Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14 نومبر 1985 p. 207
دنیا میں آدمی کو بہت سی چیزیں حاصل ہیں— اس کا اپنا وجود، اس کا گھر اور جائداد، اس کے دوست اور رشتہ دار، اور دوسرے اسباب اور سامان، وغیرہ۔ p. 207
یہ جو کچھ انسان کو موجودہ دنیا میں حاصل ہے، ان کے بارے میں دو نقطۂ نظر ہوسکتے ہیں— ایک یہ کہ یہ سب چیزیں ہماری ہیں، ہم ان کے مالک ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہم ان میں سے کسی چیز کے خود مالک نہیں۔ ہر چیز خدا کی ہے۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ سامانِ امتحان کے طورپر ہے، نہ کہ سامانِ ملکیت کے طورپر۔ p. 207
پہلا ذہن ناشکری کا ذہن ہے، اور دوسرا ذہن شکر گزاری کا ذہن۔ پہلے ذہن کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کا نام کفر ہے، اور دوسرے ذہن کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کا نام اسلام ہے۔ پہلے ذہن کے تحت زندگی گزارنے والے کے لیے جہنم ہے، اور دوسرے ذہن کے تحت زندگی گزارنے والے کے لیے جنت۔ p. 207