Islam kya hai

Sach bolna

Islam kya hai — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (47 chapters)
  1. Khuda
  2. فرشتہ
  3. پیغمبر
  4. قرآن
  5. Islam
  6. Emaan
  7. امتحان
  8. Niyyat
  9. آخرت
  10. روحانیت
  11. التقویٰ
  12. شکر
  13. ذکر
  14. نماز
  15. Roza
  16. Zakat
  17. Hajj
  18. Akhlaq
  19. Sabr
  20. Sach bolna
  21. Wada
  22. Safaai
  23. Ravadari
  24. Earaaz
  25. Ikhtelaaf ke waqt
  26. Padosi
  27. Huququl ibaad
  28. Tasavvur-e-insan
  29. Khidmat-e-khalq
  30. Musavaat
  31. Insani biradari
  32. Taassub nahi
  33. Amn pasandi
  34. Khuda parastana zindagi
  35. Subh-o-shaam
  36. Ebrat piziri
  37. Gharelu zindagi
  38. Izzat-e-nafs
  39. Saadgi
  40. Khudai tariqa
  41. Maal
  42. Khona,Paana
  43. Najaat
  44. Jihaad
  45. Khuda ko pukaarna
  46. Duayen
  47. Back cottecst

سچ بولنا۔ مومن ایک سچا انسان ہوتا ہے، وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں وہی بات کہتا ہے جو واقعے کے مطابق ہو۔ مومن اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ جھوٹ بولے اور جو چیز سچ ہے اس کا اظہار نہ کرے۔

سچ بولنا کیا ہے؟ سچ بولنا یہ ہے کہ آدمی کے علم اور اس کے بول میں تضاد نہ ہو۔ وہ جو کچھ جانتا ہے وہی بولے، اور جو وہ بول رہا ہے وہ وہی ہو جو اس کے علم میں آیا ہو۔ اس کے برعکس جھوٹ یہ ہے کہ آدمی کا علم اس کو ایک بات بتاتا ہو مگر اپنی زبان سے وہ کسی دوسری بات کو بیان کرتا ہو۔

سچائی مومن کے کردار کا ایک اعلیٰ ترین پہلو ہے۔ مومن ایک بااصول انسان ہوتا ہے، اور بااصول انسان کے لیے اس کے سوا کوئی اور رویہ درست نہیں کہ وہ جب بھی بولے تو سچ بولے۔ سچائی کے خلاف بولنا اس کے لیے کسی حال میں ممکن نہیں۔ خدا کی دنیا پوری کی پوری سچائی پر قائم ہے۔

یہاں ہر چیز اپنے آپ کو اسی روپ میں ظاہر کرتی ہے جو کہ حقیقتاً اس کا روپ ہے۔ سورج، چاند، دریا، پہاڑ، درخت، ستارے اور سیارے سب کے سب سچ پر قائم ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ویسا ہی بتاتے ہیں جیسا کہ وہ حقیقتاً ہیں۔ خدا کی وسیع دنیا میں کوئی بھی چیز جھوٹ پر قائم نہیں۔

کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس کی حقیقت کچھ اور ہو اور وہ اپنے آپ کو کسی اور صورت میں ظاہر کرے۔ یہی فطرت کا کردار ہے جو آفاقی سطح پر پھیلا ہوا ہے۔ مومن بھی عین اسی کردار کا حامل ہوتا ہے۔ وہ جھوٹ اور دو عملی سے مکمل طور پر پاک ہوتا ہے۔

مومن سراپا سچائی ہوتا ہے۔ اس کا پورا وجود سچائی میں ڈھلا ہوا ہوتا ہے۔ اس کو دیکھتے ہی یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ اندر سے باہر تک ایک سچا انسان ہے۔ سچ بولنا مومن کے لیے صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ وہ اس کا دین ہے۔

سچائی کے معاملے میں سمجھوتہ کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ وہ سچ بولتا ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ سچ بولتا ہے اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ سچ نہ بولنا اپنی ذات کی نفی ہے، اور جو چیز خود اپنی ذات کی نفی ہے اس کا ارتکاب کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیں۔ کتاب اسلام کیا ہے؟

مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 27۔