Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2 مارچ 1985 p. 44
حُمید بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں یزید کی ولی عہدی کے وقت حضرت بُشیر کے پاس گیا ،جو صحابہ میںسے تھے۔ میں نے ان سے یزید کے بارے میں اظہارِ خیال کے ليےكها۔ انھوںنے کہا يَقُولُونَإِنَّما يَزيدُ لَيسَ بِخَيْرٍ لأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنا أَقُولُ ذَلِكَ، وَلَكِنْ لأَنْ يَجْمَعَ اللهُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَفْتَرِقَ (تاریخ الاسلام للذہبی،جلد 4، صفحہ 87)۔ یعنی لوگ کہتے ہیں کہ یزید امت محمد کےبہتر لوگوں میں سےنہیں ہے، اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔ لیکن امتِ محمدي کا اتفاق سے رهنا، مجھے افتراق کی بنسبت زیادہ پسند ہے۔ p. 44original + quote
جس وقت امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزيد کو ولی عہد بنایا اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابہ کرام زندہ موجود تھے۔ مثلاً حسین بن علی، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر، اور عبدالرحمن بن ابی بکر اور دوسرے بہت سے جلیل القدر افراد ملت کے اندر موجود تھے۔ ایسی حالت میں یزید کو خلیفہ بنانا سخت قابل اعتراض ہوسکتا تھا۔ مگر تمام صحابہ نے اس پر سکوت اختیار کیا۔ حضرت حسین کے سوا کسی نے بھی یزید كے خلاف کوئی مہم نہیںچلائی۔اصحابِ رسول کی یہ خاموشی یقینی طورپر بزدلی کی بنا پر نہ تھی، بلکہ اسلامی حکمت کی بنا پر تھی۔ p. 44