Al-Risala October 2014

سکینہ، فتح

Al-Risala October 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (41 chapters)
  1. الرسالہ - October 2014
  2. عید ِ اضحی کا پیغام
  3. حج: ایک انتباہ
  4. اللہ اکبر، اللہ اکبر
  5. اخلاص کیا ہے
  6. نشانی عقل والوں کے لیے
  7. خدا کا تصور
  8. اجماع، رائے جمہور
  9. کامیاب انسانوں کی ناکامی
  10. ہیرا
  11. فقہی معاملے میں توسع
  12. تخلیق آدم
  13. ڈسکوری، ری ڈسکوری
  14. پرمسرت زندگی کا راز
  15. جوہر شناسی
  16. زندگی اور موت
  17. تنبیہہِ خداوندی یاظلمِ انسانی
  18. بڑھاپے سے سبق لینا
  19. توبہ قریب
  20. روح القدس کا تصور
  21. اختلاف کا مسئلہ
  22. فیملی کلچر کا نقصان
  23. سکینہ، فتح
  24. قریش کلچر
  25. اپنی حد کو جانیے
  26. موت کا تجربہ
  27. خاندان کی اہمیت
  28. جانچ کا معیار
  29. چھ بینگ
  30. ایک انسانی کمزوری
  31. اسلامی تعلیمات کے دو حصے
  32. غصہ کا مثبت پہلو
  33. تکاثر سے قبر تک
  34. دلیل یا شوشہ
  35. ہلاکت کیا ہے
  36. تلاوت کا فائدہ
  37. فکری اعتدال
  38. توازن یا ترجیح
  39. تہذیب یا دعوت
  40. ایک اہم کتاب
  41. خبر نامہ اسلامی مرکز — 228

سکینہ، فتح

قرآن کی سورہ الفتح میں زمانہ رسالت کے اُس واقعے کا ذکر ہے جس کو معاہدہ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ اِس معاہدے کے وقت رسو ل اور اصحابِ رسول کو حدیبیہ سے بظاہر ناکام لوٹنا پڑا تھا۔ لیکن اِس معاہدے کے بعد یہ ہوا کہ رسول اور اصحابِ رسول صرف دو سال کے اندر دوبارہ فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوئے-original + quote

ظاہری حالات کے اعتبار سے اصحابِ رسول بوقت معاہدہ سخت پریشان تھے۔ اُس وقت قرآن میں یہ آیت اتری: فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:27)۔ قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مطلوب فتح (فتح مکہ) اُس وقت ایک بعید فتح کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اللہ نے اپنی رحمت خاص سے اصحابِ رسول کو ایک فتحِ قریب (near victory) عطا کردی-original + quote

یہ فتحِ قریب کیا تھی، اِس کا جواب خود قرآن کی اِس سورہ میں موجود ہے۔ اِس آیت کے الفاظ یہ ہیں: فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَةَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:18) یعنی پس اُس نے اُن پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو ایک قریبی فتح دے دی۔ یہاں فتحِ قریب سے مراد سکینہ ہے اور فتح بعید سے مراد فتحِ مکہ۔ فتحِ مکہ اگر خارجی فتح تھی تو سکینہ ایک داخلی فتح (internal victory)-original + quote

سکینہ کے لفظی معنی اطمینان(tranquillity) کے ہیں۔ یہاں سکینہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی اطمینان (peace of mind) کہاجاتا ہے۔ یہ سکینہ اللہ کی خصوصی مدد ہے، جو مشکل اوقات میں اہلِ ایمان کے اوپر نازل ہوتی ہے۔ مشکل اوقات حقیقتاً مشکل نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایک فطری تاخیر ہے جو منصوبۂ الٰہی کے تحت پیش آتی ہے۔ اِس تاخیر(delay) کو بآسانی گوارا کرنے کے لیے اہلِ ایمان کو اللہ کی طرف سے سکینہ حاصل ہوتا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے وقت اصحابِ رسول پر جو سخت حالات گزررہے تھے، اس کو سکینہ کے نزول نے آسان کردیا۔ اللہ کی یہ مدد ہر مومن فرد اور ہر مومن گروہ کے لیے ضرورآتی ہے، بشرطیکہ اس کا کیس حقیقی معنوں میں منصوبۂ الٰہی کے مطابق ہو- (21 اپریل 2014)