Islam kya hai

Subh-o-shaam

Islam kya hai — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (47 chapters)
  1. Khuda
  2. فرشتہ
  3. پیغمبر
  4. قرآن
  5. Islam
  6. Emaan
  7. امتحان
  8. Niyyat
  9. آخرت
  10. روحانیت
  11. التقویٰ
  12. شکر
  13. ذکر
  14. نماز
  15. Roza
  16. Zakat
  17. Hajj
  18. Akhlaq
  19. Sabr
  20. Sach bolna
  21. Wada
  22. Safaai
  23. Ravadari
  24. Earaaz
  25. Ikhtelaaf ke waqt
  26. Padosi
  27. Huququl ibaad
  28. Tasavvur-e-insan
  29. Khidmat-e-khalq
  30. Musavaat
  31. Insani biradari
  32. Taassub nahi
  33. Amn pasandi
  34. Khuda parastana zindagi
  35. Subh-o-shaam
  36. Ebrat piziri
  37. Gharelu zindagi
  38. Izzat-e-nafs
  39. Saadgi
  40. Khudai tariqa
  41. Maal
  42. Khona,Paana
  43. Najaat
  44. Jihaad
  45. Khuda ko pukaarna
  46. Duayen
  47. Back cottecst

صبح و شام۔ اسلام زندگی کا ایک مکمل پروگرام ہے، وہ آدمی کی پوری زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک۔ زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں ہے جو اسلام کے دائرے سے باہر ہو۔ ایک مومن رات کو سو کر صبح سویرے اٹھتا ہے، اور سب سے پہلے اپنے جسم کو پاک کرتا ہے، اور وضو کر کے فجر کی نماز ادا کرتا ہے۔

یہ گویا مومنانہ زندگی کا آغاز ہے۔ جو پاکیزگی اور عبادت سے شروع ہوتی ہے، اس کے بعد صبح سے دوپہر تک کا وقت معاشی دوڑ دھوپ کا وقت ہے۔ تاہم اس دوڑ دھوپ کے دوران مومن مسلسل خدا کو یاد رکھتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں خدا کی مقرر کی ہوئی حد کی پابندی کرتا ہے۔

لیکن دین میں وہ دیانت داری کا انداز اختیار کرتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے میں وہ پوری طرح اسلامی اخلاق کو اپنائے ہوئے ہوتا ہے۔ اس طرح دوسری نماز کا وقت آ جاتا ہے، جو دوپہر بعد پڑھی جاتی ہے۔ یہ ظہر کی نماز ہے۔

ظہر کی نماز کی صورت میں وہ اللہ سے اپنے تعلق کو از سرِ نو زندہ کرتا ہے۔ اپنے جسم اور اپنے روح کو وہ پاک کر کے دوبارہ زندگی کی جدوجہد میں شریک ہو جاتا ہے۔ وہ ایک بااصول انسان کی مانند اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ تیسری نماز کا وقت آ جاتا ہے، جس کو عصر کی نماز کہا جاتا ہے۔ اب وہ پھر نماز کی طرف رجوع کرتا ہے۔

وہ پھر خدا کی رحمتوں میں سے اپنا حصہ لیتا ہے، تاکہ اگلے مرحلے میں وہ اس کے کام آ سکے۔ اس طرح مومن کے لمحات گزرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورج غروب ہوتا ہے، اور چوتھی نماز کا وقت آ جاتا ہے، جس کو مغرب کی نماز کہا جاتا ہے۔ اب مومن اپنے کام کو چھوڑ کر پھر نماز کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ مقررہ قاعدے کے مطابق نماز ادا کرتا ہے، اور اس سے دینی اور روحانی غذا لے کر باہر آتا ہے۔

اس کے بعد وہ نماز سے حاصل کیے ہوئے دینی ذہن کے تحت اپنی ضروریات پوری کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پانچویں نماز کا وقت آ جاتا ہے، جس کو عشاء کی نماز کہا جاتا ہے۔ عشاء سے فراغت کے بعد مومن اپنے بستر پر جاتا ہے، اور اپنے دن بھر کے کام کا احتساب کرتے ہوئے سو جاتا ہے، تاکہ صبح سویرے اٹھ کر وہ زیادہ بہتر طور پر اپنے اگلے دن کا آغاز کر سکے۔ کتاب "اسلام کیا ہے"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 46۔