Al-Risala March 2016

سکینہ کیا ہے

Al-Risala March 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (38 chapters)
  1. الرسالہ - March 2016
  2. صحیح نقطۂ آغاز
  3. انٹلکچول ایمپاورمینٹ
  4. جذبۂ تعلم
  5. علم کی دوقسمیں
  6. صحیح طرزِ فکر
  7. بلندفکری
  8. پختگی کیا ہے
  9. کامل انسان
  10. مثبت فکر
  11. مثبت سوچ، منفی سوچ
  12. غصہ کا مثبت پہلو
  13. شخصیت کاارتقا
  14. شخصیت کی تعمیر
  15. جانچنے کا معیار
  16. علمی طرزِ استدلال
  17. منطقی طرزِ استدلال
  18. غلط جنرلائزیشن
  19. اختلاف کا مسئلہ
  20. اختلاف کے باوجود
  21. اختلاف ایک برکت
  22. اختلافِ رائے
  23. فکری تعدّد، فکری حریت
  24. ذہنی سانچہ
  25. تنقید کی دوقسمیں
  26. ہلاکت کیا ہے
  27. ذہنی کہر کا مسئلہ
  28. تخلیقی صلاحیت
  29. تخلیقی حل
  30. سکینہ کیا ہے
  31. حاضر دماغی
  32. شکایت بے جا
  33. دوآپشن کے درمیان
  34. تیسرا انتخاب
  35. ذہین انسان کا مسئلہ
  36. مسئلہ کا حل
  37. حقیقت پسندی، معیار پسندی
  38. اپنے آپ کو بچائیے

سکینہ کیا ہے

قرآن میں حدیبیہ معاہدے کے تحت جو آیتیں آئی ہیں، اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِہِمْ ۭ وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِــیْمًا حَکِـیْماً (48:4) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اہلِ ایمان کے دلوں میں سکینہ نازل کیا تاکہ اور بڑھ جائے اُن کا ایمان اپنے ایمان کے ساتھ۔ اور اللہ ہی کے ہیں سب لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ ہے خبر دار، حکمت والا۔original + quote

سکینہ کا لفظی مطلب اطمینان (tranquillity) ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں سکینہ کا مطلب یہ ہے کہ حدیبیہ معاہدے کی شرطیں اگرچہ اصحاب رسول کی مرضی کے خلاف تھیں، لیکن اللہ کے حکم کی بنا پر وہ اُس پر راضی ہوگئے۔ اِس رضامندی کے باعث، اللہ نے اُن پر یہ خصوصی فضل کیا کہ اُن پر اپنی وہ خاص رحمت نازل فرمائی جو اُنھیں قلبی اعتبار سے اُس پر مطمئن کردے اور جس فیصلے پر وہ بظاہر ناگواری کے ساتھ راضی ہوئے تھے، اُس کو اُن کے لیے ایک خوش گوار تجربہ بنادے۔

زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے ساتھ کوئی ناپسندیدہ صورت پیش آتی ہے۔ مثلاً کسی عزیز کی موت، کوئی مالی نقصان، کسی کی طرف سے بے عزتی کا معاملہ، وغیرہ۔ اِس طرح کامعاملہ آدمی کے لیے ہمیشہ صدمہ (shock) کا سبب بنتا ہے۔ لیکن اگر آدمی اللہ کے حکم (البقرة 155:) کی بنا پر صبر کرلے اور رد عمل کا اظہار نہ کرے تو اپنے اِس عمل کی بنا پر وہ اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ یہ کہ جس چیز کو اُس نے ابتداء ً اپنی طبیعت پر جبر کرکے اختیار کیا تھا، اس کو اس کے لیے ایک خوش گوار واقعہ بنا دیا جائے۔original + quote

یہی مطلب ہے ’’ایمان پر ایمان کے اضافہ‘‘ کا، یعنی صبر کے معاملہ کو اطمینان کا معاملہ بنادینا۔ مومن کے دل میں پیدا ہونے والی اِسی کیفیت کو قرآن کی مذکورہ آیت میں ’ازدیادِ ایمان‘ کہاگیا ہے۔original + quote