Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
1جولائی 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلا س تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
دعوت الی اللہ کے اصول
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ آج کے پروگرام میں دہلی کے علاوہ ، لکھنؤ اور سہارنپور کے لوگوں نے شرکت کی۔
2جولائی 2012
سی پی ایس (نئی دہلی ) کی ایک ممبر ماریہ نے انٹر نیٹ پر کہ کس کا نام کتنی بار آیا ہے ۔ آج کی تاریخ می گوگل کے سرچ انجن میں جو تعداد بتائی وہ یہ تھی :
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی 27300
مولانا سید ابو الاعلی مودودی 279000
مولانا وحید الدین خاں 1310000
3جولائی 2012
حافظ محمد سلمان (لکھنؤ) بہت فعال آدمی ہیں۔ اِس سے پہلے وہ دوسرے مذہبی حلقوں سے وابستہ تھے۔ اب وہ مکمل طور پر الرسالہ مشن میں شامل ہو گئے ہیں ۔ مئی 2012کے پہلے ہفتے میں ندوۃ العلماء لکھنؤ کی دعوت پر امام حرم مکی شیخ خلاد بن علی الغامدی لکھنؤ آئے۔ اِ س موقع پر لکھنؤ میں ان کے کئی پروگرام ہوئے۔ اِس موقع پر حافظ سلمان نے ندوہ اور دوسرے مقامی اجتماعات میں القرآن مشن کا اردو اور ہندی پمفلٹ ایک لاکھ کی تعداد میں چھپوا کر اس کو وہاں بٹوایا ، اور اِسی طرح کے اور دوسرے کام کیے ، اِس کے بعد یہ ہوا کہ لکھنؤ کا مذہبی طبقہ ان کے خلاف ہو گیا او ر ان کو دھمکیاں دینے لگا۔
حافظ محمد سلمان صاحب سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ اِس معاملے میں غلطی آپ کی ہے ۔ آپ نے یہ کیا کہ ان کی یا علاقہ (Territory)میں داخل ہو گئے ۔ یہی چیز ان کے غصے کا سبب تھی ، آئندہ آپ ہر گز ایسی غلطی نہ کریں ۔ لوگوں کے مخصوص حلقوں سے باہر بہت بڑی دنیا ہے ۔ ان کے اندر کام کیجئے اور ٹکراؤ سے آخری حد تک بچئے،
4جولائی 2012
بالی وڈ کے مشہور نغمہ نگار جاوید اختر 27-26سال تک پکے شرابی رہے ۔ انھوں نے بتایا کہ 19سال کی عمر میں گریجویشن کے دوران انھوں نے پینی شروع کر دی تھی ۔ دھیرے دھیرے عادت لگتی چلی گئی ۔ شراب پینے کے آخری 12-11سال کے دوران وہ ہر روز پوری ایک بوتل ختم کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ شراب پینے کے بعد آدمی تین طرح کا ہو جاتا ہے ۔ یا تو وہ گھناؤنے ہوتے ہیں یا گدھے یا عقلمند ۔ گدھا اس لیے ہوتا ہے ، کیوں کہ ایک ہی بات بار بار دہراتا ہے۔ شراب کی ٹینڈینسی یہ ہوتی ہے کہ پینے والا دھیرے دھیرے اپنا درد بڑھا تا چلا جاتا ہے ۔ جاوید نے کہا کہ ان کو لوگ انھیں کہتے ہیں ، لیکن انھوں نے قبول کیا اگر میں واقعی ہوں تو 27سال کیوں لگے مجھے سمجھنے میں کہ شراتنی بری چیز ہے ۔ میں نے زندگی کی ساری غلطیاں شراب پینے کے بعد ہی کی۔ 21سال پہلے میں اسے چھوڑ چکا ہوں۔ لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ شراب نہ پئیں ۔ عامر خان اپنے شو میں شراب پینے کی عادت اور اس سے ہونے والی بربادی پر گفتگو کر رہے تھے۔ اس میں سب سےپہلے انھوں نے تہلکہ سے جڑے مشہور صحافی وجے سہا سے با ت کی۔ وہ ایک زمانے میں بہت بڑے شرابی رہے ۔
کالج میں داخل ہونے کے بعد وجے شرابی ہو چکے تھے ۔ صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران یہ عادت بڑھتی گئی ، دہلی میں میں نوکری لگنے کے بعد مزید پینے لگے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ جتنی بڑی اسٹوری لکھتے تھے ، اتنی ہی زیادہ پیتے تھے ۔ ایک بار ماں باپ ان کے پاس آئے تو ان کو انھوں نے گھر سے نکال دیا پینے کی وجہ سے نوکری بھی چھوٹ گئی ۔
(روزنامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی، 4جولائی 2010صفحہ 4)
5جولائی 2012
ماہ نامہ الرسالہ (جون2007)میں میرا ایک مضمون چھپا تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا : مسیحی ماڈ ل کی آمد ثانی
اِ س مضمون پر لوگوں نے بہت ہنگامہ کیا ، مگر میرے نزدیک ، اِ س میں کوئی قابلِ اعتراض با ت نہ تھی ۔ میں نے اِس مضمون میں یہ واضح کیا تھا کہ مسیحی ماڈل سے مراد کوئی اور ماڈل نہیںہے ۔ اس سے مراد در اصل خودمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مکی ماڈل ہے ۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مکی ماڈل کی نوعیت ایک غیر واضح چیز بن گئی ہے ، کیوں کہ موجودہ زمانے کے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ مکی ماڈل اسلام کا صرف ایک ابتدائی ماڈل تھا ۔ اسلام کا مکمل ماڈل وہ ہے جس کی مثال مدینہ میں ملتی ہے۔ حالاں کہ مکی ماڈل اپنے آپ میںایک مکمل ماڈل ہے ۔ مکی ماڈل در اصل نام ہے پر امن دعوتی ماڈل کا ۔ مسلمانوں کے عمومی تصور کے مطابق ،’’مکی ماڈ ل ‘‘ کا لفظ بظاہر غیر واضح تھا، اِ س لیے میں نے خود مکی ماڈل ہی کے لیے مسیحی ماڈل کا لفظ استعما ل کیا، اس کاسبب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے یہاں پر امن دعوتی عمل کے ساتھ جنگ کے واقعات بھی ملتے ہیں، جب کہ حضرت مسیح کے یہاں اول سے آکر تک صرف پر امن دعوتی عمل کی مثال ہے ، جنگ کے واقعات حضرت مسیح کے یہاں سرے سے موجود نہیں۔
6جولائی 2012
حافظ محمد سلمان اور مولانا راشد وحید قاسمی لکھنؤ سے ملاقات کے لیے آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ آپ نے صبر و اعراض اور خاموشی کی جو نصیحت کی تھی، اُس سے ہم کو بہت فائدہ ہوا۔ اب لکھنؤ میں ہمارے خلاف ماھول بالکل ختم ہو گیا ہے انھوں نے بتایا کہ آپ نے میری اہلیہ حمیرا علوی سے کہا تھا کہ گھر میں وہ ہر گز آپ کی حمایت میں نہ بولیں ۔ اِس ہدایت پر عمل کرنے کی وجہ سے اب گھر میں بھی ہماری مخالفت بند ہو گئی ہے ۔ گھر کے لوگ ہمارے ساتھ ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ آج میں نے اپنی اہلیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ -گھر میں ہمارے خلاف ماحول تمھاری وجہ سے تھا ، اور باہر ہمارے خلاف ماحول میری وجہ سے تھا ۔ گھر کے فساد کی ذمے دار تم ہو، اور باہر کے فساد کا ذمہ دار میں ہوں ۔
(محمد ذکوان ندوی )
7جولائی 2012
آج بیروہ (کشمیر ) سے ٹیلی فون آیا۔ ایک افغانی نو جوان سے بات ہوئی ۔ یہ افغانی نو جوان حیدر آباد میں ایم بی بی ایس کا کورس کر رہا ہے ۔ اُس کالج میں ایک کشمیری نو جوان بھی زیر تعلیم ہے ۔ دونوں میں دوستی ہوئی ۔ چناں چہ کشمیری نو جوان افغانی نو جوان کو گرمی کی چھٹیوں میں اپنے گھر(بیروہ) لے آیا۔ یہاں افغانی نو جوان کی ملاقات حمد اللہ حمید ایم اے سے ہوئی ۔ حمید اللہ نے اُس کو ہمار یہاں کی انگریزی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں ۔ افغانی نو جوان اِن کتابوں کو پڑھ کر بہت زیادہ متاثر ہوا۔ اب اُس نے طے کیا ہے کہ اِس پُر امن دعوہ مشن کو وہ افغانستان میں پھیلائے گا۔ اُس نے واضح الفاظ میں ملٹنٹ (Militant)اسلام کو غلط بتایا ۔خواہ وہ افغانستان میں ہو یا دنیا کے کسی حصے میں ہو۔
اس نے ایک عجیب بات یہ کہی کہ میں ہندوستان میں بہت زیادہ گھوما ہوَ ۔ میرا اندازہ ہے کہ انڈیا کے مسلمان تقریباً 99فیصد دل سے انڈیا کے وفادار نہیں ہیں۔
8جولائی 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضو ع یہ تھا :
God Practice Found
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطا ب ہوا۔ تقریر کے بعد سوا ل وجواب کا پروگرا م کے بعد نماز ظہر کی با جماعت ادائگی پر اجتماع ختم ہوا۔
9جولائی 2012
امریکا کے ٹائم میگزین (جولائی 2012)کی کور اسٹوری ہندوستان کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بارے میں ہے ۔ اِس میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ’’انڈر اچیور‘‘(The Under Achiver)بتایا گیا ہے ۔ رپورٹ میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بارے میںکہا گیا ہے کہ گذشتہ 3برس میں وہ خود اعتمادی جو اُن کے چہرے پر نظر آتی تھی، وہ اب غائب ہو گئ ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے وزرا کو کنٹرول نہیں کر پا رہے ہیں ، اور وہ اپنی وزارت میں تبدیلی کے خواہش مند بھی نہیں ہیں ، جس سے اُس لبرلزم کو جاری رکھا جاسکے جس کو شروع کرنے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
10جولائی 2012
ڈاکٹر عابد حسین نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی تھے۔ وہ آئی اے ایس افسر تھے۔ مختلف اعلیٰ عہدوں کے علاوہ ، وہ 1992-1990کے درمیان امریکا میں ہندوستان کے سفیر رہے ۔ وہ 19دسمبر1926کو حیدر آباد (انڈیا) میں پیدا ہوئے اور 21جون 2012کو 85سال کی عمر میں دل کا دور ہ پڑنے کی سبب لندن میں ان کا انتقا ل ہوا ۔ 29مئی 2012کو جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی ) کے قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔
ڈاکٹر عابد حسین میرے ساتھ بہت قدرداں تھے۔ حا ل میں نئی دہلی کے ایک پروگرام میں اُن سے میری ملاقات ہوئی تھی ۔ ان کو ہمارے ساتھیوں نے ہمارے یہاں سے چھپا ہوا انگریزی ترجمہ قرآن دیا تھا۔ اس کو پڑھ کر انھوں نے کہا کہ کہ اِس کی انگریزی بہت اچھی ہے ۔ اِس میں بہت زیادہ کلیرٹی (Clarity)پائی جاتی ہے ۔ میںنے ڈاکٹر عابد حسین سے کہا کہ آپ تو انگریزی کے بادشاہ ہیں
11جولائی 2012
کل ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میرا پوتا عدنان خلاف معمول طور پر میرے کمرے میں آیا ۔ وہ ایک کرسی پر خاموشی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ وہ بہت افسردہ تھا۔ اس کی بہن ماریہ نے بتایا کہ آج کل عدنان بہت زیادہ پریشان ہے۔ اس نے ویٹ لفٹنگ (Weight Lifting)کے تحت ایک بڑا بوجھ اٹھا لیا۔ اِس سے اس کے بائیں کندھے میں سخت تکلیف شرو ع ہوگئ۔
12جولائی2012
بنگلور میں ہمارے مشن کی ایک خاتون ممبر ہیں -سارہ فاطمہ ایم اے ۔ وہ بہت نیک اور مخلص خاتون ہیں ۔ میرے علم میں ان کی بعض غلطیاں آئیں ۔ میں نے سوچا کہ اخلاص کے باوجود انھوں نے ایسی غلطی کیوں کی ۔ آخر کا ، میری سمجھ میں آیا کہ ان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ دعا تو خوب کرتی ہیں ، لیکن وہ ڈسکشن نہیں کریں ۔ آج صبح میں نے ان سے ٹیلی فون پر یہ بات کی اور اپنی اس رائے کی مثال کے ذریعے وضاحت کی۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کی نشان دہی کو درست مانتی ہوں ۔ میرے اندر واقعۃً ایہ غلطی ہے ، مگر میں نے اب تک اس کو سمجھا نہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں آج ہی سے فیصلے کرتی ہوں کہ میں دعا کے ساتھ ڈسکشن بھی ضرور کروں گی۔
قرآن میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا : وشاورھم فیی الأمر ۔ چناں چہ آپ ہمیشہ لوگوں سے مشورہ کیا کرتے تھے ۔ روایات میں آیا ہے کہ : وکان رسول اللہ یشاور أصحابہ فیی الأمر ۔ اگر دعا کافی ہوتی تو رسو اللہ لوگوں سے کیوں کرتے ۔ رسول اللہ یہ معمول بتاتا ہے کہ یہ طریقہ صحیح نہیں کہ آدمی دعا تو خوب کرے ، لیکن وہ ڈسکشن نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رسول اللہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ : ما رأیتُ أحدًا أ کثر مشورۃ لأ صحابہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( الترمذی )
13جولائی 2012
آج ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں سے فرزند مسٹر مازِن کا نکاح ہوا۔ یہ نکاح جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں واقع مسجد کے اندر تھا۔ اگلے دن جماعتِ اسلامی ہند کے مرکز کی ایک قریبی جگہ پر دعوت ولیمہ ہوئی ۔ مجھے اِن دونوں موقعوں پر جانا پڑا ۔ یہاں جماعت اسلامی ہند کے بہت سے سینئر لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ یہ دیکھ کر بہت تعجب ہوا کہ یہ لوگ ذہنی ارتقا کے اعتبار سے بہت پیچھے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے مرکز سے وابستہ ایک سینئر رکن نے گفتگو کے دوران کہا کہ میرے کئی بیٹے ہیں ۔ جب وہ بات جاتے ہیں تو مجھ کو یہ خوف لگا رہتا ہے کہ معلوم نہیں وہ واپس آئیں گے یا نہیں ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے دہلی میں اتنا بڑا مرکز بنا لیا ہے ۔ اگر دہلی یا اِس ملک کے لوگ ویسے ہیں ہوں جیسا آپ اُن کو سمجھتے ہیں تو آپ ہر گز ایسا مرکز نہیں بنا سکتے ۔ آپ کا یہ پورا مرکز ایک غیر منظور شدہ کالونی میں بنا ہوا ہے ۔ گورنمنٹ اگر چاہے تو میں اس کو بلڈ وز کر سکتی ہے ، لیکن گورنمنٹ اس سے تغرض نہیں کرتی ۔ ایسی حالت میں آپ پر فرض ہے کہ آپ شکر کریں ، نہ کہ خو ف میں مبتلا ہوں ۔
14جولائی 2012
سعدیہ خان ایک ہندو لڑکی کو میرے پاس کاؤنسلنگ کے لیے لائی ۔ وہ بہت منفی مزاج کی تھی اور گھر کے اندر اور گھر کے باہر ہر جگہ لڑتی ہرتی تھی۔ میں نے اس کی ڈائری پر یہ الفاظ لکھوائے اور کہا کہ آپ اِس پر غور کیجئے ۔ اِس سے آپ کا ٹنشن ختم ہو جائے گا ۔ وہ الفاظ یہ تھے :
Life is a bilateral test, It is not a unilateral game. In other words, life is a challenge, LIfe is not like enjoying an ice-cream.
اِ کو سن کر مذکورہ لڑکی کی سوچ میں پڑگئی اور پھر خاموشی کے ساتھ چلی گئی ۔
15جولائی 2012
آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
رمضان کا مہینہ اور قرآن
تقریر میں ایک بات یہ کہی گئی کہ قرآن کا مقصد ہے -
Islamization of Man
16جولائی 2012
لکھنؤ کے سفر میں ایک ہندو نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے لندن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی ۔ میں نے ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور ریلٹی آف لائف کی ایک کاپی دیں ۔ اِس کو دیکھ کر انھوں نے کہا کہ سارے پرابلم ایجوکیشن کی کمی ہے ۔ اِس لیے میرا ماننا ہے کہ ایجوکیشن کو رلیجن(مذہب)بنا دیا جائے ، اس کے بعد سارے پرابلم اپنے آپ ختم ہو جائیں گے ۔
(محمد ذکوان ندوی )
کئی سال پہلے میرا ایک سفر امریکا کے لیے ہوا تھا ۔ وہاں کیلی فورنیا میں میری ملاقات ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر سے ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کی تمام برائی اور تشدد تعلیم یافتہ لوگوگ کر رہے ہیں ، اِس لیے آج کل یہاں مخالفِ تعلیم تحریک چل رہی ہے ۔ امریکا کے سابق صدر لنڈن جانسن نے کہا تھا :
Learning is the basic to our hopes for America.
مگر یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اب لرننگ کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ ڈی لرننگ (De-Learning)کی ضرورت ہے -انسان اگرسنجیدہ نہ ہو تو وہ سفید کو سیاہ بتا سکتا ہے اور سیاہ کو سفید۔
17جولائی 2012
17جولائی 2012کو لکھنؤ میں میرے چھوٹے بھائی محمد حسان ندوی کا نکاح ہوا۔ اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب نے حسان سے کہا کہ نکاح کے لے اتنی جلد ی کیا تھی، ہم لوگ آپ کے لیے زیادہ خوبصورت بیوی ڈھونڈ رہے تھے۔ اِس کو سن کر حسان نے کہا کہ -زیادہ خوبصورت بیوی لے کر ہم کیا کریں گے ۔ (محمد ذکوان ندوی )
حسان صاحب کو میں جانتا ہوں ۔ ان کے بارے میں پہلے بھی میری بہت اچھی رائے تھی ۔ مذکورہ واقعہ معلوم ہونے کے بعد میرے دل میں ان کی قدر بہت بڑھ گئی ہے۔
18جولائی 2012
راجیش کھنہ انڈیا کی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھتے تھے ۔ وہ پہلی فلمی شخصیت ہیں جن کو سپر اسٹار کا ٹائٹل دیا گیا۔ جس زمانہ میں وہ اپنے پروفیشن میں عروج پر تھے، انھوں نے کہا تھا کہ میں خدا کے بعد سب سے بڑی ہستی ہوں :
Being at the top Rajesh Khanna once said is a feeling of being next to God.
راجیش کھنہ کو اپنے پروفیشن میں غیر معمولی درجہ حاصل ہوا۔ مگر بعد کو ان کی صحت خراب ہو گئی ۔ آخر وہ کئی سال تک بستر پر (Bed Ridden)رہے ۔ یہاں تک کہ صرف 69کی عمر میں بمبئی میں 11جولائی 2012کو ان کا انتقال ہو گیا۔ راجیش کھنہ بہت شاندار شخصیت کے مالک تھے مگر آخر عمر میں ان کا جو حال ہو گیا تھا اس کو ایک اخباری رپورٹ میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے :
He was not in the best of health, with sunken cheeks and thin body.
راجیش کھنہ کی پیدائش : 1942میں ہوئی ۔
P.T.O
19جولائی 2012
بی بی سی لندن کے ایک رپورٹر نے ایک بار راجیش کھنہ کا انٹرویو لیا رپورٹر نے راجیش کھنہ کو نپولین جیسا مغرور بتایا:
He described as a man with Napolean's arrogance.
(The Times of India, July 19,12)
مشہور باکسر محمد علی کلیے (پیدائش 1942)کو باکسنگ میں غیر معمولی کامیاں حاصل ہوئی۔ اپنی کامیاں کے عروج کے زمانے میں انھوں نے کہا تھا :
میں بادشاہ عالم ہوں ، میں سب بڑا ہوں
I am the King of the World, I am the greatest.
مگر 1984میں محمد علی کو پارکنسن کا مرض (Parkinson's Syndrome)ہو گیا۔ابھی وہ زندہ ہیں لیکن عملاً وہ -جسمانی معذوری (Disability)کا شکار ہو چکے ہیں ان کی سر گرمیاں معطل ہو ں چکی ہیں ۔
نپولین بونا پارٹ کی موت 1821میں ہوئی ۔ جب کہ اس کی عمر صرف 51سال تھی ۔ نپولین نہایت مغرور انسان تھا ۔ وہ کیا کرتاتھا کہ ناممکن لفظ صرف بے وقوفوں کی ڈکشنری میں پایا جاتا ہے :
Impossible is a word to be found only in the dictionary of fools.
20جولائی 2012
آج ناگپور (مہاراشٹریہ ) سے الرسالہ کے ایک قاری کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے 20جولائی 2012کو ای ٹی وی (حیدر آباد ) پر صبح 5بجے ’’رہنمائے زندگی ‘‘ کے تحت میری ایک تقریری سنی ۔ ٹیلی فون پر وہ اِس تقریر کی بہت زیادہ تعریف کرتےرہے اور یہ کہتے رہے کہ خدا آپ کو لمبی عمر دے ، مگر میں نے ان کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اصل یہ ہے کہ آج سے کئی سال پہلے انھوں نے اپنے ایک خط میں مجھ پر انٹلیکچول بد دیانتی (Intellectual Dishonesty)کا الزام لگایا تھا۔ خط اور ٹیلی فون پر بار بار پوچھنے کے باوجود انھوں نے کوئی مثال نہیں دی۔ اِس کے بعد اُن سے سلسہ منقطع ہو گیا۔ اس کے بعد سے آج پہلی بار ان کا ٹیلی فون آیا ۔ وہ دیر تک تعریف کے کلمان بولتے رہے ، مگر مجھ کو کوئی دلچسپی نہیں ہوئی ۔ میرا مزاج یہ ہے کہ جب ایک آدمی کسی کے اوپر بے ثبوت الزام لگائے تو اس کے بعد اس کو سب سے پہلے یہ کرنا چاہیے کہ وہ کھلے طور پر یہ کہے کہ -میں نے غلطی کی۔ غلطی کے اعتراف کے بغیر تعریف کی باتوں کا کوئی مطلب نہیں ۔
21جولائی 2012
فلسطین میں عربوں کی کئی تحریکیں قائم ہیں ۔ وہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں ۔ فلسطین کی تحریک ِ مزاحمت حماس کے لیڈر خالد مشعل نے مصر کے صدر محمد مرسی سے ملاقات کی ۔ ۔اس کے بعد انھوں نے کہا کہ قومی مفاہمت کے بارے میں ہم کو مصر کی ثالثی کے تحت ہر فیصلہ قبول ہوگا۔ باہمی مفاہمت کے بارے میں قاہرہ جو بھی فیصلہ کرے۔ ہم اس کو تسلیم کریں گے اور سختی سے اس کی پابندی کریں گے ۔
(روزنامہ راشٹریہ سہارا ، دہلی ، 21جولائی 2012صفحہ 12)
خالد مشعل کا یہ بیان بالکل بے معنی ہے ۔ فلسطینوں کا باہمی ٹکراؤ کسی لیڈر کے بیان سے ختم نہیں ہو سکتا ۔ فلسطینیون کے باہمی ٹکراؤں سبب یہ ہے کہ وہ بے حد جذباتی ہیں ۔ اِس لیے پہلا کام فلسطینوں کے جذباتی مزاج کو ختم کرنا ہے ۔ اِس کے بغیر کوئی اور چیز اُن کے اندر باہمی مفاہمت پید ا نہیں کر سکی۔
22جولائی 2012
آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
روزہ اور قرآن
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔ آج رمضان 1433ہجری کی 2تاریخ تھی۔ رمضان میں سوال و جواب کا پروگرام نہیں ہوتا ہے ۔ چناں چہ تقریر کے بعد پروگرام ختم ہو گیا۔
23جولائی 2012
مسٹر نودیپ کپور اور مسٹر رجت ملہوترا میرے پاس آئے۔ انھوںنے کہا کہ آپ کی سوانح عمری بہت ضروری ہے۔ ان کا خیال تھا کہ میں بلاتا خیر اپنی سوانح لکھنوانا شروع کردوں۔میں نے کہا کہ بظاہر حالات مجھے اِس کا امکان نظر نہیں آتا۔ اب عملی طور پر صرف یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص میری تمام تحریروں کو پڑھے، بشمول خبر نامہ اور غیر مطبوعہ ڈائری ، نیز میرے خطوط ۔ میری تمام مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریروں کو کوئی شخص مکمل طور پر پڑھے اور اُن میں جو سوافی آئٹم ہیں،اُن کا نقل کرتا رہے ، پھر اِ ن تمام اجزا کو مرتب کر کے شائع کر دے۔ اس کے سوا عملاً کوئی اور صورت مجھے نظر نہیں آتی ۔ اپنے ابتدائی حالات پر میں نے کچھ صفحات لکھتے تھے ، وہ صفحات اِس مجموعہ کے اندر شامل کیے جاسکتے ہیں ۔
24جولائی 2012
حافظ محمد سلمان نوری (لکھنؤ) میں تقریباً 15سال سے ایک مدرسہ چلا رہے ہیں ۔ حال میں لکھنؤ کے کچھ مذہبی حلقے مثلاً ندوہ ، وغیرہ کے لوگ ، ان کے خلاف ہو گئے ۔ انھوں نے سلمان صاحب کے خلاف مخالفانہ پر وپگینڈہ کر کے مدرسے کے تمام چندے بند کرا دیے ۔ سلمان صاحب سے آج ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ میں نے اُن کو یہ مشورہ دیا کہ آپ اپنے مخالفین کے بارے میں ذرا بھی منفی سوچ اپنے اندر نہ لائیں ۔ بلکہ صرف اللہ کی طرف متوجہ رہیں ۔ ۔میں نے ان کو یہ حدیث ِ رسول سنائی : ان اللہ اذا أحبّ قوتا ابتلاھم ( اللہ جب کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے )۔
میں نے کہا کہ اِسی وقت جو آپ کے ساتھ پیش آرہا ہے ، وہ بظاہر انسان کی طرف سے ہے ، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ اللہ نے اِس طرح آپ کے لیے ایک شاک (Shock)کا انتظام کیا ہے ، تاکہ اپنی کمزور یوں کے بارے میں سوچیں اور اُن کی اصلاح کریں۔
25جولائی 2012
میں نے سعدیہ ڈاکٹر ثانی اثنین خاں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جینئس(Genius)دو قسم کے ہوتے ہیں :
بارن جینئس(Born Genius)اور
ایکچول جینئس(Actual Genius)
میں نے کہا کہ ہماری فیملی میں تین جنیئس پیدا ہوئے -
ظفر الاسلام ، رامش اور صدیقی ، اور عدنان ، یہ تینوں بارن جنیئس تھے، لیکن مجھے امیدنہیں کہ اِن میں سے کوئی بھی ایکچول جینئس بننے کے لیے نہایت صحیح پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے اور اِن تینوں کے یہاں مجھے پلاننگ کا فقدان نظر آتا ہے ۔ میں نے کہا کہ مثلاً ڈاکٹر ظفر الاسلام کاں کے اندر نہایت اعلیٰ صلاحیت موجود ہے ۔ دو سپر اچیور (Super Achiever)بن سکتے ہیں ، لیکن انھوں نے اپنے لیے ایک غلط میدان منتخب کیا بعد وہ ہے پندرہ روزہ ملی گزٹ جاری کرنا۔ ملی گزٹ عملاً مفروضہ مسلم مظلومیت پر شکایت اور احتجاج کی صحانت ہے ۔ مگر یہ کوئی کام نہیں ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک زوال یا فتہ قوم کی مرثیہ خوانی ہے ۔ اِس قسم کی صحافت ایک مردہ صحافت ہے ، نہ کہ کوئی زندہ صحافت ۔
میں نے کہا کہ برٹش انڈیا میں دو بارن جنیئس پیدا ہوئے-ایک مہاتما گاندھی ، اور دوسرے سبھاش چندر بوس ۔ مہاتما گاندھی نے حقیقت پسندانہ پلاننگ کی۔ وہ کامیاب ہو گئے ۔ اس کے بر عکس ، سبھاش چندر بوس نے ایک ایسی پلاننگ کی جو سر تا سر غیر حقیقت پسندانہ تھی، چناں چہ وہ خود بھی ہلاک ہوئے اور دوسرے ہزاروں ہندوستانیوں کو بھی ہلاک کیا۔
جنیئس (Genius)کو اردو میں عبقری کہا جاتا ہے ، یعنی غیر معمول ذہین :
Unusually Great Intelligent
26جولائی 2012
آج رمضان 1433ہجری کی 6تاریخ ہے ۔ قرآن کی سورہ النساء سورہ المائدہ کی تلاوت سنتے ہوئے یہ بات میرے ذہن میں آئی کہ یہیود کا ہجرت کر کے مدینہ آنا اور وہاں لمبی مدت تک رہنا ، اللہ کے منصوبے کے تحت تھا ۔ مدینہ میں انصار کے دو قبیلے تھے۔ اوس اور خزرج ، جب کہ یہود کے تین قبیلے تھے-بنو نغیر ، بنو قضاعہ ، بنو قینقاع ۔ مدینہ میں یہود کے ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا کہ قرآن میں یہود کی نسبت سے تفصیلی احکام اترے ۔ اگر ایسا ہوتا کہ جس طرح مکہ میں مشرکین تھے، اُسی طرح مدینہ میں بھی صرف مشرکین ہوتے تو یہود کی نسبت سے قرآن میں احکام نہ آتئے ۔ یہود کی حیثیت اُس وقت ایک زوال یافتہ امت کی تھی۔ یہود کے اندر وہ تمام پہلو موجود تھے جو دور زوالی میں مسلمانوں کے اندر پیدا ہونے والے تھے۔ اگر قرآن میں یہود کے بارے میں تفصیلی احکام نہ ہوتے تو دور ِ زوال کے مسلمانوں کے بارے میں شاید قرآن میں رہنمائی موجود نہ ہوتی ۔ اللہ کی نظر میںیہ پہلو اتنا زیادہ اہم ہے کہ یہود کے تذکرے والی صورتوں کو قرآن کی ترتیب میں اس کے آغاز میں شامل کیا گیا ہے ۔
27جولائی 2012
میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم کے پاس ساؤتھ افریقہ کے ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں کہا کہ میں تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوں اور اِسی کے ساتھ ماہ نامہ الرسالہ بھی پڑھتا ہوں ۔ میں دہلی آنے والا ہوں ۔ وہا ں میں کچھ دن مرکز تبلیغ (نظام الدین ) میں ٹھہروں گا ۔ انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کے لیے کوئی تحفہ لے آؤں آپ بتائیے کہ مولانا کی پسند کیا ہے ۔
آج صبح وہ ہمارے یہاں آئے۔ میں نیچے گیا اور اُن سے صرف سلام اور مصافحہ کر کے واپس چلا آیا۔
مجھے ایسے لوگ بہت سطحی معلوم ہوتے ہیں جو یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کےلیے کون سا تحفہ لاؤں ۔ جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے تو میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ آپ ہمار ے لیے کوئی تحفہ مت لائیے ، آپ صرف دعا دیجئے۔
28جولائی 2012
مولانا ابو الاعلی مودودی کا ایک ویڈیو انٹرویومیں نے انٹر نیٹ پر سنا ۔ پوری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق نے عرب کے لوگوں کو متاثر کیا اور وہ اسلام قبول کرکے آپ کے ساتھی بن گئے ۔
اگر اِس کو درست مانا جائے تو سوا ل یہ ہے کہ دوسرے پیغمبر کیا اعلیٰ اخلاق سے محروم تھے ۔ کیا ابو الانبیا حضرت ابراہیم کے اندر اعلیٰ اخلاق نہیں تھا جن کو عراق کی قوم میں سے کوئی شخص ساتھ دینے والا نہیں ملا۔ صرف اُن کے بیٹوں نے ان کا ساتھ دیا۔
یہ طریقِ مطالعہ درست نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ اللہ نے ہزاروں سال تک پیغمبر بھیجے ۔ منصوبہ الہٰی یہ تھا کہ پیغمبر کے ذریعے ایک امت بنے اور پھر یہی امت پیغمبر کی قائم مقام بن کر دعوت کا کام کرے ، مگر پچھلے پیغمبروں کے ذریعے مطلوب امت نہ بن سکی ۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک نئی نسل پیدا کی ۔ اس واقعے کو قرآن میں ’’اخراج ِ امت ‘‘ ( کنم خیر لقد أخرجت للناس )کہا گیا ہے ۔ صحرا میں بننے والی اِ س نسل میں خصوصی صفات موجود تھیں ، اِسی لیے اُن کے لوگ بڑی تعداد میں رسول اللہ پر ایمان لے آئے۔ امتِ محمدی کا بننا شخصی اخلاق کا کرشمہ نہیں تھا ، بلکہ وہ خدا کے منصوبہ اخراج کا کرشمہ تھا ۔ جب مطلوب امت وجود میں آگئی تو نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ۔ ختمِ نبوت کا سبب کاتم النبین کی پر اسرا فضیلت نہیں تھی ، بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ پیغمبر کی قائم مقامی کرنے کے لیے ایک امت وجود میں آچکی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت کی آیت (33:40)مکہ میں نہیں اتری ، بلکہ وہ مدینہ میں اتری۔
29جولائی 2012
آج اتوار کی کلاس تھی ۔آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
روزہ اور قرآنی ہدایت
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔ رمضان کی وجہ سے سوال و جواب کا پروگرام ملتوی کر دیا گیا ہے ۔
30جولائی 2012
Friedrich Nietzsche has declared that God is dead. God is not dead on the contrary, what has happened is that matter is dead. Matter has been found not to exist at all.
Modern physics discovered: Matter is Energy.
Matter Only appears... otherwise there is no such thing as matter, nothing is solid.
Albert Einstein: e=mc2, matter is energy.
Even th solid rock is pulsating energy
Arthur Stanely Eddington said, 'We used to think that matter is a thing, now it is no more so. Matter is more like a thought than like a thing.'
31جولائی 2012
نفسیات میں ایک اصطلاح ہے جس کو بہت زیادہ حساس شخصیت کہا جاتا ہے ۔ نفسیاتی تحقیق کے مطابق ، یہ ایک پیدائشی صفت ہے :
A highly sensitive person (HSP) is a person having the innate trait of high psychological censitivity.
جن افراد کے اندر یہ صفت ہو وہ باریک باتوں کو پکڑ لیتے ہیں جن کو دوسرے لوگ پکڑ نہیں پاتے وہ ہے چیزوں کو اپنے دماغ میں زیادہ اچھی طرح تجریہ کر سکتے ہیں:
They pick up on subtle things.
They often process things better in their hands.
They may process sensory data much more deeply and thoroughly due to biological difference in their nervous system.
عجیب بات ہے کہ میرے اندر بڑھی ہوئی حساسیت کی یہ صفت پیدائشی طور پر موجود تھی ۔ مجھے یاد ہے کہ نو جوان کی عمر میںجب میں اعظم گڑھ میں رہتا تھا ، میرا یہ حال تھا کہ میرے جو تے کے نیچے اگر پتی چپک جاتی یا ایک کاغذ کا ٹکڑا چپک جاتا تو مجھے فوراً اوکورڈ (Awkward)محسوس ہونے لگتھا تھا۔ مجھے اس وقت تک چین نہیں آتا تھ جب تک میں اپنے جوتے کے نیچے چپکی ہوئی چیز کو نکال نہ لوں۔