيره۔
پھر جب مكه ميں 13 سال قيام كے بعد آپ مكه سے 300 ميل كى دورى پر واقع شهر مدينه چلے جاتے هيں تواِس تذكرے ميں بهت زياده اضافه هوجاتاهے۔ اب غزوات اور سرايا اور جھڑپوں (skirmishes) جيسے واقعات كے نتيجے ميں آپ كا اور آپ كے مشن كا چرچا تمام عرب ميں، حتى كه اطرافِ عرب ميں پھيل جاتاهے۔ آپ كے مخالفين كى مخالفانه كارروائيوں كے نتيجے ميں بظاهر بهت سے واقعات هورهے تھے جو مسلسل لوگوں كے علم ميں آرهے تھے۔ اسى كے ساتھ ايك بلا اعلان عمل جارى تھا۔ يه عمل اِن واقعات كے درميان ايك انڈر كرنٹ يا زير سطح عمل (under the surface process) كى حيثيت ركھتا تھا۔ وه لوگوں كے اندر نهايت تيزى سے تجسس كى نفسيات پيدا كررها تھا۔ لوگ فطرى طور پر جاننا چاهتے تھے كه يه مشن كيا هے اور اِس مشن سے وابسته افراد كا معامله كيا هے۔ تجسس كى يه زيريں رو (under the surface process) الله كے منصوبے كے مطابق، عين مطلوب تھي، كيوں كه اُس سے پيغمبر اسلام كے مشن كے دعوتى مواقع مسلسل طورپر بڑھ رهے تھے۔ يهى وه عمل هے جس كو هم نے نصرت باعتبار پراسس كا نام ديا هے۔
نصرت باعتبارِ فتح
…كه آپ اهلِ مكه سے يه كهيں كه همارے اور تمھارے درميان ٹكراؤ اور جنگ كى جو صورتِ حال پيدا هوگئى هے، وه ايك غير مطلوب چيز هے۔ اور ضرورى هے كه اس كو ختم كرديا جائے۔ آخر كار يه طے هوا كه فريقين كے درميان صلح كا معاهده (peace treaty)هوجائے۔
صلح كا يه معاهده جب كاغذ پر لكھا جانے لگا تو اهلِ مكه كے نمائنده سردار نے شديد انداز ميں حميتِ جاهليه(48:26) كا مظاهره كيا۔ انھوں نے ضد اور سركشى كا طريقه اختيار كرتے هوئے مطالبه كيا كه ان كى يك طرفه شرطوں كى بنياد پر معاهده كيا جائے، حتى كه انھوں نے اصرار كيا كه ’’رسول الله‘‘ كے لفظ كو معاهدے كى تحرير سے مٹا ديا جائے۔ پيغمبر اسلام نے اهلِ مكه كى تمام شرطوں كو يك طرفه طور پر مان ليا، صرف اِس ليے كه اِس معاهدے كے ذريعے دونوں فريق كے درميان امن كا ماحول قائم هورها تھا۔
حديبيه كا معاهدهٔ صلح اهلِ مكه كى يك طرفه شرطوں كى بنياد پر هوا تھا۔ چنانچہ صحابه كے اندر اس كے خلاف شديد رد عمل پيداهوا۔ عمر فاروق نے كها لِمَ نُعْطِ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ مِنْ دِينِنَا(صحيح البخاري،حدیث نمبر 2731)۔ يعنى، هم اپنے دين كے…
…جس كا اشاره قرآن كى سورۃ الروم كى آيت نمبر 2 ميں كيا گيا هے۔ مذكوره آيت (4:113) ميں اِسى قسم كى نصرت مراد هے، نه كه پُراسرار قسم كى كوئى شخصى فضيلت۔ نصرت كا يه خصوصى معامله پيغمبر كے مشن كى نسبت سے تھا، نه كه پيغمبر كى ذات كى نسبت سے۔
قرآن كى مذكوره آيت ميں علم كى تعليم وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ (4:113)—یعنی، اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے— سے مراد علمِ وحى نهيں هے، بلكه اِس سے مراد مذكوره قسم كے موافق امكانات سے پيغمبر كو باخبر كر نا هے۔ يهى اسلوب (سورۃ الفتح ) ميں اختيار كياگيا هے جهاں فَعَلِمَ ما لَمْ تَعْلَمُوا(48:27) —یعنی، پس اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہیں جانی— کے الفاظ آئےہیں۔ سورۃ الفتح كى اِس آيت ميں علم سے مراد وه موافق امكانات هيں جو معاهده حديبيه كے اندر باعتبار نتيجه چھپے هوئے تھے۔
اصل يه هےكه الله تعالى نے پچھلے زمانوں ميں هزاروں سال كے دوران بهت سے پيغمبر بھيجے(23:44)۔ اِن پيغمبروں نے نبوت كا فريضه پورى طرح انجام ديا، ليكن ان كا مشن صرف اعلانِ توحيد تك پهنچا۔ اُن ميں سے كسى كے زمانے ميں نه مطلوب قسم كى امت بنى اور…
…سِنِينَ، يَأْمَنُ فيهنَّ النّاسُ ويَكُفَّ بَعْضُهُم عن بَعْضٍ(سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 317)۔ يعنى، يه وه معاهده هےجو محمد بن عبد الله اور سهيل بن عمرو كے درميان طے هوا۔ دونوں اِس پر رضامند هوئے كه دونوں كے درميان دس سال تك جنگ نهيں هوگي۔
معاهده حديبيه دراصل دس سال كے ليے ايك ناجنگ معاهده (no-war packt) تھا۔ مگر دونوں فريقوں كے درميان اُس وقت دشمنى كا جو ماحول تھا، اُس كے اعتبار سے اِس قسم كا معاهده ايك ايسا معاهده تھا جو عملاً ناممكن نظر آتا تھا۔ چنانچہ بظاهر يه ناممكن چيز صرف اُس وقت ممكن هوئي، جب كه پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے فريقِ ثانى كى كڑى شرطوں كو يك طرفه طورپر منظور كرليا۔
مثلاً ايك شرط يه تھى كه مكه كا كوئى شخص اگر اسلام قبول كركے مدينه آئے تو اس كو دوباره مكه والوں كى طرف لوٹانا هوگا۔ اِس كے برعكس، مدينے كا كوئى شخص اگر مكه چلا جائے تو اهلِ مكه كو حق هوگا كه وه اس كو مكه ميں روك ليں اور دوباره اس كو مدينه…
War and Peace, by LeoTolstoy—1865
مگر جيساكه معلوم هے، ٹالسٹائے كى كتاب صرف ايك ناول هے، يعنى وه فكشن كے پيرايے ميں لكھى گئى هے، اور كوئى فكشن حقيقى زندگى (real life) كے ليے گائڈ بك نهيں بن سكتا۔
قرآن كا بيان
…مغفرت‘ سے مراد معروف معنى ميں بخشش (salvation) نهيں هے، بلكه اس سے مراد يه هے كه تحريك توحيد كے دوران اهلِ ايمان سے تدبير كے اعتبار سے جو خطائيں هوئيں، اُن كو موثر نه هونے دينا، اِن تدبيرى خطاؤں كے باوجود آخرى كاميابى كو يقينى بنانا۔
آيت ميں واحد كا صيغه (لِيَغْفِرَ لَكَ) استعمال كيا گيا هے۔ اس سے بظاهر يه معلوم هوتا هے كه اِس سے مراد رسول الله صلى الله عليه وسلم كى ذات هے، مگر يه خطاب نمائنده هونے كے اعتبار سے هے، يعنى اُس وقت رسول كى حيثيت جماعتِ مسلمين كے نمائنده كى تھي۔ گويا اِس آيت ميں رسول كو خطاب كرتے هوئے پورى جماعتِ مسلمين كو مخاطب بنايا گيا هے۔ به اعتبار حقيقت، اس سے مراد اُس وقت كے اهلِ ايمان كى پورى جماعت هے۔ اِس تفسير كا ايك قرينه يه هے كه قرآن ميں اِس معاملے كو ’إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ‘ كے الفاظ ميں بيان كيا گيا هے، حالانکہ يه ايك معلوم حقيقت هے كه يه فتح پيغمبر اسلام كى شخصى فتح نه تھي، وه اس وقت كى تمام جماعتِ مومنين كى اجتماعى فتح تھي۔ اِس كا دوسرا قرينه يه هے كه آگے اِس سوره كى آيت نمبر 5 ميں جمع كے الفاظ آئے هيں (48:5)۔
اِس آيت ميں اتمامِ نعمت سے مراد وه چيز نهيں هے جس كو دوسرے مقام پر اكمالِ دين (5:3) كهاگيا هے۔ سورۃ الفتح ميں اتمامِ نعمت سے مراد وه حكيمانه تدبير هے جس كى تلقين حديبيه كے معاملے ميں الله كى طرف سے كى گئى تھي۔ آگے فرمايا كه— وَيَهْدِيَكَ…
…ميں فريقِ ثانى نے زبردست كاميابى حاصل كي۔ انھوں نے لڑائى كے ميدان ميں اهلِ ايمان كے 70 آدميوں كو هلاك كرديا۔ ايسا انتقامى نفسيات كى بنا پر هوا۔ بدر كى لڑائى اهلِ ايمان كے ليے فتح تھي، ليكن فريقِ ثانى كے ليے وه انتقام كے هم معنى بن گئي
Battle of Badr was victory for Muslims and revenge for the other party.
اِس تجربے سے معلوم هوا كه جنگ مسئلے كا حل نهيں۔جنگ ميں كاميابى صرف اُس وقت مسئلے كا حل بن سكتى هے جب كه فريقِ ثانى اپنى شكست (defeat) كو تسليم كرے۔ مگر هميشه ايسا هوتا هے كه هارا هوا فريق اپنى هار كو نهيں مانتا، بلكه اس كے اندر انتقام كے…
…موجود مواقع كو دعوت الى الله كے ليے استعمال كرنا۔ يه موافق حالات جو قديم زمانے ميں رسول اور اصحابِ رسول كى قربانيوں كے ذريعے ظهور ميں آئے تھے، وه اب عالمى تبديليوں كے نتيجے ميں خود زمانى تقاضے كے تحت مزيد اضافے كے ساتھ حاصل هوگئے هيں۔
يه جديد موافق حالات جن اسباب كے ذريعے ظهور ميں آئے، وه وهى هيں جن كو مغربى تهذيب، جمهورى افكار، اقوامِ متحده، وغيره كهاجاتا هے۔ يه بظاهر سيكولر انقلابات تھے، ليكن الله نے اِن بظاهر سيكولر انقلابات كو دين كى تائيد كا ذريعه بناديا۔
خلاصه كلام
…بعد مسيحى قوموں ميں منفى ردّعمل (negative reaction) كا جذبه پيدا نهيں هوا، بلكه انھوں نے يه كيا كه اپنے جذبے كو پُرامن عمل كى طرف ڈائـورٹ(divert) كرديا، يعنى مسلمانوں سے مسلح مقابله ختم كركے علم وتحقيق كے ميدان ميں اپنى كوششوں كو صرف كرنا۔
ڈائـورژن(diversion)كے اِس عمل كو ابتدائى زمانے ميں، اسپريچول كروسيڈ (spiritual crusades) كهاگيا تھا۔ بعد كو وه رفته رفته سائنٹفك كروسيڈ (scientific crusades) ميں تبديل هوگيا۔ اِس عمل ميں اُس وقت چرچ ركاوٹ بن گيا تو انھوں نے سخت جدوجهد كے بعد چرچ كے اختيارات پر حد بندى قائم كردي، پھر 1929 ميں چرچ كو ويٹكن (روم) كے محدود رقبے ميں گويا هاؤس اريسٹ (house arrest) كرديا جس كا كُل رقبه صرف 109 مربع ايكڑ هے۔
اِس دور ميں يورپ كے جن لوگوں نے سائنٹفك كروسيڈ (scientific crusades) يا سائنسى ريسرچ كے ميدان ميں كام كيا، وه تقريباً سب كے سب مسيحى افراد تھے۔ اِس سائنسى عمل ميں بريك تھرو (breakthrough) اُس وقت آيا، جب كه 1609 ميں اٹلى كے فلكياتى عالِم…
…پہنچ گئیں،اس کے بعدایرانی جارحیت کا زور ٹوٹ گیا، اورتمام رومی علاقے ایرانی فوجوں سے خالی ہوگئے،اب ہرقل خودایرانی شہنشاہیت کے قلب پرحملہ کرنے کی پوزیشن میں تھا،تاہم آخری فیصلہ کن جنگ دجلہ کے کنارے نینواکے مقام پردسمبر627ء میں ہوئی۔
اب خسروکی ہمت چھو ٹ گئی تھی ،وہ اپنے محبوب محل’’دستگرد‘‘سے بھاگنے کی تیاری کرنے لگا۔مگراسی دوران میں خوداس کے محل کے اندراس کے خلاف بغاوت ہوگئی۔ اس کے لڑکے شیرویہ نے اس کوگرفتارکرکے ایک تہہ خانے میں بندکردیا، جہاں وہ پانچویںدن بیکسی کی حالت میں مرگیا۔ اس کے اٹھارہ لڑکوں کواس کی آنکھ کے سامنے قتل کر دیا گیا، مگر اس کایہ لڑکابھی صرف آٹھ مہینے تخت پررہ سکا۔ اس کے بعددوسرے شہزادے نے اس کو قتل کرکے تاج پرقبضہ کرلیا،اس طرح شاہی خاندان کے اندرآپس میں تلواریں چلناشروع ہوگئیں۔یہاں تک کہ چارسال میں نوبادشاہ بدلے گئے۔ان حالات میں ظاہر ہے کہ ازسرنو رومیوں کامقابلہ کرنے کاکوئی سوال نہیںتھا، خسروپرویز کے بیٹے قبادثانی نے رومی مقبوضات سے دست بردارہوکرصلح کرلی۔مقدس صلیب کی اصل لکڑی واپس کردی گئی، اور مارچ628ء میں فاتح ہرقل اس شان سے قسطنطنیہ واپس آیاکہ اس کے رتھ کوچارہاتھی کھینچ رہےتھے، اوربے شمارلوگ دار السلطنت کے باہرلیمپوں اورزیتون کی شاخوں کولیے ہوئے اپنے ہیروکے استقبال کے لیے موجودتھے۔(صفحہ94)
اس طرح قرآن نے رومیوں کے دوبارہ غلبہ کے متعلق جوپیشین گوئی کی تھی وہ ٹھیک اپنے وقت پر(دس سال کے اندر) مکمل طورپرپوری ہوگئی۔
…میں سر کشی) بلاشبہ آخری حد تک ناقابل معافی ہے۔ یہ جرم یقیناً سلمان رشدی کے جرم سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔ سلمان رشدی کو مجرم کے کٹھرے میں کھڑا کرنے کی کوشش میں مسلم رہنماؤں نے خود اپنے آپ کو شدید تر قسم کے مجرمانہ کٹہرے میں کھڑا کرالیا۔
ٹائمس آف انڈیا(9مارچ1989، سیکشن2)کے صفحہ اوّل پر پہلی خبر کی سرخی یہ ہے — رشدی کی کتاب اسلام اور مغرب کے ٹکراؤ کو دوبارہ جگاتی ہے
'Verses' rekindle Islam-West conflict
…دو طرفہ ٹریفک کی جگہ ہے۔ یہاں یک طرفہ ٹریفک کا طریقہ ہر گز ممکن نہیں ، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ سڑک کے اوپر اپنی گاڑی تیز دوڑائیں تو آپ کو دوسروں کے لیے بھی اس کا موقع دینا ہوگا۔ دوسروں کو موقع دیے بغیر اپنے لیے موقع پانا ہرگز ممکن نہیں۔
یہ صحیح ہے کہ ’’ ٹریفک‘‘ کے لیے کچھ اخلاقی ضا بطہ ہونا چاہیے۔ مگر ضابطہ صرف مشترک امور میں قابل عمل ہے، وہ انفرادی اور گروہی امور میں قابل عمل نہیں ۔ یعنی وہ اصول جس کا تعلق تمام لوگوں سے ہو، جو ہر ایک کی عمومی ضرورت ہو، اس کی بندش تو قائم کی جاسکتی ہے۔ مگر کسی شخص یا گروہی دلچسپی کی بات پرعمومی ضابطہ بندی ممکن نہیں۔ اور اگر جوش اصلاح میں کوئی حکمراں ایسی ضابطہ بندی نافذ کرے جو ایک کے موافق اور دوسرے کے خلاف ہو تو وہ عملی طور پر کبھی نافذ نہیں ہو سکے گی۔ وہ صرف ایک کاغذی کاروائی بن کر رہ جائے گی۔
اس کی ایک مثال خود سلمان رشدی کی کتاب ہے۔ اس نزاعی کتاب پر ہندوستان اور پاکستان میں پابندی لگائی گئی۔ مگر دونوں ملکوں میںاس کے غیر قانونی ایڈیشن فروخت ہورہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ کتاب کھلے بازار میں ملتی ، اب وہ بلیک مارکیٹ کے…
مستقبل پر نظر
قدیم مکّہ میں جو ممتاز افراد تھے، ان میں سے ایک شخص کا نام سہیل بن عمرو تھا۔ آج سہیل بن عمرو کا شمار صحابہ کی فہرست میں ہو تا ہے۔ مگر اس سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔ وہ بدر کی لڑائی میں مشرکین کی طرف سے شریک ہو ئے۔ اس لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مشرکین کو شکست ہو ئی۔ ان کے 70 آدمی گرفتار کرکے مدینہ لائے گئے۔ ان میں سے ایک سہیل بن عمرو بھی تھے۔
سہیل بن عمرو کے اندر زبان آوری کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ وہ خطیبِ قریش کہے جاتے تھے۔ اپنی اس صلاحیت کو انھوں نے بھر پور طور پر اسلام کے خلاف استعمال کیا۔ وہ شعر اور خطابت کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کر تے تھے۔ اور آپ…
…مذمّم ہو،میرا نام تو محمد ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک لطیف مثال ہے۔ اس طرح مومن اپنے آپ کواس نقصان سے بچاتا ہے کہ کسی کی بدگوئی اُس کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔ مومن کا قول یہ ہوتا ہے کہ میں منفی جذبات کا تحمل نہیں کرسکتا۔
اس طرح کے حسن اعراض کی ایک دلچسپ مثال ڈاکٹر ذاکر حسین (1897-1969) کے یہاں پائی جاتی ہے۔ ایک بار وہ دہلی کی ایک سڑک پر اپنی گاڑی چلا رہے تھے، اتفاق سے اُن کی گاڑی ایک اور شخص کی گاڑی سے معمولی طور پر ٹکرا گئی۔ اُن کی گاڑی میں رگڑ(dent) آگیا۔ اُس آدمی نے ابھی نئی گاڑی لی تھی۔ وہ گاڑی روک کر اُترا۔ ذاکر صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اُتر گئے۔ اُس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ(idiot) ۔ اس انگریزی لفظ کے معنیٰ ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ اُنہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا
Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.
…صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طورپر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو ۔ حالانکہ پیشگی طورپر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میںایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن اُبی تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہوگیا۔ مگر اُس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شر انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر مدینہ کے ایک مسلمان اُسید بن حضیر سے کیا۔ اُنہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! اُرْفُقْ بِهِ. فَوَاَللهِ لَقَدْ جَاءَنَا اللهُ بِكَ، وَإِنَّا لنَنْظِمَ لَهُ الْخَرَزَ…
…کہ کیا ہم مسلمان نہیں، اُنہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ کیا وہ مشرک نہیں، اُنہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں۔ روایات کے مطابق، حضرت عمر نے یہی بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہی۔
یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی زیادتیوں کے باوجود اُن کی یک طرفہ شرطوں پر دس سال کا جو امن معاہدہ کیا تھا، وہ ایک نہایت اہم اسلامی مصلحت کی بنا پر تھا۔ اور وہ مصلحت یہ تھی کہ دشمن سے معاہدہ ٔامن کرکے معتدل حالات پیدا کیے جائیں تاکہ اسلامی دعوت کا عمل مؤثر طورپر جاری ہوسکے۔ مگر یہ نصیحت نہ امن معاہدہ کے اندر لکھی گئی اور نہ حضرت عمر اور دوسرے صحابہ کی شدید ناگواری کے باوجود آپ نے حدیبیہ کے مقام پر اس کا اعلان کیا۔
یہ ہجر جمیل (حسن اعراض) کا دوسرا پہلو ہے۔ یہ دوسرا پہلو ہمیشہ مخفی حالت میں ہوتا ہے۔ اس پہلو کو لفظوں میں پانا ممکن نہیں۔ اگر اُس کو لفظوں میں لکھا یا بولا جائے تو اُس کی ساری معنویت ختم ہوجائے گی۔
رد عمل نہیں
صبر ابتدائی طور پر اس بات کا نام ہے کہ کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آئے تو آدمی برداشت کرلے۔ آہ واویلا کرنے کے بجائے وہ تحمل کا طریقہ اختیار کرے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ری ایکشن (reaction) سے بچائے۔ اور ناخوشگوار صورتِ حال کو اندر ہی اندر سہہ لے۔ صبر اپنے وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے پیس فل پلاننگ کا نام ہے۔ بے صبری یہ ہے کہ آدمی ری ایکشن کا طریقہ اختیار کرے، اور صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو آخری حد تک ری ایکشن سے بچائے۔ بلکہ خاموش انداز سے پرامن تدبیر کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔
صبر کا معاملہ اجتماعی زندگی میں جب بھی پیش آئے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹکراؤ کو اوائڈ کیا جائے، اور وقتی طور پرکوئی تکلیف پیش آئے توبرداشت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے آدمی اس معاملے پر غور و فکر کرے۔پھر غیر جذباتی انداز میں خاموش…
جواب
حکمت یا وزڈم ایک اعلیٰ ترین ذہنی صفت ہے ۔ میرے علم کے مطابق ، انسانی تاریخ میں سب سے کم پائی جانے والی صفت یہی ہے ۔ عام زبان میں کہا جاسکتا ہے کہ حکمت ایک ایسی ذہنی صلاحیت ہے جو گہری بصیرت کے نتیجہ میں کسی کے اندر پیدا ہوتی ہے ۔ بر ٹش کلرجی مین اور مصنف ولیم رالف انگ (William Ralph Inge 1860-1954) اس نے نہایت درست طور پر حکیم یا دانا شخص کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ دانا انسان وہ ہے جو چیزوں کی اضافی قدر کو جانے
The wise man is he who knows the relative value of things.
…ہے۔ وہ روزانہ پیش آنے والے عام مقابلوں کے لیے بھی ہے۔ اگر کسی کے ساتھ آپ کی اَن بَن ہو جائے اور آپ فوراً ہی اس سے آخری لڑائی لڑنے کے لیے کھڑے ہو جائیں تو آپ ایک ’’برے سپاہی‘‘ ہیں۔ آپ اپنی زندگی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر حالات میں آدمی’’پہلے دن‘‘ زیادہ موثر لڑائی لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ اس لیے عقل مند وہ ہے جو پہلے دن لڑائی کو اوائڈ کرے۔ وہ لڑائی کے میدان سے ہٹ کر اپنے آپ کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی کوشش کرے۔ تاکہ یا تو اس کے مقابلے میں اس کا حریف اتنا کمزور ہو جائے کہ وہ لڑائی کے بغیر ہتھیار ڈال دے۔ یا وہ خود اتنا طاقت ور ہو جائے کہ وہ ہر معرکہ کو کامیابی کے ساتھ جیت سکے۔
اس اصول کی بہترین مثال اسلام کی تاریخ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیغمبرانہ مدت کا نصف سے زیادہ حصہ مکہ میں گزارا۔ یہاں آپ کے مخالفین نے ہر قسم کا ظلم کیا۔ مگر آپ نے ان سے ٹکرائو نہیں کیا۔ آپ یک طرفہ طور پر صبر کرتے رہے۔…
پریکٹکل وزڈم
اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا، جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا۔ ایسے موقع پر ہمیشہ یہ عقل کی بات ہوتی ہے کہ آدمی کم پر راضی ہوجائے۔ آئڈیل کی مانگ کرنا، عملاً اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ جو ممکن ہے، وہ بھی نہ ملے، اور زیادہ تو ملنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ اِس دنیا میں ا جتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔
عام طور پر انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ متاثر ذہن (conditioned mind)سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتا ہے۔جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا…
…مذمّم ہو،میرا نام تو محمد ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک لطیف مثال ہے۔ اس طرح مومن اپنے آپ کواس نقصان سے بچاتا ہے کہ کسی کی بدگوئی اُس کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔ مومن کا قول یہ ہوتا ہے کہ میں منفی جذبات کا تحمل نہیں کرسکتا۔
اس طرح کے حسن اعراض کی ایک دلچسپ مثال ڈاکٹر ذاکر حسین (1897-1969ء) کے یہاں پائی جاتی ہے۔ ایک بار وہ دہلی کی ایک سڑک پر اپنی گاڑی چلا رہے تھے، اتفاق سے اُن کی گاڑی ایک اور شخص کی گاڑی سے معمولی طور پر ٹکرا گئی۔ اُن کی گاڑی میں رگڑ(dent) آگیا۔ اُس آدمی نے ابھی نئی گاڑی لی تھی۔ وہ گاڑی روک کر اُترا۔ ذاکر صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اُتر گئے۔ اُس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ(idiot) ۔ اس انگریزی لفظ کے معنیٰ ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ اُنہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا
Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.
…صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طورپر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو ۔ حالانکہ پیشگی طورپر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میںایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن اُبی تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہوگیا مگر اُس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شر انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر مدینہ کے ایک مسلمان اُسید بن حضیر سے کیا۔ اُنہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہايَا رَسُولَ اللهِ!اُرْفُقْ بِهِ فَوَاَللهِ لَقَدْ جَاءَنَا اللهُ بِكَ، وَإِنَّا لنَنْظِمَ لَهُ الْخَرَزَ…
وجددي حطين … أو شبه حطينا
اقبال اپنے علم اور ذہانت کے باوجود اس فکر سے اوپر نہ اُٹھ سکے۔ ان کا پورا کلام کسی نہ کسی طورپر اسی فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔ مثال کے طورپر ان کا یہ شعر پڑھیے
گفتند جهان ما آیا بتو می سازد گفتم که نمی سازد گفتند که برهم زن
سوال
میں آپ کے قول و فکر سے بہت متاثر رہا ہوں ۔ یہ اس بنا پر کہ میں نے آپ کی تحریر کی ہوئی باتیں آپ کے ماہنامہ الرسالہ میں پڑھی ہیں ۔ میں نے آپ کی بتائی ہوئی اچھی باتیں دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں نے پایا کے میرے اطراف کے لوگوں میں کچھ لوگ آپ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے ۔
جب میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو وہ مجھے کوئی قابلِ قبول وجہ نہیں بتا سکے۔یہ لوگ صرف سنی سنائی باتوں کاذکر کرتے ہیں ۔ میں ان سے کہتا رہا ہوں کہ وہ خود اپنا کوئی ذاتی تجربہ یا مشاہدہ بتائیں تو وہ بتانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس طرح میں ان کو نظر…
عثمان غنی ؓ کی مثال
حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح نے ایک روز حضرت عثمانؓ سے بحث کی۔ انھوں نے کہا کہ میں تین چیزوں میں آپ سے افضل ہوں۔ حضرت عثمانؓ نے پوچھا کہ وہ کیا چیزیں ہیں۔ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح نے جواب دیا۔
اول یہ کہ بیعت رضوان (حدیبیہ) کے وقت میں حاضر تھا، اور آپ اس وقت غائب تھے۔ دوسرے یہ کہ میں بدر کے غزوہ میں شریک ہوا اور آپ نے اس میں شرکت نہیں کی۔ تیسرے یہ کہ غزوۂ احد کے موقع پر میں ان لوگوں میں تھا جو ثابت قدم رہے اور آپ اس میں ثابت قدم…
حقیقتِ اسلام
جہاد کے لفظی معنی جدوجہد کے ہیں۔ اسلام میں بامقصد کوشش ہے، اسلام میں لڑ کر مر جانا نہیں۔ اسلام آدمی کو ایک تعمیری مشن دیتا ہے۔ اور مشن کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کو برروئے کار لانے کے لیے اپنی خداداد صلاحیتوں کا نتیجہ خیز استعمال کرے نہ کہ بے فائدہ طور پر لڑ کر اپنا خاتمہ کر لے۔ مکہ میں پیغمبر اسلامؐ اپنے دشمنوں سے لڑ کر شہید نہیں ہو گئے بلکہ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تاکہ اپنے ربانی مشن کو جاری رکھنے کا موقع پا سکیں۔
قرآن میں کہیں بھی مطلق طور پر یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ اللہ کے لیے لڑ کر مر جاؤ۔ اس کے برعکس یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے صبر کرو (ولربک فاصبر) قرآن میں پیغمبر اسلامؐ کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے، قرآن میں کہیں بھی آپ کو سیف اللّٰہ علی…
…میں ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے معاملہ میں غیر متاثر ذہن کے ساتھ سوچے۔ اور اپنے بے لاگ مشورہ سے اس کی مدد کر سکے۔ اس تقسیم کار کے نتیجہ میں عورت اور مرد دونوں کو ایسے قابل اعتماد ساتھی مل جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے بہترین مشیر بن سکیں۔
2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش مکہ سے وہ معاہدہ کیا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے، تو صحابہ میں سخت بے چینی پھیل گئی۔ کیونکہ یہ معاملہ بظاہر دب کر کیا گیا تھا اور اس میں کئی باتیں صریح طور پر مخالفین کے حق میںتھیں۔ لوگوں میں اس قدر غم و غصہ تھا کہ معاہدہ کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور جو تم اپنے ساتھ لائے ہو، یہیں ذبح کر دو اور سرمنڈالو تو ایک شخص بھی اس کے لیے نہ اٹھا۔ آپ نے تین بار اپنے حکم کو دہرایا پھر بھی سب لوگ خاموش رہے۔ آپ رنج کی حالت میں وہاں سے لوٹ کر اپنے خیمہ میں گئے جہاں آپ کی اہلیہ ام سلمہؓ موجود تھیں۔ انہوں نے آپ کو غم گین دیکھ کر پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ آج وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے مسلمانوں کو حکم دیا مگر ان میں سے کوئی بھی میرے حکم کی تعمیل کے لیے نہ اٹھا۔
ام سلمہؓ نے کہا۔ اے اللہ کے رسولؐ۔ اگر آپ کی رائے یہی ہے تو آپ میدان میں تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنا قربانی کا جانور ذبح کریں اور سرمنڈالیں۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کی اور نائی کو…
آئیڈیلزم کے بجائے پریگمیٹزم
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ اپنی ذات کے معاملہ میں آئیڈیلزم کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ مگر دوسروں سے معاملہ کرنے میں پریگمیٹک حل(Pragmatic solution) پر راضی ہو جاؤ۔ یہ آپ کی ایک اہم سنت ہے اور آپ کی پوری زندگی اس سنت کی مثال نظر آتی ہے۔
جس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جا رہا تھا، آپ نے اس میں یہ الفاظ لکھوائےهَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ۔ قریش کے نمائندہ نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو خدا کا رسول نہیں…
…ہے جس کا نام الفتح ہے۔ اس سورۃ میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ: ہم نے تم کو کھلی فتح دیدی(إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً) 48:1۔ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے جس چیز کو سپریم سکسس بتایا ہے، اس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فتح مبین یا سپریم سکسس کس طرح حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت بتاتی ہے کہ آپ کو یہ غیر معمولی فتح صلح حدیبیہ کے ذریعہ اور اس کے بعد حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت صلح حدیبیہ کے بارے میں اتری تھی۔ اس لئے یہاں بطریق نص یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس فتح کاراز وہ مخصوص طریقہ تھا جس کا استعمال حدیبیہ کے واقعہ میں کیا گیا۔ اس کو ہم حدیبیہ منہاج کہہ سکتے ہیں۔
حدیبیہ سے بظاہر آپ اپنے مقصد کو حاصل کئے بغیر واپس آئے تھے۔ چنانچہ حدیبیہ سے مدینہ واپس جاتے ہوئے راستہ میں جب سورہ فتح نازل ہوئی تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو کوئی فتح نہیں۔ انہوں نے ہم کو بیت اللہ میں داخلہ سے روک دیا۔ آپ نے فرمایا۔ بلکہ…
…ہوگئے تو ایک ابوبکر صدیق کو چھوڑ کر تمام اصحاب رسول نے اس پر اپنی عدم رضا مندی کا اظہار کیا۔ کوئی بھی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار اور دباؤ کے تحت آخر کار وہ اس پر راضی ہوئے۔
یہاں سوچنے کی بات ہے کہ بدر واحد میں اور حدیبیہ میں کیا فرق ہے کہ اصحاب رسول جیسا سرفروش گروہ بدر واحد کی قربانی کے لئے بخوشی راضی ہوگیا مگر حدیبیہ کی قربانی پر راضی ہونا اس کے لئے سخت مشکل بن گیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بدر واحد کے محاذ پر جان کی قربانی دینا تھا، اور حدیبیہ کے محاذ پر وقار کی قربانی دینے کا مسئلہ تھا۔ اور سارسی تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے جان کی قربانی اتنی آسان ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں بے شمار لوگ مسلسل…
…صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ چھیڑے ہوئے تھے اور بظاہر اس پر راضی نہ تھے کہ آپ کا اور آپ کے موحدانہ مشن کا خاتمہ کئے بغیر وہ اپنی جنگ جوئی کو ختم کر دیں۔ انہیں سرکش سرداروں کے خوف سے مکہ اور اطراف مکہ کے لوگ اسلا م قبول کرنے سے گھبراتے تھے۔
کسی ندی میں پانی بہہ کر آئے اور بیراج کے آہنی گیٹ پر رک جائے۔ اب ایک طرف پانی کے ذخائر ہیں اور دوسری طرف کھیت اور باغات۔ ایسی حالت میں اگر روک دروازہ کو ہٹا دیا جائے تو پانی کا سیلاب اپنے آپ بہہ کر کھیتوں اور باغوں میں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ پانی کے ذخیرہ کو ھکا دے کر آگے بڑھایا جائے۔
اس وقت قریش کی جنگ جوئی اسی قسم کے ایک روک دروازہ (trap door) جیسی ہوگئی تھی۔ مسئلہ صرف دریائی روک کو ہٹانے کا تھا۔ روک کے ہٹنے کے بعد یقینی تھا کہ ہدایت کا سیلاب اپنے آپ یلغار کرکے لوگوں کے دلو ں میں داخل ہو جائے گا۔
…اخوان وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے(وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا" قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ "أَنْتُمْ أَصْحَابِي. وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ) صحيح مسلم،حدیث نمبر249۔
ابو عبیدہ بن الجراح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا امت میں کوئی ہم سے بہتر ہے۔ ہم آپ پر ایمان لائے۔ اور آپ کے ساتھ جہاد کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ وہ لوگ جو میرے اوراوپر ایمان رکھیں اور انہوں نے مجھ کو دیکھا نہ ہوگا(يَا رَسُولَ اللهِ أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا آمَنَّا بِكَ وَجَاهَدْنَا مَعَكَ؟ قَالَ: قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 3538۔
اس حدیث میں لَم یرَوۡنیِ محض لفظی معنوں میں نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ایک ایسا پیغمبر جو بعد کے زمانہ میں تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت بننے والا ہو، جس کی عظمت مسلمہ عظمت کا درجہ حاصل کرنے والی ہو، اس کو ماننا کوئی امتیازی خصوصیت کی بات نہیں ہو…
…یہ واضح فرمایا کہ ہمار مقصد ہرگز جنگ نہیں ہے۔ بلکہ صرف زیارت کعبہ ہے۔ ایسی حالت میں حدیبیہ پہنچ کر جنگ کی بیعت لینے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ پھر بیعت الرضوان کی حقیقت کیا تھی۔ اس کے سلسلہ میں اس کا مختصر تاریخی پس منظر بیان کرنا ہوگا۔
بیعت الرضوان(6ھ) اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے جو حدیبیہ کے ضمن یں پیش آیا۔ یہ سفر اصلاً عمرہ کرنے کے لئے ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا۔ اس وقت قریش سے آپ کی صلح کی بات چیت شروع ہوئی۔ اس دوران آپ نے حضرت عثمان بن عفان کو اپنا سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا تاکہ وہ اہل مکہ کو بتائیں کہ آپ مکہ میں صرف عبادت کے لئے داخل ہونا چاہتے ہیں نہ کہ جنگ اور ٹکراؤ کے لئے۔
قریش اس بات پر راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے حضرت عثمان کو اپنے یہاں روک لیا۔ جب آپ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو مشہور ہوگیا کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا ہے۔ یہ خبر بے حد غیر معمولی تھی۔ چنانچہ اس کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے…
…قریش کا 200 سواروں کا دستہ مکہ سے روانہ ہو کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔ آپ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے اصحاب سے یہ نہیں فرمایا کہ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ بلکہ آپ نے اپنا راستہ بدل دیا۔ اس طرح قریش کی فوج سے ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔
اپنی جماعت کے سب سے زیادہ نرم مزاج آدمی کو اس سفارت کے ساتھ بھیجا کہ ہم صلح کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پھر جب قتل کی خبر ملی اس وقت بھی آپ نے ایسا نہیں کیا کہ خبر ملتے ہی قریش کے اوپر ٹوٹ پڑیں۔ بلکہ اپنے مقام پر ٹھہر کر لوگوں سے صرف اس بات کی بیعت لی کہ ہم یہیں جمے رہیں گے۔ قریش اگر خود سے لڑنے کے لئے آتے ہیں تو مقابلہ کریں گے۔ اور وہ صلح پر راضی ہوتے ہیں تو صلح کر لیں گے۔ خواہ یہ صلح یکطرفہ شرطوں پر کیوں نہ ہو، جیسا کہ آپ نے عملاً کیا۔ بیعت الرضوان کے باوجود صلح کر لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیعت اصلاً جنگ کے لئے نہ تھی۔ اگر وہ جنگ کے لئے ہوتی تو ناممکن تھا کہ اس کے بعد اپنے دشمن سے یکطرفہ شرطوں پر صلح کر لیں۔
حضرت عثمان بن عفان جب مکہ گئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی حیثیت سے وہاں گئے تھے۔ بین الاقوامی رواج کے مطابق سفیر کاقتل اعلان جنگ کے ہم معنی ہوتا ہے۔ جب یہ خبر ملی کہ قریش نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا ہے تو قدرتی طور پر…
…ذہن کے تحت تمام مسلمانوں کو متحد کرکے جنگ کا طریقہ اختیار کرتے۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ مقابلہ کے بجائے ترک مقام کو اختیار کرنا تھا۔
حدیبیہ کے واقعہ میں آپ کے لئے جنگ اور واپسی میں انتخاب کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ آپ نے یہاں بھی جنگ کے طریقہ کو چھوڑا اور میدان سے واپسی کے طریقہ کو لے لیا۔
جن لوگوں نے حج یا عمرہ کیا ہے۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ کعبہ سے متصل ایک جگہ ہے جس کو حطیم کہا جاتا ہے۔ یہ جگہ حضرت ابراہیم کی تعمیر کے مطابق، کعبہ میں شامل تھی۔ بعد کو مشرکین نے نئی تعمیر کے وقت اس کو الگ کر دیاا۔ فتح مکہ کے بعد آپ کو موقع…
مواقع کا استعمال
اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کا واقعہ اجتماعی حکمت کی ایک عظیم الشان مثال ہے۔ مکہ کے قریش نے اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی سخت مخالفت کی۔ مگر شروع ہی سے ان کے درمیان ایک عنصر موجود تھا جو یہ چاہتا تھا کہ ہم محمد سے براہ راست نہ ٹکرائیں۔ بلکہ ان کا رخ دوسرے عرب قبائل کی طرف پھیر دیں۔ پیغمبر اسلام نے اس ذہن کو اپنے حق میں استعمال کیا۔
مکہ کے سرداروں میں ایک ممتاز سردار عُتبہ بن ربیعہ تھا۔ ہجرت سے قبل کا واقعہ ہے کہ قریش نے ایک بار عُتبہ کو اپنا نمائندہ بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس ملاقات کا تفصیلی بیان سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ عُتبہ جب آپ سے…
اختلاف کو مینج کرنا
قدیم زمانہ ٹرائبل ایج کا زمانہ تھا۔اس زمانے میں ایسا تھا کہ اختلاف بہت جلد ٹکراؤ بن جاتا تھا، اور ٹکراؤ بہت جلد لڑائی کی صورت اختیار کرلیتا تھا۔ ٹرائبل ایج (قبائلی دور) میں لوگ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ جانتے تھے۔ وہ تھا ٹکراؤکا طریقہ۔ لیکن ٹکراؤ کا طریقہ مسائل کو حل نہیں کرتا تھا، بلکہ ہر ٹکراؤ کے بعد ایک اور ٹکراؤ وجود میں آتا تھا۔ یعنی ایکشن کے بعد ری ایکشن۔اس کو ایک لفظ میں چین ری ایکشن کہا جاسکتا ہے۔
اس کے مقابلے میں موجودہ زمانے میں ایک اور طریقہ وجود میں آیا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں ’’مسائل کو مینج کرنا ‘‘کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ آزادیِ رائے کا زمانہ ہے۔ آپ کسی بھی شخص سے کسی بھی مسئلے پر تبادلۂ خیال کرسکتے ہیں۔اس طرح یہ ممکن…
…بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس وقت قرآن میں اس مفہوم کی کوئی آیت نہیں اتری طَہِّرْ الْكَعْبَةَ مِنَ الْأَصْنَامِ (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔بلکہ اس کے بجائے قرآن میں یہ آیت اتری وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (74:4)۔ یعنی، اپنے اخلاق کو درست کرو۔
اس قرآنی اُصول پر عمل کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ آپ نے مکہ کے تیرہ سالہ قیام کے زمانہ میں کبھی بتوں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کو توحید کا پیغام دینے کی پر امن جدوجہد شروع کردی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ ان میں ایک نمایاں مثال صلح حدیبیہ 628ء کا واقعہ ہے۔ یہ صلح گویا ڈیفرنس مینجمنٹ (difference management) کی ایک کامیاب مثال تھی جو انسانی تاریخ میں غالباً پہلی بار نہایت کامیابی کے ساتھ قائم کی گئی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سخت انتباہ دیا تھا کہ اختلاف خواہ کتنا ہی بڑا ہو وہ ہرحال میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول پر اس کو حل کرے۔ کسی بھی حال میں وہ ایسا نہ کرے کہ اتحاد کے نام پر اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے۔ حدیث کے…
نزاع کا مسئلہ
دو فریقوں کے درمیان اگر نزاع پیدا ہوجائے تو اس وقت یہ موقع نہیں ہوتا ہے کہ کون صحیح ہے، اور کون غلط۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ یہ تلاش کریں کہ نزاع کو فوری طور پر ختم کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ کیوں کہ نزاع کو ختم کرنے سے آپ کو نیا اسٹارٹنگ پوائنٹ (starting point)مل جاتا ہے، اور اگر آپ نزاع کو ختم نہ کریں تو آپ کو کوئی اسٹارٹنگ پوائنٹ نہیں ملے گا۔ آپ ہمیشہ منفی ذہن میں جیتے رہیں گے،اور نئے آغاز کے لیے کوئی سرا کبھی نہ پاسکیں گے۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے 610 عیسوی میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اس وجہ سے قدیم مکہ کے قریش آپ کی مخالف ہوگئے۔ یہاں تک کہ تیرہ سال بعد آپ کو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانا پڑا۔ اس کے باوجود اہل قریش آپ کے خلاف نزاع کے طریقے پر باقی ر ہے۔ چنانچہ 628…
…تم سے جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو۔ایسی حالت میں اس مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ— رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ۔
یہی ہمیشہ خود علما ئے امت کا موقف رہا ہے۔ وہ مذکورہ قسم کے جملے صرف مستنبطات کے بیان میں لکھتے ہیں نہ کہ منصوصات کے بیان میں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام میں نماز پانچ وقت کی نہیں ہے بلکہ صرف دو وقت یا تین وقت کی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جب علما صالحین اپنانقطۂ نظر بیان کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے مضمون کے آخر میں لکھیں کہ نَحْنُ عَلَى الصَّوَابِ مَعَ ٱحْتِمَالِ ٱلْخَطَإِ، أَنْتُمْ عَلَى ٱلْخَطَإِ مَعَ ٱحْتِمَالِ ٱلصَّوَابِ(ہم درست راستے ہیں اگر چہ غلطی کا امکان ہے، اور دوسرے لوگ غلطی ہیں، اگر یہ امکان ہے کہ وہی حق پر ہوں)۔
البتہ کچھ دوسرے قسم کے مسائل جن کی بنیاد نص پر نہیں ہے بلکہ استنباط پر ہے ، ان کے بیان میں علما مذکورہ قسم کا اعتراف درج کرتے ہیں۔ مثلاً علما کا ایک طبقہ اگریہ اصرار کرے کہ جراب پر مسح کی اجازت صرف اس جراب کے لیےہے جو قدیم طریقہ کے مطابق…
…مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں، بیشک یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔ تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو تاریخی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، وہ فطرت کے قوانین کے بنا پر ہوتی ہیں۔ اس کا سبب کسی کی دشمنی یا کسی کی سازش نہیں ہوتا۔ اس لیے جب کسی قوم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا صحیح رسپانس یہ نہیں ہے کہ کھوئی ہوئی چیز پر غم کیا جائے۔ بلکہ اس کا صحیح رسپانس ہے ہونے والے واقعے کو فطرت کے خانے میں ڈالنا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان کے اندر صحیح سوچ جاگے گی۔ وہ حقیقت واقعہ کا بے لاگ جائزہ لے گا۔ اس طرح وہ اس قابل بن جائے گا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کرے، اور کھوئی ہوئی چیز کو نئے عنوان سے از سر نو حاصل کرلے۔
پیغمبر اسلام کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ احد کی جنگ میں آپ کے ساتھیوں کو شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد آپ اور آپ کے ساتھی غم میں نہیں پڑے، بلکہ انھوں نےسارے معاملے پر از سر نو سوچنا شروع کیا ۔ اس طرح ان کے اندر یہ سوچ ابھری کہ وہ جنگ کے میدان…
…اعتراض کیا کہ ہم آپ کو رسول نہیں مانتے ، آپ لکھیے محمد بن عبد اللہ ۔ پیغمبر اسلام نے اس مطالبہ کو بلابحث مان لیا، اور حکم دیا کہ معاہدہ کے کاغذ پر لکھا جائےامح يا علي واكتبهذا ما صالح عليه محمد بن عبد اللہ (مسند احمد، حدیث نمبر3187) ۔
معاہدہ حدیبیہ کے بعد حالات میں انقلابی تبدیلی ہوئی۔ یہاں تک کہ دوسال کے اندر مکہ جنگ کے بغیر فتح ہوگیا— معاہدۂ حدیبیہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اگر تم فتح چاہتے ہو تو پہلے اپنی شکست کو تسلیم کرو، اگر تم آگے بڑھنا چاہتے ہو تو پہلے پیچھے ہٹنے پر راضی ہوجاؤ، اگر تم چاہتے ہو کہ رسول اللہ کا ٹائٹل صفحۂ عالم پر لکھا جائے تو بوقت ضرورت تم اس کو کاغذ پر مٹانے کے لیے راضی ہوجاؤ۔
پریکٹکل وزڈم کا ایک حکیمانہ اصول ہے، جس کو وقت حاصل کرنے کی تدبیر (buying-time strategy) کہا جاسکتا ہے۔ حدیبیہ میں قیام امن کے لیے فریقِ ثانی کی شرطوں کویک طرفہ طور پر مان لینا گویا یہی تدبیر تھی۔ یہ تدبیر موثر ثابت ہوئی، اور اس کے بعد بہت…
…بنا پر توحید کے مخالفوں نے پیغمبراسلام کے خلاف جارحانہ کارروائی کرکے آپ کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی ہر فرد اور ہر گروہ کا ایک مسلّم حق بن چکی ہے ۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں مذہبی حقوق کے لیے جنگ کا کوئی سوال نہیں۔
اسلام میں امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر ناخوش گوار صورت حال کو برداشت کرتے ہوئے حالت امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔ فریقِ مخالف کی ایذا رسانی پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا اور اس کو ہر قیمت پر یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ باقی رکھنا اسلام کا اہم اصول ہے۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا کیوں کہ اسلام کی تعمیری سرگرمیاں صرف پر امن اور معتدل ماحول ہی میں انجام دی جاسکتی ہیں۔ اس معاملہ میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ فریق ثانی کی طرف سے عملی جارحیت ہے۔
پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنے پیغمبرانہ مشن کا آغاز کیا۔ اس سلسلہ میں آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس مدت میں مکہ کے مخالفین کی طرف سے بار بار زیادتیاں کی گئیں۔ مگر پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں نے ان زیادتیوں کو یک طرفہ طورپر…
صلح حدیبیہ
صلح حدیبیہ کیا ہے۔ صلح حدیبیہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ جب یہ صلح ہوئی تو اس کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا(48:1)۔ یعنی یہ صلح تمہارے لیے فتح کی ایک یقینی ضمانت ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 ء میں شروع کیا۔آپ کا یہ مشن توحید کا مشن تھا۔ اُس وقت عرب میں بہت سے مشرک لوگ رہتے تھے۔ یہ لوگ آپ کے مشن کو پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ یہ لوگ آپ کے سخت مخالف بن گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے…
فتح مبین کا راز
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے مگر مکہ کے سرداروں نے سراسر ناحق طورپر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہوسکے۔
صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فورًا بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل ہوئی۔ اس سورہ میںاعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لیے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو …
امن اور انصاف
امن کے ساتھ آپ ابدی طورپر رہ سکتے ہیں مگرجنگ آپ ابدی طورپر نہیں لڑسکتے— کشمیر کے لیڈروں کو شاید اس آزمودہ تاریخی حقیقت کا علم نہیں۔ وہ اپنی بے نتیجہ جنگ کو مسلسل طورپر جاری رکھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ یہ بے نتیجہ جنگ اب خود کش بمباری کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ خود کش بمباری کا طریقہ جاپان نے دوسری عالمی جنگ میں ان کے مقابلہ میں ہزار گنازیادہ بڑے پیمانہ پر استعمال کیا مگر وہ مکمل طورپر ناکام رہا۔ دنیا میں کبھی کوئی بادشاہ بھی کسی جنگ کو ابدی طورپر جاری نہ رکھ سکا۔ پھر کشمیر کے کمزور عوا م کس طرح اس بے نتیجہ جنگ کو ابدی طورپر جاری رکھ سکتے ہیں۔ آخر کار جو کچھ ہونے والا ہے وہ یہ کہ کشمیر کے جنگجو تھک جائیں اور مجبورانہ طورپر اپنی جنگ کو ختم کردیں۔ مگر صحیح یہ ہوگا کہ کشمیر کے لوگ دانش مندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خود اپنے فیصلہ کے تحت اس تباہ کن جنگ کا خاتمہ کردیں۔
کشمیر کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات ہوئی۔ میںنے کہا کہ کشمیر میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن (peace) ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی امن چاہتے ہیں، مگر کون سا امن۔ امن وہ ہے جس کے ساتھ انصاف ملے، جس امن کے ساتھ انصاف شامل نہ ہو وہ…
حکمت اور صبر
موجودہ دنیا میں کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے حکمت اور صبر لازمی طور پر ضروری ہیں۔ حکمت اور صبر کے بغیر نہ دین کا کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا اور نہ دنیا کا ۔
حکمت کی جڑ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہر قسم کے ظلم کے باوجود ظالموں سے نہیں لڑے ۔ مگر مدینہ میں حسب ضرورت آپ نے ظالموں کا مقابلہ کیا ۔ غزوۂ حمراء الاسد کا سفر بآواز بلند…
…کا منہاج لوگوں کو شریک کرکے حق کو سربلند کرنا ہے۔ جنگ کا منہاج اگر صرف میں کا نام ہے تو حدیبیہ منہاج میں اور آپ دونوں کا نام۔ جنگ کے منہاج میں نفرت کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں محبت کامیابی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔
حدیبیہ کا واقعہ نبوت کے تقریباً20 سال بعد پیش آیا۔ غور کیجئے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس طریقہ کو اختیار کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ حدیبیہ منہاج کے اس پہلو پر غور کیا جائے تو اس سے ایک اور عظیم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔
اس معاملہ کا سراغ سورہ الفتح کے مطالعہ سے ملتا ہے۔ اس میں اصحاب رسول کو مخاطب کرکے بتایا گیا ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب قریش کے سرداروں نے سرکشی کا مظاہرہ کیا تو یہ ممکن تھا کہ تم کو جنگ کی اجازت دیدی جائے اور اللہ کی مدد سے تمہیں فتح بھی…
اسوۂ حسنہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے قدیم مکہ میں دعوت کا کام شروع کیا تو مکہ کے لوگ، خاص طور پر وہاں کے سردار آپ کے سخت مخالف ہوگئے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سخت ترین تکلیفیں دیں۔ مگر آپ کو حکم دیا گیا کہ تم کوئی جوابی کارروائی نہ کرو بلکہ یکطرفہ طور پر ان کی سختیوں کو نظر انداز کرو(داع اذاھم) الاحزاب، 33:48۔
اس طرح آپ13 سال تک صبر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے۔ انہوں نے تلوار لے کر آپ کے مکان کو گھر لیا۔ اس وقت بھی آپ نے مقابلہ نہیں کیا۔ بلکہ اللہ کے حکم سے آپ خاموشی سے مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔
…اور اخلاق کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی ایسے حکام بیان کرتے ہیں جن کا تعلق سیاست اور اجتماعی قانون سے ہوتا ہے۔ کبھی آپ آخرت کے مسئلہ پر اس طرح زور دیتے ہیں جیسے کہ وہی سب کچھ ہے اور کبھی دنیوی تدبیروں کی اہمیت بتاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس قسم کا فرق و اختلاف کے نمونہ کو تعبیر کی نوعیت ایک چیز بنا دیتا ہے۔ آپ کے نمونہ سے ہدایت لینے کے لیے ضروری ہوتی ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق جانے۔ وہ ایک حالت میں اور دوسری حالت میں تمیز کر سکے۔ وہ اس حکمت سے آگاہ ہو کہ کب کون سا اسوہ مطلوب ہے اور کب کون سا اسوہ مطلوب ہے۔
اسی کا نام تعبیر صحیح ہے۔ اور اس تعبیر صحیح کی استعداد آدمی کے اندر صرف اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ خوف خدا اور فکر آخرت نے اس کو انتہائی حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ ایک موقع کی بات کو دوسرے موقع پر چسپاں کر دے گا۔ وہ…
…مکہ کے آدمیوں نے خشت باری کی مگر آپ نے اس کا انتقام نہیں لیا۔ اس طرح کے متعدد اشتعال انگیز واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے ان سب سے اوپر اٹھ کر سوچا(دیکھیے، سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ309-319)۔ آپ نے کلی مصلحت کو جزئی مصالح کے اوپر غالب رکھا۔
حدیبیہ کے وقت جو حالات تھے وہ سب کے سب ٹکراؤ کی طرف لے جانے والے تھے۔ اور ظاہری احکام شریعت کے مطابق ، اس وقت یہ ٹکراؤ عین جائز بھی تھا۔ مگر آپ نے اس قسم کے تمام حالات سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ آپ نے قریبی مصلحتوں کو نظرانداز کر کے دور کی پائیدار مصلحتوں کو اہمیت دیتے ہوئے صلح کے معاہدہ پر دستخط کر دئیے۔ اس کا نتیجہ، قرآن اور تاریخ کی شہادت کے مطابق ، فتح مبین کی صورت میں برآمد ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں کلی اجتہاد کی ایک نہایت ممتاز مثال قائم کی ہے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس لیے ہوا کہ وہ اہل ایمان کے لیے ایک نمونہ ہو جائے اور ان کو ایک سیدھا راستہ دکھا دے (48:20)۔…
…عظیم حکمت اور عظیم رہنمائی موجود ہے۔ اس پیغمبرانہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملات میں آدمی کو آئیڈیل کے بجائے پریکٹیکل کو دیکھنا چاہئے ، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ وہ سچے اہل ایمان کے ساتھ معاملہ کر رہا ہو جیسا کہ اصحاب رسول تھے۔
اجتماعی زندگی میں معاملہ کرتے ہوئے بار بار ایسا پیش آتا ہے کہ ایک صورت وہ ہوتی ہے جو اس معاملہ میں آئیڈیل صورت ہوتی ہے۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ اگر آئیڈیل یا معیاری حل پر اصرار کیا گیا تو بات مزید بگڑ جائے گی۔ ایسی حالت میں پیغمبرانہ سنت یہ ہے کہ معیاری حل پر اصرار نہ کیا جائے ، بلکہ عملی حل کو قبول کر لیا جائے۔
آزادانہ غور و فکر کا ماحول ہو تو آدمی اس سنت رسول کو دریافت کرے گا جس میں بیشمار فوائد چھپے ہوئے ہیں۔ اور اگر قدیم ذخیرہ پر آزادانہ غور و فکر کا ماحول نہ ہو تو وہ اس عظیم سنت سے آگاہ نہ ہو سکے گا۔ اور نتیجتاً اس کے دوررس فائدوں سے بھی…
…کا دل جیتنے کے لیے اس سے بڑا کوئی حربہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی بدزبانی کا جواب نرم باتوں سے دیا جائے۔ ہتھیار کے حملے کی تاب لانا تو ممکن ہے مگر کردار کے حملے کے مقابلے میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔ یہاں ہر شخص کو اپنی شکست تسلیم کرنی پڑتی ہے۔
براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر تین شرطوں کےساتھ قریش سے معاہدہ کیا تھا جن میں سے ایک شرط یہ تھی
جو غیر مسلم اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے یہاں چلا جائے اس کو وہ واپس کر دیں گے، مگرجو مسلمان ہمارے پاس آجائے گا ہم اس کو واپس نہیں کریں گے۔
…ہوا۔ مسلمانوں کی تعداد اگرچہ صرف313 تھی۔ لیکن اللہ کی خصوصی مدد سے یہ لوگ کامیاب ہوئے۔ اس جنگ میں مسلمانوں میں سے چودہ آدمی شہید ہوئے۔ دوسری طرف مشرکین میں سے70 آدمی مارے گئے اور ستر گرفتار ہوئے۔ ان میں زیادہ تعداد مکہ کے سرداروں کی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے بعد تین دین بدر میں ٹھہرے۔ اس کے بعد وہاں سے روانہ ہو کر مدینہ واپس آئے، واپس آنے والوں میں وہ70 مشرکین بھی تھے جو بدر کی جنگ میں گرفتار ہوئے تھے۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو قدیم زمانہ کے لحاظ سے پڑھے لکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ان میں سے جو شخص مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے اس کو رہا کر دیا جائے گا۔ چنانچہ کئی لوگوں نے اس طرح تعلیمی خدمت کے ذریعہ قید سے رہائی حاصل کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب(سیکرٹری) حضرت زید بن ثابت انصاری پہلے لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے انہی بدری قیدیوں سے لکھنا اور پڑھنا سیکھا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب خاص بن گئے اور یہی تھے جنہوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں قرآن کا مکمل نسخہ لکھ کر تیار کیا اور پھر یہی تھے جنہوں نے حضرت عثمان کے زمانہ میں قرآن کے مزید کتابت شدہ نسخے تیار کیے۔
اس زمانہ میں مدینہ میں قیدیوں کو رکھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انتظام اس طرح کیا کہ ان قیدیوں کو مختلف مسلمانوں کے حوالہ کر دیا اور کہا کہ ان کو اپنے گھروں میں رکھو۔ اس سلسلہ میں آپ نے حکم بھی…
ذوالقعدہ6ھ
حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے جس کے متصل ایک گائوں آباد ہے جواسی نام سے مشہور ہے۔ یہ گائوں مکہ سے 9 میل کے فاصلہ پر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ اور آپ کے اصحاب مکہ پہنچ کر اس کے اندر داخل ہوئے اور وہاں عمرہ کیا۔ اس خواب کے بعد یکم ذی القعدہ6ھ کو رسول اللہ عمرہ کے ارادہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ تقریباً پندرہ سو مہاجرین…
…کہ قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو کیوں کہ یہ شخص ایک ایسے قبیلہ سے ہے جس میں قربانی کے جانوروں کی تعظیم کی جاتی ہے۔ حلیس قربانی کے جانوروں کو دیکھ کرراستہ ہی سے واپس ہوگیا اور قریش سے کہاکہ ان لوگوں کو عمرہ کرنے دو لیکن قریش تیار نہ ہوئے۔
آخر کار قریش نے سہیل کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہی کو آتے دیکھا تو کہا قد سھل لکم من امر کم۔ یعنی اب تمہارا معاملہ آسان ہوگیا۔ سہیل آپ کے پاس آیا اور دیر تک صلح اور شرائط صلح پر گفتگو ہوتی رہی۔ جب شرائط صلح طے ہوگئیں تو رسول اللہ نے حضرت علی کو لکھنے کاحکم دیا۔ صلح کی شرطیں یہ تھیں
1۔ دس سال تک آپس میں لڑائی موقوف رہے گی۔
شاہان عالم کے نام خطوط
صلح حدیبیہ کا واقعہ6ھ میں پیش آیا۔ اللہ نے اس صلح کو ایک کھلی فتح فَتْحًا مُبِينًا سے تعبیر کیا۔ نیز اس کے ذریعہ ایک قریبی فتح(فَتْحًا قَرِيبًا)48:18 کی خوش خبری بھی سنائی۔
صلح حدیبیہ ایک بہت ہی دور رس منصوبہ بندی کے نتیجہ کے طور پر ظہور میں آنے والا واقعہ تھا۔ یہ دراصل اضطراب میں اطمینان کی تلاش تھی۔ یہ ایک سکینۂ ربانی تھا جو اللہ کی طرف سے بطور خاص نازل کیا گیا تھا۔ اس کا مقصود یہ تھا کہ دعوتِ اسلام اور…
اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف ڈائلاگ کے اصول نہیں بتائے گیے ہیں بلکہ ڈائلاگ کے اصول کا عملی تجربہ بھی بار بار کیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اِس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
پیغمبر اسلام نے اپنے مشن کے مکّی دو رمیں بار بار ڈائلاگ کے اصول پر عمل کیا۔ مثلاً ایک بار قریش نے اپنے سردار عقبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر پیغمبر اسلام کے پاس بھیجا۔ تاکہ باہمی اختلاف کے موضوع پر بات چیت کرکے صُلح کا ماحول بنایا جائے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقبہ نے نہایت غور کے ساتھ آپ کی باتیں سنیں اور قریش کے پاس جاکر انھیں اِس سے آگاہ کیا۔ اِسی طرح ایک بار آپ کے چچا ابو طالب کی دعوت پر آپ اور قریش کے نمائندے اکھٹا ہوئے اور اختلافی موضوعات پر پُرامن انداز میں بات چیت ہوئی۔
اِسی طرح حدیبیہ کے موقع پر پیغمبر اسلام اور قر یش کے درمیان ایک گفت و شنید ہوئی۔ اِس کا سلسلہ تقریباً دو ہفتے تک جاری رہا۔ اِس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان وہ معاہدۂ امن طے پایا جس کو معاہدۂ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہہ پُرامن…
…مشرکین کو الزام دینے کے بجائے خود مسلمانوں کو نصیحت کی گئی۔ قرآن میں یہ آیت اتری : حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ [آل عمران: 152] یعنی جب تم کمزور پڑ گئے اور معاملے کے بارے میں تمھارے اندر نزاع پیدا ہو گئی ۔
تقابلی اعتبار سے دیکھیے تو اس معاملے میں دوسری صورت یہ تھی کہ حملہ آور مشرکین کے خلاف غصے کا اظہار کیا جاتا ، جیسا کہ اس طرح کے معاملات میں مسلم رہنماؤں کا عام طریقہ ہے۔ وہ ایسے مواقع پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہیں۔ اور احتجاج کی زبان میں کلام کرتے ہیں ۔ مثلاً بیسویں صدی کے ربع اول میں جب اٹلی کی فوجیں لیبیا میں داخل ہو گئیں تو ایک مشہور عالم نے اپنے جذبات کا اظہاران الفاظ میں کیا :
كيف القرار وقد نكس أعلامنا بطرابلس
موجودہ زمانے میں، اسٹیج اور میڈیا کے ظہور نے صورتِ حال کو بالکل بدل دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ آدمی پُر جوش تقریریں کرکے اسٹیج پر نمایاں ہو۔ اخباروں میںاس کی تصویریں چھپیں۔ ٹی وی کے پروگراموں میںاس کا شان دار مظاہرہ ہو، وغیرہ۔
اِس طرح کی چیزوں نے آج کے ذہین لوگوں کو علم سے بے رغبت کردیا ہے۔ اسٹیج اور میڈیا میں نمایاں ہونا، اُن کے لیے زیادہ پرکشش بن گیا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو صحابی رسول نے پیشین گوئی کے انداز میں بیان کیا۔
علم والا آدمی سوچ کر بولتا ہے اور خطابت والا آدمی سوچے سمجھے بغیر اپنی تقریر شروع کردیتا ہے۔ اِس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ علم والا آدمی مُصلح کا درجہ پاتا ہے، اور خطابت والا آدمی مفسد کا درجہ۔مستقبل کی تعمیر کے لیے، ہمیشہ اہلِ علم…
…46)۔ دعوتی مشن ہی آپ کی پوری زندگی کا مشن تھا۔ اِسی دعوتی مشن کا نمونہ آپ نے اپنی امت کو دیا۔ پیغمبراسلام کی پیروی میں آپ کی امت کو بھی اِسی دعوتی نمونے پر قائم رہنا ہے۔ اِس کے سوا جو چیزیں ہیں، وہ سب کی سب ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب 610 ء میں نبوت ملی تو اُس وقت بھی آپ کا مشن دعوت تھا جس کو قرآن میںانذار اور تبشیر کہاگیا ہے۔ آپ مکہ کے اجتماعات میں جاتے اور لوگوں سے کہتے أیہا الناس، قولوا لا إلہ إلاّ اللہ، تفلحوا (اے لوگو، لا الٰہ الا اللہ کہو، تم فلاح پاؤگے)۔ 13 سال کے بعد جب مکہ کے حالات سخت ہوگئے تو آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرت بھی اِسی لیے تھی کہ دعوت کے نئے مواقع کو استعمال کیا جاسکے۔ آپ نے ہجرت سے پہلے اپنے دو نمائندے مدینہ بھیجے، جن کو مُقری کہاجاتا تھا، یعنی قرآن کو سنا کر دعوت کا پیغام دینے والا۔ اِس کے بعد جب آپ خود مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو وہاں بھی آپ نے اپنے پہلے خطاب میں لوگوں سے کہا اتقوا النار ولو بشق تمرۃ (اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو)۔
قریش مکہ اُس وقت آپ کے دشمن ہوچکے تھے۔ ہجرت کے بعد انھوں نے یک طرفہ طورپر جارحانہ اقدام کرکے آپ کو الجھانے کی کوشش کی، لیکن آپ مختلف تدبیروں کے ذریعے ہمیشہ جنگ کو اوائڈ کرتے رہے۔ صرف تین بار مجبورانہ طورپر اصحابِ رسول اور قریش مکہ کے…
…of one of the prisoners, a Jewish one, because it was in Yiddish, in the Jewish language, the word was necume, take revenge. This was the last word of a man tortured in that room, a victim in Buchenwald. Revenge. What revenge can we take?
Amazing. I am a believer, I believe in the Lord almighty, not only because I am a Rabbi or because I am Jewish, but because I am a man, a human being.
I believe from heaven it happened: two or three hours ago, here in the city of Krakow, I arrived last night only for this ceremony, I received a phone call from my granddaughter. “Grandfather — she said — half an hour ago I brought you a…
جواب
اصل یہ ہے کہ کسی واقعہ کو دیکھنے کے دو زاویے(angles) ہوتے ہیں ۔ ایک، مثبت زاویہ اور دوسرا منفی زاویہ۔ ایک واقعہ مثبت زاویہ سے دیکھنے میں صحیح واقعہ نظر آئے گا۔ اسی واقعہ کو دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو وہ منفی واقعہ بن جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صلح حدیبیہ پیش آیا۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمر فاروق نے منفی زاویہ سے دیکھا تو ان کو وہ پسپائی کا ایک واقعہ نظر آیا۔ انھوں نے کہا کہ لم نعطی الدنیۃ فی دیننا(الأوسط فی السنن، رقم الحدیث 244)۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اس کو مثبت زاویہ سے دیکھا اور قرآن میں اعلان کیا گیا کہ یہ فتح مبین ہے (الفتح 1 )
آپ کی غلط فہمی یہ ہے کہ آپ نے مذکورہ اجتماع میں میری شرکت کو دوستی کے زاویہ سے دیکھا اور اس کو صاحب کتاب کاendorsement سمجھ لیا۔ آپ کے لیے صحیح یہ تھا کہ آپ اس کو دعوت کے زاویہ سے دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ مذکورہ اجتماع میں میری…
…نہ تھی۔ اِس موقع پر جو واقعہ پیش آیا ، وہ صرف یہ تھا کہ فریقین کے درمیان حالتِ جنگ کو ختم کرکے حالت امن کو قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ گویا کہ یہ ایک جنگ بندی (cease fire) کا معاہدہ تھا، جو سیاسی حقوق کی دست برداری کے ذریعے حاصل کیا گیا۔
اِس سے واضح طور پر معلوم ہوتاہے کہ قرآن کے مطابق، امن کا قیام زیادہ بڑی چیز ہے۔ سیاسی فتح اگر صرف فتح ہے تو امن کا قیام فتحِ عظیم۔ دونوں کے درمیان یہ فرق کیوں ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ سیاسی فتح کسی کو صرف انتظامی بالادستی عطا کرتی ہے۔ اِس کے برعکس، امن کے قیام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مواقعِ کار کھل جاتے ہیں، اور مواقع کار کا کھلنا، ہر قسم کے امکانات کا کھل جانا ہے۔
فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتّاب بن اَسید (وفات610 ھ) کو مکہ میں بطور عامل مقرر کیا۔ اِس کے مقابلے میں، حدیبیہ کے موقع پر جو معاہدۂ امن ہوا، اس کے بعد جو مواقع کار کھلے، ان مواقع کو رسول اور اصحابِ رسول نے دعوت وتبلیغ…
حقیقی تصویر، تاریخی تصویر
آج جب اصحابِ رسول کا نام لیا جاتا ہے تو اُس وقت تک اُس کو مکمل نہیں سمجھا جاتا، جب تک کہ اُن کے نام کے ساتھ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسے تعظیمی الفاظ شامل نہ کیے جائیں۔ آج اصحاب رسول کا لفظ مسلّمہ طور پر ایک پُر عظمت لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصحابِ رسول کی یہ تصویر اُس وقت بنی ہے، جب کہ اُن کے ساتھ بعد کی تاریخی عظمتیں شامل ہوگئیں۔ لیکن اصحاب رسول کی تصویر اُن کے معاصرین کے لیے بالکل عام انسانوں جیسی تھی۔ صلح حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان صلح کی گفتگو ہوئی تھی۔ اُس وقت آپ کے ساتھ چودہ سو اصحاب تھے۔ اُس موقع پر قریش کے نمائندہ عروہ بن مسعود الثقفی نے صحابہ کو دیکھ کر حقارت کے ساتھ اُن کو أشواب یعنی محض ایک بھیڑ (crowd) کا نام دیا تھا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر 3/331)
یہی معاملہ یقینی طور پر بعد کے زمانے کے گروہ، اخوان رسول کے ساتھ بھی پیش آئے گا۔ اُن کے معاصرین کی اکثریت ان کو پہچاننے میں ناکام رہے گی۔ یہ عام انسانی کمزوری ہے۔ مشہور مثل ہے کہ پیغمبر اپنے زمانے میں پہچانا نہیں جاتا(A prophet is never…
…ہوجاتاہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے، کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانے سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ (cog) میں اپنا کاگ ملائیں گے، اور بالآخر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے‘‘۔ (صفحہ 204 )
اِس اقتباس میں جن دو عصابہ کا ذکر تھا، اُن میں سے پہلا عصابہ وہ ہے جس کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ دوسرا عصابہ وہ ہے جس کا ذکر پیشین گوئی کے طورپر حدیثِ رسول میں آیا ہے۔ اِس دوسرے عصابہ کو حدیث میں اخوانِ رسول (إخواننا الذین لم یاتوا بعد) کہا گیا ہے—اصحابِ رسول وہ گروہ ہے جس نے ساتویں صدی عیسوی میں اپنا معلوم تاریخی رول ادا کیا۔ اخوانِ رسول غالباً وہ گروہ ہوگا جو اکیسویں صدی عیسوی میں اپنا مطلوب رول ادا کرے گا۔
اِس قسم کا رول ادا کرنا کوئی سادہ بات نہیں ہے۔ ایسا گروہ ہمیشہ ایک لمبے تاریخی عمل کا نقطۂ انتہا ہوتا ہے۔ اصحابِ رسول اپنے سے پہلے کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا نقطۂ انتہا تھے، اِسی طرح اخوانِ رسول اپنے سے پہلے کے ایک ہزار سال سے زیادہ…
…کو ان تحریکوں کے خلاف استعمال کیا۔ اِس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ امن کے نام پر آخر میں جو چیز قائم ہوئی، وہ صرف بد امنی اور انارکی (anarchy)تھی۔ اِس کی ایک مثال 1947 کے بعد بننے والے ’’گاندھیائی انڈیا‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
تاریخ کی ان تمام مثالوں کے برعکس، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیا فارمولا دریافت کیا۔ اِس فارمولے کا علم آپ کو خدا کی طرف سے دیاگیا تھا۔ اِسی لیے قرآن میںاُس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں علم ما لم تعلموا (48:27) یعنی خدا نے وہ بات جانی، جس سے انسان بے خبر تھا۔
امن کا فارمولا
…یو اے ای (UAE)چلے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا انا ناقد اکبر ناقدٍفي الہند (میں ہندستان کے سب سے بڑے ناقد پر نقد کرنے والا ہوں) ۔ان کی تنقید وں سےمیرے ذہن کے بند گوشے کھلتے تھے، نئی نئی باتیں ذہن میں آتی تھیں، وغیرہ۔
چیلنج کی صورتِ حال انسانی نیچرکے مطابق ہے۔ اس کے برعکس، آرام و راحت کا راستہ انسان کی نیچرکےمطابق نہیں ہے۔میں ایک مرتبہ احمد آباد کے سفر میں ایک فیکٹری دیکھنے گیا۔ نئی امپورٹڈ مشینیں اس فیکٹری میں لگی ہوئی تھیں۔ فیکٹری کے نوجوان مالک نے بات چیت کے دوران ایک جملہ بولا تھااپنی تو لیمیٹشن (limitation)آجاتی ہیں مینجمنٹ سائڈ پر۔ اس جملے نے میرےمائنڈ کو ٹریگر کیا۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح ہر انسان کے لیے اس کی ترقی کی لیمیٹشن (limitation) آجاتی ہے ، جب اس کے لیے چیلنج کا ماحول باقی نہ رہے۔
کسی انسان کی زندگی میں چیلنج کا ماحول کیسے پیدا ہوتا ہے۔ جو انسان دو صفتوںیعنی کامل سادگی اور مکمل قناعت کا حامل ہو، اس کی زندگی میں یہ انقلاب آتا ہے۔ مکمل سادگی کامل عزم کی علامت ہے۔یہ ایک بامقصد زندگی کی علامت ہے۔ عدم قناعت اس بات کی…
…ملتا ہے فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا(48:27)۔ یعنی پس اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہیں جانی۔ مفسر البیضاوی (وفات 1292ء)نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے من الحكمة في تأخير ذلك (تفسیر البیضاوی، جلد5، صفحہ131)۔ یعنی اس تاخیر میں جو حکمت ہے۔
اس صلح کے ذریعہ قریش سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ طے پایا اور نتیجۃً دعوت الی اللہ کے لیے موافق فضا پیدا ہوئی۔ اس صلح کےذریعہ آپ نے اپنے لیے تیاری کا موقع حاصل کیا، اور اتنی زیادہ تیاری کرلی کہ کسی جنگ کے بغیر آپ کو فریق ثانی کے مقابلے میں کامیابی حاصل ہوگئی۔ اسی لیے اس صلح کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔یعنی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیے بغیر بائی ٹائم اسٹرٹیجی کے ذریعے مخالفین کے اوپر غلبہ حاصل کرنا۔
بات کرنے کا طریقہ
16 فروری 1983
گرو نانک کاجو کلام موجود ہے، اس میں سے دوشعر یہ ہیں :
برے نال سب برا کریندے معاف کچھ سیانے
…میں دینا ناجائز ہے۔ اس کے بعد قرآنی تبلیغ کی ایک صورت یہ ہو سکتی تھی کہ قرآن کا صرف ترجمہ چھاپا جائے اور اس کو غیرمسلموں تک پہنچایا جائے۔ مگرعملا وہ بھی ممکن نہیں۔ کیوں کہ ان علماء کے فتوے کے مطابق، قرآن کو متن کے بغیرچھاپنا جائز نہیں۔
اس استدلال کی بنیاد قرآن کی اس آیت پر ہے کہ : لا يمسه الا المطهرون (الواقعہ) مگر یہ استدلال صحیح نہیں ۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اس کو نہیں چھوتے ہیں مگر پاک لوگ۔ گویا کہ یہ ایک خبر ہے نہ کہ حکم۔ چناچہ اہل تفسیر کی اکثریت نے ” مطھرون" سے فرشتوں کو مراد لیا ہے ۔ ابن کثیر لکھتے ہیں :
قال ابن زيد زعمت کفارقریش ان ھذا القرآن تنزلت به الشياطين فاخبر الله تعالى انه لا يمسه الا المطهرون،كما قال تعالى رومـاتنـزاتبهالشياطينوماينبغيلهمومايستطيعونانهمعنالسمعلمعـزولون) وهـذا القول قول جيد الفسير ابن كثير ، الجزء الرابع ، صفحه…
16 اگست 1983
ہجرت سے پہلے مدینہ کے لوگوں سے آپ کی ملاقات حج کے موسم میں ہوتی تھی۔ نبوت کے گیارھویں سال آپ قبائل عرب میں تبلیغ کے لئے منیٰ گئے۔ وہاں عقبہ کے قریب آپ کی ملاقات قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں سے ہوئی، یہ تقریبا آٹھ افراد تھے ۔ انھوں نے اسلام قبول کرایا۔ اس کے بعد آپ نے ان سے کہا کہ اگر میں مدینہ آ جاؤں تو کیا تم لوگ میری حمایت کروگے ۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق انھوں نے جواب دیا : نحن مجتهدون الله ولرسوله ۔ ـنهفـاعـلـمأعـدامـاغـفـونوانماكانتوقعةبعـاتعـامالاول،يوممنايامنااقتلنافيهناستقدموغنكذالايكون لن اجتماعـنـدمـــاحـتىترجعإلىعشـاشـرينا. لعلاللهيمـلحذات بيننا. وموعدك الموسم العام المقبل.
ہم اللہ اور اس کے رسول کے لئے پوری کوشش کریں گے۔ مگرہم، آپ جانئے کہ اس وقت آپس کی بغض وعداوت میں مبتلا ہیں۔ اور ابھی پچھلے سال ہمارے یہاں بعاث کی جنگ ہوئی ہے ۔ اگر آپ ایسی حالت میں مدینہ آتے ہیں تو ہم آپ پر جمع نہ ہوسکیں گے ۔ پس آپ ہمیں…
زندہ قوم زندہ لوگوں کی قدر کرتی ہے اور مردہ قوم مردہ لوگوں کی۔ اس کی ایک مثال موجودہ زمانہ کے مسلمان ہیں۔
مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ زندہ لوگوں کو نظرانداز کرتے ہیں اور مردہ لوگوں کو پوجتے ہیں۔ ان کے نزدیک ساری اہمیت صرف ان لوگوں کی ہے جو مر چکے ہیں۔ جو لوگ ان کے سامنے زندہ موجود ہیں ان کی کوئی اہمیت ان کے نزدیک نہیں۔
یہاں ایک شخص کہے گا کہ آج ایسے بھی مسلمان ہیں جو زندہ ہیں۔ اس کے باوجود انھیں قوم کے اندر عزت اور مقبولیت حاصل ہے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے ۔ یہ زندہ لوگ وہ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو کسی مردہ شخصیت سے جوڑ رکھا ہے ۔ وہ مرد ہ اسلاف کے نام پر…
…قریش پابند ہو گئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی کی حمایت نہ کریں گے ۔ صلح حدیبیہ کے فورا بعد آپ نے خیبر کی طرف اقدام کیا اور قریش اپنے معاہدہ کی بنا پر غیر جانب دار اور ناطرف دار رہے۔ اس طرح یہ مہم بآسانی کامیاب ہوگئی۔
دوسرا اس سے زیادہ بڑا فائدہ دعوتی تھا۔ جنگ کے حالات ختم ہونے کے بعد دعوت کا کام بہت بڑھ گیا۔ اس میں یہ تھا کہ آپ نے صلح حدیبیہ کے بعد ہمسایہ بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد حکمرانوں کو اپنی دعوت کا مخاطب بنایا۔ آپ نے جن حکمرانوں کو دعوتی خطوط روانہ کئے ان میں رومی حکمراں ہرقل ، ایرانی حکمران کسریٰ، پرویز اور حبشی حکمراں نجاشی تھا۔ اس طرح آپ کی دعوت بیک وقت تینوں آباد…
…کیلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے ، آپ لوگوں کو دے دیا جائے گا۔ یہاں آپ لوگ تعلیم وتبلیغ کا ادارہ قائم کریں اور سیاست سے الگ ہو جائیں ۔ مگرعلماء نے اس پیش کش کو حقیر سمجھ کر نظرانداز کر دیا اور بدستور انگریز کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول رہے۔
میں نے کہا کہ اگر ان علما ءنے قرآن وسنت کا گہرا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ اس کو عین اسلام کے حقمیں سمجھتے اور اس کو قبول کرلیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عین وہی صورتحال تھی جو واقعہ حدیبیہ کے وقت پیش آئی۔ قریش نے مسلمانوں سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کرکے سمجھا کہ ہم نے مسلمانوں سے ان کی تلوار چھین لی ۔ حالاں کہ اصل صورت حال یہ تھی کہ انھوں نے مسلمانوں سے ‘‘ تلوار’’ چھین کر زیادہ بڑی طاقت انھیں دے دی، اور وہ دعوت کے کھلے مواقع تھے۔ چنانچہ دعوت کی تسخیری طاقت ظاہر ہوئی اور صرف دو سال کے اندر مکہ فتح ہوگیا۔
اسی طرح انگریز اگرچہ علماءسے ‘‘تلوار ’’چھین رہے تھے ، مگر اس کے بدلے وہ انھیں ایٹم بم دے رہے تھے۔ وہ انھیں دعوت وتبلیغ کے کھلے مواقع دے رہے تھے جو بلاشبہ ہرتلوار سے زیادہ تسخیری طاقت رکھنے والا ہے۔ علماء کے شمشیری جہادنے تو اسلام…
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…for some days. In the end they gave up the idea of attacking as it was impossible to cross the ditch. They eventually left Medina. The digging of this trench provides an example of opting for a peaceful course instead of a violent course.
The Hudaybiya Peace Treaty
The Hudaybiya peace treaty is another good example. The Prophet and his companions wanted to perform the minor pilgrimage (umrah) in Makkah, but when they reached Hudaybiya, nine miles from Makkah, they were stopped by the leaders of the…
May 13, 2012: Lessons from Makkan and Madinan Periods of the Prophet
May 27, 2012: Hudaybiya Principle
12 - صدر اسلامی مرکز کے مضامین اردو اخبارات میں شائع ہورہے ہیں۔24 مئی 2012 کو روزنامہ راشٹریہ سہارا میں ایک مضمون ’’تاریخ بشری کے پانچ دور‘‘ شائع ہوا۔نیز یہ مضامین انگریزی اخبارات ٹائمس آف انڈیا، وغیرہ میں شائع ہو رہے ہیں۔ یہ مضامین سی…
حدیبیہ دراصل ایک عظیم پالیسی کا نام ہے۔ یہ پالیسی تاریخ میں پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو بتائی، یعنی حالتِ موجودہ کو مان کر ٹکراؤ ختم کردو، تاکہ مواقع (opportunities) کو استعمال کرنا ممکن ہوسکے:
Hudaybiyah means the policy of positive status quoism. And positive status quoism is the key to super achievement.
صلح بہتر ہے
نماز نماز نماز
نماز نماز نماز نماز
قرآن کی اِس آیت کی یہ تشریح ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتی ہے۔ سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ظہر کی نماز پڑھی۔ اور پھر آپ نے فرمایا إنّ قبلہا صلاتین وبعدہا صلاتین (کتاب الصلاۃ،…
خدا کی یہ خصوصی رحمت جو حضرت مریم کو حاصل ہوئی، اُس کا دروازہ ہر عورت اورہر مرد کے لیے کھلا ہوا ہے، بشرطیکہ وہ اُس اخلاص کا ثبوت دے جس کا ثبوت حضرت مریم نے دیا تھا۔
خدیجہ بنت خویلد
اِسی طرح کی ایک مثالی خاتون خدیجہ بنت خویلد (وفات: 620 ء) ہیں۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ تھیں۔ ان کویہ درجہ حاصل ہے کہ انھوں نے آگے بڑھ کرپیغمبر اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔ پیغمبر اسلام کے لیے مکہ کا زمانہ بہت زیادہ…
…ہے کہ اُن میںایک اور نماز اِس طرح شامل کی جائے کہ وہ بیچ کی نماز بن جائے۔ ایسی صورت میں بیچ کی نماز کے ایک طرف دو نماز ہوتی ہے، اور دوسری طرف بھی دو نماز— اِس طرح مجموعی طورپر کل پانچ نمازیں بن جاتی ہیں۔ ذیل میں اِس کا نقشہ ملاحظہ ہو
نماز نماز نماز
نماز نماز نماز نماز
A few years after the signing of this treaty, almost the whole of Arabia accepted the ideology of the Prophet of Islam. Peaceful combat through ideology proves to be far more effective than the might of the sword.
The Hudaybiyyah experience was not simply a matter of religion. It is relevant to all the affairs of human life. It gives us a master formula to manage all controversial matters, within the family and in society, as well as at the national level. If you are facing violent extremism from opponents, make them ready to establish peace, even if it means accepting their conditions unilaterally. In the long run, due to the ensuing peaceful relationship, you will be a success.
The Creation Plan of God
حضرت خدیجہؓ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجموعی طور پر گیارہ خواتین سے نکاح کیا۔ ان کو امہات المومنین کہا جاتا ہے۔ آپ کی پہلی اہلیہ حضرت خدیجہ بنت خُویلد تھیں۔ حضرت خدیجہ آپ کی پہلی بیوی بھی ہیں اور اسی کے ساتھ پہلی مسلمان بھی۔
لوط ؈ اردن میں ؍؍ ؍؍
ہود ؈ یمن میں ؍؍ ؍؍
شعیب ؈ مدین میں ؍؍ ؍؍