Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14فروری 1985 p. 32
قدیم عرب شعرا کے یہاں ایسے اشعار ملتے ہیں،جن میں بڑی حکمت کی باتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً p. 32
سَبَكْنَــاهُ وَنَحْـسَـــبُهُ لُجَيْـــنًا p. 32
فَأَبْدَى الكِيرُ عَنْ خُبْثِ الحَدِيدِ p. 32
یعنی ہم نے اس کو پگھلایا، اور اس کو چاندی سمجھتے تھے، مگر بھٹی نے ظاہر کیا کہ وہ زنگ آلود لوہا ہے۔ p. 32
اس شعر میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ انسان بظاہر اچھا دکھائی دیتا ہے، مگر جب تجربہ ہوتا ہے، اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ کون کیا ہے، اور کون کیا نہیںہے۔اسی طرح ایک شعر یہ ہے p. 32
وَكَمْ عَلَى الأَرْضِ مِنْ خُضْرٍ وَيَابِسَةٍ p. 33
وَلَيْسَ يُـــرْجَمُ إِلَّا مَا لَـــهُ ثَمَـــرٌ p. 33
یعنی زمین پر کتنی ہی تر اور خشک چیزیں ہیں، مگر پتھر اسی پر مارے جاتے ہیں جس میں پھل ہوں۔ p. 33
اس شعر میںشاعر زندگی كي اس حقیقت کو بتاتا ہے کہ جس انسان کے پاس کچھ ہو، اسی کے اوپر لوگ یورش کرتے ہیں، جس کے پاس کچھ نہ ہو اس کے اوپر کوئی یورش نہیں کرے گا۔ p. 33