Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22 اگست 1985 p. 164
عربی کا ایک مقولہ ہےإِذَا تَكَلَّمْتُ بِالكَلِمَةِ مَلَكَتْنِي وإذَا لَمْ أتَكَلَّمُ بِهَا مَلَكْتُهَا (الدر الفريد وبيت القصيد للمستعصمي،جلد 6، صفحہ 65)۔ یعنی، جب میںنےایک بات کہہ دی تو وہ میرے اوپر اختیار حاصل کرلیتی ہے اور اگر میں بات نہ کہوں تو میں اس کے اوپراختیار رکھتا ہوں۔ p. 164other source
شیخ سعدی نے یہی بات کسی قدر مختلف انداز میں اس طرح کہی ہے p. 165
تامرد سخن نہ گفتہ باشد عیب و ہنرش نہفتہ باشد p. 165
آدمی جب تک بات نہ کہے تو اس کا عیب و ہنر چھپا رہتا ہے p. 165
اسی بات کو انگریزی میں کسی نے اس طرح کہا ہےکہ ہم اپنے نہ کہے ہوئے الفاظ کے آقا ہیں، اور ہم ان الفاظ کے غلام ہیں جو ہم اپنی زبان سے کہہ دیں p. 165other source
We are masters of our unsaid words. And slaves to those we let slip out. p. 165
مختلف زبانوں میں اس طرح کے مشابہ اقوال اس بات کا ایک مظاہرہ ہیں کہ تمام انسان حقیقۃً ایک ڈھنگ پر سوچتے ہیں۔ تمام حقیقتیں آفاقی حقیقتیں ہیں۔ فطرت کی سطح پر سب کا انداز فکر ایک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی شخص اس کو ایک زبان میں بیان کرتا ہے اور کوئی شخص دوسری زبان میں۔ p. 165