Islam kya hai

نماز

Islam kya hai — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (47 chapters)
  1. Khuda
  2. فرشتہ
  3. پیغمبر
  4. قرآن
  5. Islam
  6. Emaan
  7. امتحان
  8. Niyyat
  9. آخرت
  10. روحانیت
  11. التقویٰ
  12. شکر
  13. ذکر
  14. نماز
  15. Roza
  16. Zakat
  17. Hajj
  18. Akhlaq
  19. Sabr
  20. Sach bolna
  21. Wada
  22. Safaai
  23. Ravadari
  24. Earaaz
  25. Ikhtelaaf ke waqt
  26. Padosi
  27. Huququl ibaad
  28. Tasavvur-e-insan
  29. Khidmat-e-khalq
  30. Musavaat
  31. Insani biradari
  32. Taassub nahi
  33. Amn pasandi
  34. Khuda parastana zindagi
  35. Subh-o-shaam
  36. Ebrat piziri
  37. Gharelu zindagi
  38. Izzat-e-nafs
  39. Saadgi
  40. Khudai tariqa
  41. Maal
  42. Khona,Paana
  43. Najaat
  44. Jihaad
  45. Khuda ko pukaarna
  46. Duayen
  47. Back cottecst

نماز خدا کی عبادت ہے، اور روزانہ 5 وقت کے لیے فرض ہے۔ جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لیے اس کا انتظام مسجدوں میں کیا جاتا ہے۔ نماز میں سب سے پہلے وضو کیا جاتا ہے، چہرہ اور ہاتھ اور پاؤں کو پانی سے دھو کر۔

نمازی اپنے اندر اس احساس کو جگاتا ہے کہ وہ ہمیشہ پاکیزہ زندگی گزارے گا۔ پھر وہ اللہ اکبر، یعنی "اللہ سب سے بڑا ہے" کہہ کر نماز کے عمل میں داخل ہوتا ہے۔ اس طرح وہ اقرار کرتا ہے کہ بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہے۔ آدمی کے لیے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ چھوٹا اور متواضع بن کر دنیا میں رہے۔

نماز میں آدمی قرآن کے کچھ حصوں کو پڑھ کر اپنے بارے میں خدا کے احکام کو ذہن میں تازہ کرتا ہے۔ پھر وہ رکوع اور سجدہ کر کے عمل کی زبان میں یہ کہتا ہے کہ میرے لیے صرف ایک ہی رویہ درست ہے، اور وہ یہ کہ میں خدا کا تابع بن کر دنیا میں زندگی گزاروں۔ نماز کا عمل جب ختم ہوتا ہے تو تمام نمازی دائیں اور بائیں منہ پھیر کر کہتے ہیں: "السلام علیکم ورحمۃ اللہ"، یعنی تمہارے اوپر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ نماز کے ذریعے تربیت پا کر اب تمام نمازی اس طرح دنیا میں داخل ہو رہے ہیں کہ ان کے دل میں دوسروں کے لیے رحمت اور امن کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔

وہ سماج کا امن پسند ممبر بن کر رہیں گے، اور کسی کے ساتھ بدخواہی کا عمل نہیں کریں گے۔ نماز ایک اعتبار سے خدا کی عبادت ہے، وہ خدا کی خدائی کا اعتراف ہے۔ وہ ہر قسم کی بڑائی کو صرف خدا کے لیے خاص کرتے ہوئے اس کے آگے جھک جانا ہے۔ دوسرے اعتبار سے نماز آدمی کو اس کے لیے تیار کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان وہ سچا انسان بن کر رہے۔

وہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تواضع اور ہمدردی کا انداز اختیار کرے۔ نماز خدا کے ساتھ بھی نمازی کے معاملے کو درست کرتی ہے، اور انسان کے ساتھ اس کے معاملے کو بھی۔ p. 20