Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
1اپریل 2012
Building a heavenly personality
(Developing a truth sensitive personality)
Developing a quality conscious personality
سیکولرٹرم - Quality Conscious
اسپریچول ٹرم - Truth Conscious
ریلجس ٹرم - God Concious
آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا ؛
Man and the laws of Nature
اِس موضوع پر خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ آج کے پروگراموں میں دہلی کے علاوہ ، مہاراشٹریہ ، کرناٹک ، سہارن پور ، لکھنؤ کے کئی لوگ شریک تھے۔
2اپریل 2012
ایک سلفی عالم سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ قرآن کی آیت ؛ والذین اتبعوھم باحسان (9:100)سے اسلاف سے اتباع کا حکم معلوم ہوتا ہے ۔ میںنے کہا کہ یہ استدلال بالکل غیر علمی ہے ۔ اِس آیت کے الفاظ پر غور کیجئے ۔ اِس آیت میں اتباعِ صحابہ کا ذکر ہے ، نہ کہ اتباعِ اسلاف کا ۔ اِ س آیت میں صرف بعد کے اُن لوگوں کی جزا کا ذکر ے جنھوں نے صحابہ کا اتباع کیا۔ خود یہ بعد کے متبعین صحابہ ، ہمارے لیے قابلِ اتباع ہیں، اِس تصور کا اِس آیت میں کوئی ذکر نہیں۔
قرآن سے استدلال کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ خالی الذہن ہو کر قرآن کو پڑھا جائے ، پھر قرآن میں جو بات ملے ، اس کو لے لیا جائے ۔ دوسرا یہ کہ پیشگی طور پر آدمی کے ذہن میں ایک تصور موجود ہو ، پھر وہ اس کو لے کر قرآن میں اپنے موافق آیت تلاش کرے اور جہاں کہیں کوئی مشابہہ چیز مل جائے ، اُس کو لے کر وہ کہدے کہ دیکھو ، ہماری بات قرآن میں بھی موجود ہے۔ اِس بات کا ذکر قرآن کی سورہ آلِ عمران کی آیت فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ (3:7)میں کیا گیا ہے ۔
3اپریل 2012
عمری صاحبان کا ایک گروپ بنگلور میں اکھٹا ہوا ہے ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو دعوتی کام کے لیے تیار کر رہے ہیں ۔ 2اپریل 2012کو میں نے دہلی سےٹیلی فون پر انھیں مخاطب کیا۔ واضح ہو کہ دہلی اور بنگلور کے درمیان تقریباً 21سو کلومیٹر کا فاصلہ ہے ۔ یہ تقریر 45منٹ کی تھی۔ مولاناسید اقبال احمد عمری کے پاس اِس تقریر کا ریکارڈ موجود ہے ۔
4اپریل 2012
کشمیر سے حمید اللہ حمید ایم اے کا ٹیلی فون آیا ۔ الرسالہ کا شمارہ ( مارچ2012) کشمیر نمبر کے طورپر چھا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میرے ساتھی الرسارے مذکورہ شمارے کے بارے میں بہت ڈرے ہوئے تھے ۔ وہ کہتے تھےکہ کچھ دنوں تک ہم کو اپنا موبائل بند کرنا ہوگا، کیوں کہ الرسالہ کا یہ شمارہ جب لوگوں کے پاس پہنچے گا تو لوگوں کی طرف سے ہمارے پاس بہت سخت قسم کے دھمکیوں والے ٹیلی فون آنے شروع ہو جائیں گے۔ کیوں کہ الرسام کا یہ شمارہ ’’صبح کشمیر ‘‘کشمیریوں کی پچھلی 60 سال تاریخ کو باطل قرار دیتا ہے۔ وہ کشمیریوں کے لیے فکری ایٹم بم کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسٹرحمید اللہ حمید نے بتایا کہ الرسالہ کی اشاعت کے بعد کشمیر میں ایسا با لکل نہیں ہوا۔انھوں نے بتایا کہ الرسالہ کا یہ شمارہ میں کشمیر کے مختلف حلقوں میں تقریباً5ہزار سے زیادہ تقسیم کر چکا ہوں ، مگر اب تک کسی ایک شخص کی طرف سے کوئی منفی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔ میںنے کہا کہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ’’شیر کشمیر ‘‘ کا دور اب کشمیر میں ختم ہو گیا۔ اب کشمیر میں ’’شیخ کشمیر ‘‘ کا دور آگیا ہے ۔ میں نے کہا کہ عبد اللہ اگر شیر کشمیر تھے تو حمید اللہ شیخ کشمیر ہیں ۔ کشمیر میں اب تشدد کی قیادت ختم ہو چکی ہے ۔ اِس کے بجائے اب وہاں امن کی قیادت کا دور پوری طرح آچکا ہے ۔
5اپریل 2012
اللہ کے فضل سے ہمارا دعوتی مشن اب عالمی سطح پر پھیل رہا ہے ، لیکن ابھی وہ میڈیا کی نیوز نہیں بنا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام کشمیر کے ذریعے انجام پانا ہے ۔ اِس وقت دنیا میں 57مسلم اکثریت کے علاقے ہیں، مگر کہیں بھی موافق حالات موجود نہیں ۔ اِسی میں صرف کشمیر کا استثنا ہے۔
پچھلے 60سال سے کشمیر متشددانہ اسلام کی علامت بنا ہوا تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیر پر امن اسلام کی علامت بنے ۔ یہ ایک انقلابی فیصلے کا معاملہ ہے ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ کوئی قوم اس طرح کا انقلابی فیصلہ صرف مجبو رکُن حالات میں کرتی ہے۔ جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان میں پیش آیا۔ کشمیر میں بڑی تعداد میں انڈین آرمی کا ہونا غالباًاِس لیے ہے ۔ انڈین آرمی کی وجہ سے کشمیر یوں کے لیے تشددانہ اسلام کا آپشن ختم ہو گیا۔ اب ان کے لیے ایک ہی آپشن ہے اور وہ ہے پر امن اسلام۔ مجھے امید ہے کہ ان شاءاللہ کشمیر میںجلد ہی یہ واقعہ پیش آئے گا ۔ کشمیر انشاء اللہ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے کام کےلیے ایک بوسٹنگ اسپاٹ (Boosting Spot)ثابت ہوگا۔
6اپریل 2012
عمری صاحبان بنگلور میں سارہ فاطمہ کے تحت دعوتی کان کر رہے ہیں ۔ میں نے 4اپریل 2012کو بذریعہ ٹیلی فون ان کو خطاب کیا۔ یہ خطاب 45منٹ کا تھا ۔ اِس کے بعد بنگلور کی پوری ٹیم نے 6اپریل 2012کو دوپہر تین بجے تحریری طور پر اپنا اپنا تاثر بتایا ۔ ہر ایک نے یہ کہا کہ میں ان شاء اللہ پورے کمٹمنٹ (Commitment)کے ساتھ دعوتی کام کروں گا۔
آخرمیں میں نے ٹیلی فو ن پر ان کو خطاب کیا۔ یہ خطاب 30منٹ کا تھا۔ میں نے کہا کہ آج جو واقعہ ہوا ہے ، یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بیعت عقیہ ثانیہ جیسا واقعہ ہے۔ بیعت عقبہ ثانیہ میر کمیونکیشن ایج میں ہوئی تھی۔ آج اُسی طرح کا واقعہ پوسٹ کمیونکیشن ایج میں ہوا ہے ۔ میں نے کہا کہ دہلی اور بنگلور کے درمیان تقریباً 21سو کلومیٹر کا فاسلہ ہے ۔ یہ کمیونکیشن کا معجزہ ہے کہ دوری کے باوجود ہم اِس طرح آپس میں ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں جب کہ ہم بالکل قریب بیٹھے ہوئے ہوں ۔ یہ واقعہ علامتی طور پر اِس حقیقت کو بتاتاہے کہ اب ہم کو جدید کمیو نکیشن کی م دد سے عالمی دعوت کا کام کرنا ہے ۔
7اپریل 2012
موجودہ زمانے میں کئی ٹاپ کے علماء کچھ مشہور صوفیوں سے بیعت ہوئے۔ مثلاً مولانا ابو الحسن علی ندوی نے شاہ عبد القادر رائے پوری کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مولانا سید سلمان ندوی ، مولانا عبد الباری ندوی ، مولانا عبد الماجد دریا بادی نے مولانا اشرف علی تھانوی سے بیعت کی۔مگر معلوم طور پر اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اِس بیعت کے بعد اِن حضرات کے اندر کوئی نئی شخصیت بنی یا ان کے سامنے کوئی نیا ذہنی ارتقا ہوا۔ اگر یہ بات صحیح ہو تو یہ ایک خطر ناک علامت ہے ۔ قیاسی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ اِن حضرات کو غالباً اللہ کی معرفت حاصل نہیں ہوئی ۔ اِس کی تلافی کےلیے انھون نے اپنے وقت کے صوفیا سے بیعت کر لی ۔ جہاں تک عوام کا معاملہ ہے ، عوام میں جو لوگ صوفیوں سے بیعت کر تے ہیں ، اُن کا کیس عام طور پر یہی ہوتا ہے ۔ لیکن اگر بڑے بڑے علما کا حال بھی یہی ہو تو بلا شبہ یہ بات نہایت عجیب ہوگی ۔
میں ذاتی طور پر بیعت کے اِس طریقے کو ایک مبتدعانہ فعل سمجھتا ہوں ۔ کیوں کہ یہ طریقہ قرون مشہود کے بعد پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے بعیت ایمان لی تھی۔ لیکن بعد کو کسی صحابی نے بیعت ِ ایمان کا طریقہ اختیار نہیں کیا ۔ اِس لیے بیعت ایمان کا تعلق صرف رسول اللہ سے تھا ، خلفاء ِ راشدین نے لوگوں سے سیاسی بیعت لی تھی ۔ لیکن اب ووٹنگ کا طریقہ رائج ہونے کے بعد سیاسی بیعت کا طریقہ بھی عملاً متروک قرار پائے گا۔
8اپریل 2012
آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقیر کا موضوع یہ تھا ؛
Earth is a selection ground
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کے خطاب کے بعد سوا ل و جواب کا پروگرام ہوا۔
9اپریل 2012
انڈونیشیا میں ایک آشرم قائم ہے ۔ اس کا نام ہے آنند آشرم ۔ اس کا مرکز جکارتا ہے ۔ اِس کے بانی مسٹر آنند کرشنا (Anand Krishna)ہیں۔ان کو اسپریچول ایکٹوسٹ (Spiritual Activist)کہا جتا ہے ۔ وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ ہمارے دفتر میں آئے۔ انھوںـ نے اپنے آشرم کے تعارف پر ایک پمفلٹ دیا۔ اِس کا ٹائٹل یہ تھا ؛
Creating Heaven on Earth
میں سمجھتا ہوں کہ علامتی طور پر یہی تمام تحریکوں کا حال ہے ۔ ہر تحریک زمین پر ایک جنت بنانا چاہتی ہے۔ اِ س سلسلے میں اصل سوال یہ ہے کہ ہر تحریک اپنی مطلوب جنت کو بنانے میں اُسی طرح نا کام ہو رہی ہے ۔ جس طرح افسانوی شداد نا کام ہواتھا۔ اِس سلسلے میں اصل بات یہ ہے کہ ہم نتیجہ (Result)کو لے کر سوچا جائے ۔ صرف اپنےذہن کو لے کر سوچنا درست نہیں۔
10اپریل 2012
لکھنؤ کے دو صاحبان سے ملاقات ہوئی -مولانا اخلاق قاسمی ، مولانا محمد یونس قاسمی ۔ اُن سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اللہ کی معرفت کسی حجرے میں بیٹھ کر مراقبہ کرنے سے نہیں ملتی ۔ بلکہ تخلیقات ِ الہیہ میں غوروفکر سے اللہ کی معرفت ملتی ہے ۔ میں نے کہا کہ تخلیق کے کرشمنے ہر چیز میں ہوتے ہیں ۔ چیونٹی سے لے کر انسان تک اور درخت کی پتی سےلے کر پہاڑ تک ہر چیز میں قدرت الہٰی کےکرشمے موجود ہیں ۔ آپ اپنے اندر وہ نگاہ پیدا کریں جس سے آپ کو ہر چیز میں قدرت الہٰی کے جلوے دکھائی دینے لگے ۔ اِس طرح ہر چیز آپ سے معرفت کا رزق بنا جائے گی۔
11اپریل 2012
11اپریل 2012کو انڈو نیشیا کے شمالی حصہ میں زلزلہ آیا۔ یہ ایک زیر سمند ر زلزلہ (Undersea Quake)تھا۔ اس کا مرکز 33کیلومیٹر گہرائی میں تھا۔ اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 8.6ناپی گئی ۔ اس زلزلہ سے بہت بڑی تباہی آسکتی تھی ۔ لیکن ایسا نہیں ہو ا۔ کیوں کہ یہ زلزلہ مختلف تھا ۔ اس زلزلہ سےزمین کی حرکت عمودی نہیں تھی بلکہ افقی تھی۔ امریکی جیو لو جیکل سروے کے ایک اہل کار بروش پریسگر نے ایک نیوز پورٹل سے گفتگو کے دوران یہ بات بتائی ۔
This quake was different. This time the plates had not moved vertically but horizontally, and this prevented displacement of huge volume of sea water.
(TOI New Delhi April 12, 2012)
ٹائمس آف انڈیا نے اِس خبر کی سرخی ان الفاظ میں دی ہے ؛
Shaken, Not Shattered
12اپریل2012
پاکستان کے مشہور عالم مفتی محمد شیخ عثمانی نے اپنی تفسیر ’’معارف القرآن ‘‘ میں سورہ الفاتحہ کے تحت لکھا ہے کہ ہدایت کے لیے رجا ل اللہ سے تعلق ضروری ہے۔ اِس سلسلے میں انھوں نے یہ حدیثِ رسول پیش کی ہے کہ ؛ ما أنا علیہ و أصحابی ۔ اِس حدیث میں حق کو معلوم کرنے کے لیے رجال اللہ کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ چناں چہ فرمایا کہ حق پر وہ جماعت ہوگی جو میرے اور میرے صحابہ کے طرز پر ہو۔ (معارف القرآن ، جلد اول ، صفحہ 35)
اِس حدیثِ رسول میں یہ بتایا گیا ہے کہ بعد کے لوگوں کےلیے ہدایت کو معلوم کرنا کا ذریعہ صرف دوہو گا -سنت ِ رسول، اور سنتِ صحابہ ۔ مفتی شفیع عثمانی نے اِس میں ایک تیسرے گروہ کا اضافہ کر دیا ہے ۔ جو اُن کے الفاظ میں رجال اللہ کا گروہ ہے ۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو حدیث میں اِحداث فی الامر کہا گیا ہے ۔
13اپریل 2012
میرا یک تجربہ یہ ہے کہ ہزاروں مسلمان تقریر یا تحریر کی صورت میں میری مخالفت کر رہے ہیں ، مگر اُن کی مخالفت تمام ترغیب زنی اور الزام تراش کی زبان میں ہے ۔ اں میں سےکسی نے بھی قرآن و حدیث سےکوئی دلیل میرےخلاف پیش نہیں کی۔ تعجب ہےکہ یہ لوگ یہ بات بھی نہیں جانتے کہ کسی کی بے دلیل مخالفت ہمیشہ الٹے نتیجہ کا سبب بنتی ہے ، یعنی وہ آدمی اپنی رائے میں مزید پختہ ہو جاتا ہے ۔ فطری پور پر وہ سوچنےلگتا ہے کہ اگر میں غلطی پر ہوتا تو یہ علماء اور تعلیم یافتہ لوگ یقیناً قرآن و حدیث میں کوئی دلیل میرے خلاف پالیتے ۔
14اپریل 2012
14-11اپریل 2012کے درمیان میں لکھنؤ میں تھا۔ یہاں ندوۃ العماء لکھنؤ میں میں نے وہاں کے مختلف اساتذہ اور طلبا سےملاقات کی۔ میں نے اُن کو ماہ نامہ الرسالہ اور کتابِ معرفت بطور مطالعہ دی۔ لوگوں نے اِس کو شوق سےلیا۔ میں نےمہمان خانہ ، ندوہ میں مولانا رابع حسن ندوی اور مولانا واضح رشید حسن ندوی اور دیگر اہم اساتذہ سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک الرسالہ مشن کے بارے میں گفتگو کی۔ مولانا رابع حسن نے کہاکہ مولانا وحید الدین خان صاحب کا کوئی بڑا نہیں ہے جو اُن کو ٹوکے ۔ اِس لیے بعض مرتبہ وہ ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس کی تعبیر و تشریح مشکل ہو جاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اجماع سےبیٹی ہوئی بات ہے ۔ میں نے مولانا رابع حسن سے نہ دےسکے۔ آخر میں میں نے م مولانا کو کتاب معرفت کا ایک نسخہ دیا۔ اس کو انھوں نے بخوش لیا۔
(محمد ذکوان ندوی )
15اپریل 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا -جنتی شخصیت کی تعمیر ؛
Building a heavenly personality
اِ س موضوع پر ایک گھنٹہ کا خطاب ہوا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ آج کی کلاس میں بہت سےنئے لوگ بھی آئے ہوئے تھے ۔ یہ لوگ لکھنؤ ، کان پور، سیتاپور ، بنگلور ، ناگ پور سے مختلف مقامات سے آئے تھے۔
16اپریل 2012
انڈیا کے مشہور فلم اسٹار شاہ رخ خان امریکا کی ایل یونی ورسٹی (Yale Uni.)کی دعوت پر امریکا گئے۔ امریکا کے ائیرپورٹ وائٹ پلین (نیو یارک) پر انھیں تقریباً دہ گھنٹے تک پوچھ گچھ کے لیے روکا گیا۔
(روزنامہ انقلاب ، دہلی، 14اپریل 2012صفحہ 1)
اِس واقعہ پر انڈیا کے فلمی حلقے میں شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ جو ن 2011 میں خود بھی میں امریکا گیا تھا ۔ وہاں نیو یارک ائیرپورٹ پر مجھے بھی چیکنگ کے لیے روکا گیا تھا۔ مگر اُس وقت میرا حال بالکل مختلف تھا۔ میں آخرت کو سوچ کر یہ دعا کر رہا تھا کہ خدایا، اِس طرح ایک دن مجھے آخرت کے ’’ائیر پورٹ ‘‘ پر اترنا ہے۔ تو مجھے اِس کے بچا کہ وہان میری اسکروٹنی (Scrutiny)کی جائے ، کیاں کہ ؛ ۔
17اپریل 2012
ایک مسلمان تاجر سےملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنے کاروبارمیں پہلے مسلمانوں کو رکھا تھا ، مگر ان کو مسلمانوں سے تلخ تجربات ہوئے ۔ اب انھوں نے اپنے کاروبار سےمسلمانوں کو نکال دیا ہےاور ان کی جگہ ہندوؤں کو رکھ لیا ہے ۔مسلمانوں کے بارےمیں ان کی رائے بہت خراب ہے۔ انھوں نےسوال کر تےہوئے کہا ؛
Why Muslims are so bad?
میں نے کہا کہ آپ بھی ایک مسلمان ہیں۔ اگر آپ خود بھی ایک بیڈ مسلمان (Bad Muslim)ہوں تو خود اپنے آپ پر غور کر کے اس کا سبب معلوم کیجئے اور اگر آپ گڈ مسلمان (Good Muslim)ہوں تو آپ یہ دیکھئے کہ آپ استثنائی طور پر گڈ مسلمان کیسے ہوگئے اور پھر گڈ مسلمان بننےکا وہی طریقہ آپ دوسرےمسلمانوں کو بھی بتائیے ، تاکہ وہ بھی آپ کی طرح گڈ مسلمان بن جائیں ۔
18اپریل2012
22مئی 1987کو میرٹھ میں ہندو مسلم فساد ہوا۔ اِس سلسلے میں ہاشم پورہ (میرٹھ ) کےکئی مسلمان گولی مار کر ہلاک کر دیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب مسٹر ذو الفقار ناصر زخمی ہو گئے تھے، لیکن وہ بچ گئے۔ ان کا ایک انٹر ویو نئی دہلی کے روزنامہ ’’انقلاب ‘‘(18اپریل 2012)میں شائع ہوا ہے ۔ اِس انٹر ویو میں انھوں نے کہا کہ یہ فساد سازش کے تحت ہوا تھا اور یہ کہ جن لوگوں نے بے گناہوں کا قتل کیا ہے ، اُنھیں قرار واقعی سزا ملے، تاکہ آئندہ اِس طرح کی حرکت پر روک لگ سکے۔ (صفحہ 1)
میرٹھ کے فساد کے بعد میں خود میرٹھ گیا تھا اور ذاتی طور پر اس کی تحقیق کی تھی ۔ اِس فساد کا اصل سبب یہ تھا کہ رات کے وقت ایک ہندو مندر میں لاؤڈ اسپیکر پر بھجن ہو رہا تھا ۔ کچھ مسلم نو جوانوں کو اِ س پر اعتراض ہوا۔ وہ مندر میں گئے اور کہا کہ بھجن بند کرو۔ سب ہندوؤں نے بھجن بند نہیں کیا تو مسلم نو جوانوں نے ان کا لاؤڈاسپیکر توڑکر پھینک دیا۔ اِس کے بعد ہندوؤں نے جوابی کاروائی کی اور اس کے بعد فساد شروع ہو گیا۔ زو الفقار ناصر صاحب کویہ کہنا چاہیے کہ مسلمان کو چاہیے کہ فساد کا سبب مسلمانوں کی اشتعال انگیز کاروائی تھی۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی اشتعال انگریز کاروائی کو بند کر یں ، تاکہ فساد پر روک لگ سکے۔
(تفصیل کے لیے ماحظہ ہو ماہ نامہ الرسالہ ، نومبر 1988)
19اپریل 2012
میں دوبار مال دیپ گیا ہوں -1983میں اور 1987میں۔ اِس سفر کے دوران میری ملاقات مالدیپ کے سابق صدر مامون عبد القیوم سے ہوئی تھی ۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے میری کتاب الاسلام یتحدی پڑھی ہے ۔ میرے نزدیک وہ ایک صحیح آدمی تھے ۔ پھر مسٹر محمد نشید نے ان کے خلاف اینٹی انکمبنس فیکٹر ()کو استعمال کر کے اُن کو صدرات سےہٹایا ۔ اس کے بعد الیکشن کے ذریعے کامیاب ہو کر وہ مالدیپ کے صدر بنے ، مگر وہ کامیاب صدر ثابت نہیں ہوئے ، ان کے خلاف شورش پید ا ہوئی ، یہاں تک کہ فروری 2012میںان کو صدرات کے عہدے سےہٹا دیا گیا ۔ اب مسٹر نشید ہندوستان آگئے ہیں، تاکہ وہ حکومتِ ہند سے مدد لے کر دوبارہ صدرات کے عہدے پر پہنچ سکے۔
مالدیپ ایک سیاحی ملک ہے ۔ وہاں بہت بڑی تعداد میں مختلف ملکوں کے سیاح آتے ہیں ۔ یہ واقعہ مسٹر محمد نشید کو ایک عظیم موقع دے رہا ہے ۔ وہ اِن سیاحوں کے درمیان اسلامی دعوت کا کام کر کے صدرات سے بھی زیادہ بڑا کام کر سکتے ہیں ۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان کو صرف سیاسی ماڈل کا علم ہے ، دعوتی ماڈل اُن کو معلوم نہیں ۔
20اپریل 2012
نیاز فتح پوری لکھنؤ سےماہ نامہ نگار نکالتےتھے ۔ 1947کے بعد وہ پاکستان چلے گئے۔ تقسیم کے قبل انھوں نے نگار میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔اِس میں انھوں نے لکھا تھا کہ قدیم زمانہ ید عنون بالغیب کا زمانہ تھا ۔ موجودہ زمانہ یؤمنون بالتجربۃ واشہود کا زمانہ ہے ، مولانا ابو الاعلی مودودی نے اس کے خلاف ایک مضمون اپنے رسالہ ترجمان القرآن میں شائع کیا ۔ یہ مضمون ان کی کتاب ’’تفہیمات ‘‘ میں شامل ہے ۔ اس کا موضوع یہ ہے ؛
تجدد کا پائے چوبیں
حقیقت یہ ہےکہ نیاز فتح پوری نے ایک صحیح بات کہی تھی مگر مولانا مودودی نے اپنے مضمون میں اس کا مذاق اڑیا تھا ۔ مولانا مودودی کو یہ لکھنا چاہیے تھا کہ تجربہ اور شہود کی حیثیت واحد معیار کی نہیں ہے ۔ اگر چہ بذاتِ خود یہ بات صحیح ہے کہ موجودہ زمانےمیں جو ذہن بناہے، وہ یہ ہے کہ اُس بات کو ثابت شدہ سمجھتا ہے جو تجربہ اور شہود (Experiment and )کے لیے درست ثابت ہو جائے ۔
21اپریل 2012
روزمانہ انقلا ب (20اپریل 2012)میں ایک ندوی عالم کا ایک مضمون چھپا ہے ۔ اس کا عنوان یہ ہے ؛
سیرتِ رسول میں عصری مسائل کا حل
اِ س مضمون کا خلاصہ خود مضمون نگار کے الفاظ میں یہ ہے ؛ انسانیت کو لاحق مسائل کا حل وہی ذات کر سکتی ہے جو انسانوں کی خالق ہے ۔ جس خدا نے انسان کی شکل میں ایک حیرت انگریز مشین بنائی ہے ، وہی بہتر طور پر جانتا ہے کہ اِس مشین میں آنے ولی خرابیوں کو کیسے دور کیا جائے ۔ (صفحہ8 )
اِ س استدلال میں عصری ذہن کے لیے کوئی اپیل نہیں ۔ یہ استدلال قیاس منطق (Speculative Logic)پر مبنی ہے ، جب کہ عصری ذہن کو اپیل کرنے والا استدلال وہ ہے جو عقلی منطق (Rational Logic)پر مبنی ہو۔
22اپریل 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتےو ار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا ؛
The Problem of Conditioning
اِس موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر ہوئی ۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اس کے بعد حسب معمول ظہر کی نماز با جماعت پر پروگرام ختم ہوا۔
23اپریل 2012
نئی دہلی کے روزنامہ انقلاب (20اپریل 2012)میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا ایک تفصیلی مضمون چھپا ہے ۔ اس کا عنوان یہ ہے ؛
مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلمان ؛ ایک جائزہ
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 1972میںقائم ہوا۔ اِس میں ہندوستان کے تمام مسلک کےعلماء شامل ہیں ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام پر اب 40سال ہو چکے ہیں ، مگر بے شمار سر گرمیون کے باوجود اس کا کوئی ایک بھی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنی نوعیت میں ایک غیر معمولی بورڈ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون (Law)کےلیے قوتِ نافذہ درکار ہوتی ہے اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے پاس کوئی قوتِ نافذہ نہیں ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ ایک ایسے مقصد کےلیے قائم کیا گیاجو اس کے دائرہ اختیار سےباہر ہے ۔ ہندوستان میںکسی مسلم بورڈ کا کام مسلمانوں کی داخلی اصلاح ہے ۔ جہاں تک قانون کا تعلق ہے ، وہ عدالت کے دائرہ اختیار کی چیز ہے ۔ اور عدالت کا کام یہ ہے کہ وہ ملک کی اسمبلی اور پارلیامنٹ میں پاس ہونے والے قانون کو نافذ کرے۔ عدالت کسی مسلم پرسنل لا بورڈ کی مطلق پابند نہیں۔
24اپریل 2012
میر ی والدہ زینب النساء(وفات 1985)بتاتی تھیں کہ جس صبح کو میری پیدائش ہوئی اس رات کو والدہ نے ایک خواب دیکھا ۔ انھوں نے دیکھا کہ میں پیدا ہوا ہوں ، پھر ایک بہت بڑا ہاتھی آیا۔ اس نےاپنی سونڈ سے اٹھا کر مجھ کو اپنی پیٹھ پر رکھ لیا اور پھر چلا گیا ۔ یہ دیکھ کر میری ماں خواب مں کہتی ہیں ؛
اتنا اچھا بچہ تھا اس کو ہاتھی اٹھا لے گیا ۔
صنعتی دنیا میں یہ طریقہ ہےکہ ان کے آدمی کالجوں اور یو نی ورسٹیوں میں طلبہ کو دیکھتے رہتے ہیں پھر وہ جس کو زیادہ لائق پاتے ہیں اس کو آفر(Offer)دے کر اپنی کمپنی میں لے لیتے ہیں۔ اس طریقے کو ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے ؛
Catch them young
میں اپنی زندگی کے بارے میں سوچتا ہوں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ تھا۔ بچپن سے میرے ساتھ وہ معاملہ ہوا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ؛ ()ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سےکہا کہ اس بچہ کو لے لو اور اس کو دین کے کام کے لیے تیار کرو۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا؛
Catch him young
میری زندگی پیدائش سے لے کر بڑھاپےتک اسی کی مثال نظر آتی ہے ۔
25اپریل 2012
قرآن کی کچھ آیتیں وہ ہیں جو کسی واقعے کو ظہور میں لاناے کی متقا ضی ہیں ۔ ایسی آیتوں کی تفسیر صرف ان کے الفاظ کو دیکھ کر نہیں کی جاسکتی ،بلکہ لازمی طور پر بھی دیکھتا ہوگا کہ رسول اللہ اور اصحاب ِ رسول جو اِن آیتوں کےپہلے مخاطب تھے، اُن کے زمانے میںان کا عملی اظہار کس طرح ہوا۔
مثلاً سید قطب کی ایک کتاب ہے ۔ اس کا نام ہے ؛ العداللہ ابو جمتاعیہ فی الاسلام۔ اِس کتاب میںوہ بتاتے ہیںکہ اسلام کا نشانہ عدالت اجتماعی ()کا نظام قائم کرنا ہے ۔مگر ایسا نظام کبھی وقوع میں نہیں آیا، البتہ جو چیز عملاً وقوع میں آئی ، وہ عدالت ِ شخص (Individual Injustice)تھی ، نہ کہ عدالتِ اجتماعی ، ایسی حالت میں اسلام کا نشانہ وہی چیز قرار پائے گی جو نزول ِ قرآن کے بعد عملاً وقوع میںآئی ۔ جو چیز کبھی عملی طور پر وقوع میں نہیں آئی ، وہ اسلام کا نشانہ نہ نہیں بن سکی ، یعنی اسلام کا نشانہ یہ ہے کہ عادل افراد وجود میںآئیں ، نہ کہ عادل نظام ۔ عادل افراد کا وجود میں آنا بلاشبہ ممکنہے ، مگر عادل نظام کا وقوع میں آنا سرے سے ممکن نہیں۔
26اپریل 2012
قرآن کی آیت ؛ وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ، ویکون الدین کلّہ للہ (8:39)اِ س سے مراد سیاسی اقتدار قائم کرنا نہیں ہے ، بلکہ اس کا مطلب مذہبی آزادی لانا ہے ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ -مذہبی جبر ختم ہو جائے اور اللہ کے دین کا چوائس لینے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے ۔
27اپریل2012
دو کشمیری مسلمان ملاقات کے لیے آئے ۔ دونوں انگریزی تعلیم یافتہ تھے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں امن کی بابت جو کچھ آپ نے لکھا ہے ، اس کو ہم نے پڑھا ہے اور اُس سےہم کو پورا اتفاق ہے۔ مگر سوال یہ ہےکہ کشمیری جدہ جہد کےپچھلے برسوں میں ایک لاکھ کشمیری مارےگئے ، ان کا کیا ہوگا ۔ کشمیری کے اپنے ان مقتولوں کو بھلاد یں گے ۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حدیبیہ کا امن معاہدہ کیا تھا، اُس وقت 70صحابہ شہید ہو چکے تھے ، مگر آپ نے اِن مقتولین کا سوال نہیں اٹھا یا ، بلکہ ان کوبھلا کر امن کا معاہدہ کیا۔ میں نے کہا کہ امن ہمشیہ ماضی کو بھلانےکی قیمت پر قائم ہو تاہے ۔ اگر آپ امن چاہتےہیں تو آپ کو ماضی کو بھلا نا پڑے گا ، ورنہ کبھی امن قائم نہیںہوگا۔
28اپریل 2012
میں 1963سے 1966تک ندوۃ العلما (لکھنؤ) میں تھا۔ اُس زمانے میں وہاں ایک صاحب تھے۔ ان کا نام تھا محمد اسحاق جیس ندوی ۔ وہ پندرہ روزہ تعمیر حیات کے پہلے مدیر تھے۔ بعد کو وہ مولانا علی میاں سے بیعت ہو گئے تھے ۔ وہ آخر میں بیمار ہو کر لکھنؤ کے ایک اسپتال میں داخل ہو ئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ انتقال سےپہلے انھوں نے کہاتھا کہ میری تمنا ہے کہ اِس جُمن کو بھی تکہ کے قبرستان کے کسی گوشے میں جگہ دے دی جائے ۔ (تکیہ ، رائے بیرلی کا قبرستان مولانا علی میاں کا خاندانی قبرستان ہے )۔
یہ واقعہ مجھ کو یاد آیا تو میں نے دعا کی خدایا، میری تمنا یہ ہے کہ موت کے بعد تیری رحمت سےمجھے جنت کے کسی گوشےمیں جگہ مل جائے۔
29اپریل 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا ؛
What After Money
Money is a means of Support, not a goal in itself. (4:5)
اِس موضوع پر ایک گھنٹہ خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا پھر ظہر کی نماز با جماعت پر اجتماع ختم ہوا۔
30اپریل 2012
میری زندگی کا کوئی عنوان قائم کرنا ہو تو وہ صرف ایک ہوگا ، اور وہ دعا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہےکہ میر ی پوری زندگی اللہ سے دعا میں گزری ہے۔ اِس دعائیہ زندگی کاا ایک عجیب کرشمہ ہے کہ -اللہ نےمجھ کو نہ صرف ناکامیوں سے بچایا ، بلکہ اللہ نے مجھ کو کامیابیوں سے بھی بچا یا ، اگر چہ میں بار بار نا کامی یا کامیاابی کے دروازے پر پہنچا ۔
ناکامی اگر میری دنیا کو تباہ کرنے والی تھی تو کامیابی یقینی طور پر میری آخرت کے لیے تباہ کن تھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ اللہ نے مجھے جس طرح دنیوی نا کامیوں سے بچایا ، اُسی طرح اللہ نے مجھے دنیوی کا میابی سےبھی بچایا ۔
عجیب طور پر میرے ساتھ ایسے حالات پیش آئے کہ میں کسی پیشگی منصوبے کے بغیر ایک مختلف راستے پر چلتا رہا۔ میری زندگی کا کورس نہ میری ناکمیوں نے متعین کیا اور نہ میری کامیابیوں نے ۔ میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ تقریباً نا دانستہ طور پر میری زندگی کا ایسا کورس متعین ہو گیا جس کو نہ میری نا کامیوں نے بنایا تھا اور نہ میری کامیابیوں نے ۔ یہ بات کسی دوسرے شخص کو پُر اسرار معلوم ہو سکتی ہے ، لیکن خود میرےلیے وہ پر اسرار نہیں ، کیوں کہ وہ میرا ایک ذاتی تجربہ ہے ۔
میرا مشن پورا کا پورا اجتہاد پر قائمہے ۔کوئی شخص خوداپنے ذاتی فیصلے سے ایسا رسک (Risk)نہیں لے سکتا ۔ لیکن میرے حالات گویا کہ میرے لیے ایک جبری کورس (Compulsory Course)کی حیثیت رکھتے تھے ، جب کہ عملاً میرے لیے کوئی دوسرا آپشن لیا کرے ممکن ہی نہ تھا۔