Islam kya hai

Musavaat

Islam kya hai — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (47 chapters)
  1. Khuda
  2. فرشتہ
  3. پیغمبر
  4. قرآن
  5. Islam
  6. Emaan
  7. امتحان
  8. Niyyat
  9. آخرت
  10. روحانیت
  11. التقویٰ
  12. شکر
  13. ذکر
  14. نماز
  15. Roza
  16. Zakat
  17. Hajj
  18. Akhlaq
  19. Sabr
  20. Sach bolna
  21. Wada
  22. Safaai
  23. Ravadari
  24. Earaaz
  25. Ikhtelaaf ke waqt
  26. Padosi
  27. Huququl ibaad
  28. Tasavvur-e-insan
  29. Khidmat-e-khalq
  30. Musavaat
  31. Insani biradari
  32. Taassub nahi
  33. Amn pasandi
  34. Khuda parastana zindagi
  35. Subh-o-shaam
  36. Ebrat piziri
  37. Gharelu zindagi
  38. Izzat-e-nafs
  39. Saadgi
  40. Khudai tariqa
  41. Maal
  42. Khona,Paana
  43. Najaat
  44. Jihaad
  45. Khuda ko pukaarna
  46. Duayen
  47. Back cottecst

مساوات اسلام کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان کیا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں۔ فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے، نہ کہ رنگ و نسل۔ انسانوں میں بظاہر رنگ و نسل وغیرہ کے اعتبار سے بہت سے فرق پائے جاتے ہیں، مگر یہ فرق پہچان کے لیے ہیں، نہ کہ فضیلت کے لیے۔

سماجی اور قومی زندگی کا نظام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں میں ایسی خصوصیات ہوں کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں پہچانے جا سکیں۔ اس سماجی ضرورت کی بنا پر خدا نے انسانوں میں مختلف اعتبار سے ظاہری فرق رکھے ہیں، تاکہ دنیا کا نظام اور آپس کا لین دین آسانی کے ساتھ جاری رہے۔ مگر یہ تمام ظاہری فرق صرف دنیاوی پہچان کے لیے ہیں۔ جہاں تک انسان کی حقیقی فضیلت کا تعلق ہے، وہ تمام تر داخلی صفات پر منحصر ہے۔

اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ خدا لوگوں کے دلوں کو دیکھتا ہے، وہ ان کے جسموں کو نہیں دیکھتا۔ یعنی جسمانی فرق کا تعلق انسانی معاملات سے ہے۔ خدا کے یہاں صرف ان لوگوں کو اونچا درجہ ملے گا جو اپنی اندرونی خصوصیات کے اعتبار سے قابلِ قدر ثابت ہوئے ہیں۔ اسلامی نظام کے ہر شعبے میں اس انسانی برابری کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

نماز میں سارے انسان ایک ساتھ صف میں کھڑے ہوتے ہیں، حج میں دنیا بھر کے مسلمان یکساں قسم کے لباس پہن کر حج کے مراسم ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح اسلام کے اجتماعی نظام میں ہر ایک شخص کو وہی درجہ حاصل ہے جو دوسرے شخص کے لیے ہے، نہ کسی کے لیے کم اور نہ کسی کے لیے زیادہ۔ اسلام کے نزدیک ہر قسم کی بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہے۔ انسان آپس کے ظاہری فرق کے باوجود سب کے سب یکساں طور پر خدا کے بندے ہیں۔

انسان اور خدا کے درمیان یقینی طور پر فرق ہے، مگر انسان اور انسان کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی فرق نہیں۔ کتاب اسلام کیا ہے؟ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 40۔