Islam kya hai

Niyyat

Islam kya hai — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (47 chapters)
  1. Khuda
  2. فرشتہ
  3. پیغمبر
  4. قرآن
  5. Islam
  6. Emaan
  7. امتحان
  8. Niyyat
  9. آخرت
  10. روحانیت
  11. التقویٰ
  12. شکر
  13. ذکر
  14. نماز
  15. Roza
  16. Zakat
  17. Hajj
  18. Akhlaq
  19. Sabr
  20. Sach bolna
  21. Wada
  22. Safaai
  23. Ravadari
  24. Earaaz
  25. Ikhtelaaf ke waqt
  26. Padosi
  27. Huququl ibaad
  28. Tasavvur-e-insan
  29. Khidmat-e-khalq
  30. Musavaat
  31. Insani biradari
  32. Taassub nahi
  33. Amn pasandi
  34. Khuda parastana zindagi
  35. Subh-o-shaam
  36. Ebrat piziri
  37. Gharelu zindagi
  38. Izzat-e-nafs
  39. Saadgi
  40. Khudai tariqa
  41. Maal
  42. Khona,Paana
  43. Najaat
  44. Jihaad
  45. Khuda ko pukaarna
  46. Duayen
  47. Back cottecst

نیت۔ اسلام میں سب سے زیادہ اہم چیز نیت ہے۔ کوئی عمل محض اپنے ظاہر کی بنا پر خدا کے یہاں قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ خدا صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جس کو کرنے والے نے صحیح نیت سے کیا ہو۔

بری نیت کے ساتھ کیے ہوئے عمل کو خدا رد کر دیتا ہے۔ صحیح نیت یہ ہے کہ وہ کام خدا کے لیے کیا گیا ہو، اس کو کرنے سے خدا کی رضا مقصود ہو۔ آدمی جو کام کرے، اس احساس کے ساتھ کرے کہ اس کا اجر اس کو خدا کے یہاں پانا ہے۔ اس کے برعکس بری نیت یہ ہے کہ آدمی بظاہر دین کا عمل کرے، مگر وہ اس سے دنیا کا فائدہ لینا چاہتا ہو۔

وہ جو کام کرے، اس لیے نہ کرے کہ لوگ اس کو دیکھ کر اس کی تعریف کریں گے۔ لوگوں کے درمیان اس کو شہرت اور مقبولیت حاصل ہوگی۔ وہ لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کرے گا۔ نیت کا تعلق آدمی کی اندرونی سوچ یا اندرونی کیفیات سے ہے۔

عام لوگ کسی انسان کے اندر کی سوچ یا اندر کی کیفیات کو نہیں جان سکتے، مگر خدا کو ہر انسان کے اندر کا حال پوری طرح معلوم ہے۔ وہ جانتا ہے آدمی کے دماغ میں کیا ہے، اور اس کے اندر کس قسم کے جذبات ہیں۔ کسی کے عمل کے بارے میں عام لوگ غلط فہمی میں پڑ سکتے ہیں، مگر خدا کو ہر بات کا پورا علم حاصل ہے۔ وہ اپنے علم کے مطابق ہر ایک سے معاملہ کرے گا، اور ہر ایک کو وہی بدلہ دے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق ہے۔

نیت کی حیثیت حقیقت اور معنویت کی ہے۔ جو چیز اصل حقیقت یا اپنی اصل معنویت کو کھو دے، وہ چیز بے کار ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جو عمل بری نیت یا ناقص نیت کے ساتھ کیا جائے، وہ بے قیمت ہے۔ اس کی کوئی اہمیت نہ انسانوں کی نظر میں ہو سکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔

کسی چیز کی قیمت اس وقت ہے جب کہ وہ خالص ہو، اس میں کسی اور چیز کی ملاوٹ نہ ہو۔ صحیح نیت کے ساتھ کیا ہوا عمل خالص عمل ہے۔ صحیح نیت کے بغیر کیا ہوا عمل غیر خالص عمل ہے۔ p. 13