Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17 جولائی 1985 p. 141
شاہ محمد اسماعیل دہلوی (1779-1831)نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں لکھا تھا p. 141
’’اس شہنشاہ (باری تعالی) کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سے چاہے تو کرورڑوں نبی و جن وفرشتے، جبرئیل او رمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پیدا کرڈالے۔ p. 142
یہ کتاب چھپی تو علما کی ایک فوج اس کے رَدّ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ علامہ فضل حق خیر آبادی (1797-1861) نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام تھا امتناعِ نظر۔اس میں انھوں نے بتایا کہ مثل محمد ممتنع الوجود (ناممکن)ہے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے بلکہ خاتم الانبیا تھے، اور خاتم الانبیا کا مرتبہ کسی ایک ہی شخص کو مل سکتاہے۔ اس لیے مثلِ محمد مقدرِ حق سبحانہ نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میںیہ کہ خاتم الانبیا کا مماثل (مانند)پیدا کرنے پر خدا قادر نہیں۔ p. 142
اس پر مولانا حیدر علی رام پوری نے لکھا کہ ا بن عباس کا ایک اثر ہے جس کے مطابق اللہ نے سات زمینیں پیدا کی ہیں اور ہر زمین میں الگ الگ انبیاء ہیں(سَبْعَ أَرَضِينَ فِي كُلِّ أَرْضٍ نَبِيٌّ كَنَبِيِّكُمْ) مستدرک الحاکم، اثر نمبر 3822۔ اس اثر سے استناد کرکے انھوںنے کہا کہ اللہ مثل خاتم الانبیا پیدا کرنے پر قادر ہے۔ کیوں کہ جب سات زمینیں ہیں تو سات خاتم الانبیا کی ضرورت ہوئی۔ p. 142unverified
مرزا غالب (1797-1869)نے ایک اور نکتہ نکالا۔ انھوںنے کہا کہ موجودہ عالم میں تو ایک خاتم الانبیا کے سوا دوسرا خاتم الانبیا پیدا نہیں ہوسکتا۔ لیکن خدا اس پر قادر ہے کہ ایسا ہی ایک اور عالم پیدا کرے اور اس میںموجودہ عالم کے خاتم الانبیا کی طرح ایک اور خاتم الانبیا مبعوث فرمائے۔ p. 142
اس طرح کی بحثیں برسہا برس تک جاری رہیں۔ دونوں طرف سے عجیب عجیب دلائل دیے جاتے رہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ زوال میںمسلمانوں کے ذہنی افلاس (intellectual dwarfism) کا حال کیا ہوگیا تھا۔ بے معنیٰ موشگافیوں کو وہ علم سمجھتے تھے اور بے فائدہ بحثوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کو یہ سمجھتے تھے کہ وہ خدا کی راہ میں جہاد کررہے ہیں۔ p. 142