Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17 دسمبر 1985 p. 227
مستشرقین نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک نوع کی کتابیں وہ ہیں جو ’’اسلامی قوموں کے مطالعہ‘‘ پر لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں میںاستدلال کا طریقہ بڑا عجیب وغریب ہوتا ہے۔ ان میں بعض غیر متعلق واقعات کو لے کر دکھایا گیاہے کہ بعض قوموں (مثلاً الجزائر کے مسلمان) کا اسلام جانور پرستی، شجر پرستی اور ستارہ پرستی سے قریب ہے۔ حتی کہ اسلام اور بت پرستی میں کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں۔ بلکہ اسلام بت پرستی ہی کا تتمہ ہے۔ p. 227original + quote
ان مستشرقین کی اکثریت عربی زبان سے برائے نام واقف تھی۔اس لیے انھوںنے اسلام کو سمجھنے میں نہایت احمقانہ قسم کی غلطیاں کی ہیں۔ تاہم خود مستشرقین کے حلقے میں سےگہرا علم رکھنے والے لوگوں نے ان باتوں کی تردید کی ہے۔ p. 227
پروفیسر (Alain) نے اس کمی کو محسوس کیا۔ انھوں نے ان مستشرقین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اگر میں اپنے قلم کو مخاطب کرکے یہ کہوں کہ اے میرے محبوب قلم، اور اس جملہ کو علم الاجتماع کے یہ ماہرین اپنی تحقیق میں شامل کرلیں تو وہ اس جملہ کو روحانیت سے منسوب کردیں گے اور یہ کہیں گے کہ میںنے اپنے قلم میںایک چھوٹا دیوتا دیکھ لیا تھا‘‘۔ p. 227other source