Diary 2012

September 2012

Diary 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (13 chapters)
  1. January 2012
  2. January 2010
  3. February 2012
  4. March 2012
  5. April 2012
  6. May 2012
  7. June 2012
  8. July 2012
  9. August 2012
  10. September 2012
  11. October 2012
  12. November 2012
  13. December 2012

1ستمبر 2012

دہلی میں ایک مسلم نو جوان تھے۔ وہ انگریزی تعلیم یافتہ تھے۔ اب شاید وہ کسی عرب ملک میں جاب کر رہے ہیں ۔ انھوںنے ایک بار کہا تھا کہ میں آپ کا ماہ نامہ الرسالہ پہلے پڑھتا تھا، مگر اب میں اس کو نہیں پڑھ پاتا۔ میںنے پوچھا کہ کیوں ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے اس میں ٹِٹ بِٹس (Titsbits) ہوتے تھے ، یعنی چھوٹے چھوٹے دلچسپ آئٹم ہوتے تھے، مگر اب اس میں زیادہ قرآن اور حدیث کی باتیں ہوتی ہیں ۔ اِس کے بر عکس ایک اور مذہبی مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں الرسالہ پڑھتا تھا اب میں نے اس کو پڑھنا چھوڑ دیا ہے ۔ میں نے وجہ پوچھی تو انھوںنے کہا کہ پہلے اس میں دینی مضامین ہوا کرتے تھے ، اب اس میں دنیوی مضامین ہوتے ہیں

اِس طرح کی صورتِ حال کے بارے میں حضرت عمر نے کہا تھا کہ اگر تم تیرکی طرح سیدھے ہو جاؤ ، تب بھی لوگ تمہارے اندر خرابی نکال لیں گے۔

2ستمبر 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا -حکمت ِ ربانی کے حصول کا راز:

The Secret of Divine Wisdom

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کے پروگرام پر اجتما ع ختم ہوا۔

3ستمبر 2012

ایک مسلمان اپنی فیملی کے ساتھ امریکا میں رہتے ہیں ۔ وہاں وہ کافی ڈالر کماتے ہیں ۔ ان کی فیملی نہایت خوش حال زندگی گزار رہی ہے۔ ان سے میری ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں ایک دین دار خاندان سے تعلق رکھتا ہوں ، مگر امریکا میں میرے بچے دوسروں کو دیکھ دیکھ کر بگڑ رہے ہیں ۔

میں نے کہا کہ آپ اپنے بچوں کے بگاڑ کے خود ذمے دار ہیں، نہ کہ دوسرے لوگ ۔ امریکا میں آپ نے جو مادی کلچر جو لائف اسٹائل اختیار کیا ہے ، اس کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ آپ کے بچے بگڑ جائیں ۔ میںنے کہا کہ آپ جیسے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پہلے ہیل ایکسپریس (Hell Express)میں سوار کر دیتے ہیں اور پھر چاہتے ہیںکہ کوئی مولوی آپ کے بچوں کو جنت کا ٹکٹ دے دے۔

4ستمبر 2012

2ستمبر 2012کو ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (مقیم حال، برطانیہ ) ملاقات کے لیے آئے ۔ انھوں نے مسلم خواتین کے موضوع پر ریسرچ کی ہے ۔ اُن کے کا موضوع ہے ۔علمِ حدیث میں مسلم خواتین کا کنٹری بیوشن ۔ وہ آکسفورڈ میں ہیں ۔ انھوں نے برٹش شہریت بھی لے لی ہیں ۔ اُن کا یہ عربی مقالہ ایک مو سوعہ کی صورت میں تقریباً 52جلدوں میں چھپنے والا ہے ۔

میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ نے اپنے طویل مقالے میں مسلم خواتین کے جو کا رنامے جمع کیے ہیں، اُن میں سے کوئی ایک بطور مثال بتائیے ۔ انھوں نے ایک خاتون کا ذکر کیا۔ وہ مدینہ میں رہتی تھیں۔ اُس زمانے میں وہاں ایک شخص نے چوری کی۔ یہ کیس قاضی کے پاس گیا اور قاضی نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ مذکورہ خاتون کو معلوم ہوا تو انھوں نے قاضی کو پیغام بھیجا ۔ انھوں نے کہا کہ چور نے جس مال کی چوری کی ہے ، وہ اُس مقدار سے کم ہے جس پر پیغمبر اسلام نے چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا ، اس لیے آپ کا فتویٰ درست نہیں ۔ قاضی نے اِس کا مان لیااور اپنے حکم کو منسوخ کر دیا۔

میں نے کہا کہ دورِ جدید میں اِ س قسم کے واقعات کی کوئی ہمیت نہیں۔ آج کا انسان آفاقیت ()میں یقین رکھتا ہے ۔ آج کے ذہن کو صرف وہ واقعہ ایڈریس کرے گا جس میں انسانیت عامہ کے لیے کوئی فائدے کی بات ہو ۔

اس ملاقات کے دوران میری ٹیم کے کئی لوگ میرے کمرے میں موجود تھے۔ مثلاً ڈاکٹر فریدہ خانم ، مولانا محمد ذکوان ندوی ، وغیرہ ۔ میں نے سعدیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سارے لوگ کنفیوژن کا شکار ہیں۔ وہ اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں ۔ انھیں نہیں معلوم کہ آج کرنے کلا مطلوب کام کیا ہے ۔ میں نے سعدیہ سے کہا کہ تم خدا کا شکر ادا کرو کہ تم کو خدا نے اِس مشن (الرسالہ ) کے ذریعے سچائی دی، ورنہ اِس کمرے (C-29)کے باہر جو کچھ ہے ، وہ صرف جہالت ، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔

5ستمبر 2012

میری وصیت ہےکہ میرے بعد اگر ماہ نامہ الرسالہ کو جاری رکھا جائے تو اس میں صرف میری تحریر یں شائع ہوں ، خواہ مطبوعہ یا غیر مطبوعہ ۔ اگر یہ نوبت آجائے کہ میری تحریروں پر ماہ نامہ الرسالہ جاری نہیں رکھا جا سکتا ہے اور اس کو جاری رکھنے کی صورت صرف یہ ہے کہ اُس میں دوسروں کے مضامین بھی شامل کیے جائیں ، جیسا کہ عام جرائد میں ہوتا ہے ، تو ایسی صورت میں ماہ نامہ الرسالہ فوراً بند کر دیا جائے۔ اگر کسی کو دوسروں کے مضامین پر مشتمل ماہ نامہ نکالنا ہے تو وہ نئے نام کے ساتھ نیا ڈکلیریشن حاصل کرے۔ جہاں تک ماہ نامہ الرسالہ کا تعلق ہے ، اس کو یا تو صرف میر تحریروں کی بنیاد پر جاری رکھا جائے یا اُس کو بند کر دیا جائے ۔ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ الرسالہ کے نام سے ماہ نامہ جاری رکھے اور اُس میں میرے سوا دوسروں کے مضامین شائع کرے ۔ ماہ نامہ الرسالہ میں کبھی دوسرے شخص کا کوئی مضمون یا کوئی پیراگراف شائع نہیں کیا جائے گا۔ ماہ نامہ الرسالہ میری زندگی کا جز ہے اور ماہ نامہ الرسالہ کا جز ہوں ۔ دونوں کو کسی بھی حال میں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جائے ۔

6ستمبر 2012

’مصر کانیا آئین عصمت صحابہ و انبیا ء کا ضامن ہوگا ‘

Newsclip

(روزنامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی، 6ستمبر 2012صفحہ 12)

7ستمبر 2012

ایک عالم سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عربی زبان میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئی ہیں اور حدیث کی جو شر حیں لکھی گئی ہیں، اُن کا درجہ صرف یہ ہے کہ وہ قرآن و حدیث کے مطالعے کے لیے ابتدائی ضروری مواد کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ یہ سمجھنا بہت بڑی غلطی ہوگی کہ یہ تفسیریں اور یہ شر حیں ابدی طور پر مستند ماخذ ہیں ۔ عربی تفسیروں اور عربی شرحون کی صور ت میں جو مواد ہمارے کتب خانے میں موجود ہے ، وہ اِس سلسلے میں مددگار لٹریچر ہے، نہ کہ قرآن و حیدث کے متن کی طرح معیاری لٹریچر ۔

8ستمبر 2012

میرا ایک تجربہ یہ ہے کہ کسی بھی عورت یا مرد کو فار گرانٹیڈ (For-Granted)نہیں لیا جا سکتا ۔ ہر آدمی کی ایک حد ہوتی ہے ۔ اُس حد کو جاننے اور اُس حد کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کے معاملہ کیجئے۔ اُس حد کو نظر انداز کرکے کسی سے تعلقا ت قائم کرنا ایک ایسی خطرناک چیز ہے جس کا تجربہ کبھی نہیں کرنا چاہیے ۔ اِس سلسلے میں میر ے تجربے میں کئی مثالیں آئی ہیں ۔ یہ مثالیں مجھے اچھی طرح یاد ہیں ، لیکن ان کا ذکر کرنے ککے لیے ان کا نام لینا پڑے گا اور نام کے ساتھ ان تجربوں کا ذکر مناسب نہیں ۔ اِس معاملے میں تاریخ کی بعض شخصیتیں استثنا ئی حیثیت رکھتی ہیں ۔ مثلاً حضرت ابو بکر صدیق ۔ مگر اِس قسم کا استثنا بے حد نادر ہے ۔

9ستمبر 2012

آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ تقریر کا موضوع یہ تھا:

The Purpose of Existence

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔ اس کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔

10ستمبر 2012

کل کے سنڈے کلاس میں اعلیٰ طبقے کے دو افراد آئے تھے۔ ایک ہندو (Mukul Pal)جو کہ رومانیہ میں بزنس کرتے ہیں ۔ دوسرے ایک مسلمان جن کا بزنس جموں و کشمیر میں ہے ۔ یہ دونوں ایم بی اے کے کورس میں مسٹر رجت ملہوترا کے ساتھ تھے اور انھیں کے توسط سے آئے تھے۔

میں حسب معمول اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ نغمہ اور نو دیپ آئے ۔ میں نے اُن لوگوں سے کہا کہ آج ہماری کلاس میں دو اینجلس (Angels)آئے ہیں ۔ جائیے اور ان کا استقبال کیجیے۔ میرا یہ جملہ اُن لوگوں نے سن لیا۔ بعد کو ان کی ملاقات مسٹر رجت سے ہوئی۔ مسٹر رجت نے بتایا کہ وہ اس سے بہت متاثر ہوئے اور کتابوں کے مطاعلے کا شوق ظاہر کیا۔

میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان میں اعترا ف کا جذبہ نہیں، جب کہ ہندوؤں میں اعتراف کا جذبہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے ۔

11ستمبر 2012

کناڈاسے ایک مسلم خاتون کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں دورہ تفسیر قرآن ہوتا ہے ۔ اس میں میں برابر شرکت کرتی ہوں ، لیکن ذہنی اعتبار سے میں بہت پریشان رہتی ہوں ۔ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ۔ میں نے کہا کہ امریکا اور کناڈا میں دورہ تفسیر کا جو طریقہ ہے ، اس سے مجھے زیادہ اتفاق نہیں ہے ۔ آپ اس میں جانا چھوڑ دیں اور ہمارے یہاں کی کتابیں پڑھیں۔ اس کے علاوہ اتوار کا درس جو دہلی میں ہوتا ہے ، اس کو پابندی سے سنیں ۔ اِس طرح میں نے اُن سے کہا کہ آ پ امریکا میں مقیم خواجہ کلیم الدین صاحب سے رابطہ کریں ۔ وہاں سے آپ کو ہمارا لٹریچر وغیرہ ۔ آسانی سے مل جائے گا۔

12ستمبر 2012

آج روزانہ شام کو 4بجے ماریہ خان اپنا لیپ ٹاپ لے کر میرے پاس آتی ہے ۔ میں خود لیپ ٹاپ استعمال نہیں کر سکتا ۔ چناں چہ میں مختلف قسم کی باتیں ماریہ کے سامنے رکھتا ہوں ، وہ انٹر نیٹ کے ذریعے اس کا جواب فوراً نکال دیتی ہیں ۔ یہ سلسلہ روزانہ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہتا ہے ۔ میں جو بات پوچھتا ہوں ، فوراً اس کا جواب انٹرنیٹ کے ذریعے مل جاتا ہے ، حتیٰ کہ انتہائی بعید از قیاس باتیں ۔ مثلاً یہ کہ میرے گاؤں بڈھریا میں کنور ندی پر پل کب بنا تھا ، اِ س کا جواب بھی بالکل متعین طور پر نہیں ، بلکہ قریب تر اندا میں معلوم ہو گیا۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پل غالباً 1939میں بنا تھا۔ اُس وقت میں نے اِس پل کے بننے پر فارسی میں ایک شعر کہا تھا :

بحمد اللہ کہ ایں جسرِ عظیم شاں مکمل شد زسعی مولوی اقبال احمد خاں مکمل شد

13ستمبر 2012

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (11ستمبر 2012)میں اسپیکنگ ٹری کالم کے تحت رجنیش (Osho)کا ایک آرٹکل چھپا ہے ۔ یہ آرٹکل ان کی کتاب دی لاسٹ ٹسٹا مینٹ (The Last Testament V2)سے لیا گیا ہے ۔ اِس مضمون کا ٹائٹل یہ ہے :

Are Olympics Relevant Today

مضمون نگار نے لکھا ہے کہ -موجودہ زمانے میں پوری انسانیت گھٹا کر نا ظرین کے درجےمیں پہنچا دی گئی ہے ۔ اٹھار ہ آدمی ایک کھیل کھیلے ہیں اور ایک سو ہزار لوگ اس کو گھنٹوں دیکھتے رہتے ہیں :

Humanity has been reduced almost to the state of spectator.. Eighten persons are playing the game and one hundred thousands people are simly spectators.

14ستمبر 2012

میں 1956سے 1962تک رام پور میں تھا۔ یہاں میں محلہ کہنہ کھنڈ سار میں مولانا عبد الحی صاحب کے پڑوس میں رہتا تھا ۔ یہاں ایک صاحب نے اپنے گھر کا ایک چھوٹا سا حصہ مجھے کرائے پر دیا تھا۔ ایک بار میں نے گھر کے ایک طرف ایک دیوار بنوائی ۔ یہ دیوار اینٹ اور کچھے گارے سے بنائی گئی تھی۔ اتفاق اسی زمانے میں بارش ہو گئی اور دیوار گر پڑی۔ اُس وقت مولانا عبد الحی صاحب میرے پاس آئے۔ مجھ کو پریشان دیکھ کر انھوں نے کہا -مرغی کو تکلے دکا گھاؤ بہت ہوتا ہے ۔

یہ بات انھوں نے طنز کے طور پر نہیں ، بلکہ بطور اظہار ِ واقعہ کہی تھی۔

آج میں موت پر ایک مضمون لکھوا رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر حقیقت واقعہ کی نسبت سے دیکھا جائے تو ہر آدمی ایک ’’مرغی ‘‘ ہے اور ہر آدمی اتنا زیدہ کمزور ہے کہ وہ ’’تکلے ‘‘ کا گھاؤ برداشت نہ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا میں پیسے والا آدمی بھی اتنا ہی عاجز ہے جتنا کہ بے پیسے والا آدمی ۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔

15ستمبر 2012

امریکا میں بننے والی فلم (Innocence of Muslims)کے خلاف آج کل مسلمان مختلف ملکوں میں پر شور مظاہرے کر رہے ہیں ۔ ایک خبر کے مطابق، آسٹریلیا کے مسلمانوں نے وہاں کی امریکی ایمبسی کے سامنے ایک پر جوش مظاہر کیا۔ اِن مظاہرین کے دو نعرے یہ تھے :

Obama Obama, we like Osama!

Behead, all these who insult the Prophet.

یعنی اے اوباما، ہم تم کو پسند نہیں کرتے ، بلکہ ہم اسامہ کو پسند کرتے ہیں ۔ اور یہ کہ اُن تمام لوگوں کی گردن ماردو جو رسول اللہ کی توہین کرتے ہیں ۔

مسلمان کے یہ نعرے انتہائی حد تک بے معنی ہیں ۔ کیوں کہ جس اسامہ کو وہ پسند کرتے ہیں ، اُس اسامہ کو اوباما کے بموں کو اس کو ہلاک کر دیا ہے ۔ اب اسامہ کا کوئی وجود نہیں ۔ اِس طرح آسٹریلیا میں یہ نعرہ لگانا بے معنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں کی گردن مار دوں ، کیوں کہ آسٹریلیا میں اور دوسرے مغربی ملکوں میں اِس قسم کا قانون موجود ہی نہیں ۔

16ستمبر 2012

آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :

اجتہادی حل یا تخلیقی حل

اِس موضوع پر ایک گھنٹہ خطاب کے بعد سوال و جواب کاپروگرام ہوا۔ آج کی کلاس میں کئی نئے لوگ بھی شریک تھے۔ مثلاً لکھنؤ سے حافظ محمد سلمان نوری اور ان کے دو ساتھی مولانا محمد ادرین لکھنوی اور مولانا محمد یو سف قاسمی لکھنوی (مقیم حال ابو ظہنی )

17ستمبر 2012

16ستمبر 2012کو لکھنؤ کے حافظ محمد سلمان نوری اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ملاقات کے لیے آئے ۔ میں نے اُن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں آدمی کو جو کچھ ملتا ہے ، وہ ان کے لیے امتحان کا پرچہ ہوتا ہے ۔ جو آدمی کسی سے اس کی کوئی چیز چھیننے کی کوشش کرے ، وہ گویا کہ اس کےپرچہ امتحان (Test Paper)کو چھیننے کی کوشش کررہا ہے ۔ جو کبھی ممکن نہیں ۔ اگر بالفرض کوئی شخص آپ کا ایک ’’پرچہ امتحان ‘‘ چھین لے تو آپ کو اللہ کی طرف سے اُس نوعیت کا دوسرا پر چہ امتحان دیا جائے گا، کیوں کہ اس کے بغیر آپ کی آزمائش ممکن نہیں۔

اِس سلسلے میں اپنا تجربہ بتاتے ہوئے میں نے کہا کہ میرے اندا ز ے کے مطابق،تحریری کام میرا پرچہ امتحان تھا ۔ اس معاملے میں میرا تجربہ یہ ہے کہ لوگوں نے مجھ سے میرا ’’قلم ‘‘ چھیننا چاہا ، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ الجمعیۃ ویکلی (دہلی)میں میں مدیر تھا ۔ اس کے ذمہ داروں نے 1974میں اس کو بند کر دیا۔ دوسرے اردو جرائد میں میں نے اپنے مضامین بھیجے ، تو انھوں نے اس کو چھاپنے سے انکار کر دیا، مگر اس کے بعد ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ میں نے 1976میں خود اپنا ماہ نامہ ’’الرسالہ ‘‘ جاری کیا۔ اُس وقت سے آج تک یہ ماہ نامہ انتہائی پابندی کے ساتھ نکل رہا ہے ۔ الرسالہ کو ناکام بنانے کے لیے بھی لوگوں نے طرح طرح کی کوششیں کیں ، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔ میرا اندازے کے مطابق میرا امتحان قلم کے میدا ن میں تھا، اِس لیے کوئی میرا میدانِ امتحان چھیننے میں کامیاب نہ وہ سکا-یہ ہر شخص کا معاملہ ہے ۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی طاقت ور ہو، وہ آپ کا ’’پرچہ امتحان ‘‘ آپ سے چھین نہیں سکتا ، کیو ں کہ وہ اللہ کے منصوبے کو ناکام بنانے کے ہم معنی ہے ، اور کوئی بھی شخص اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ اللہ کے منصوبے کو ناکام بنادے۔

18ستمبر 2012

آج کل دعوت کا لفظ مسلمانوں کے درمیان فیشن بنا ہوا ہے ۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہم دعوت کا کام کر رہے ہیں ، مگر میرے نزدیک ، اِن میں سے کوئی حقیقی معنوں میں دعوت کا کام نہیں کر رہا ہے ۔ موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ ہے ۔ آج دعوت کا حقیقی کام وہ ہے جو وقت کے فکر مستوی پر کیا جا رہا ہو۔ مگر اِن داعی صاحبان کا حال یہ ہے کہ وہ یہ جانتے بھی نہیں کہ وقت کا فکری مستوی کیا ہے ۔

19ستمبر 2012

سی پی ایس کے ایک اجتماع میں میں نے کہا کہ کسی مشن کے دو دور ہوتے ہیں -پہلا دور استحکام (Consolidation)کا اور دوسرا دور توسیع (Expansion)کا۔ سی پی ایس کا مشن اللہ کے فضل سے اب پہلے مرحلے سے گزر کر دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ آپ لوگوں کو چاہیے کہ اِس فرق کو سمجھیں اور اس کے مطابق، اپنی پلاننگ کریں۔ اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ لوگ پہلے قرآن کا انگریزی ترجمہ کو فری حاصل کرنا چاہتے تھے،اب وہ اس کو شوق سے خرید کر لے رہے ہیں ۔

20ستمبر 2012

امریکا میں بننے والی فلم ’’انوسن آف مسلمس‘‘ کے خلاف مسلمان آج کل ہر جگہ مظاہرے کر رہے ہیں ۔ اخبارات میں ہر دن اس کی رپورٹنگ آرہی ہے ۔ اِس سلسلے میں اردو اخبار راشڑیہ سہارا کی دو سرخیاں یہ ہیں:

توہین اسلام کو جرم قرار دیا جائے۔

اہانت رسول کے خلاف مختلف ملکوں میں احتجاج جاری ۔

گستاخانہ قلم اور خاکوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج جاری۔

مگر اس قسم کی باتیں سرتا سر باطل ہیں ۔ یہ بلاشبہ دین خداوندی کا ظاہر ہ نہیں، وہ صرف دین ِ قومی کا ظاہر ہ ہے۔ اورقومی دین ہر قوم میں ہوتا ہے ، خواہ وہ مسلم یو ، یا غیر مسلم۔

21ستمبر 2012

قرآن کی سورہ المدثر میں یہ الفاظ آئے ہیں: والرجز فاھجر ۔ مفسرین اِس آیت کی کوئی واضح تشریح نہ کر سکے، کیوں کہ وہ ’’رُجز‘‘ کو شرک کے معنی میں لیتے ہیں ، اور رسول اللہ کبھی شرک میں ملوث ہی نہ تھے ، اِس لیے ایک مفسر نے یہ غیر منطقی بات لکھ دی کہ شرک کو چھوڑ دو جس طرح تم اب تک شرک کو چھوڑے ہوئے تھے۔

بہت دنوں کے غور و فکر کے بعد میری سمجھ میں یہبات آئی کہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاقیات دعوت (Dawah Ethics)کے خلاف کوئی روش اختیار مت کرو۔

22ستمبر 2012

آج جموں و کشمیر دونوں علاقوں سےکئی لوگ آئے۔ مسٹر حمید اللہ حمید ایم اے اور ان کے ساتھی اور مسٹر اور ان کے ساتھی۔یہ لوگ وہاں دعوتی کام کر رہے ہیں ۔ ان کے لیے آج ایک خصوصی کلاس عصر کے بعد سے مغرب تک ہوئی۔ اِس پر دہلی کے سی پی ایس کے لوگ بھی شریک تھے۔ اِس کا موضوع داعی کا رول تھا۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ آج سے 14سو سال پہلے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : ان اللہ بعتین رحمۃ للناس کا فۃ فادو اعییٰ۔ اگر آپ کا شعور بیدا ر ہو چکا ہو تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ رسول اللہ کی یہ آواز نسل در نسل منتقل ہو ئےآپ تک پہنچ رہی اور آپ براہ راست اس کامخاطب ہیں ۔ اگر آپ اِس طرح سوچ سکیں تو آپ بھی اُسی طرح دعوت کے لے متحرک ہو جائیں گے جس طرح مخاطبین اول (صحابہ ) متحرک ہوئے تھے ۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔

23ستمبر2012

آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :

دعوت الی اللہ میں وزڈم کا رول ۔

اِس موضو ع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا، پھر سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ آج کی کلاس میں بہت زیادہ لوگ آئے ہوئے تھے۔ خاص طور پر کشمیر کے حمید اللہ حمید ایم اے (بیروہ ) اور ان کے تین ساتھی ، اِسی طرح جموں سے مسٹر فاروق مضطر اور ان کے پانچ ساتھی ۔ اِس لیے آج عصر کے بعد سے مغرب تک دوبارہ ایک پروگرام ہوا۔ اس کا موضوع تھا :

دعوہ اتھیکس -سورہ المدثر کی ابتدائی 7آیتوں کی روشنی میں ۔

24ستمبر2012

مسٹر حمید اللہ حمید ایم اے کشمیری آج صبح اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ملاقات کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کےلیے اب ایک جبر (Compulsion)کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ کشمیر کی متشددانہ تحریک میں ایک لاکھ کشمیری مارے گئے ۔ اب ہر کشمیری چاہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اِس تباہی سے بچائے ، مگر اِسی کے ساتھ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اِس پالیسی کو کامیاب کرنے کے لیے انھیں حالات سے ایڈجسٹ کرنا ہوگا اور موجودہ صورت حال میں ایڈجسٹ مینٹ کا مطلب ہے -انڈیا کو قبول کرنا ۔ اِس طرح کشمیر کا فیوچر اب اُسی طرف جارہا ہے جس کی نشان دہی صبح کشمیر (Dawn Over Kashmir)میں کی گئی ہے۔

25ستمبر 2012

Prime Minsiter's address to the nation at the Conference on Economic Growth in Asia and Changes of Corporate Environement in New Dehi on September 21, 2012:

'The resistance against important economic decisions felt now, is not any different than in 1991 when the country unshackled itself form the license raj'.

(Dr. Manhoman Singh, Prime Minister of India)

26ستمبر 2012

جاوید حبیب Makeupکی دنیا میں مشہور نام ہیں ۔ ان کا خاص کام Hairstylingہے ۔ انڈیا میں اس کے 320 Branchesہیں۔ اس کی فیس بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ ایک عورت کا بال بنانے کے لیے پانچ ہزار روپیے ۔ ایک انٹرویو ر نے ان سے پوچھا Art of Hairstylingکیا ہے ۔ جاوید حبیب نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم ، شاید میری اونگلیاں کلائنٹ (Client)کے بالوں سے بات کرتی ہیںۃ اس وقت میری انگلیوں میں بہت طاقت آجاتی ہے ، شاید 200 Horsepowerکی طاقت۔

27ستمبر 2012

بینگلور سے عنایت اللہ عمری نے ٹیلی فون پر بتایا کہ انھوں نے جامعہ دار السلام عمر آباد کے میگزین ’’راہ اعتدال ‘‘ میں ایک مضمون پڑھا۔ کسی شخص نے یہ سوال کیا تھا کہ قرآن چودہ سو سال پہلے اترا، اب وہ ایک فرسودہ کتاب بن چکا ہے ۔

میگزین میں ایک عالم نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ زمین پرانی ہو چکی ہے اور سورج چاند گھی پرانے ہو چکے ہیں ، تو کیا آپ پرانے ہونے کی وجہ سے زمین اور سورج کو چھوڑ دیں گے اور نئی زمین اور سورج بنائیں گے ؟

یہ جواب اتنا زیادہ غیر علمی ہے کہ مجھے تعجب ہے کہ کسے ایک عالم نے اس کو لکھا اور کیسے ایک جامعہ کے پرچے میں وہ چھپا ۔ سائل نے جو بات کہی تھی ، وہ انسانی دنیا کے بارمیں تھی ، لیکن مجیب نے اس کا جواب مادی دنیا کی مثال سے دیا۔ یہ بلا شبہ قیاس مع الفارق ہے۔ اور قیاس مع الفارق کبھی دلیل نہیں ہوتا۔

28ستمبر 2012

میں نے ایک صاحب سے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ اِس دنیا میں آدمی یا تو اپنا ذاتی گھر بنائے یا اگر وہ مشترک فیملی میں رہنا چاہتا ہے تو وہ آخری حد تک بے مسئلہ بن جائے۔ اِس موضوع پر میں نے سب سے پہلے ایک مضمون لکھا تھا جو الجمعیۃ ویکلی میں چھپا تھا ۔ اس کا عنوان تھا:

بے مسئلہ بن جائیے

میں نے کہا کہ میں بہت جگہ گیا اور لوگوں کے گھروں میں ٹھہرا ہوں، مگر میرایہ حال ہے کہ میں سختی ے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ میرے لیے کوئی نئی ڈش نہ پکائی جائے ۔ جو کھانا آپ روزانہ کھاتے ہیں ، وہی مجھ کو کھلائیے۔ گھر کے اندر میں ایک چمچہ اور ایک گلاس بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹاتا ۔ میں اپنے ہاتھ سے نہ بجلی کا بلب جلاتا ہوں اور نہ پنکھا چلاتا ہوں ۔ جہاں میں جاتا ہوں اور کسی کے گھر ٹھہرتا ہوں ، وہاں اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ جیسا آدمی اگر سالوں ہمارے یہاں رہے۔ تو ہم کو کوئی پیرشانی نہیں ہوگی۔

میرا تجربہ ہے کہ اپنے آپ کو بے مسئلہ انسان بنا لینا تمام مسائل کا سب سے زیادہ یقینی حل ہے ۔

29ستمبر 2012

میرے آبائی وطن بڈھیریا (اعظم گڑھ) میں جب پہلی بات بجلی آئی اور ہمارے گھر میں پہلی بار بجلی لگی تو اُس وقت ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ہمارے یہاں ایک گھیریلوں ملازم تھے۔ وہ ایک مسلمان تھے ۔ ان کا نام گھور ہو تھا۔ قدیم رواج کے مطابق ، وہ دھوتی پہنتے تھے۔ وہ اکثر عجیب و غریب باتیں کرتے تھے جس کو سن کر لوگ ہنستے تھے۔ مثلاً وہ بجلی کا سوئچ پورڈ کبھی نہیں چھوتے تھے۔ ان سے جب بجلی جلانے کے لیے کہا جاتا تو وہ کہتے -ناپہنی ، او مو کا کاٹ لیٹی (نہیں ، پہن، وہ مجھ کو کاٹ لے گی )

اپنےمزاج کے اعتبار سے میرا بھی یہی حال ہے۔ میں کسی چیز کو خود سے نہیں چھوتا ۔ میں انتظار کرتا ہوں کہ دوسرا آئے ، وہ اس کام کو کر دے۔ مثلاً پنکھا چلانا، وغیرہ ۔ میر ے اِس مزاج نے مجھ کو آخری حد تک اسٹیٹس کو ٹسٹ بنا دیا ہے ۔ میرے اِس مزاج کا مجھ کو بہت بڑا فائدہ ہوا۔ مجھ کو نہ کسی سے شکایت اور نہ کسی کو مجھے سے شکایت۔میں نے اپنے مشن کے تقاضے کی بنا پر علمی تنقید کرتا ہوں ، یہ تنقید کچھ لوگوں کو بری لگتی ہے ۔ یہ تنقید جو میں مشن کے تقاضے کی بنا پر کر تا ہوں ، اس کے سوا غالباً کوئی بھی چیز نہیں ہے جس کو لے کر کسی کو مجھ سے کوئی شکایت ہو۔

30ستمبر 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضو ع یہ تھا :

Freedom of Expression in Islam

اِس موضوع پر ایک گھنٹہ خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ ظہر کی نماز با جماعت کےک بعد حسب معمول پروگرام ختم ہوا۔