Tazkirul Quran (Urdu)

60. Al-Mumtahana

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کی طرف اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ نے اس کا پورا منصوبہ نہایت خاموشی کے ساتھ بنایا تاکہ مکہ والے مقابلہ کی تیاری نہ کرسکیں۔ اس وقت ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اس منصوبہ کو ایک خط میں لکھا اور اس کو خفیہ طور پر مکہ والوں کے نام روانہ کردیا۔ تاکہ مکہ والے ان سے خوش ہوجائیں اور ان کے اہل وعیال کو نہ ستائیں جو مکہ میں مقیم ہیں۔ مگر وحی کے ذریعہ آپ كو اس کی اطلاع ہوگئی اور قاصد کو راستہ ہی میں پکڑ لیا گیا۔ اس قسم کا ہر فعل ایمانی تقاضے کے خلاف ہے۔ جب یہ صورت حال ہو کہ اسلام اور غیر اسلام کے الگ الگ محاذ بن جائیں تو اس وقت اہل اسلام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ غیر اسلامی محاذ سے دل چسپی کا تعلق توڑ لیں۔ خواہ غیر اسلامی محاذ میں ان کے عزیز اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ حق کو ماننا اور حق کا انکار کرنے والوں سے قلبی تعلق رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔

یہاں صلح حدیبیہ کے بعد پیدا شدہ حالات کی روشنی میں اسلام کے بعض ان قوانین کو بتایا گیا ہے جن کا تعلق مسلمان اور غير مسلموں کے درمیان پیش آنے والے عائلی مسائل سے ہے۔

یہاں صلح حدیبیہ کے بعد پیدا شدہ حالات کی روشنی میں اسلام کے بعض ان قوانین کو بتایا گیا ہے جن کا تعلق مسلمان اور غير مسلموں کے درمیان پیش آنے والے عائلی مسائل سے ہے۔

اس آیت میں وہ شرطیں بتائی گئی ہیں جن کا اقرار لے کر کسی عورت کو اسلام میں داخل کیا جاتا ہے۔ ان شرطوں میں دو شرط کی حیثیت بنیادی ہے۔ یعنی شرک نہ کرنا اور رسول کی نافرمانی نہ کرنا۔ باقی تمام مذکور اور غیرمذکور تقاضے اپنے آپ ان دو شرطوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔

آسمانی کتاب کو ماننے والے یہود اور اس کو نہ ماننے والے کافر آخرت کے اعتبار سے ایک سطح پر ہیں۔ کھلے ہوئے کافروں کو امید نہیں ہوتی کہ کوئی شخص دوبارہ اپنی قبر سے اٹھے گا۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہوتا ہے جو یہود کی طرح ایمان لانے کے بعد غفلت اور بے حسی میں مبتلا ہوگئے ہوں۔ آخرت کا لفظی اقرار کرنے کے باوجود ان کی عملی زندگی ویسی ہی ہوجاتی ہے جیسی کھلے ہوئے منکرین کی زندگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کی طرف اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ نے اس کا پورا منصوبہ نہایت خاموشی کے ساتھ بنایا تاکہ مکہ والے مقابلہ کی تیاری نہ کرسکیں۔ اس وقت ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اس منصوبہ کو ایک خط میں لکھا اور اس کو خفیہ طور پر مکہ والوں کے نام روانہ کردیا۔ تاکہ مکہ والے ان سے خوش ہوجائیں اور ان کے اہل وعیال کو نہ ستائیں جو مکہ میں مقیم ہیں۔ مگر وحی کے ذریعہ آپ كو اس کی اطلاع ہوگئی اور قاصد کو راستہ ہی میں پکڑ لیا گیا۔ اس قسم کا ہر فعل ایمانی تقاضے کے خلاف ہے۔ جب یہ صورت حال ہو کہ اسلام اور غیر اسلام کے الگ الگ محاذ بن جائیں تو اس وقت اہل اسلام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ غیر اسلامی محاذ سے دل چسپی کا تعلق توڑ لیں۔ خواہ غیر اسلامی محاذ میں ان کے عزیز اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ حق کو ماننا اور حق کا انکار کرنے والوں سے قلبی تعلق رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔original + quote

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کی طرف اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ نے اس کا پورا منصوبہ نہایت خاموشی کے ساتھ بنایا تاکہ مکہ والے مقابلہ کی تیاری نہ کرسکیں۔ اس وقت ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اس منصوبہ کو ایک خط میں لکھا اور اس کو خفیہ طور پر مکہ والوں کے نام روانہ کردیا۔ تاکہ مکہ والے ان سے خوش ہوجائیں اور ان کے اہل وعیال کو نہ ستائیں جو مکہ میں مقیم ہیں۔ مگر وحی کے ذریعہ آپ كو اس کی اطلاع ہوگئی اور قاصد کو راستہ ہی میں پکڑ لیا گیا۔ اس قسم کا ہر فعل ایمانی تقاضے کے خلاف ہے۔ جب یہ صورت حال ہو کہ اسلام اور غیر اسلام کے الگ الگ محاذ بن جائیں تو اس وقت اہل اسلام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ غیر اسلامی محاذ سے دل چسپی کا تعلق توڑ لیں۔ خواہ غیر اسلامی محاذ میں ان کے عزیز اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ حق کو ماننا اور حق کا انکار کرنے والوں سے قلبی تعلق رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔original + quote

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتداء ً خیر خواہانہ انداز میں اپنے خاندان کو توحید کا پیغام دیا۔جب اتمام حجت کے با وجود وہ لوگ منکر بنے رہے تو آپ ان سے بالکل جدا ہوگئے۔ مگر یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ اعلان براءت کا مطلب منکرینِ حق کو یہ دعوت دینا تھا کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اہل ایمان کو ستائیں۔ دلیل کے میدان میں شکست کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اہل ایمان کو ذلیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے جو دعا کی اس میں خاص طور سے فرمایا کہ — اے ہمارے رب ہم کو ان ظالموں کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا۔ عزیزوں اور رشتہ داروں سے اعلان براءت عام معنوں میں اعلان عداوت نہیں ہے۔ یہ داعی کی طرف سے اپنے یقین کا آخری اظہار ہے۔ اس اعتبار سے اس میں بھی ایک دعوتی قدر شامل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص ’’پیغام‘‘ کی زبان سے متاثر نہیں ہوا تھا، ’’یقین‘‘ کی زبان اس کو جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتداء ً خیر خواہانہ انداز میں اپنے خاندان کو توحید کا پیغام دیا۔جب اتمام حجت کے با وجود وہ لوگ منکر بنے رہے تو آپ ان سے بالکل جدا ہوگئے۔ مگر یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ اعلان براءت کا مطلب منکرینِ حق کو یہ دعوت دینا تھا کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اہل ایمان کو ستائیں۔ دلیل کے میدان میں شکست کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اہل ایمان کو ذلیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے جو دعا کی اس میں خاص طور سے فرمایا کہ — اے ہمارے رب ہم کو ان ظالموں کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا۔ عزیزوں اور رشتہ داروں سے اعلان براءت عام معنوں میں اعلان عداوت نہیں ہے۔ یہ داعی کی طرف سے اپنے یقین کا آخری اظہار ہے۔ اس اعتبار سے اس میں بھی ایک دعوتی قدر شامل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص ’’پیغام‘‘ کی زبان سے متاثر نہیں ہوا تھا، ’’یقین‘‘ کی زبان اس کو جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتداء ً خیر خواہانہ انداز میں اپنے خاندان کو توحید کا پیغام دیا۔جب اتمام حجت کے با وجود وہ لوگ منکر بنے رہے تو آپ ان سے بالکل جدا ہوگئے۔ مگر یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ اعلان براءت کا مطلب منکرینِ حق کو یہ دعوت دینا تھا کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اہل ایمان کو ستائیں۔ دلیل کے میدان میں شکست کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اہل ایمان کو ذلیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے جو دعا کی اس میں خاص طور سے فرمایا کہ — اے ہمارے رب ہم کو ان ظالموں کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا۔ عزیزوں اور رشتہ داروں سے اعلان براءت عام معنوں میں اعلان عداوت نہیں ہے۔ یہ داعی کی طرف سے اپنے یقین کا آخری اظہار ہے۔ اس اعتبار سے اس میں بھی ایک دعوتی قدر شامل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص ’’پیغام‘‘ کی زبان سے متاثر نہیں ہوا تھا، ’’یقین‘‘ کی زبان اس کو جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔unverified

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتداء ً خیر خواہانہ انداز میں اپنے خاندان کو توحید کا پیغام دیا۔جب اتمام حجت کے با وجود وہ لوگ منکر بنے رہے تو آپ ان سے بالکل جدا ہوگئے۔ مگر یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ اعلان براءت کا مطلب منکرینِ حق کو یہ دعوت دینا تھا کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اہل ایمان کو ستائیں۔ دلیل کے میدان میں شکست کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اہل ایمان کو ذلیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے جو دعا کی اس میں خاص طور سے فرمایا کہ — اے ہمارے رب ہم کو ان ظالموں کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا۔ عزیزوں اور رشتہ داروں سے اعلان براءت عام معنوں میں اعلان عداوت نہیں ہے۔ یہ داعی کی طرف سے اپنے یقین کا آخری اظہار ہے۔ اس اعتبار سے اس میں بھی ایک دعوتی قدر شامل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص ’’پیغام‘‘ کی زبان سے متاثر نہیں ہوا تھا، ’’یقین‘‘ کی زبان اس کو جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔

جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے وہ ہر ایک سے کیا جائے گا، خواہ فریق ثانی دشمن ہو یا غیر دشمن۔ مگر دوستی کا تعلق ہر ایک سے درست نہیں۔ دوستی صرف اسی کے ساتھ جائز ہے جو اللہ کا دوست ہو یا کم از کم یہ کہ وہ اللہ کا دشمن نہ ہو۔

جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے وہ ہر ایک سے کیا جائے گا، خواہ فریق ثانی دشمن ہو یا غیر دشمن۔ مگر دوستی کا تعلق ہر ایک سے درست نہیں۔ دوستی صرف اسی کے ساتھ جائز ہے جو اللہ کا دوست ہو یا کم از کم یہ کہ وہ اللہ کا دشمن نہ ہو۔