Islam kya hai

روحانیت

Islam kya hai — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (47 chapters)
  1. Khuda
  2. فرشتہ
  3. پیغمبر
  4. قرآن
  5. Islam
  6. Emaan
  7. امتحان
  8. Niyyat
  9. آخرت
  10. روحانیت
  11. التقویٰ
  12. شکر
  13. ذکر
  14. نماز
  15. Roza
  16. Zakat
  17. Hajj
  18. Akhlaq
  19. Sabr
  20. Sach bolna
  21. Wada
  22. Safaai
  23. Ravadari
  24. Earaaz
  25. Ikhtelaaf ke waqt
  26. Padosi
  27. Huququl ibaad
  28. Tasavvur-e-insan
  29. Khidmat-e-khalq
  30. Musavaat
  31. Insani biradari
  32. Taassub nahi
  33. Amn pasandi
  34. Khuda parastana zindagi
  35. Subh-o-shaam
  36. Ebrat piziri
  37. Gharelu zindagi
  38. Izzat-e-nafs
  39. Saadgi
  40. Khudai tariqa
  41. Maal
  42. Khona,Paana
  43. Najaat
  44. Jihaad
  45. Khuda ko pukaarna
  46. Duayen
  47. Back cottecst

روحانیت کیا ہے؟ خدا نے اس کو ابدی طور پر گلاب کے پیڑ کے روپ میں دکھا رکھا ہے۔ گلاب کے پیڑ میں کانٹا بھی ہوتا ہے اور پھول بھی۔

نوکیلے کانٹوں کے ساتھ خدا اسی شاخ میں ایک پھول اگاتا ہے جس میں مہک ہو، جس میں رنگ ہو، جو اپنی خوشبو سے دور تک کے لوگوں کو معطر کر دے۔ یہ ہے روحانیت کا قدرتی نمونہ۔ روحانیت نام ہے کانٹوں کے بیچ میں پھول بن کر رہنے کا۔ روحانیت یہ ہے کہ آدمی زندگی کے کانٹوں میں نہ الجھے، وہ بھڑکنے والی باتوں پر نہ بھڑکے، ناخوشگوار تجربات اس کے اعتدال کو بھنگ نہ کریں۔

دوسروں کا ناپسندیدہ روپ اس کے اندر غصہ اور انتقام کے جذبات نہ پیدا کرے۔ وہ خود اپنے اصول کے تحت جیے۔ اس کی ذہنی سطح اتنی بلند ہو چکی ہو کہ پتھر مارنے والے کا پتھر اس تک پہنچ ہی نہ سکے۔ روحانیت کو قرآن میں ربانیت کہا گیا ہے، یعنی رب میں جینا، رب والا بن کر رہنا۔

جو لوگ انسانی جھگڑوں میں جیئیں، وہ اپنے قریب کی باتوں سے اثر لیتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی روحانیت کبھی ترقی نہیں کرتی۔ مگر جو آدمی اپنے آپ کو اتنا اٹھائے کہ وہ اپنے فکر و خیال کے اعتبار سے ربانی سطح پر جینے لگے، وہ لوگوں کی باتوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ ربانیت کی صورت میں وہ اتنی بڑی چیز پا لیتا ہے کہ ہر دوسری چیز اس کی نظر میں چھوٹی ہو جاتی ہے۔

ایسے آدمی کے اندر یہ طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ گالی سن کر مسکرا دے، وہ غصہ دلانے والی بات کو بھلا دے، وہ کانٹے کا استقبال پھول کے روپ میں کر سکے۔ روحانی انسان اپنی روحانیت یا ربانیت کی صورت میں اتنی بڑی چیز پا لیتا ہے کہ اس کے بعد کسی اور چیز کی تمنا نہیں رہتی۔ یہ چیز اس کے اندر حسد، خودغرضی اور استحصال کے جذبات کو ختم کر دیتی ہے۔ وہ اتنا زیادہ پا لیتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اور چیز پانے کے لیے باقی نہیں رہتی۔

یہی وہ لوگ ہیں جن کے مجموعے سے وہ سماج بنتا ہے جو سورج کی طرح چمکے اور باغ کے روپ میں لہلہائے۔ کتاب اسلام کیا ہے؟ p. 16