Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
1جون 2012
ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اِس دنیا کی سب سے زیادہ مانی ہوئی حقیقت یہ ہے کہ وہ ابدی نہیں ، یقینی طور پر اس کا خاتمہ ہونے والا ہے ۔ یہ خاتمہ معدود میت کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ ایک نئے دورِ حیات کے آغاز کے معنی میں ہے ۔ قیامت کسی بھی وقت آسکتی ہے ۔ قیامت کےک آتے ہی ایسا ہو گا کہ موجودہ دورِ حیات اچانک ختم ہو جائے گا اور اس کے بعد فی الفور ایک بدی دورِ حیات شروع ہو جائے گا۔ یہی وہ نظریہ حیات ہے جو تما پیغمبروں کے ذریعے انسان کو بتایا گیا ہے ۔ قرآن اِس کا ایک محفوظ متن ہے ، ہمارا مشن اِسی نظریہ حیات کے انسان کو با خبر کرنا ہے ۔
آج کے ٹائمس آف انڈیا میں مشور ایکٹرس دیپکا کی ایک بڑی تصویر چھپی ہے ۔ اس میں اس کے بال کھلے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس نے فخر کے انداز میں کہا کہ :
I have the world's best hari and so do you.
میں نے کہا کہ یہی حال تمام انسانوں کا ہے ۔ ہر عورت اور مرد اس طرح کسی نہ کسی دنیوی چیز کو لے کر فریب نقل میں مبتلا ہیں۔ ہر عورت اور مرد زندگی کی اصل حقیقت سے بے خبر ہیں۔ اِسی بے خبری کو توڑنا تمام نبیوں کا مشن تھا اور یہی ہمارا مشن ہے۔
2جون 2012
کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دو چیز یں ایسی ہیں جن سے آڈمی کو کبھی پریشان نہیں ہو نا چاہیے -بے بنیاد مخالفت اور بے سبب حق تلفی ۔ اکثر لوگ اِن دونوں چیزوں کو لے کر شکایتیں کرتے ہیں ۔ اگر وہ شکایت نہ کریں اور اس کو اللہ کے اوپر ڈال دیں تو یہ دونوں چیزیں ان کے حق میں نہایت مفید بن جائیں گی ۔ وہ ان کے لیے اللہ کی مزید عنایت کا سبب ثابت ہو ں گی ۔ اس لیے بے بنیاد مخالفت اور بے سبب حق تلفی دونوں کو اپنے لیے مزید کامیابی کی بشارت سمجھنا چاہیے۔
3جون 2012
آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
Quran for all Mankind
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کے خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔
4جون 2012
سنڈے کلاس میں شرکت کے لیے لکھنؤ سے الرسالہ کے کچھ قارئین آئے۔ مثلاً حافظ محمد سلمان نوری، مولانا راشد وحید قاسمی ، وغیرہ ۔ اتوار کی شام کو واپس جاتے ہوئے وہ مجھ سے ملے ۔ آخری نصیحت کے طور پر میں نے کہا کہ آپ لوگ دو باتوں کو پوری طرح پکڑ لیں-ایک تقویٰ اور دوسرے حکمت ، یعنی اللہ کے معاملے میں ہمیشہ اللہ کی پکڑ سے ڈرتے رہنا ۔ اور انسان کے معاملے میں ہمیشہ حکمت کو ملحوظ رکھنا۔
5جون 2012
کراچی (پاکستان) سے ایک مسلم خاتون مز عالیہ کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے اپنی کچھ پریشانیوں کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ دنیا میں پُر سکون زندگی کا راز صرف ایک ہے -دنیا کے لیے قناعت ، آخرت کے لیے فکر مندی ۔ دنیا میں آپ کو جو کچھ مل رہا ہے ، اُس پر ہر حال میں قانع رہے ۔ اور مستقبل کے بارے میں اپنی سوچ کو تمام تر آخرت رخی بنا دیجئے ۔ یہی اِس دنیا میں پُر سکون زندگی کا واحد راز ہے ۔
6جون 2012
حال میں مسلم نکاح کے بارے میں ہندوستانی عدالت کا ایک فیصلہ سامنے آیا ۔ اِس سلسلے میں ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ المرأ ۃ اذا حاضت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حائفہ ہونے کے فوراً بعد لڑکی کی شادی کر دی جائے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ بلوغ کے بعد لڑکی کا نکاح کیا جا سکتا ہے ۔ دوسری بات میں نے اس حدیث کے بارے میں کہی : لا نکاح الا بولیی ۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی شرعی حکم نہیں ہے ، بلکہ اِس میں ایک کو بتایا گیا ہے ، وہ یہ کہ خداندان کی رضام ندی کے بغیر اگر کوئی لڑکی خود سے نکاح کرے تو اس کے لیے نباہ سخت مشکل ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ لا نکاح الا بو لیی کا مطلب آج کل کی زبان میں یہ ہےی کہ اسلام میں اُس طریقے کو پسند کیا گیا ہے جس کو آج کل ارینجڈ میریج (Arranged Marriage)کہا جاتا ہے۔
7جون 2012
حدیث میں آنکھ کو انسان کی نہایت محبوب چیز بتایا گیا ہے ( ہاذا تبلیت عبدیی بحیثیت ) ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنکھ ایک عجیب نعمت ہے ۔ باہر کی دنیا سے ہم جو معلومات لیتے ہیں ، اس کا تقریباً 80فی صد حصہ آنکھ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے ۔
8جون 2012
بعض خواب ایسے ہوتے ہیں جن کی تعبیرخود خواب کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ قطر سے مولانا عبد الباسط عمری کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ الرسالہ کے ایک مخالف نے اُن کےک بارے میں ایک خواب دیکھا ہے ۔ یہ کہ وہ اپنی گاڑی ایک سڑک پر تیزی سے دوڑا رہے ہیں۔ وہ آدمی مجھ سے کہتا ہے کہ راستہ بہت خراب ہے ، آپ ضرور حادثے کا شکار ہو جائیں گے ، مگر خواب کے مطابق، کوئی حادثہ پیش نہیں آتا اور عبد الباسط صاحب بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں ۔
عبد الباسط عمری نے کہا کہ میں اِس خواب سے بہت پریشان ہوں ۔ میں نے کہا کہ پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں، خود خواب میں اس کی تعبیر موجود ہے ۔ جب آپ بخیریت اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا راستہ صحیح راستہ ہے ۔ مذکورہ مخالف آدمی نے خواب میں جو کچھ دیکھا ، وہ اس کے اپنے ذہن کا رفلکشن تھا۔
9جون 2012
انگریزی زبان کا ایک مثل ہے -یہ اتنا زیادہ اچھا ہے کہ وہ سچ نہیں ہو سکتا:
It is too good to be true
یہی بات ایک اردو شاعر نے اِن الفاظ میں کہی ہے:
مجھ تک کب اُن کی بزم میں آتا تھا دور ِ جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہوا شراب میں !
جب کوئی شخص آپ کے ساتھ غیر متوقع طور پر اچھا سلوک کرے تو سمجھ لیجئے کہ اِس میں اس کی کوئی ڈزائن (Design)شامل ہے ۔ ایسے کسی واقعے کو سادہ نہ سمجھیے ، بلکہ اس پر گہرائی کے ساتھ غور کیجئے۔
10جون 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
The Spirit of Islam
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کے خطاب کے دوران فارم اور اسپرٹ کے فرق کو مثالوں کے ذریعے بتایا گیا ۔ اِس میں ایک بات یہ کہی گئی کہ اسلام میں فارم کی حیثیت اضافی (Relative)کی ہے اور اسپرٹ کی حیثیت اس کے حقیقی (Real)پہلو کی ہے۔
آخر میں سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ آج کی کلاس میں کوئی نئے لوگ آئے تھے۔ مثلاً پٹنہ کے مسٹر ابو الحکم محمد دانیال ، وغیرہ۔
11جون 2012
کُپواڑہ (کشمیر) سے ایک نو جوان کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نے کہا کہ حمید اللہ حمید ( ایم اے ) اپنے یہاں دعوتی پروگرام کر رہے ہیں ، لیکن انھوں نے مجھ کو اس میں نہیں بلایا، حالاں کہ میں سی پی ایس کے مشن میں شیرک ہوں ۔ میں نے کہا کہ آپ شکایت والی سوچ کو اپنے ذہن سے نکال دیجئے ۔ آپ یہ کیجئے کہ ابھی جاکر وضو کیجئے اور دورکعت نماز پڑھیے ااور پھر اپنے لیے اور حمید اللہ حمید صاحب کے لیے دعاکیجئے۔ دعا کرنے کے بعد آپ حمید اللہ حمید صاحب کو ٹیلی فون کیجئے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو حمید اللہ حمید صاحب کی طرف سے مثبت جواب ملے گا۔
12جون 2012
میں نے کچھ ضروری کاغذات اپنی الماری سے نکالے ۔ اُن کو پلاسٹک کے بڑے لفافے میں رکھا ، پھر اُن کو اپنے کمرے میں ردی اخبارات کے قریب رکھ دیا۔ اِس کے بعد یہ وا کہ کمرے کی صفائی کرنے والے نے اس کو ردّی کاغذ سمجھا اور پرانے اخبارات کے ساتھ اس کو بیچ دیا۔ اگلے دن میں نے دیکھا کہ وہ لفافہ اپنی جگہ موجود نہ تھا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ صفائی کرنے والے نے اس کو کباڑے کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے۔
اِس واقعے پر مجھ کو بہت دکھ ہوا ۔ پھر میں نے سوچاکی اس سے ایک اصول کی دریافت ہوئی ۔ وہ یہ کہ کسی چیز کو جب کہیں رکھا جائے تو ہمیشہ اس کو اس کے درست مقام (Proper Place)پر رکھا جائے ۔ مذکورہ لفافہ اگر میں نے اس کے درست مقام پر رکھا ہوتا تو یہ حادثہ پیش نہ آتا ۔
13جون 2012
مولانا عامر اقبال ندوی مظفر نگر ( یوپی ) کے رہنے والے ہیں ۔ وہ مولانا کلیم صدیقی صاحب کےساتھ غیر مسلموں میں دعوتی کام کر رہے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے کئی بات پورا قرآن پڑھا۔ اِس مطالعے سے اُن کو معلوم ہوا کہ قرآنی تحریک دعوتی تحریک ہے ۔ دعوت الی اللہ کے سوا کوئی تحریک قرآنی تحریک نہیں ۔ (محمد ذکوان ندوی )
میرے نزدیک یہ بات اصولاً درست ہے ، اور مولانا کلیم الدین صاحب غیر مسلموں میں دعوتی کام کر رہے ہیں ۔ مگر کلیم صاحب صوفیا کے پیٹرن پر کام کر رہے ہیں۔قدیم زمانے میںصوفیا کا پیٹرن موثر ثابت ہوتا تھا، مگر اب وہ موثر ثابت نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ قدیم زمانے میں صوفیا کا دبدبہ ہوتاتھا ، اب صوفیا کا دبدبہ نہیں ہے ۔ موجودہ زمانے میں دبدبہ کا مقام علم اور سائنس کو حاصل ہے۔ اِس لیے آج وہی دعوتی کام موثر ہو سکتا ہے جو علم اور سائنس کی بنیاد پر کیا جائے۔
14جون 2012
آج مجھے یا د آیا کہ پٹنہ ( بہار ) میں ایک نئی کالونی ہے جس کو پروفیسر کالونی کہا جاتا ہے ، یعنی ہو کالونی جہاں پرفیسر س لوگ رہتے ہیں ، اس کو لے کر میںنے سوچا کہ جنت گویا ایک ربانی کالونی ہوگی۔ پوری تاریخ کے منتخب ربانی انسان وہاں بسائے جائیں گے ۔ یہ سوچ کر عجیب احسا س ہوا۔ میں نے سوچا کہ وہ کالونی کیسی عجیب ہوگی جہاں سب کے سب افراد اُس قسم کے ہوں جس کو قرآن میں النفس المطمئنۃ کہا گیا ہے ۔
15جون 2012
میں آل انڈیا ریڈیو سن رہا تھا ۔ اس میں ایک خبر یہ تھی کہ امریکا میں ایک ایسی گاڑی بنائی جا رہی ہے جو سفر کے دوران دوسری کاروں سے ربط رکھ سکے۔ ایک کار دوسری کار کو ٹریفک کی معلومات دیتی رہے جس طرح ایک انسان دوسرے انسان کو معلومات دیتا ہے ۔ یہ کار ابھی رسرچ کے دائرے میں ہے ، لیکن اگر وہ بن جائیں بھی اِس کا کوئی امکان نہیں کہ سڑک حادثات ختم ہو جائیں ۔
سڑک کے حادثات اکثر اُس وقت پیش آتے ہیں جب کہ لوگ شراب پی کر گاڑی دوڑاتے ہیں ۔ شراب کا استعمال امریکا میں بڑھتا جا رہا ہے ۔ ایسی حالت میں کوئی ٹکنکل تدبیر حادثات کو روکنے والی نہیں۔
16جون 2012
اینٹی گورنمنٹ تحریک اپنے نتیجہ کے اعتبار سے ایک مفسدانہ تحریک ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس کی مثال مصر میں ساٹھ برس سے حکومت کے خلاف تحریک چل رہی ہے اور نتیجہ صرف منفی صورت میں نکل رہا ہے :
1.Ouster of King Farouk Through Military Coup (1952)
2. Appointement of General Naguib as Prime Minister (1953)
3. Appointement of Gen. Gamal Abdel Naser as President (1955)
4. Appointment of Anwar Sadat as President (1970)
5. Appointment of Hosni Mubarak as President (1981)
6. Elected Parlilament Dissolved by Supreme Court (June,2012)
7. Dr Mohammed Morsi elected President (June,2012)
17جون 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ تقریر کا موضوع یہ تھا :
Political Activism, or Futile Activism
اِس موضوع پر ایک گھنٹہ کی تقریر کے بعد سوال و وجواب کا پروگرام ہوا۔ آج کی کلاس میں بہت سے نئے لوگ موجود تھے۔
18جون 2012
جسٹس ایم اے خان الہ آباد ہائی کورٹ میں جج تھے۔ رٹائر ہونے کے بعد وہ لکھنؤ (گومتی نگر) میں رہ رہے تھے ۔ انھوںنے 14جون 2012کو اپنی رہائش گاہ کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس ایم اے خان اپنے جواں سال میڈیکل افسر بیٹے کی اچانک موت کے صدمے سے دو چار تھے اور اس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار تھے۔
(روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی ، 16جون 2012،صفحہ 4)
جسٹس ایم اے خان کے متعلق مشہور تھا کہ وہ کسی کے آگے نہیں جھکتے اور بہادرانہ فیصلے دیتے ہیں ، لیکن وہی انسان بیٹے کی موت پر اپنے جذبات کے آگے جھک گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی صفت ، مثلاً بہادری ، ایمان داری ۔ سچ بولنا ، وغیرہ ، اگر خدا کی نسبت سے ہو تو وہی قابلِ اعتماد ہوتی ہے۔ جو صفت خدا کی نسبت سے نہ ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں ۔
19جون 2012
بہار کے ایک نو جوان مسٹر اطہر مبارک دہلی آئے۔ وہ یہاں کی ایک مسجد میں ٹھہرے ۔ وہ اپنا موبائل اپنی جیب میں رکھے ہوئے سو گئے ، وہ صبح کو اٹھے تو اُن کا موبائل غائب تھا۔ میں نے اُن سے کہا کہ دنیا میں یہ سمجھ کر رہے کہ آج کی دنیا چوروں سے بھر گئی ہے ۔ اِسی صورت حا ل کو اکبر الہ آبادی نے طنز یہ انداز میں اس طرح بیان کیا تھا :
اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار اک بزرگ آئے ہیںمسجد میں خضر کی صورت
جاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میری ڈائری میں کچھ نصیحت لکھ دیجئے:
زندگی ہو شیاری کا امتحان ہے۔ زندگی غفلت کا کارخانہ نہیں۔
20جون 2012
احمد آباد (گجرات ) سے دو صاحبان مالاقات کے لیے آئے ۔ یہ لوگ مسٹر حسن جو ہرکے سوشل ورک سے جڑے ہوئے ہیں۔ مسٹر جو ہر لمبے عرصے سے یہ کام کر رہے ہیں ۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ مسٹر حسن جوہر کے ساتھ کوئی ٹیم بنی ہے یا نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ کوئی ٹیم نہیں بنی ہے ۔ اُن کے ساتھ جو لوگ کام کر رہے ہیں ، وہ سب با معاوضہ ورکر ہیں ۔ میںنے اپنے کام سے مسٹر جوہر کے کام کا تقابل کیا۔ ہم کو اپنے دعوتی مشن مین اللہ کے فضل سے بہت سے لوگ ملے ہین جو کسی مادی فائدے کے بغیر دعوت کا کام کر رہے ہیں ۔ میں نے سوچا یہ فرق کیوں ہے ۔ میری سمجھ میں آیا کہ سوشل ورک میں آدمی صرف دوسروں کو دیتا ہے ، اس کو خود اپنے لیے کچھ نہیں ملتا ۔ اس کے بر عکس دعوتی مشن میں ایسا ہے کہ جب ایک شخص دعوتی کام کرتا ہے تو اس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ دعوتی کام وہ کر رہے ہیں ۔ اس کا بڑا اجر اس کو اللہ کی طرف سے ملے گا۔ اِس بنا پر داعی کے اندر ایک ذاتی اسپرٹ پیدا ہوتی ہے جو سوشل ورک کرنے والوں کے اندر نہیں ہوتی۔
21جون 2012
ٹائمس آف انڈیا (21جون 2012)میں دو خبریں چھپی ہیں -ایک یہ کہ بیانس(Beyonce)نے اپنے شوہر جے زید (Jay-Z)کو ایک انگریزی لگزری ایرو پلین (Luxury Aeroplane)گفٹ کے طور رپ دیا ہے ۔ اِس لگزری ایرو پلین کی قیمت 25ملین ڈالر ہے ۔
دوسری خبر لند ن سے آئے ہے۔ اسپیس ٹورزم (Space Tourism)نے بتایا کہ ایک برٹش فرم نے خلائی سیاحت کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس کے مطابق زمین سے چاند کا سفر کرنے کے لیے رٹرن ٹکٹ ایک سو ملین ڈالر کی ادائیگی پر مل رہا ہے ۔
اِس قسم کی خبر یں سننےمیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ اس کو سن کر لوگ اس کے شائق بن جاتے ہیں ۔لیکن جو آدمی اس کو برتتا ہے ، اس کے لیے اس میں کوئی خوشی نہیں ۔
22جون 2012
کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآ ن میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان کے اندر اللہ سے جب شدید ہوتا ہے مگر لوگوں کے اندر اللہ سے جب شدید موجود نہیں ، اس کا سبب یہ ہے کہ محبت کے لیے ہمیشہ نفسیات محبت درکار ہوتی ہیں ، جو نکہ لوگوں کے اندر نفیسات محبت نہیں اس لیے لوگوں کے اندر اللہ سے جب شیدید بھی نہیں۔ اس نفسیات ِ محبت ک سر چشمہ جنت کا اشتیاق ہے۔
23جون 2012
میرا مزاج ہے کہ میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر اعتراف کے آئٹم کو دریافت کرتا ہوں۔ اِس طرح کئی چیزیں ہیں جو میں نے بعد کو دریافت کیں ۔ مثلاً یہ کہ صوفی عبد المجید صاحب کی وجہ سے مجھ کو مدرسے کی تعلیم حاصل ہوئی۔ مولانا تقی امین کی وجہ سے دہلی پہنچا ۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کی وجہ سے میں نے الرسالہ جاری کیا۔ پر یا گروپ کی وجہ سے پیری سوچ مسلم اور ینٹیڈ سوچ سے آگے بڑھ کر انسان اور نیٹیڈ سوچ بنی وغیرہ۔
24جون 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ا ٓج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
صحابہ اور محدثین
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کے خطاب میں صحابہ اور محدثین کے رول کو بتایا گیا ۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرا م ہوا۔
25جون 2012
قرآن میں اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ کیا چیز اللہ کو محبوب ہے اور کیا چیز اللہ کو محبوب نہیں ہے ، اس موضوع پر ایک عرب مصنف عدنان طرشۃ نے ایک مستقل کتاب لکھی ہے ۔ اس کے تقریباً 450صفحات ہیں ۔ اس کتاب کا نام یہ ہے :
’’ماذایحب اللہ و ماذا یبغضۃ‘‘
قرآن میں اللہ یحب اور اِن اللہ لا یحب کے الفاظ کے ساتھ اتنی آیتیں آئی ہیں-32آیتیں۔
حدیث مین لا یحب کے الفاظ کے ساتھ سات حدیثیں ہیں اور یعضُ کے الفاظ کے ساتھ 22حدیثیں ، اور اللہ یحب کے الفاظ کے ساتھ 29حدیثیں ہیں، اور اِن تینوں الفاظ کے ساتھ وارد احادیث کی جموعی تعداد 58ہے۔ اور یہ اِن احادیث کی کل تعداد مکررات کے ساتھ 882ہے۔
احادیث می سب سے زیادہ روایتیں اِن اللہ لا یحب الفاحس والمتفش اور اِن اللہ لا یحب المخیلۃ کی ہیں ۔ یہ احادیث زیادہ تر آداب زندگی سے تعلق رکھتی ہیں۔
26جون 2012
سابق صدر مصر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کےک بعد مصر میں الیکشن کر ایا گیا۔ کئی مرحلے گزرنے کے بعد 24جون 2012کو ڈاکٹر محمد مرسی (Dr. M. Morsi)کو منتخب صدر قرار دیا گیا۔ اُن کو الیکشن میں تقریباً 52فی صد ووٹ ملے ہیں ۔ ڈاکٹر مرسی نے امریکا کے انجینرنگ کی ڈگری کی ہے ۔ ان کی عمر 60سال ہے ۔ وہ جنوری 2011میں اخوان المسلمین کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے صدر بنے تھے۔
27جون 2012
کشمیر سے حمید اللہ حمید ایم اے کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نے بتایا کہ ایک کشمیری مسلمان ریاض احمد نے اسعد گیلانی صاحب سے ٹیلی فون پر بات کی۔ انھوں نے اسعد گیلانی صاحب سے کہا کہ آپ کیوں کشمیر میں ٹکراؤ کی سیاست چلا رہے ہیں جس میں اب تک ایک لاکھ کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں ۔ ریاض احمد صاحب نے کہا کہ قرآن میں کلمہ سبا کا حوالہ دیا گیا ہے جس نے حضرت سلیمان سے مصالحت کری تھی۔ کشمیر کے لیے کلمہ سیا کے واقعے میں نمونہ ہے ۔ اسعد گیلانی صاحب سے کہا کہ نہیں ، ہمارے لیے حضرت سلیمان کے عمل میں نمونہ ہے ۔ میں نے کہا کہ قرآن کے مطابق ، یہ جواب صحیح نہیں ، کیوں کہ حضرت سلیمان کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں :
رب ھب لی ملکاً لا ینبغی لأحد من بعدی ۔
قرآن کے مطابق ، حضرت سلیمان کا واقعہ ایک استثنائی واقعہ ہے ، پھر وہ دوسروں کے لیے نمونہ کس طرح بن سکتا ہے ۔
He prayed, Lord forgive me: Grant me such kingdom as no one after me will have you are the most Generous providers 38:35
28جون 2012
ٹائمس آف انڈیا (Times of India)، 26جون 2012میں یو پی کے چیف منسٹر اکھلیش یادو و کا لمبا انٹر ویو چھپا ہے ۔ اس کا ایک سوال جواب یہ ہے :
Q. In the 100 days since you have been in office how has life changed for you? What do you miss the most ?
A. Freedom. All kinds of freedom.
انٹر ویو کا نام یہ ہیں پروین کمار (Pravin Kumar)اشیش ترپاٹھی (Ashish Tripathi)اور اسوتی ماتھر(Swati Mathur)
29جون 2012
پاکستان ( حیدر آباد ) سے ایک صاحب کا ٹلی فون آیا۔ انھوں نے اپنا نام یہ بتایا : محمد حارث ۔ انھوںنے کہا کہ میری بہن کا طاق ہو گیا ہے ۔ اِس لیے میں بہت پریشان ہوں۔ میں نے پوچھا کہ طلاق کا سبب کیا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ میری بہن کا شوہر بہت گالی گلوج کرتا تھا، میںنے کہا کہ آپ کی بات صحیح نہیں ۔ کوئی شخص خواہ مخواہ گالی گلوج نہیں کرسکتا ۔ آپ کی بہت غالباً جذبانی خاتون ہیں ۔ وہ ایسی بات کہتی ہیں جس سے شوہر کو غصہ آجائے ، پھر وہ گالی گلوج کر تا ہوگا ۔ آپ کی بہن نے جو رپورٹ دی ہوگی ، اُسی کو آپ دہرار ہی ہیں۔ عورتوں کا یہ مزاج ہے کہ وہ سخت بولنے کو بھی گالی گلوم کہہ دیتی ہیں ۔ جب میں نے زیادہ پوچھ گچھ کی تو انھوں نے اقرار کیا کہ میری بہن کچھ جذباتی ہے۔ میں نے کہا کہ بات صرف اتنی نہیں ہے ، بلکہ اصل بات یہ ہوگی کہ بہن کے ماں باپ اس کی پیمپرنگ کرتے ہوں گے ۔ میں نے کہا کہ پیمپرڈ(Pampered)بچوں کا مزاج یہ بن جاتا ہے کہ میری بات چلنا چاہیے ۔ یہ مزاج لے کر آپ کی بہن سسرال گئی ہوںگی ۔ وہاں بھی انھوں نے یہ چاہا ہوگا کہ میری بات چلے۔ اِس پر جھگڑا ہوتا ہوگا۔ میرے یہ کہنے پر حارث صاحب چپ ہو گئے ۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ میری بات کو ٹھیک سمجھ رہے ہیں ۔ لیکن زبان سے انھوںنے اس کا اعتراف نہیں کیا۔
30جون 2012
مصر کے نو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطہ میں دیر پا امن قائم کرنے کے لیے فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل نا گزیر ہے ۔ میری حکومت میں بھی حسب سابق، فلسطین کا مسئلہ اولین ترجیحات میں رہے گا۔
(راشٹریہ سہارا، 30جون2012،صفحہ 12)
مصرکے نئے صدر کا یہ قول ناقابل مہم حدتک بے دانشی کا قول ہے ۔ انھیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ وہ 60سال قربانیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فلسطین میں ’’منصفانہ حل ‘‘ کا حصول ممکن نہیں ، اِس لیے اب ہم کو اس معاملے میں حقیقیت پسندانہ حل پر راضی ہو جانا چاہیے ۔