Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
11 دسمبر 1985 p. 223
خیر الدین پاشا بار بروسہ (Hayreddin Barbarossa, b. 1466) سمندری جہاز رانی کا بہت بڑا ماہر تھا اور نہایت بہادر آدمی تھا۔ اس کو امیر البحر کہا جاتا تھا۔ سولھویں صدی عیسوی میں ترکی کے عثمانی سلطنت کے بحری بیڑے کو جو عظمت حاصل ہوئی اس کا اصل ہیرو یہی شخص تھا۔ کہاجاتاہے کہ خیر الدین باربروسہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا امیر البحر تھا۔اس کی مہارت اور بہادرانہ کارروائیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرق سے مغرب تک ترکی بیڑے کا راج قائم ہوگیا۔ p. 223
خیر الدین باربروسہ نے تقریباً اسّی سال کی عمر میں جولائی 1546 میں وفات پائی۔اس کو بشک طاشی (Beşiktaş) میں دفن کیاگیا۔ اس کی قبر پر جوکتبہ لگاہواہے اس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں— مات امیر البحر p. 223
یعنی وہ شخص جو امیر بحر تھا اس کا انتقال ہوگیا۔ یہ ایک واقعی بیان ہے۔ یہ چار سو سال پہلے مسلمانوں کا حال تھا۔ آج کوئی مسلمان مرے تو اس کی قبر پر لکھنے کے لیے اس قسم کے واقعی الفاظ کسی کو نہیں ملیں گے۔بلکہ وہ غیر واقعی قصیدہ خوانی کریں گے، اورکہیں گے کہ مثلاً امیر فضا اس دنیا سے چلا گیا۔ اگرچہ وہ حقیقت کے اعتبار سے ویسا نہ ہو۔ کتنا فرق ہے مسلمانوں کے حال میں اور مسلمانوں کے ماضی میں۔ p. 223