Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27 مارچ 1985 p. 61
قدیم مفسرین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قرآنی آیتوں کے ذیل میں شانِ نزول کی روایات بیان کرتے ہیں۔ فراہی اسکول اس طریقِ تفسیر کا مخالف ہے۔ وہ شان نزول کی روایتوں کی روشنی میں قرآن کی تشریح کرنا صحیح نہیں سمجھتا۔ p. 61
مثال کے طورپر سورۃ حجرات کی ابتدائی آیات کے ذیل میں قدیم تفسیروں میں ولید بن عقبہ کا قصہ نقل ہوا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر تدبر قرآن میں اس پر سخت گرفت کی ہے اور اس کو بے بنیاد قرار دیا ہے(ملاحظہ ہو تدبر قرآن جلد 6، صفحہ 495-97)۔ p. 61original + quote
یہ لوگ اس طریق تفسیر کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ شانِ نزول کی روایتوں کو ماننے کی صورت میں گویا قرآن محض خاص انفرادی واقعات سے متعلق ہو کر رہ جاتا ہے۔ ان کے نزدیک اس سے قرآن کی وسعت اور ابدیت مجروح ہوتی ہے۔ p. 61opposing view
مگریہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ اگر ہم یہ مانیں کہ قرآن کی فلاں آیت فلاں خاص واقعہ پیش آنے پر اتری تو اس سے قرآن کی وسعت اور ابدیت میںکوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن حالات کے ذیل میںاترا ہے(الفرقان، 25:33)، نہ کہ عام تصنیف کی طرح یکبارگی لکھ کر ایک مکمل کتاب کی صورت میں اتار دیاگیا ہو۔ p. 61original + quote
شانِ نزول کی روایتوں کا مطلب صرف یہ ہے کہ مکہ یا مدینہ کے سماج میں ایک واقعہ گزرا۔ اس سے زندگی کے ایک معاملے کے بارے میں سننے اور جاننے کی فضا پیدا ہوئی۔ اس وقت اللہ نے اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن میں اپنا حکم نازل فرمایا۔ یہ حکم ایک اعتبار سے مخصوص واقعہ کے بارے میں شریعت الٰہی کا اظہار تھا اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک اصولی ہدایت تھی جو قیامت تک تمام انسانوں کے لیے رہنما بنے۔ p. 62