Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
1دسمبر 2012
قدیم عرب میں المروءۃ انسان کی سب سے بڑی صفت سمجھی جاتی تھی۔ اصول طور پر وہ آج بھی انسان سے بڑی صفت ہے۔ لیکن بعض لوگ المروءۃ اور مردانگی میں فرق نہیں کرتے مردانگی تو محض لڑنے بھڑنے کا نام ہے ۔ المروءۃاِس سے بلند چیز ہے ۔ میرے نزدیک ، المروءۃ کی تعریف یہ ہے کہ آدمی اصول کے آگے جھک جائے ، خواہ وہ اسی کی مرضی کے خلاف ہو۔
جاہلی دور کے ایک عرب شاعر کا شعر ہے :
اذ المر ء أ میت المروءۃ نا شئاً فمطلبو کہلاً کلیہ شدید
یعنی جو شخص جوانی کی عمر میں المروءۃ کی صفت حاصل نہ کرسکا۔ تو بڑھاپے کی عمر میں اس کے لیے المروءۃ تک پہنچنا بہت مشکل ہوگا۔ مگر میرے نزدیک المروءۃ کا تعلق عمر سے نہیں ہے ، اس کا تعلق زیادہ تر پیدائشی صفت سے ہے۔
2دسمبر 2012
آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
Purpose of Human Life
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔ 1-2دسمبر 2012کو چوں کہ سی پی ایس (نئی دہلی ) میں کشمیر دعوہ میٹ تھی۔ اِس لیے آج دہلی کے سامعین کے علاوہ کشمیری حضرات بھی کافی تعداد میں موجودہ تھے۔ اِس کے علاوہ ، سہارن پور کرناٹک ، تمل ناڈو ، بنگلور ، اور لکھنؤ کے دعاۃ نے بھی اِس اجتماع میں شرکت کی۔
3دسمبر 2012
مسلمانوں کی مجالس کے بارے میں میرا تجربہ ہے کہ وہاں ہر آدمی بولنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کوئی سوال کیا جاتا ہے تو ہر آدمی بولنے لگتا ہے۔ اِسی قسم کا ایک تجربہ مجھ کو پیش آیا تو میں نے کہا کہ قرآن میں آیا ہے کہ : لا تر فعو اأصواتکم فوق صوت النبیی ۔ اِس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ سب لوگ چپ رہیں۔ اس آیت میں ’رفع صوت ‘ سے منع کیا گیا ہے ۔ رفع صوت اُس وقت ہوتا ہے جب کہ سب لوگ بیک وقت بولنے لگیں ، صرف ایک شخص بولے تو رفعِ صوت نہیں ہوگا۔ اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مجلس میں جب کچھ پوچھا جائے تو صرف متعلق شخص بولے، تمام لوگ بیک وقت نہ بولنے لگیں۔
4دسمبر 2012
آج جموں و کشمیر کے چار نو جوان ملاقات کے لیے آئے۔ اِن چاروں نو جوانوں کا شلیکشن جج کے عہدے کے لیے ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دہلی میں ان کا کام کل ختم ہو چکا تھا اور کل شام کو انھیں جموں و کشمیر واپس جانا تھا ، پھر ان کے اندر سکند تھاٹ آیا ۔ وہ سوچنے لگے کہ ہم آج واپس جائیں یا کل واپس جائیں ، پھر انھوں نے قرعہ نکالا ۔ قریہ میں یہ نکلا کہ آج ٹھہرو (Stay Back)۔ چناں چہ وہ ٹھہر گئے ۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ حمید اللہ حمید (ایروہ، کشمیر )کی ان حضراب سے بات ہوئی ۔ حمید اللہ حمید نے ان کو ہمارے یہاں آنے کا مشورہ دیا۔ وہ بخوشی تیار ہوگئے ۔ یہ چاروں صاحبان الرسالہ مشن سے واقف ہیں اور اس سے پورا اتفاق رکھتے ہیں ۔ ان میں سے ایک صاحب جن کا نام طاہر خورشید بسمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو زندہ الرسالہ (Living Al-Risala)بننا ہے۔
5دسمبر 2012
لکھنؤ کے ایک صاحب جو شادی شدہ ہیں اور اُن کے بچے بھی ہیں ، ان کی یہ خواہش تھیکہ وہ دوسرا نکاح کریں ۔ دوسرے نکاح کے لیے انھوں نے ایک خاتون کا نکاح بھی کر لیا۔ وہ ہمارے دعوتی مشن سے جڑے ہوئے ہیں ۔ مجھے معلوم ہوا تو میں نے ان کی سخت ہمیرنگ کی ۔ میں نے کہا کہ کچھ چیزیں غیر محّرم حرام ہوتی ہیں ۔ آپ کے لیے دوسرا نکاح اسی قسم کا غیر محرم حرام ہے ۔ آپ کے لیے دوسرا نکاح کرنا صرف ہلاکت کے ہم معنی ہوگا۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کے لیے دو میں سے ایک آپشن ہے ، آپ یا تو ہمارا دعوتی مشن چھوڑ دیجیے یا دوسرے نکاح کا خیال ترک کر دیجئے۔ انھوں نے میری بات مانتے ہوئے کہا کہ میں دوسرا نکاح نہیں کروں گا۔
بعد کو مجھے معلوم ہوا کہ انھوں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ دوسرے نکاح کی بات صرف لکھنؤ کے چار لوگوں کو معلوم تھی، پھر یہ بات دلّی تک کیسے پہنچی ۔ انھوں نے کہا کہ اِس پر مجھے بہت ٹنشن ہے۔ یہ طرز فکر میری سوچ سے سراسر خلا ف ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ آدمی کو ہمیشہ اصل بات میری دھیان دینا چاہیے ، نہ یہ کہ کس نے کہا پر۔
6دسمبر 2012
حدیث میں کتاب الفقن کے تحت بہت سی روایتیں آئی ہیں ۔ اُن میں سے ایک روایت یہ ہے کہ فتنہ کے دور میں مسجدوں میں آواز بلند ہوں گی (رفعت الأصوات فی المساجد )۔مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اِس حدیث میں لاؤڈ سپیکر کے دور کی خبر دی گئی ہے ۔ لاؤڈ سپیکر ایک مفید چیز ہے ، مگر موجودہ زمانے میں اُس اے ایک برائی پیدا ہوئی ہے ۔ اور وہ ہے اسٹیج ایکٹوزم ۔ پہلے زمانے میں جب کہ لاؤڈ سپیکر نہیں تھا ، لوگ زیادہ تر انفرادی نصیحت کے انداز میں خطاب کرتے تھے۔ لاؤڈ سپیکر کے زمانے میں یہ رواج آگیا ہے کہ لوگ بڑی بڑی بھیڑ اکھٹا کر کے عوامی انداز میں خطابت کا جوہر دکھاتے ہیں ۔ یہ برائی لاؤڈ سپیکر کے ذریعے پیدا ہوئی ہے۔ اِس قسم کی خطابت سے خطیب کی امیج تو بنتی ہے ، لیکن سامعین کے لیے اس کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔
7دسمبر 2012
قرآن کے مطابق ، پھلوں اور میووں کے ہر ایک کو فضل خاص دیا گیا ہے ( ونقص بعض علی بعض یلی الأکل ) اِس لیے ہر میوے میں اس کا مخصوص ذائقہ انسان کو ملنا چاہیے ۔ اِس طرح قرآن کے مطابق ، انسان کو مکّرم اور مفصل مخلوق کی سے پیدا کی اگیا ہے ۔ (17) ۔ اس تخلیق کا نتیجہ ہے کہ انسان کو تکریم اور تفصیل کے درجے میں حقائق کی معرفت حاصل ہو ، مگر عملاً ایسا نہیں ہے ۔ اِس انسانی محرومی کا خاص سبب میرے نزدیک افضل الابنیاء کا مبتدعانہ تصو ر ہے ۔ افضل الانبیاء کے تصور نے لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ اعلیٰ درجہ معرفت تو صرف البشر کی حیثیت نہیں ملی۔ میرے نزدیک ، افضل الانبیاء کا عقیدہ اعلیٰ درجہ معرفت کے حصول میں قاتل کی حیثیت رکھتا ہے ۔
8دسمبر 2012
مصر میں اسلامی سیاست شاہ فاروق کے زمانے میں شروع ہوئی ۔ 1952میں شاہ فاروق کی مغرولی کے بعد اسلام کے نام پر ٹکراؤ کی یہ سیاست ختم نہیں ہوئی ۔ اب مصر میں ٹکراؤ کی سیاست چلانے والے گروپ الاخوان المسلمون کے لیڈر ڈاکٹر محمد م رسی صد ر کے عہدے پر ہیں ۔ مگر اسلامی سیاست کے نام پر ٹکراؤ کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔ اطلاع کے مطابق اب تک کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سیکڑوں افراد زخمی ہیں ، اور کئی دفاتر کو نذر آتش کر دیا گیا ہے ۔ آج کے اخبار میں مصر میں ہونے والے اِن ہنگاموں کی خبر اخبار میں پڑھ کر میں نے سوچا کہ مصر اور پاکستان جیسے ملکوں میں جو لوگ اسلامی سیاست کے نام پر پُر شور تحریکیں چلا رہے ہیں ، وہ نہ اسلام کو جانتے اور نہ سیاست کو ۔ جو لوگ اتنا زیادہ بے خبر ہوں ، ان کے لیے سیاست کے میدان میں آنا بلاشبہ ایک غیر محرم حرام کی حقیقت رکھتا ہے۔
9دسمبر 2012
آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
Between Possible and Impossible
ایک گھنٹے کی تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔
10دسمبر 2012
خالد مشعل فلسطین تنظیم حماس کے لیڈر ہیں ۔ وہ ویسٹ بینک کے علاقے میں 1956میں پیدا ہوئے۔ 11سال کی عمر میں وہ شام چلے گئے ۔ 45سال باہر رہنے کے بعد وہ غزہ (فلسطین ) واپس آئے۔ یہاں فلسطینیوں نے اُن کا شان دار استقبال کیا ۔ انھوں نے غزہ کے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میری پیدائش 1956میں ہوئی تھی ، تاہم1997میں اردن میں اسرائیل حملے میں میرا بچنا دوسرا جنم تھا۔ آج غزہ میں میرا آنا تیسرا جنم ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میرا چوتھا جنم اُس وقت ہوگا جب فلسطین آزاد ہوگا۔
(روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی ، 9دسمبر 2012صفحہ1)
خالد مشعل کے اِس بیان پر غزہ کے میلے میں تالیاں بجائی گئیں ، مگر اُن کا یہ بیان محض ایک جذباتی بیان ہے ۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ خالد مشعل اور دوسرے فلسطین لیڈڑ یہ کہیں کہ 60سال کے تجربے کے بعد اب ہمیں ایک نئی حقیقت کی دریافت ہوئی ، وہ یہ کہ 1948میں ہم نے جو اسرائیل مخالف موقف اختیار کیا تھا، وہ ایک غلط موقف تھا۔ اب ہمیں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے دوبارہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کا نیا نقشہ بنانا چاہیے۔
11دسمبر 2012
اسلام میں ایک مطلوب عمل وہ ہے جس کو اِحیا یا تجدید کہا جاتا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک مشہور حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ان اللہ یبعث علی رأس کل مأ ۃ سنۃ من یجدّد لہا دینہا ( سنن ابی داؤد ) یعنی اللہ ہر سو سال کے سرے پر ایک شخص کو اٹھائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے۔
پچھلی صدیوں میں مسلمانوں کے درمیان بہت سے ایسے علماء اٹھے جن کو مجدد کہا جاتا ہے ، مگر یہ لوگ مجدد ملت تھے، نہ کہ مجدد دین ۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق ، جو چیز مطلوب ہے ، وہ ’’دین ‘‘ کی تجدید ہے ۔ نہ کہ ملت کی تجدید ۔ مگر تقریباً تمام مجددین عملاً ملت کی تجدید میں لگے رہے ۔ حتی کہ جن لوگوں نے تجدید دین کا نام لیا، وہ بھی دین کے نام پر عملاً ملت کی تجدید میں مشغول رہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سر گرمیوں کے طوفان کے باوجود مطلوب نتیجہ بر آمد ہوا۔
اِس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ تمام مصلحین نے پورے ملی مجموعے کو اپنا نشانہ بنایا ، وہ پوری ملت کو بیدا رکرنے میں لگے رہے ، حالاں کہ فطرت کے قانون کے مطابق ، بیداری ہمیشہ افراد کے اندار آتی ہے ، نہ کہ مجموعی طور پر پوری ملت کے اندر۔
12دسمبر 2012
دھام پور کے مہتاب صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے پوچھا کہ توفیق کا کیا مطلب ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جب بھی کسی مسلمان سے کسی دینی تقاضے کی بات کرتا ہوں تو وہ جواب دیتا ہے کہ خدا کی توفیق ہوگی تو ہم بھی ایسا کریں گے۔
میں نے کہا کہ توفیق کا یہ مطلب نہیں۔ توفیق کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے ، لیکن توفیق ہمیشہ عمل کے بعد آتی ہے، نہ کہ عمل سےپہلے ۔ توفیق کا تعلق عمل کے انجام سے ہے، نہ کے عمل کے آغاز سے ۔ اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ : العیی منی الاتمام مرا اللہ ۔ بندے کی ذمے داری یہہے کہ قرآن وحدیث کے مطالعے سے جو کام اُس کو کام نظر آئے۔ اس کو وہ اپنی طرف سے شروع کر دے اور اس کےک بعد دعا کرتا رہے کہ اللہ اس کو توفیق دے، تاکہ اس کا عمل اپنے انجام تک پہنچے۔
13دسمبر 2012
لکھنؤ کے مناکر الاسلام فاروقی کو میں نے ’کتاب معرفت ‘ برائے مطاعلہ دی تھی۔ آج انھوں نے اِن الفاظ میں اپنا اثر مجھ کو ایس ایم ایس کیا :
’’کتابِ معرفت کے مطالعے سے یہ معلوم ہوا کہ بغیر کسی پیر کے بندہ اپنے رب سے رشتہ جوڑ سکتا ہے اور دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے ‘‘۔
(محمد ذکوان ندوی )
کتاب معرفت کے بارے میں یہ تاثر میرے نزدیک ادھورا ہے ۔ اس تاثر کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اِس میں خارجی اعتراف تو ہے ، لیکن اس میں داخلی ارادے کا ذکر نہیں ۔ ایک سنجیدہ انسان سے اِس قسم کی ایک کتاب کے بارے میں جو رسپانس مطلوب ہے ، وہ صر ف یہ نہیں ہے کہ وہ کتاب کو محض ایک کتاب کی حیثیت سے دیکھے اور تبصرہ نگار کے انداز میں اس پر اپنی ایک رائے دے دے۔ بلکہ اس کو چاہیے کہ وہ اپنی ذات کو شامل کرے اپنی رائے دے ۔ ایسی صورت میں اس کے لیے دو میں سے ایک آپشن ہے ، یا تو وہ دلیل کے ساتھ یہ کہے کہ میں اِس کتاب کو درست نہیں سمجھتا ، یا ویہ کہے کہ اِس کتاب کو پڑھ کر میں نے ایک نئی حقیقت کو دریافت کیا ۔ میرا فیصلہ ہے کہ اب میں اِس سچائی کو اپنی زندگی میں اختیار کرلوں گا۔
14دسمبر 2012
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن او رحدیث میں غلو سے منع کیا گیا ہے ۔ غلو کا مطلب ہے انتہائی پسندی ۔ غلو در اصل دورِ زوال کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے ۔ امت پر جب زول کا دور کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے ۔امت پر جب زوال کا دور آتا ہے تو وہ ہمیشہ اِس معنی میں ہوتا ہے کہ اسپرٹ ختم ہو جاتی ہے اور صرف فارم باقی رہتا ہے ۔ جب ایسا ہو جائے تو لوگ فارم میں شدت اختار کرتے ہی ، تاکہ وہ یہ ظاہر کر سکیں کہ وہ بہت زیادہ دین دار ہیں ، فارم کے معاملے میں اِسی شدت پسندی کا نام غلو ہے ۔ غلو در اصل زوال یافتہ امت کی صفت ہے۔ زوال کا یہ دور امت ِ مسلمہ پر پوری طرح آچکا ہے ۔ مسلمانوں میں اِس کے مظاہر ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں۔
15دسمبر 2012
موجودہ زمانے میں کچھ رہنما مسلمانوں کے درمیان بہت مقبول ہوئے۔ ان کہ ہر طرف تعریف کی جاتی ہے ۔ اِ ن رہمناؤں کے بارے میں یہ سمجھتا ہے کہ وہ غیر معمولی اوصاف کے مالک ہیں، مگر یہ بات درست نہیں ۔ اِن رہنماؤں کی مقبولیت کا راز خود رہنماؤں کی ذاتی صفت نہیں ، بلکہ اِس کا راز مسلمانوں کی زوا ل یافتہ نفیسات میں ہے ۔ حقیقیت یہ ہے کے جن رہنماؤں یا جن لکھنے اور بولنے والوں نے مسلمانوں کی زوال یافتہ نفسیات کو فیڈ (Feed)کیا۔وہ مسلمانوں کے درمیان مقبول ہو گئے اور جس شخص نے مسلمانوں کی زوال یافتہ نفسیات کو فیڈ نہیں کی، وہ مسلمانوں کے درمیان عمومی مقبولیت حاصل نہ کر سکے۔
16دسمبر 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
The Importance of Peace
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کی تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اس کے بعد ظہر کی نماز با جماعت پر پروگرام ختم ہوا۔
17دسمبر 2012
ڈاکٹر محمد اقبال کے ایک شعر کا ایک مصرعہ یہ ہے کہ -تو نے پتھر پیدا کیا ، میں نے شیشہ پیدا کیا:
تو سنگ آفریدی، ایاغ آفرید م
اقبال کا یہ شعر اقبال کے پر ستار بہت فخر کے ساتھ پڑھتے ہیں ،مگر میرے نزدیک یہ ایک لغو شعر ہے ۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چیزوں کو پوٹنشیل کے روپ میں پیدا کیا اور انسان کو عقل دی کہ غور کر کے وہ اِس پوٹنشیل کو ایکچول بنائے ، اِسی کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض پتھروں میں یہ صفت پیدا کی ہے کہ وہ مخصوص عمل کے بعد کی صور ت اختیار کر سکیں، انسان نے اپنی خداداد عقل کو استعمال کر کے اِس امکان کو دریافت کیا اور اس کو استعمال کر کے پتھر سے شیشہ بنایا۔
اس واقعے میں اللہ کے شکر کا سامان ہے، مگر اقبال نے اپنی شاعرانہ کے ذریعہ اس کو فخر کا سامان بنا دیا۔
18دسمبر 2012
جماعت ہند کامکتبہ اسلامی ( نئی دہلی ) ہر سال ڈائری چھاپتا ہے ۔ جس کا نام ’’شب و روز ‘‘ ہوتا ہے ۔ میرے پاس بھی ہر سال یہ ڈائری بطور گفٹ آتی ہے ۔ 2013کی ڈائری جو میرے پاس آئی ہے اس میں جب معمولی ڈاکٹر محمد اقبال کے دو شعر لکھے ہوئے ہیں :
کانپتا ہے دل ترا ، اندیشہ طوفان سے کیا نا خدا تو ، بحر تو، کشتی بھی تو ، ساحل بھی تو
اقبال کا دوسرا شعر یہ ہے :
یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت پیتے ہے کہو، دیتے ہیںتعلیم ِ مساوات
ان دونوں شعروں میں مجھے تضاد نظر آیا ۔ پہلا شعر مسلمانوں با امت مسلمہ سے متعلق ہے ۔ اس کے مطابق ، مسلمان ماسٹر آف سچویشن (Master of Situation)کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دوسرے شعر میں اقوام ِ مغرب کا ذکر ہے ۔ اقبال کے مطابق وہ دوسری قوموں کا خون پیتے ہیں یا ان کا استحصال کرتے ہیں ۔ اقبال کےمطابق ، اِن زیر استحصال قوموں میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ پھر مسلمان جب ماسٹر آف سچویشن ہیں تو وہ دوسری قوموں کے استحصال کا شکار کیوں ہو رہے ہیں ۔
19دسمبر 2012
مصر کے حالیہ انتخاب میںوہاں کی اسلام پسند جماعت الاخوان المسلمون اقتدار میںآگئی ہے ۔ یہ لوگ زور و شور کے ساتھ اصطلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اِن مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ ہے کہ مصر کے اہرام (Pyramids)کو توڑ دیا جائے جس طرح اِس سے پہلے افغانستان (بامیان) میں واقع گوتم بدھ کے مجمہ کو توڑ ا گیا تھا ۔ مصر کے نام نہاد اسلام پسندوں کا کہنا ہے کہ یہ اہرام دورِ شرک کی علامت ہیں، اس لیے اس کو مٹانا ضروری ہے ۔
یہ مطالبہ غیر اسلامی بھی ہے اور غیر دانش مندانہ بھی۔ میں نے اپنے سفر مصر کے دوران اِن اہرام کو دیکھا ہے ۔ آج وہ شرک کا مرکز نہیں ہے ، بلکہ وہ سیاحت کا مرکز ہے ۔ موجودہ زمانے میں سیاحت (Tourism)کو بہت زیادہ فروغ ہوا ہے۔ سیاحت کے نقطہ نظڑ سے دنیا کی سات چیزوں کو سات عجائب (7 Wonders)کہا جاتا ہے ۔ اِس بنا پر مختلف ملکو ں کے سیاح کثرت سے یہاں آتے ہیں اور اہرام کو دیکھتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اِن اہرام کی بنا پر یہاں کثرت سے مدعو آتے ہیں ۔ اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ اہرام مصریوں کے لیے ایک ایڈ رانٹج کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اِس کی وجہ سے مصر مسلمانوں کو دعوت الی اللہ کا خصوصی موقع مل رہا ہے ۔مگر اِن نام نہاد اسلام پسندوں کو دعوت الی اللہ کی اہمیت کا کوئی علم نہیں۔
20دسمبر 2012
عمری گروپ کو ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک روایت کے مطابق ، دورِ آخر کے دعوتی مشن کا مرکز انڈیا ہوگا۔ ( عصلبۃ نغذہ الہند) میں نے کہا کہ یہ حدیث دلائل نبوت میں سے ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے مشن کا موزوں ترین مقام ہے ۔ دنیا میں تقریباً دو سو ملک ہیں۔ اِن ممالک کی چار قسمیں ہیں-ترقی یافتہ ممالک ، زیر مشرقی ممالک اور نیو ٹرل ملک ۔ امریکا اور یورپ کو ترقی یافتہ ملک کہا جاتا ہے ۔ میں اِن ملکوں میں بار بار گیا ہوں ۔ اِن ممالک کی مادی ترقی کا یہ نقصان ہوا ہے کہ یہ لوگ ذہنی بونا پن (Intellectual Dwarfism)کا شکار ہو گئے ہیں ، اِس بنا پر وہ کسی گہری دعوتو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ زیر ترقی ممالک میں تعلیم کی کمی نے لوگوں کو ایسا بنا دیا ہے جیسے کہ وہ ابتدائی دور (Primitive Age)کے انسان ہوں۔مسلم ممالک سب کے سب انتہا پسندی کا شکار ہیں ، اس لیے وہاں آزدانہ طور پر دعوت کا کام کرنا ممکن نہیں ۔
انڈیا میرے نزدیک واحد نیو ٹرل ملک ہے ۔ انڈیا کا مذہب استثنائی طور پرمذہبی رواداری ہے۔ ہندو مذہب میں استثنائی طور پر یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ -میں بھی سچا ، تم بھی سچے ۔ داکٹر رادھا کرشن نے کہا تھا کہ -ہم انیکتا واد کو مانتے ہیں ، یعنی سجائی گئی ہے ۔ اِسی بات کو مہاتما گاندھی نے تعددِ حقیقت (Manyness of Reality)کے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ سوامی وویکانند نے 1983میں امریکا کی ورلڈ پارلیامنٹ (World's Parliament of Religion)میں شرکت کی تھی۔ اِس موقع پر انھوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ :
We accept all religions as true.
ہندوستان کے اِسی مزاج کی بنا پر یہاں صوفیوں کو اشاعت اسلام کو کھلا موقع ملا۔ موجودہ زمانے میں دو قومی نظریے کی سایست سے اِس فضا کو تباہ کر دیا ہے ۔ تاہم ہندوستان میں اب بھی بہترین مواقع دعوت موجود ہے ۔ اُن کا استعمال کرنے کے لیے صرف دو شرطیں ہیں۔ غیر فرقہ وارانہ سوچ (Non-Communal Thinking)اور غیر متشددانہ سوچ (Non Violent Thinking)
21دسمبر 2012
تبلیغی جماعت میں شروع سے فضائل اعمال نامی کتاب کا رواج تھا۔ اس میں بہت سی ضعیف اور موصوف روایتیں تھیں، اس بنا پر علماء اس پر اعتراض کرتے تھے ۔ اب تبلیغی جماعت کے تحت ایک نئی کتاب چھپی ہے ۔ اس کا نام یہ ہے : منتخب احادیث
اِس کتاب میں تبلیغی جماعت کے 6نمبر کے تحت قرآن کی آیتیں اور حدیثیں جمع کی گئی ہیں۔ اِس کتاب کو مولانا محمد یوسف کاندھلوی نے تیار کیا تھا ۔ بعد کو مولانا محمد سعد کا ندھلوی نے اس کو ایڈٹ کر کے اس کا ترجمہ کیا ہے اور اس کو شائع کیا ہے ۔
اِس کتاب سے تبلیغی جماعت میں کوئی نیا دور نہیں آسکتا ۔ تبلیغی جماعت اپنے آغاز سے لے کر طبی مدت تک فضائل کی بنیاد پر چلائی گئی۔ تبلیغی جماعت کا پورا مومینٹم (Momentum)فضائل پر مبنی روایت کے تحت وجود میں آیا۔ میرے اندازے کے مطابق ، اب تبلیغ میں کوئی یوٹرن (U-Turn)آنے والا نہیں۔یو ٹرن کی شرط صرف غلطی کا کھلا اعتراف ہے۔ تبلیغ کے ذمے داران اگر یہ کریں کہ وہ تبلیغ کے اسٹیج سے کھلے طور پر یہ اعلان کر یں کہ یہ ایک غلطی تھی کہ تبلیغ کو فضائل کی بنیاد پر چلایا گیا۔ اب ہم اِس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے تبلیغ میں نیا دور لانا چاہتے ہیں ۔ اگر تبلیغ کے ذمے داران ایسا کرین ، تو تبلیغ میںنیا دور آسکتا ہے ، ورنہ نہیں ۔ تحریکوں میں کبھی بلا اعلان کبھی کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی۔
22دسمبر 2012
حضرت عمر فاروق کا ایک قول اِن الفاظ میں آیا ہے : قیل لعمر : فلان لا یعرف الشر ۔ قال : ذاک أجد ر أن یقع غیہ ۔ (البیان و البتین 327/2)یعنی عمرسے کہا گیا کہ فلاں شخص برائی کو نہیں جانتا ۔ انھوں نے کہا کہ اس کےلیے زیادہ امکان ہے کہ وہ برائی میں ملوث ہو جائے۔
اِس قول کا ایک پہلو انفرادی ہے، لیکن اس کا زیادہ شدید پہلو وہ ہے جو اجتماعی زندگی سے تعلق رکھتا ہے ۔ اجتماعی زندگی میں جب کوئی شخص اقدام کرے تو اس کو جاننا چاہیے کہ با عتبار نتیجہ اس کا انجام کیا ہوگا ۔ موجود زمانے میںمسلم لیڈروں نے بار بار ایسے اقدامات کیے ہیں جو با عتبار نتیجہ نہایت مہلک تھے۔ اِس قسم کا اقدام کرنا بلاشہ ایک حرام فعل ہے ۔ اِس معاملے میں بے خبری کسی رہنما کے لیے وجہ جواز نہیں۔
مثلاً فلسطین میں تمام عرب رہنماؤں کے اسرائیل کے خلاف جو متشددانہ تحریک چلائی ، وہ بد ترین تباہی پر ہوئی ۔ اس تحریک کا جواز ہر گز یہ نہیں ہے کہ اسرائیل اور امریکا کی سازشوں کا انکشاف کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ ہم نے تو خیر کے لیے اقدام کیا تھا، لیکن دشمنوں کی سازش کی وجہ سے وہ شر کا موجب بن گیا۔
23دسمبر 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وا ر کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
Journey of History
اِس موضوع پر ایک گھنٹہ کے خطاب کے بعد سوا ل و جواب کا پروگرام ہوا۔
24دسمبر 2012
سی پی ایس (نئی دہلی ) کے لوگ قرآن اور دوسری کتابیں ڈسٹری بیوٹ کرنے کے لیے کانفرنسوں میں جاتے ہیں ، دہلی کے اندر بھی اور دہلی کے باہر بھی ۔ مگر اب تک اِس معاملے میں کوئی باضابطہ اصول نہ تھا ۔ میں نے اب اس کا ایک اصول مقرر کر دیا ہے ۔ مسٹر خرم قریشی اور مز نغمہ صدیقی کو ٹیلی فون کر کے میںنے کہا کہ آئندہ وہ اِس معاملے میں ایک اصول پر سختی سے عمل کریں ۔ دہلی میں ہونے والی کانفرنسوں میں عورت اور مرد دونوں جا سکتے ہیں ، لیکن جو کانفرنس دہلی کے باہر کسی اور شہر میں ہو، اس میں صرف مرد جائیں ، عورتیں ہر گز نہ جائیں ۔ میںنے کہا کہ کوئی عورت اگر اِس طرح جائے کہ اس کے ساتھ اس کا ایک محرم مرد بھی جا رہا ہو، تب بھی کسی عورت کو جانے کی اجازت نہ ہوگی۔ میں نے کہا کہ کوئی عورت اگر خود سے کہیں جائے ، تو وہ خود اس کی ذمے داری ہوگی۔ لیکن مشن کی نسبت سے کوئی عورت ہر گز ایسا نہ کرے ۔ یہ بات میںنے سی پی ایس (نئی دہلی ) کی خواتین ممبر کے لیے کہی ہے۔
25دسمبر 2012
آج راشڑیہ سہارا (اردو) میں ایک خبر آئی ہے۔ یہ فاگ سیف ڈیوائس (Fog-Safe Device)کے بارے میں ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
Newsclip
(صفحہ5)
26دسمبر 2012
مصر میں الاخوان المسلمون 60سال سے بھی زیادہ مدت سے متحرک ہے۔ ان کا مقصد ایک لفظ میں أمسلمۃ النظام (Islamization of System)ہے۔لمبی مدت کی جدو جہد کے بعد آخر کار ۔ اخوان کو یہ کامیابی ملی کہ مصر میں فوجی ڈکٹیٹر حسن مبارک کی حکومت ختم ہو گئی اور الیکشن کے ذریعے اخوان کو غلبہ حاصل ہو گیا۔ جون 2012میں اخوان کے ایک ممبر ڈاکٹر محمد مرسی مصر سے صدر منتخب ہوگئے۔ اس کے بعد تیزی سے مصر میں ’’اسلامی مائزیشن ‘‘کا عمل شرو ع کر دیا گیا ہے ، لیکن وہ لوگ مصر میں جو کچھ کر رہے ہیں ، وہ سب قانونی اور دستوری کاروئیاں ہیں ، یعنی لیگل ایکٹیوزم(Legal Activist)، مگر قانونی کاروائیوں کے ذریعے ایک فیملی کو بھی اسلامائز نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ قانونی کاروائیوں کے ذریعہ ایک پورے ملک کو اسلامائز کیا جائے۔ دنیا بھر کے ’’اسلام پسند ‘‘اس قسم کی خبروں کی بنیاد پر مصر کے بارے میں بہت خوش ہیں، لیکن مرے نزدیک اِس قسم کی قانونی اور دستوری کاروائیوں سے مصر کے حقیقی حالات میں کوئی بھی مثبت تبدیلی پیدا ہونے والی نہیں۔
27دسمبر 2012
تبلیغی جماعت کے سابق بزرگ مولانا محمد عمر پالن پوری کے صاحب زادے ملاقات کے لیے آئے۔ ان کی داڑھی اب سفید ہو چکی ہے ۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی تبلیغ میں گزاری ہے ، مگر میں نے اس کے اندر کوئی ذہنی ارتقا نہیں پایا۔ میرے تجربے کے مطابق ، تمام جماعتوں اور اداروں سے وابستہ لوگوں کا یہی حال ہے۔ ان کے پاس اِدھر اُدھر کی باتیں تو بہت ہوتی ہیں ، لیکن میرے تجربے کے مطابق، وہ چیز نہیں ہوتی جس کو تخلیق فکر اور ذہنی ارتقا کہا جاتا ہے۔
28دسمبر 2012
میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے مسلمان دوسرے نکاح کے خواہش مند رہتے ہیں یا تو وہ دوسرا نکاح کر لیتے ہیں یا دوسرے نکاح کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک سے زیادہ نکاح تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔ مگر اِس بارے میں میر ی بہت سخت رائے ہے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ ہر گز رسول اللہ کی سنت نہیں ، بلکہ وہ گوشت خوری کی سنت ہے ۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ خوب گوشت کھاتے ہیں ۔ اِسی بنا پر اُن کے اندر اعتدال ختم ہو جاتا ہے ۔ جو لوگ دوسرے نکاح کے بارے میں سوچتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ گوشت خوری کو چھوڑ دیں ، اِس کے بعد ان کو دوسرے نکاح کی حاجت نہیں رہے گی ۔ میری اِس رائے کی تصدیق ایک حدیثِ رسول سے ہوتی ہے : اس کے الفاظ یہ ہیں:
وأیاکم والحمم ، فان لہ ضراوۃ کصزاوۃ الحمس(سنن ابی داؤد)
29دسمبر 2012
قرآن کی سورہ آلِ عمران کی ایک آیت کا ایک حصہ یہ ہے : وکأین من بنی قاثل صعہ ربیوک کثیر (3:146)قرآن کی اِس آیت میں میرے نزدیک قاتل کا لفظ حارب کے معنی میںنہیں ، بلکہ جا دور کے معنی میں ہے ، یعنی جاھد معہ ربیون کثیر۔
اِس طرح کے الفاظ شدت کے معنی میںہوتے ہیں ، وہ لازمی طور پر لفظی معنی میں نہیں ہوتے ۔ لسان العرب میں ہے کہ : ولیس کل قتال بمعنی القتل ۔ وفی حدیث الماربین بدیی المصلیی : قاتلہ فانہ شیطان ۔ أیی واقعہ عن قبلتک(11/549)
30دسمبر 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
Road to Paradise
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کی تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا ۔ اس کے بعد ظہر کی نماز با جماعت پر اجتماع ختم ہوا۔
31دسمبر 2012
موت کیا ہے ۔ مو ت معلوم سے نا معلوم کی طرف چھلانگ ہے ۔ موت تک آدمی جس دنیا میں رہ رہا تھا ،اس کی معلوم دنیا تھی۔ موت کے بعد آدمی جس دنیا میں داخل ہوتا ہے ، اس کے بارے میں اس کو کچھ نہیں معلوم معلوم سے نا معلوم کی طرف سفر کرنے کا واقعہ آدمی کی زندگی میں دو بار ہوتا ہے -ایک پیدائش کے وقت اور دوسرے موت کے وقت ۔ جب آدمی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے ، اُس وقت بھی یہی واقعہ پیش آتا ہے کہ آدمی پیٹ کی معلوم دنیا سے نکل کر ایک ایسی دنیا میں داخل ہوتا ہے جس کے بارے میں پیشگی طور پر اس کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ وہ پاتا ہے کہ پیٹ کے باہر کی دنیا میں اس کے لیے ہر قسم کا سامانِ حیات موجود تھا جو اُس کو کسی قیمت کی ادائیگی کے بغیر مل گیا ۔ یہ تجربہ ہر آدمی کے لی دعا کا ایک پوائنٹ آ ف ریفرنس ہے ۔اس کو لے کر آدمی یہ دعا کر سکتا ہے کہ -خدایا ، پیدائش کے وقت میں ایک دنیا میں داخل ہوا۔ یہاں تو نے مجھے رہ ضرور کی چیز کسی استحقاق کے بغیر دے دی۔ موت کے بعد دوبارہ میں ایک نامعلو م دنیا میں داخل ہوں گا۔ اِس دوسری دنیا میں بھی تو مجھ کو کسی استحقاق کے بغیر ہر وہ چیز عطا فرمادے۔