Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25 نومبر 1985 p. 214
ایک شاعر کا شعر ہے p. 214
ابھی بھولے نہیں ہم خالد و طارق کے افسانے p. 214
فتوحاتِ صلاح الدین ابھی روشن ہے دنیا میں p. 214
اس قسم کے اشعار اور اس قسم کی تقریروں اور تحریروں سے ہماری جدید تاریخ بھری ہوئی ہے۔ ہر آدمی جو اٹھتا ہے وہ یہیں سے اپنے کلام کا آغاز کرتا ہے کہ — ہم نے ایک ہزار برس تک دنیا پر حکومت کی ہے— ہم نے روم و ایران کی سلطنتوں کے پر خچے اڑا دئے۔ ہم نے ہندستان سے لے کر فرانس تک اسلامی اقتدار کا جھنڈا گاڑ دیا، وغیرہ وغیرہ۔ p. 214
موجودہ زمانہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کا ذہن یہی ہے۔ آج کا ہر شخص اس اسلامی تاریخ کو بطور اسلام جانتا ہے، جس نے فتح وغلبہ حاصل کیا۔کوئی بھی شخص نہیں جو اس اسلام سے واقف ہو جس نے اقوام عالم کو دعوت و رحمت کا مخاطب بنایا۔ جس نے مکہ میں ہر قسم کے مظالم کے باوجود صبر واعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ جو حدیبیہ کے موقع پر پسپائی کی پالیسی اختیار کرنے پر راضی ہوگیا۔ جس نے خانہ کعبہ میں سیکڑوں بت دیکھے مگر اس کو برداشت کرتا رہا۔ تاکہ وہ انسانوں کو خدا کا پیغام سنا سکے۔ p. 215
یہ صورت ِ حال نہایت تشویش ناک ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان گزری ہوئی تاریخ میں اٹکے ہوئے ہیں، وہ زندہ خدا کو پانے میں ناکام رہے۔ ان کے پاس ’’حال‘‘ کا کوئی سرمایہ نہیں، وہ صرف ’’ماضی‘‘ کی یادوں کے بل پر جی رہے ہیں۔ p. 215