Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
1اکتوبر 2012
کناڈا سے ایک مسلم خاتون (ماہ وش) کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کیسے کریں ، یہاں کی سوسائٹی میں ہمارے بچے بگڑ رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ اِس معاملے میں میری سوچ آپ کی سوچ سے الگ ہے ۔ اپنے تجربے کی روشنی میں اِس معاملے میں میرا فارمولا یہ ہے -آدمی یا تو شادی نہ کرے، یا اگر شادی کرلیا ہے تو وہ بچے پیدا نہ کرے، اور اگر بچے پیدا ہوگئے ہیں تو وہ ان کو اپنا کنسرن (Concern)نہ بنائے۔ آج کے زمانے میں اِن تین کے سوا کوئی چوتھا آپشن انسان کے لیے نہیں۔ چوتھا آپشن صرف ٹنشن () کا آپشن ہے اور ٹنشن میں جینا ہلاکت ہے ، نہ کہ کوئی آپشن۔
2اکتوبر 2012
میرا ایک مضمون ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی)کے شمارہ 2اکتوبر 2012میں چھپا ہے ۔ یہ مضمون اخبار کے علاوہ ٹائمس آف انڈیا کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ، اِس مضمون کو بہت زیادہ لوگوں نے پڑھا ، اور پھر ولوگوں نے کثیر تعداد میں اپنے تبصرے انٹرنیٹ پر بھیجے ۔ ایک مسیحی اسکالر (جارج)نے میرے مضمون کو پسند کرتے ہوئے اس پر اِن الفاظ میں تبصرہ کیا:
Maulana Wahiduddin is a good human being trapped in Islam
یہ مضمون شتمِ رسول کے مسئلے پر ہے ۔ میں نے قرآن کی روشنی میں دکھایا کہ شاتم کی سزا کا مسئلہ سر تا سر ایک مبتدعانہ مسئلہ ہے ۔ اس کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، اِس مضمون کا عنوا ن یہ ہے :
Blasphemy in Islam
اِ س مضمون کا پہلا پیراگراف یہ ہے :
In Islam, blasphemy is a subject of intellectual discussion, rather than a subject of physical punishment.
3اکتوبر 2012
نئی دہلی کے اردو اخبار روزنامہ راشٹریہ سہارا (3اکتوبر2012)میں ایک حسب ذیل عنوان کے تحت چھپا ہے :
اخوان کو اقتدار میں ترکی کا اہم کردار
Newsclip
(صفحہ 12)
4اکتوبر 2012
سابق امیر جماعت اسلامی ہند ڈاکٹر عبد الحق انصاری کا کل دوپہر علی گڑھ میں انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 81سال تھی۔ وہ 1931میں یوپی کے ضلع کُشی نگر میں پیدا ہوئے۔
وہ جماعت اسلامی کے ممتاز رکن تھے۔ جماعت اسلامی ہند نے رام پور میں ثانوی درس گاہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا ۔ اس کے خاص استاد مولانا جلیل احسن ندوی تھے۔ ثانوی درس گا ہ کا خاص مقصد یہ تھا کہ ایسے افرا تیار ہوں جو عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کریں ، مگر یہ کام انجام نہ پا سککا ۔ ثانوی در س گاہ کے تمام طلبا نے یونی ورسٹیوں میں جاکر اپنی تعلیم مکمل کی اور سیکولر یونی ورسٹی میں ملازمتیں حاصل کیں ۔ اِ ن میں سے کوئی بھی درس گاہ کے قیام کے مقصد کو پورا نہ کر سکا۔ ثانوی درس گاہ کے خاص افراد یہ تھے -
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ، ڈاکٹر اشفاق احمد ، ڈاکٹر حمید اللہ ، ڈاکٹر عمر افضل ، ڈاکٹر فضل الرحمان فریدی ، ڈاکٹر عبد الحق انصاری ، اِن میں سے آخری دو کا انتقال ہو چکا ہے ۔
5اکتوبر 2012
مولانا جلیل احسن ندوی رام پور میں میرے استاد تھے۔ ان کو قرآن کا بہت ذوق تھا۔ قرآن سے ان کو خاص شغف تھا ۔ وہ برابر قرآن کا مطاعلہ کرتے رہتے تھے ۔ قرآن کی بہت سی مشکل آیتوں کو انھوں نے حل کیا تھا۔ مگر انھوں نے قرآن کی کوئی تفسیر نہیں لکھی ، حتی کہ ان کی کوئی نوٹ بک بھی غالباً نہیں ہے ۔ ثانوی درس گاہ میں وہ قرآن کا درس دیتے تھے ۔ اِس درس کا غالباً سب سے زیادہ تفصیلی نوٹ ڈاکٹر عمر افضل (ابن افضل حسین ایم اے ایل ٹی ) نے بیار کیا تھا ۔
میں نے اپنی تفسیر تذکیر القرآن میں اِ س کا اہتمام کیا ہے کہ مقتدین کی تفسیری آرا کی کامل پیروی کروں۔ غالباً صرف ایک مقام پر میں نے مقتدین کی تفسیر کے خلاف لکھا ہے ۔ یہ سورہ یوسف میں ہے ۔ مقتدین کی تفسیروں کے مطابق، حضرت یوسر نے اپنے ایک بھائی بن یامین کو اپنے پاس روکنے کے لیے ایک ایسی کاروائی کی جو جھوٹے الزام کے ہم معنی ہے۔ مولانا جلیل احسن ندوی نے قرآن کی اِس آیت کی بہت خوب صورت تاویل کی ہے ۔ اِس معاملے کی میں نے جو تفسیر کی ہے ، وہ مولانا جلیل احسن ندوی کی اِس رائے کے مطابق ہے ۔ مولانا جلیل احسن ندوی کی تاویل ضمیر کے فرق پر مبنی ہے ۔ یہ نکتہ ’’تذکیر القرآن کے صفحہ 633پر دیکھا جا سکتا ہے ۔
6اکتوبر 2012
6اکتوبر 2012کو لندن میں Parliament Houseکے سامنے برطانی مسلمانوں نے مظاہرہ کیا ۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں Parliament Houseکے سامنے جمع ہو گئے ۔ وہ پُر جوش نعرہ لگا رہے تھے ۔ ان کے ہاتھوں میں بہت سے Playcardتھے جن پر مختلف نعرے لکھے ہوئے تھے۔ دو نعرے یہ تھے :
'Insulting the Prophet is insulting 1.5 Billions Muslims.
The Prophet is dearer to us than our lives.
7اکتوبر 2012
آج حسب معمول اتور کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
Existence of God
اِس موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔
8اکتوبر 2012
ادارہ ادب اسلامی ہند کی جامعہ نگر ( نئی دہلی ) شاخ کے قیام کے موقع پر حمد و نعت پر مشتمل ایک مشاعرہ مرکز جماعت اسلام ہند میں 7اکتوبر 2012کی شام کو منعقد کیا گیا ۔ مشاعرہ کی صدرات ادارے کے صدر ڈاکٹر سید عبد الباری شبنم سجانی نے کی۔ اِس میں مختلف شعرا نے نقیہ کلام پیش کیا۔ ڈاکٹر تابش مہدے نے جو نقیہ کلام پڑھا اس کا ایک شعر یہ تھا :
خدا کے بعد مسلم ہے برتری اُن کی کسی کے ذہن میں کچھ اور آگیا کیسے ؟
(روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، 8اکتوبر 2012،صفحہ 9)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ’’برتری‘‘ کا تصور ایک مبتدعانہ تصور ہے ۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ہمارے لیے اسوہ ہیں ، وہ ہمارے لیے ’’برتری ‘‘ کا موضوع نہیں۔
9اکتوبر 2012
ایک صاحب سے بار کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگ جیت کو بڑی چیز سمجھتے ہیں ، جیب سے لوگوں کو فخر تو ضرور ملتا ہے ، لیکن عملی نتیجے کے اعتبار سے دیکھئے تو جیت سے زیادہ بڑی چیز محرومی ہے ۔ اِس لیے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جیت آدمی کو ترقی کے سفر کو روک دیتی ہے ۔ اِس کے بر عکس ، جس آدمی کو محرومی کا تجربہ ہو، اس کے اندر یہ جذبہ جاگ اٹھتا ہے کہ وہ اپنی ناکامی کو دوبارہ کامیابی میں تبدیل کرے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر لامحدود صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں۔ محرومی کا احساس یہ کرتا ہے کہ وہ شدید طور پر آدمی کے اندر محرک عمل کو جگاتا ہے ۔ وہ آدمی کے فطری امکانات کو انفولڈ کر تا ہے ۔ تاریخ میں اِس کی بہت مثالیں موجود ہیں ۔
10اکتوبر 2012
گل برگا (کرناٹک ) سے مولانا فیاض الدین عمری کا ٹیلی فون آیا۔ انھون نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے مولانا سجاد نعمانی (لکھنؤ) گل برگا آئے تھے۔ یہاں کے قیام کے دوران اُن کے پانچ لکچر ہوئے ۔ انھوں نے بتایا کہ میں ان کے ہر لکچر میں شریک ہوا۔ میں نے پوچھا کہ کوئی ایک حکمت کی بات جو انھوں نے کہی ہو ، وہ مجھے بتائیے ۔ انھوں نے کہا کہ ان کے درس میں مجھ کو حکمت کی کوئی بات نہیں ملی ۔
اِس طرح کا تجربہ مجھ کو بار بار ہوا ہے ۔ جو لوگ بڑے بڑے اجتماعات میں جاتے ہیں اور بڑے بڑے لوگوں کے خطاب سنتے ہیں ، اُن سے اکثر میں یہ سوال کرتا ہوں کہ آپ نے وہاں حکمت (Wisdom)کی جو بات سنی ہو، وہ مجھے بتائیے ، لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے ، اب تک کوئی بھی شخص اِس قسم کی بات مجھ کو نہ بنا سکا۔
11اکتوبر 2012
آج مجھ کو اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آیا۔ جب میں چھوٹا تھا اور اپنے آبائی گاؤں بڈھیریا (اعظم گڑھ) میں رہتا تھا، اُس زمانے میں مجھے ایک بار گھوڑے کی سواری کا تجربہ ہوا۔ مجھے گھوڑے پر بٹھا کر بڈھیریا سے مرزا پور لے جایا گیا۔ مرزا پور میرے گاؤں سے تقریباً 4میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مرزا پور (اعظم گڑھ) میں میرے بھائی عبد القدوس خاں کی سرال تھی۔ قدیم رواج کے مطابق، عبد القدوس خاں کے چھوٹے بھائی کوشبہ باں کی حقیقت سے مرزا پور جانا تھا۔ اس لیے ان کے ساتھ گیا۔ میں اِس قابل نہیں تھا کہ میں خود سے گھوڑے کی سواری کروں ۔ چناں چہ جب میں گھوڑے پر بٹھایا گیا اور مرزا پور کے لیے چلا تو گھوڑے کے ساتھ مسلسل طور پر ہمارا سائیس(Horse-Man)موہن برابر میرے ساتھ پیدل چلتا رہا، تاکہ بحفاظت میں اپنی منزل تک پہنچ سکوں اور کوئی نازک صورتِ حال پیش آئے تو وہ میر ی مدد کرے۔
یہ واقعہ مجھے اپنی پوری زندگی کی تمثیل نظر آتا ہے ۔ مجھے ایسا محسو س ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کسی مصلحت کے تحت کامل عجز کی حالت میں پیدا کیا۔ عجز کی بنا پر میرے لی یہ ناممکن تھا کہ میں خود اپنی بنیاد پر زندگی کا سفر طے کر سکوں ، چناں چہ اللہ نے میرے ساتھ ایک فرشتہ لگا دیا۔ یہ فرشتہ مسلسل طور پر میرے ساتھ رہا۔ میر طویل زندگی میں بار بار ایسا پیش آیا ہے کہ ایک فرد سامنے آکر میری مدد کردیتا ہے ۔ یہ سلسہ ابھی تک جاتی ہے ۔ میں اکثر انگلی پر اُن افراد کے نام گنا کر تا ہوں جو ساری عمر اِس طرح ظاہر ہو کر میری مدد کرتے رہے ۔ میرا احساس ہے کہ جو فرشتہ اللہ نے میرے ساتھ لگایا ہے ، وہ یاتو کسی فرد کے دل میں خیال ڈال کر ا س کو میری مدد کے لیے آمادہ کر دیتا ہے ، یا اگر اِسی قسم کا کوئی فرد نہیں ملتا تو فرشتہ خود انسان کی صورت میں ظاہر ہو کر میری مدد کرتا ہے ۔ اپنے تجربے کے مطابق میرا پورا سفرِ حیات ایک جیسا سفر ہے جو خود اپنے پر سفر نہیں کر سکتا تھا، لیکن بار بار کچھ افرا د کی مدد سے لی ہوتے رہے اور اس سفرِ حیات جاری رہا۔
12اکتوبر2012
میرے لڑکے ڈاکٹر ثانی اثنین خاں یورپ کے سفر پر گئے ہیں۔ وہ پہلے جرمنی جائیں گے ، اس کے بعد سوئزرلینڈ اور فرانس ، پھر وہ دہلی واپس آجائیں گے ۔ اپنی پہلی منزل کے طور پر جب وہ فرینکفرٹ (جرمنی ) پہنچے تو انھوںنے موبائل کے ذریعہ یہ میسج بھیجا۔
Reached Frankfurt, Alhamduliallah!
دہلی سے فرینکفرٹ کا فاصلہ 6ہزار کلو میٹر سے زیادہ ہے ۔ قدیم زمانے میں اگر کوئی شخص اِس قسم کا سفر کرتا تو وہ اپنے گھر والوں کو مذکورہ قسم کا پیغام نہیں بھیج سکتا تھا ۔ یہ در اصل جدید ٹکنالوجی کا کرشمہ ہے ۔ موجودہ زمانے میں ماڈل کمیونکیشن کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے جو نعمت انسان کو دی ہے ، وہ ایک ایسی نعمت ہے جو پچھلے زمانے میں کسی بادشاہوں کو بھی حاصل نہ تھی۔ یہ بلاشبہ شکرِ عظیم کا ایک آئٹم ہے ۔
13اکتوبر 2012
آج صبح میں اپنے مشن کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ مجھے خیال آیا کہ میرے معاصر تقریباً تما م علما نے میری مخالفت کی -جماعت اسلامی کے علماء ندوہ کے علماء دیوبند کے علماء ، جامعہ در السلام کے علماء، تقریباً تمام سلفی اور حنفی علماء میرے مخالف ہو گئے ۔ بڑی تعداد میں ان کی طرف سے میرے خلاف مضامین چھپے اور کتابیںشائع ہوئیں۔ مثلاً ’’فکر کی غلطی ‘‘ ( عتیق احمد بستو ی قاسمی ) ، مولانا وحید الدین خاں ، علماء اور دانش ور کی نظر میں (ڈاکٹر محسن عثمانی ) وغیرہ۔ مگر عجیب بات ہے کہ اِن کتابوں میں کوئی بھی حقیقی دلیل موجود نہیں ۔ تمام کے تمام علماء میرے خلاف عیب زنی اور الزام تراشی کی زبان بولتے ہیں ، نہ کہ دلیل کی زبان ۔ دلیل یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کے حوالے سے میری کوئی غلطی ثابت کی جائے ، مگر ایسا کسی نے نہیں کیا ۔ میرے علم کے مطابق ، تاریخ میں کوئی ایسا شخص موجود نہیں جس کی اتنی زیادہ مخالفت کی جائے، لیکن مخالفین اُس کے خلاف علمی دلیل پیش کرنے سے قاصر رہ گئے ہوں۔
14اکتوبر 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
Divine Laws of Success
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کے خطاب کے بعد سوال و وجاب کا پروگرام ہوا۔ حسب معمول اِ س پروگرام کی بھی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی اور پروگرام کے بعد ظہر کی با جماعت نماز پر اجتماع ختم ہوا۔
15اکتوبر 2012
آج صبح امریکا سے دو صاحبان کا ٹیلی فون آیا-خواجہ کلیم الدین اور مسٹر فائق ۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو کوئی نصیحت کیجئے ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو میر ی نصیحت صر ف ایک ہے :
Save yourself from all kind of distractions.
میں نے کہا کہ ڈسٹریکشن کسی انسان کی گمراہی کا سب سے بڑا سبب ہے ۔ ڈسٹریکشن کا نقصان یہ ہے کہ آپ کی فطرت انفولڈ نہیں ہونے پاتی ۔ میں نے کہا کہ امریکا جیسے ملکوں میں جو مسلمان آباد ہیں ، اُن کے لیے ڈسٹریکشن کا سب سے بڑا ذریعہ ان کے بچے اور ان کی فیملی ہے ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اپنے آپ کو اس سے بچائے ۔ جب تک آپ لوگ اپنے ملکوں میں تھے ، بچوں کا معاملہ آپ کے قبضے مین تھا، لیکن امریکا میں آباد ہونے کے بعد آپ کے بچوں کا معاملہ آپ کے قبضہ میں نہیں ہے ، بلکہ مغربی کلچر کے قبضے میں ہے ۔ بچوں کو بچانے کا آپشن آپ کے لیے ختم ہو چکا ہے ۔ اب تو آپ کو خود اپنے آپ کو بچانا ہے ۔
16اکتوبر 2012
جس زمانے میں میں رام پور میں تھا ، جماعت اسلامی ہند کے نام ایک دعو ت نامہ آیا۔ یہ آریہ سماج کے ایک جلسے میں شرکت کا دعوت نامہ تھا۔ یہ واقعہ نومبر 1959کا ہے ۔ اُس وقت رام پور میں جماعت اسلامی کے بہت سے علماء موجود تھے ، مگر کوئی شخص وہاں جانے کے لیے تیار نہیں ہوا ۔ آخر کار میں وہاں گیا اور میں نے وہاں کی کانفرنس میں ایک مقالہ پڑھا جس کا عنوان تھا : اسلام کا تعارف ۔ یہ کانفرنس بجنور (یو پی ) میںہوئی تی ۔
اِسی طرح جس زمانے میں ندوہ میں تھا ، وہاں ایک ہندو تنظیم کی طرف سے ایک کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ آیا جو کہ الہ آباد میں ہونے والی تھی ۔ ندوہ کے علماء میں سے کوئی وہاں جانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ آخرکار میں آلہ آباد گیا۔ اِس کے لیے میں نے ایک مقالہ تیار کیا ۔ اِسی کا عنوان تھا: منزل کی طرف یہ مقالہ پیشگی طور پر کتاب کی صورت میں چھپوا لیا گیا تھا جو کہ وہاں پیش کیا گیا ۔ یہ مئی 1960کی بات ہے ۔
اِن د و واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم علماء کے اندر غیر مسلموں کے درمیان دعوت کا کام کرنے کا کوئی جذبہ نہیں۔
17اکتوبر 2012
ملالہ یوسف زئی 12جولائی 1997میں پاکستان کے سوات دسٹرکٹ میں پیدا ہوئی اس کی تعلیم English Schoolمیں ہوئی ۔ 9اکتوبر 2012کو ملالہ Examدے کر لوٹ رہی تھی ۔ راستے میں بس روک کر طالبان کے Gunmanنے پوچھا تم میں سے ملالہ کون ہے ، بتاؤ ، ورنہ سب کو مار ڈالوں گا ۔ ا س طرح پتہ کر کے Gunmanنے ملالہ پر دو گولیاں چلائیں : ایک سر میں لگی اور ایک گردن میں ۔ پاکستان طالبان نے اس کی ذمہ داری لیتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے ملالہ کو اس لیے مارا کیوں کہ وہ یہاں Secularismپھیلا رہی تھی :
The Pakistani Taliban said it had shot her for promoting secularism.
18اکتوبر 2012
پاکستان کے عالم مولانا جاوید احمد غامدی آج کل ملیشیا میں رہتے ہیں ۔
Innocence of Muslimsنام کی فلم کے خلاف دنیا کے مسلمان جو Protestکر رہے ہیں ، اس کے بارے میں انھوں نے ایک Interviewمیں کہا کہ یہ
’’آزادی رائے نہیں یہ تو بے ہودگی کا اظہار ہے ‘‘انھوں نے مزیدکہا کہ ’’آزادی کی تعریف جو خود اہل مغرب کرتے ہیں وہ بھی یہی ہے کہ میری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے ، جہاں سے دوسرے کی آزادی مجروح ہو تی ہے ‘‘َ
(ایک پاکستان نیوز چینل پر انٹرویو، انٹرنیٹ سے ماخوذ ، 19ستمبر 2012)
19اکتوبر 2012
میری ایک عادت ہے کہ میں تقریباً روزانہ شکر کے آئٹم تلاش کر تا رہتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات انسان کے اوپر اتنے زیادہ ہیںجن کو شمار نہیں کیا جا سکتا ۔ انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ چیزوں کو فار گرانٹیڈ ()لیتا رہتا ہے ، اِس لیے وہ شکر کے تجربات کے باوجود شکر ادا کرنے سے قاصر رہتا ہے ۔ اِس کا حل صرف یہ ہے کہ آدمی مسلسل طور پر سوچتا رہے ۔ وہ سوچ سوچ کر ماضی اور حال کے بارے میں شکر کے آئٹم کو دریافت کرتا رہے۔ یہ ہر انسان کے لے بے حد ضروری ہے ۔ میرا حال یہ ہے کہ میں تقریباً روزانہ شکر کے نئے آئٹم دریافت کرتاہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے فضل سے میں شکر کی کیفت سے کبھی خالی نہیں ہوتا۔
20اکتوبر 2012
مولانا اسرار الحسن خطیب عمری حج کے لے مکہ گئے ہوئے ہیں ۔ مکہ سے انھوںنے ٹیلی فون پر بتایا کہ یہاں تقریباً40لاکھ حاجی آئے ہوئے ہیں ، مگر جس سے بھی ملاقات ہوتی ہے ، خوا ہ وہ کسی بھی ملک کا ہو ، وہ سب شکایت کی باتیں کرتے ہیں ۔ اب تک کوئی حاجی ایسا نہیں ملا جو شکر اور دعوت کی بات کرتا ہو۔ انھوںنے کہا کہ مختلف ملکوں سے 40لاکھ حاجیوں کا اِس طرح آسانی کے ساتھ مکہ آنا اور پھر بحفاظت اپنے ملکوں کو واپس جانا اُن ترقیوں کی بنا پر ہوا ہے جو اہل مغرب نے کی ہیں ، مگر مجھے کوئی ایسا حاجی نہیں ملا جو اِن ترقیوں کو لے کر اہل مغرب کا اعتراف کرتا ہو۔ میں نے سوچا کہ یہ ی معرفت سے خالی مسلمان ہیں کہ جب وہ اپنے ملکوں سے حج کے لیے روانہ ہوتے ہیں تو لوگ اُن کے پاس آکر اُن سے کہتے ہیں کہ مکہ مدینہ پہنچ کر ہمار ے لیے دعا کرنا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے معرفت سے خالی لوگوں کی دعائیں خود اپنے لیے بھی نہیںہیں کبھی کہ وہ دوسروں کےلے مفید ہوں۔
21اکتوبر 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا -اسلام اور پیغمبر اسلام:
Islam and the Prophet of Islam
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا ۔ اس کے بعد سوال و جواب کے پروگرام پر اجتماع ختم ہوا ۔ آ ج کے اجتماع کی نئے لوگ بھی آئے تھے۔ مثلاً کشمیر کے مسٹر حمید اللہ حمید (ایم اے ) وغیرہ۔
22اکتوبر 2012
ممبئی کے ہاروں شیخ نے بتایا کہ الرسالہ مشن کا ماہانہ اجتماع جو ان کے دفتر میں ہوا کرتا تھا ، وہ اب لوگوں کے کہنے پر جاوید صاحب کے دفتر میں ہو رہا ہے ۔ لیکن ہارون شیخ کی رپورٹ ہے کہ لوگ وہاں غیر متعلق باتیں کرتے ہیں ۔ میرے نزدیک یہ ایک نازک مسئلہ ہے ۔ کیوں کہ اگر ماہانہ اجتماع ہارون شیخ کے یہاں ہوتا ہے تو ہارون شیخ کے مخصوص مزاج کا مسئلہ ہے ، اور اگر وہ جاوید صاحب کے یہاں ہوتا ہے تو وہاں دوسرا مسئلہ ہے ، کیوں کہ وہاں کا ماحول ملی سوچ والا ماحول ہے ۔ اب غور کرنا ہے کہ دونوں میں سے کس آپشن کو اختیار کیا جائے۔
23اکتوبر 2012
22اکتوبر 2012کو نئی دہلی کو اشو کا اسٹیٹ بلڈنگ کی آٹھویں منزل سے ایک نو جوان نے چھلانگ لگا کر کود کشی کر لی ۔ یہ نو جوان مہاراشٹریہ کا رہتے والا تھا۔ اس کی عمر 25سال تھی ۔ اس کا نام یہ تھا :
گورو پٹیل ( ایم بی ایس )
گورو پٹیل نے اپنے سو سائڈ نوٹ میں یہ الفاظ لکھے ہیں :
’’میرے جسم کے اعضا کو عطیہ میں تقسیم کر دیا جائے ۔ میں اِس واقعے کی تفتیش نہیں چاہتا ، کیوں کہ مجھے پیپر ورک پسند نہیں ۔ مجھے زندگی کی سچائی کا پتہ چل گیا ہے ۔ اب اس کے سفر کے لیے جارہاہوں ۔ اِس سچائی کو تلاش کرنے میں جن لوگوں نے میری مدد کی ہے ، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ‘‘
(روزنامہ راشٹریہ سہارا، اردو ، 23اکتوبر2012،صفحہ 9،نئی دہلی )
Note: One million approximate number of suicides worldwide each year.
Gaurav Patil, a 25 year old MBA and MBBS degree holder, committed suicide from 8th floor of his office of Ashoka Estate builing at Barakhamba Road on Monday morning. In his two-page suicide note in English, he wrote: "I have gone through all truths of life, now I am leaving for a journey of real truth of life.
Gaurav's roommate, Ankit, told the police that Gaurav had been reading some philosophical books, written on truths of life for sometime. Gaurav was a resident of Nashik.
24اکتوبر 2012
لندن سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر حنا کا ٹیلی فون آیا۔ وہ ہمارے مشن سے جڑی ہوئی ہیں اور خاص طور پر قرآن کے انگریزی ترجمہ کو ڈسٹری بیوٹ کرنے کا کام کرتی ہیں ۔ انھوں نے ٹیلی فون پر لمبی گفتگو کی۔ ان کی اِس گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ سوشل میڈیا اور ملی ورک میں بھی شال ہیں اور اسی کی وجہ سے اکثر ان کو کچھ مسائل پیش آجاتے ہیں ۔ میں نے اُن سے کہا کہ میں اپنے تجربے کی روشنی میں آپ کو ایک مشورہ دیتا ہوں ، وہ یہ کہ آپ سوشل میڈیا ورک اور ملی ورک کے مکمل طور پر الگ ہو جائیے اور اپنے پروفیشن کے علاوہ صرف قرآن کے ڈسٹری بیوشن کا کام کیجئے ۔ میں نے کہا کہ سوشل ورک اور ملی ورک میں تو پوری قوم لگی ہوئی ہے، مگر غیر مسلموں تک اللہ کا کلام پہنچانے کا کام کرنے والا کوئی نہیں۔ میں نے کہا کہ زندگی میں ایک کام کرنے کے لیے آدمی کو دوسرا کام چھوڑنا پڑتھا ہے ۔ جاپانی زبان کا ایک مثل ہے کہ جو آدمی دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑے، وہ ایک کو بھی نہیں پکڑ سکتا ۔ آپ اپنے طریقے پر نظر ثانی کیجئے اور اپنے کام کو زیادہ مفید بنائیے۔
25اکتوبر 2012
جسپال بھٹی ایک مشہور کامیڈین تھے۔ وہ 1955میں پیدا ہوئے اور آج ایک روڈ ایکسڈنٹ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ ایک فلم اسٹار تھے۔ ان کا کارنامہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے سیریل میں لوگوں کو ہنسی میں اڑادیتے تھے اور اِسی طرح یہ ظاہر کرتے تھے کہ زندگی کے مسائل کی کوئی حقیقت نہیں ۔ مگر عجیب بات ہے کہ وہ خود ایک سڑک حادثہ کے مسئلے کا سامنا نہ کر سکے اور ایک لمحے میں صرف 57سال کی عمر میں وہ موت کا شکار ہو گئے -انسان کتنا کم جانتا ہے ۔ اِس کےباوجود وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ جاننے والا سمجھ لیتا ہے ۔
26اکتوبر 2012
آج صبح سوچتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ عام طور طو ر پر لوگ بڑی بڑی شخصیات میں جیتے ہیں، حالاں کہ انھیں بڑی بری شخصیات کے خالق میں جینا چاہیے ۔ مثلاً امبر شکیب ارسلان ایک پُر جلال شخصیت کے آدمی تھے ۔ سید جمال الدین افغانی سے جب پہلی بار ان کو دیکھا تو ان کی زبان سے نکلا : أنا اھسئی أ رض الاسلام الیی أ بتتک حالاں کہ سید جمال الدین افغانی کو یہ کرنا چاہے تھا کہ : أ نا أ حمد اللہ تعالیٰ الذین خلق قتلک ۔ اِسی طرح پاکستان کے مشہور عالم جاوید احمد غامدی کی ایک تقریر میں نے انٹرنیٹ پر سنی ۔ اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ جب پہلی بات ان کی ملاقات سید ابو الاعلی سے ہوئی تو ان کی کیفیت کیا تھی۔ اِس کیفیت کو انھوں نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے : کیا شان دار شخصیت تھی ۔ حالاں کہ اُن کو کہان چاہیے تھا کہ کیسا عجیب ہوگا، وہ اللہ جس نے ایسے شان دار انسان کو پیدا کیا۔
میرا اپنا احساس یہ ہے کہ میں درخت کی ہر پتی اور چاول کے ہر دانے کو ایک شان دار تخلیق کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ اگر کبھی میری ملاقات کسی با کمال شخصیت سے ہوتی ہے تو اس کو بھی میں تعمیم کرتا ہوں اور مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آتی ہے : ولقد کرمنا بنی ادم ۔ اور خلقنا الانسان فی أحسن تقویم اور وصورکم فاحن صورکم ۔
27اکتوبر 2012
آج عید الاضحی کا دن تھا۔ آج کل مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ عید الاضحی کے موقع پر وہ سب سے زیادہ دھوم قربانی کے لیے کرتے ہیں۔ اخبار سے معلوم ہوا کہ ممبئی میں قربانی کا ایک بکرا 4لاکھ میں فروخت ہوا۔ دہلی کی مارکیٹ میں 40اونٹ فروخت کے لیے لائے گئے تھے۔ امریکا کے ٹیلی فون سے معلوم ہوا کہ وہاں مسلمانوں نے بھی قربانی کے معاملے میں اِ سی قسم کی دھوم کی۔ امریکا کے ایک صاحب سے میںنے ٹیلی فون پر کہا کہ یہ کوئی اسلام نہیں ہے ، یہ بلاشبہ ایک قومی کلچر ہے ۔ موجود زمانے کے مسلمان اسلام کے نام پر جس دین پر ہیں ، وہ صرف ایک قومی کلچر ہے ۔ اس کا خدا کے دین سے کوئی تعلق نہیں ۔
28اکتوبر 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضو ع یہ تھا -
ابراہیمی مشن کا احیا:
Revival of Ibrahimi Mission
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کے خطاب میں بتایا گیا کہ قربانی ، حج اور عید الاضحی کا مقصد ابراہیمی سنت کا احیا ہے ، یعنی حضرت ابراہیم کے دعوتی مشن کا احیا ۔ یہ ایک خطاب تھا۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس کو سنے ۔ وہ سی پی ایس کی ویب سائٹ پر موجود ہے ۔
تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔
29اکتوبر 2012
28اکتوبر 2012کی شام کو امریکا کے لیے میرا ایک ٹیلی فونی خطاب تھا۔ اس کا عنوان تھا -عزت ِ نفس کی حیات اسلام میں :
Self - Respect i Islam
آدھ گھنٹے کے خطاب کے بعد سوالا ت ہوئے۔ کناڈا میں مقیم ایک خاتون ماہ وش نے سوال کیا کہ ہم قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈسٹری بیوٹ کرتے ہیں ۔ ایک مسیحی شخص کو ہم نے قرآن کا یہ ترجمہ دیا تو اس نے ہم کو بائبل کا ایک نسخہ پیش کیا ۔ ایسے موقع پر ہم کو بائبل لینا چاہے یا نہیں ۔ میں نے کہا کہ ضرور لیجئے ۔ اگر آپ بالفرض اس کو نہ پڑھ سکیں ، تب بھی تالیف قلب کے طور پر اس کو لینا چاہیے ۔
اِس سوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ دعوتی کام کرتے ہیں ، وہ بھی اکثر دعوتی مزاج سے نا آشنا ہیں ۔ دعوت کا کام اِس طرح نہیں ہو سکتا کہ آپ دوسرے مذہب والوں کو قرآن پیش کر یں یا اپنی مذہبی کتاب پیش کریں تو آپ اس کو لینے سے انکار کر دیں ۔
30اکتوبر 2012
اقبال احمد خاں سہیل (وفا ت 1955)میرے چچا زاد بھائی تھے۔ انھوں نے کئی نعتیہ نظمیں لکھی ہیں۔ ان کی ایک طویل نعتیہ نظم کا ایک شعر یہ ہے :
راہ میں جس نے کانٹے بھچائے ، گالی دی ، پتھر بر سائے اس پر چھڑ کی پیار کی شبنم ، صلی اللہ علیہ وسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اِس طرح کی باتیں تمام نعت خواں لکھتے اور بولتے ہیں ، لیکن خود مسلمانوں کی زندگی اس سےمختلف ہے۔ میں نے غور کیا کہ ایسا کیوں ہے۔ میر ی سمجھ میں آیا کہ اِس کا سبب یہ ہے کہ اِ ن مسلمانوں نے مذکورہ صفت کو رسول اللہ کی فضیلت کے طور پر دریافت کیا، لیکن وہ اِسی صفت کو ایک عام اخلاقی تعلیم کے طور پر دریافت نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اِس قسم کی اعلیٰ باتوں کو اپنے پیغمبر کے حوالے سے تو خوب بیان کرتے ہیں ، لیکن اس کو وہ خود اپنے لیے قابلِ تقلید نہیں سمجھتے ۔ گویا مسلمانوں کے لیے اِسی قسم کی اخلاقی باتیں نعت خوانی کی آئٹم ہیں، وہ ان کی اپنی زندگی کا اصول نہیں۔
31اکتوبر 2012
رابعہ گرلس پبلک اسکول ( دہلی ) کو حکیم عبد ال حمید نے 1973میں قائم کیا تھا۔ وہ پرانی دلی کے علاقہ ( گلی قاسم جان ) میں ہے اور کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے ۔ اس کے پرنسپل میجر عابد رشید تھے۔
29اکتوبر 2012کو اچانک ان کا ہارٹ فیل ہوا اور ان کا انتقال ہو گیا ۔ چند دنوں پہلے ان کے بغل میں کینسر ہونے کا علم ہوا۔ ان کی اہلیہ نے بتایا کہ اِس خبر کو سن کر وہ سخت اسٹریس کا شکار ہو گئے اور اس دوران ان کو ہارٹ کے دو دورے پڑے۔ ان کی عمر تقریباً 80سال تھی۔
میجر عابد رشید صاحب جسمانی اعتبار سے نہایت تندرست تھے۔ لیکن زندگی میں صرف جسمانی صحت کافی نہیں ، ضروری ہے کہ آدمی کے پاس کوئی بر تر آئڈیالوجی ہو جو مشکل حالات میںاس کو سہارا دے سکے۔میرا خیال ہے کہ وہ لوگ ہر جسمانی صحت کا بہت اہتمام کرتے ہیں ، ان کے پاس شاید اِسی قسم کی کوئی آئڈیا لوجی نہیں ہوتی۔