Islam kya hai

Khudai tariqa

Islam kya hai — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (47 chapters)
  1. Khuda
  2. فرشتہ
  3. پیغمبر
  4. قرآن
  5. Islam
  6. Emaan
  7. امتحان
  8. Niyyat
  9. آخرت
  10. روحانیت
  11. التقویٰ
  12. شکر
  13. ذکر
  14. نماز
  15. Roza
  16. Zakat
  17. Hajj
  18. Akhlaq
  19. Sabr
  20. Sach bolna
  21. Wada
  22. Safaai
  23. Ravadari
  24. Earaaz
  25. Ikhtelaaf ke waqt
  26. Padosi
  27. Huququl ibaad
  28. Tasavvur-e-insan
  29. Khidmat-e-khalq
  30. Musavaat
  31. Insani biradari
  32. Taassub nahi
  33. Amn pasandi
  34. Khuda parastana zindagi
  35. Subh-o-shaam
  36. Ebrat piziri
  37. Gharelu zindagi
  38. Izzat-e-nafs
  39. Saadgi
  40. Khudai tariqa
  41. Maal
  42. Khona,Paana
  43. Najaat
  44. Jihaad
  45. Khuda ko pukaarna
  46. Duayen
  47. Back cottecst

خدائی طریقہ: کائنات میں ان گنت ستارے اور سیارے ہیں، یہ سب کے سب وسیع خلا کے اندر ہر لمحہ گھوم رہے ہیں۔ خلا گویا کہ لاتعداد متحرک اجسام کی دوڑ کا ایک عطا میدان ہے۔ مگر حیرت ناک بات ہے کہ ان ستاروں اور سیاروں میں کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اسی کا اس کا راز کیا ہے؟

اس کا راز یہ ہے کہ ہر ستارہ اور ہر سیارہ نہایت پابندی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گھومتا ہے۔ وہ اپنے مدار سے ذرا بھی باہر نہیں جاتا۔ حرکت کا یہی قانون ہے جو ان ستاروں اور سیاروں کو آپس میں ٹکرانے سے مسلسل روکے ہوئے ہے۔ ٹھیک یہی طریقہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔

انسان کی دوڑ کے لیے بھی خدا نے ایک دائرہ مقرر کر دیا ہے: ہر انسان کو اسی محدود دائرے کے اندر حرکت کرنا ہے۔ جب تمام انسان اپنے اپنے دائرے میں حرکت کریں تو سماج میں اپنے آپ امن کی حالت قائم ہو جاتی ہے۔ اور جب لوگ اپنی حد میں نہ رہیں بلکہ مقرر حد کو توڑ کر ادھر ادھر دوڑنے لگیں تو ایسے سماج میں لازماً نزاع شروع ہو جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا کر اپنے آپ کو بھی تباہ کریں گے اور دوسرے کی تباہی کا بھی سامان فراہم کریں گے۔

انسان اجتماعی زندگی میں کس طرح رہے؟ وہ دوسروں کے ساتھ کس طرح معاملہ کرے؟ دوسروں کے ساتھ اس کا سلوک کیسا ہو؟ اپنے قول و عمل میں وہ کیا انداز اختیار کرے؟

ان سب باتوں کے لیے خدا نے واضح احکام دیے ہیں۔ اس نے بتا دیا ہے کہ انسان کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ جو لوگ زندگی کے معاملات میں وہ کریں جس کی خدا نے ان کو اجازت دی ہے، وہ گویا کہ اپنے مقرر دائرے کے اندر حرکت کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ وہ کچھ کرنے لگیں جس سے خدا نے روکا ہے، تو وہ گویا کہ اپنے مقرر دائرے سے باہر آ گئے۔

یہی وہ لوگ ہیں جو سماج میں ہر قسم کی خرابیاں پیدا کرتے ہیں۔ وہ خود بھی تباہ ہوتے ہیں اور سماج کی تباہی کا بھی سبب بنتے ہیں۔ سچا انسان وہ ہے جو خدا کے مقرر کیے ہوئے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا میں بھی خدا کی رحمتیں پائیں گے اور آخرت میں بھی خدا کی ابدی رحمتوں سے سرفراز کیے جائیں گے۔

کتاب اسلام کیا ہے؟ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 52۔