Diary 2012

August 2012

Diary 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (13 chapters)
  1. January 2012
  2. January 2010
  3. February 2012
  4. March 2012
  5. April 2012
  6. May 2012
  7. June 2012
  8. July 2012
  9. August 2012
  10. September 2012
  11. October 2012
  12. November 2012
  13. December 2012

1اگست 2012

مسلمانوں کے جو طبقے میرے خلاف ہیں ، وہ سب کے سب بلا استثنا میرے خلاف جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں ۔ اُن میں سے کوئی ایک گروہ یا کوئی ایک شخص بھی نہیں جو میرے کسی واقعی فکر جس کا میں خود مقر ہوں ، اس کو بنیاد بنا کر میرے خلاف پر وپگینڈہ کر رہا ہو۔ مزید یہ کہ جو لوگ بظاہر اِس مخالفت کی مہم میں شریک نہیں ہیں، وہ بھی بالواسطہ طور پر اس میں شریک قرار پاتے ہیں ۔ کیوں کہ انھوں نے کبھی کھلے طور پر مخالفین سے یہ نہیں کہا کہ اگر تمہارے پاس کوئی ثابت شدہ بات ہو تو اس کو لے کر بولو ، ورنہ چپ رہے ۔

میرے نزدیک یہ بے حد خطر ناک علامت ہے۔ اِ س کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان شاید کوئی بھی نہیں جو آخرت میں ’’مقصد صدق ‘‘ پر جگہ پانے کے قابل ہو۔ بظاہر یہ تمام لوگ آخرت میں صرف مقصد کذب پر جگہ پائیں گے ، نہ کہ مقصد ِ صدق پر ۔

ھذا ما عندیی ، والعلم عبد اللہ ۔

2اگست 2012

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار باتوں کو لے کر بھیجے گئے ۔ اُن میں سے ایک حکمت (Wisdom)ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ رسول اللہ اور اصحاب رسول کے بعد لمبی تاریخ میں بقیہ تین چیزیں تو باقی رہیں، لیکن حکمت (Wisdom)مقصود ہو گئی ۔ مجھے اپنے مطالعے کے مطابق، مسلم تاریخ میں کوئی شخص نظر نہیں آتا جو پیغمبرانہ حکمت (Prophetci Wisdom)سے آشنا ہو۔ مسلم تاریخ میں ایسے لوگ تو بہت ہیں جن میں اخلاص اور انفاق اور قربان جیسی صفات پائی جاتی ہیں، لیکن پیغمبرانہ حکمت سے متصف کوئی مسلمان نظر نہیں آتا۔

جس چیز کو میں پیغمبرانہ حکمت کہہ رہا ہوں ، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ریل (Real)اور رلیٹو(Relative) کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ، یعنی اضافی اجزا اور حقیقی اجزا کے درمیان فرق کرنا ۔ یہ زندگی کی ایک اہم حقیقت ہے ۔ اِس کی مثالیں رسول اللہ کی زندگی میں بکثرت موجود ہیں۔

3اگست 2012

آسام میں بوڈو مسلم فساد 16جولائی 2012سے جاری ہے۔ اصغر علی انجیئر نے اپنے ایک مضمون میں اِ س فساد کا سبب بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ : کو کرا جھا ر میں جو بھی ہوا، اس کی شروعات 4موڈو نوجوانوں کے ذریعے 2مسلمانوں کے قتل سے ہوئی ۔ بائک پر سوار ان نو جوانوں نے 6جولائی 2012کو 2مسلمانوں کو اپنی بندوق سے قتل کیا اور اس کے بعد فرار ہو گئے ۔ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ، کیوں کہ ڈپٹی کمشنر اور کلکٹر دونوں بوڈو تھے ۔ اس کے بعد 4بوڈو انتہا پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا ۔ جس پہلے جس کو پہلے کی کاروائی کا جواب سمجھا گیا اور اس کے پیچھے بنگالی مسلمانوں کا رول بتایا گیا ہے ۔ ‘‘

(روزنامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی، 3اگست 2012صفحہ 8)

4اگست2012

جارج برناڈ شا (George Bernad Shaw)نے کہا تھا کہ :

Shakespeare is a much taller man than I, but I stand on his shouldres

(George Bernad Shaw by Gilbert K. Chesterton)

5اگست 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتےو ار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :

صومِ رمضان اور قرآن

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔

6اگست 2012

سینٹ فرانسس آف اسیسی(St. Francis of Assisi)کا ایک قول یہ ہے کہ -جو ہم دیتے ہیں ، وہی ہم پاتے ہیں :

For it is in giving that we receive

اِس قول میں در اصل فطرت کے ایک قانون بتایا گیا ہے ۔ اِس دنیا میں قانون ، مشہور قول کے مطابق ، یہ ہے -دو اور لو (Give and Take)دنیا کی زندگی میں جس آدمی کو کم ملے، اس کو دوسروں کی شکایت نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ اس کو اپنی محرومی کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرنا چاہیے ۔

7اگست 2012

کشمیر سے حمید اللہ ایم اے کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نے بتایا کہ میری کتاب صبح کشمیر (Dawn Over Kashmir)بڑے پیمانے پر پھیلائی گئی ہے ۔ عام کشمیریوں نے اس کو مثبت طور پر لیا ہے ، لیکن کشمیر کا حلقہ جماعت اسلامی اِس پر بہت برہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ اندیشہ ہے کہ ہمارے ساتھیوں کے خلاف تشدد کا طریقہ اختیار کریں ۔ ستمبر 2012میں کشمیر کے لیے میرا ایک پروگرام بنایا گیا تھا، لیکن مذکورہ صورتِ حال کی بنا پر اِس سفر کو ملتوی کر دیا گیا ہے ۔

میں نے پوچھا کہ جماعت اسلامی والے کسی بات کو لے کر مخالفت کر رہ ے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ’’صبح کشمیر ‘‘ کی کسی بات پر انھوں نے اب تک کسی غلطی کی نشان دہی نہیں کی ہے ، وہ صرف ایک بات کہہ رہے ہیں کہ اِس کتاب کا مصنف قادیانی ہے ۔ میں نے کہا کہ ان کی یہ مخالفت کوئی مخالفت نہیںہے، یہ در اصل خود ان کی شکست کا پیشگی اعتراف ہے، کیوں کہ یہ ایک جھوٹا اعتراف ہے ، وہ کئی حقیقی اعتراض نہیں۔

8اگست 2012

ڈاکٹر مہندر سنگھ دہلی میں ایک بڑے ادارے کے ڈائریکٹر ہیں ۔ وہ شام کے وقت ملنے کے لیے آئے۔ وہ جب آئے تو افطار میں صرف چند منٹ باقی تھے۔ ان سے ملنے کے لیے میں نیچے گیا اور مختصر گفتگو کے بعد ان کو معذرت کے ساتھ رخصت کر دیا۔ جب میں ان کی رخصت کر کے واپس آیا تو آپا کھجور اور پانی لیے ہوئے کھڑی تھیں ۔ جب میں نے بتایا کہ وہ چلے گئے تو وہ بہت غصہ ہوئیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں ان کے لیے کھجور اور پانی لے کر نیچے آرہی تھی، آپ نے ان کو رخصت کیو ں کر دیا۔ وہ کوئی عام آدمی نہیں تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ہندو لوگ کھجور کو پسند کرتے ہیں ۔ اِس پر مجھے بہت افسوس ہوا۔ پھر مجھ کو قرآن کی آیت احدی الحسنین (9:52)یا دآئی۔ میں نے سوچا کہ ایک بہتر چیز مجھ سے کھو ئی گئی ہے ، لیکن دوسری بہتر چیز ابھی بھی میرے لیے ممکن ہے اور وہ دعا ہے ۔ چناں چہ میں بار بار اس طرح کی دعائیں کرنے گا-خدا یا، مہندر سنگھ کے ساتھ سلوک کے معاملے میں مجھ سے جو کوتاہی ہوئی ہے ، اس کو معاف فرما اور اُن کے لیے میری طرف سے دعا ءِ خیر لکھ دے ۔ یہ دعا میںبار بار دہراتا رہا۔

9اگست 2012

بنگلور کے ماہانہ انگریزی میگزین اسلامک وائس (Islamic Voice)کے شمارہ اگست 2012میں جو ادرایہ ہے ، اس کا عنوان یہ ہے :

Extremist Threast ot Peace in Africa (P. 10)

اِس میں نائجیریا ، وغیرہ میں ہونے والے تشدد کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اِن متشددانہ واقعات کے پیچھے دو انتہا پسند مسلم تنظیم کا ہاتھ ہے ۔ ایک تنظیم کا نام بو کو حرام (Boko Haram)ہے ۔ اور دوسری تنظیم کا نام انصارِ دین (Ansar Deen)ہے ۔ بوکو حرام کا لفظ ہاؤ سا (Hausa)زبان میں یہ معنی رکھتا ہے کہ مغربی تعلیم گنا ہے :

Western Education is Sinful

افریقہ کے متشددانہ واقعات بلا شبہ وہاں کی انتہا پسند مسلم تنظیموں کی طرف سے ہو رہے ہیں، مگر مذکورہ مضمون میں ان کو بلا دلیل مغربی ملکوں اور مسیحی مشریوں سے وابستہ کر دیا گیا ہے ، مضمون نگار لکھتے ہیں :

Needless to say that oil politics of teh superpowers and aggressive Christian missionaries too have played their part in triggering and sustaining the conflict and the mayhem. (P.10)

10اگست 2012

برما ( اراکان ) اور آسام (بوڈو لینڈ ) میں فرقہ وار نہ فساد ہوا۔ جس میں مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھا ناپڑا۔ اِس واقعے پر ممبئی کے مسلمانوں نے ممبئی میں فساد مخالف ریلی نکالی ۔ اِس ریلی میں مسلم قررین نے جذباتی تقریر یں کہیں۔ اِس سے مسلمان بھڑک اٹھے اور ممبئی میں ہنگامہ اور توڑ پھوڑ شروع کر ی اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس کے بعد بہت سے مسلمان زخمی ہوئے اور کئی مسلمان مارے گئے ۔ اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہ ریلی فساد انگیز ریلی تھی ، نہ کہ فساد مخالف ریلی ۔

11اگست 2012

آج ایک صاحب سے بات ہوئی ۔ میں نے ان سے بھی وہ بات کہی جو بات دنوں سے میں لوگوں سے کہتا رہا ہوں اور وہ ہے اپنے آپ کو جاننا ۔ بہت دنوں سے میں لوگوں سے یہ بات کہتا رہا ہوں کہ :

First of all, you have to discover yourself

ہر آدمی کے اندر کوئی ممیز خصوصیت ہوتی ہے ۔ اِس خصوصیت کی دریافت کرنا اور اس کے مطابق ، اپنی زندگی کی پلاننگ کرنا یہ اعلیٰ کامیابی کی شرط ہے ، مگر عجیب بات ہے کہ پوری تاریخ میں ایسے افراد بہت کم ہیں جنھوں نے اس سرط کو پورا کیا۔ بیش تر لوگوں نے اپنے آپ کو وہاں استعمال کیا جس کے لےی وہ پیدا نہیں کیے گئے ۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر آدمی صرف چھوٹا کام کر سکا۔ بڑا کام جو اس کے لیے مقدر تھا ۔ اس کو وہ انجام نہ دے سکا۔

12اگست 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا:

انسانی تاریخ کا خاتمہ

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔

13اگست 2012

ایک فیملی کےک متعلق مجھے معلوم ہے۔ فیملی کے سر پرست نے یہ سمجھا کہ سب سے بڑی چیز پیسہ ہے ۔ پیسہ کماؤتو تمھارے سب کام درست ہو جائیں گے ، چناں چہ انھوں نے اپنی پوری زندگی پیسہ کمانے میں لگادی۔ انھوںنے نہایت محنت کے ساتھ پیسہ کمایا، لیکن ان کے بچوں کو کوئی محنت نہیں کر نی پری۔ بچوں کو ہر چیز مفت میں ملتی رہی ۔ باپ کا محنت سے کمایا ہوا پیسہ بچوں کے لیے صرف ایزی منی (Easy Money) بن گیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان سے سب بچے بگڑ گئے۔پیسے کی افراط کے باوجود کوئی بچہ اچھی تعلیم حاصل نہ کر سکا بعد کو فیملی کے سر پرست کو غلطی کا احساس ہوا۔ انھوں نے کوشش کی کہ وہ اپنے بچوں کو درست کریں ، لیکن بچھے اپنے زیادہ بگڑ چکے تھے کہ وہ کوشش کے باوجود درست نہ ہو سکے ۔ آخر میں یہ ہو کہ خود باپ مایوسی کا شکار ہو گیا۔ باپ نے اپنی زندگی کا آغاز حوصلہ کے ساتھ کیا تھا ، لیکن آخر میں وہ صرف ایک پست حوصلہ انسان بن کر رہ گئے ۔ میرے تجربے کے مطابق ، باپ کی طرف سے بچے کے لیے سب سے بڑی چیز دولت نہیں ہے ، بلکہ سب سے بڑی چیز عمل کا محرک ہے ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ بلا محنت مال ہوا پیسہ آدمی کے اندر سے عمل کا محرک (Incentive)چھین لیتا ہے۔

14اگست 2012

عمری گروپ آج کل مختلف شہروں میں مقیم ہے ، اور میں دہلی میں ہوں ۔ وہ روزانہ صبح کو ٹیلی فون پر کانفرنسگ کرتے ہیں ۔ اِسی طرح ہم لوگ مختلف مقامات پر رہتے ہوئے اِس طرح بات کرتے ہیں جیسے کہ ہم لوگ ایک ہی جگہ بیٹھے ہوں ۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا شکر کا آئٹم ہے۔ قدیم زمانے میں صرف لوکل صحبت ممکن ہوتی تھی۔ آج جدید ٹکنالوجی کے ذریعے گلوبل صبحت ممکن ہو گئی ہے ۔ یہ ایک عجیب ظاہرہ ہے ، جو بلاشبہ اللہ کی آیات میں سے ایک آیت ہے ۔

15اگست 2012

آج صبح مسٹر رجت ملہوترا کا ٹیلی فون آیا ۔وہ اِس وقت تروندرم میں ہیں اور کیرلا یونی ورسٹی کے تحت ایم اے اسلامیات کا امتحان دے رہے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ ہمار ا ایک پیپر اِس پر ہوگا کہ قرآن کے مطابق ، فنِ تاریخ نگاری (Qurani Historiography)کی تفصیل لکھیے ۔

میں نے کہا کہ آپ غیر ناقدانہ انداز میں اس کا جواب دیجئے ، مگر ذاتی طور پر میں اس سوال کو صرف انتہا پسندی سمجھتا ہوں ۔ موجود دورِ زوال میں مسلمانوں کے اندر جو غلو پیدا ہوا ہے ، اُس میں سے ایک یہ ہے ۔ قرآنی تاریخ نگاری ، قرآنی فلسفہ ، قرآنی سائنس ، وغیرہ ۔ جیسے عنوانات صرف انتہا پسندانہ ذہن کی عکاسی کرتے ہیں ۔ کیوں کہ قرآن معرفت کی کتاب ہے ، نہ کہ فنی علوم کی کتاب ۔

میرے علم کے مطابق ، اِس انتہا پسندی کے موجد مولانا عبد الباری ندوی اور علامہ اقبال ہیں ۔ مولانا عبد الباری ندوی عثمانیہ یو نی ورسٹی میں صدر شعبہ فلسفہ تھے۔ انھوں نے اقبال کے مشورے سے قرآن کو فلسفہ کے نصاب میں شامل کیا تھا۔

16اگست 2012

ندوے کے دو طلبا ملاقات کے لیے آئے۔ وہ اِسی سال ندوے سے فارغ ہوئے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں ۔ انھوں نے ایک سوال یہ کیا کہ آپ نے الرسالہ میںیہ لکھا کہ آدمی کا چاہیے کہ وہ سب ے پہلے اپنے آپ کو پہچانے ۔ مگر آپ نے اس کا فارمولا نہیں لکھا کہ آدمی کس طرح اپنے آپ کو پہنچانے۔

میں نے جواب میں صرف یہ کہا کہ مزید مطالعہ کیجئے ۔ اکثر لوگ مجھ سے اِسی طرح کے سوال کرتے ہیں ، لیکن عملاً وہ اپنے اِسی سوال کی شرطوں کو پورا نہیں کرتے ۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک چیز چاہتے ہیں ، مگر وہ اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

جہاں تک مذکورہ سوال کی بات ہے ، اُس کا صحیح جواب یہ ہے کہ اپنے آپ کو دریافت کرنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنی نفی کرنے کے لیے تیار ہو۔ قانونِ فطرت کے مطابق ، نفی خویش کی سطح پر دریافت خویش کا تجربہ ہوتا ہے ۔ لوگ نفی خویش کے لیے تیار نہیں ہوتے ، اِس لیے ان کو دریافتِ خویش کا تجربہ بھی نہیں ہوگا۔ نفی خویش کی ایک پہچان یہ ہے کہ آدمی آخری حد تک اِس نفسیات سے اوپر اٹھ جائے کہ شخصی تعریف پر اس کو خوشی ہو اور شخصی تنقید اس کو بری نہ لگے۔ جو آدمی اِ س نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو جائے ، اس نے گویا نفی خویش کا پہلا مرحلہ طے کر لیا۔ نفی خویش کے عمل کا یہی نقطہ آغاز ہے۔

17اگست 2012

برطانی ٹی وی چینل فور (4-TV)کی ایک رپورٹ کے مطابق ، میانمار ( برما) میں ہونے والے حالیہ فساد کے دوران مسلم آبادی کے تقریباً 10ہزار مقامات بتا ہ ہوہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اِس علاقے میں فساد کا سلسلہ مئی 2012میں اُس وقت شروع ہوا جب میانمار کے 3مسلمانوں نے ایک بو ددو خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے بعد اُس عورت کو قتل کر دیا۔ اِس کے رد عمل میں بودگ لوگوں نے 10مسلمانوں کو ہلاک کر دیا۔ اِ س کے بعد پوری ریاست میں تشدد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

(روز نامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی ، 16اگست 2012صفحہ 11)

18اگست 2012

ایک صاحب ایک یونی ورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ الحمد للہ مجھے اچھے اسٹوڈنٹ ملے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسٹوڈنٹ اچھے نہیں ہوتے، بلکہ ٹیچر اچھا ہوتا ہے ۔ اگر آپ اچھے ٹیچر ہیں ، یعنی آپ فنِ تعلیم کے مطابق، ایک اچھے استاد ہوں تو ہر اسٹوڈنٹ آپ کے لیے اچھا اسٹوڈنٹ بن جائے گا۔

19اگست 2012

آج 30رمضان 1433ہجری ہے ۔ آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس ہوئی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :

سورہ العصر کا پیغام

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔ رمضان کی وجہ سے سوال و جواب کا پروگرام نہیں کیا گیا ۔ رمضان میں گذشتہ کئی سال سے یہ طریقہ ہے کہ ہمارے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی روزانہ صبح کو قرآن کا ایک پارہ پڑھ کر مجھ کو سناتے ہیں ۔ اتوار کے دن تلاوت کا یہ پروگرام سنڈے کلاس کے بعد ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ظہر کی نماز پر پروگرام ختم ہوتا ہے ۔ چناں چہ آج اس کے مطابق ، انھوں نے قرآن کا تیسواں پارہ پڑھ کر سنایا ۔ اِس طرح آج رمضان کے آخری دن قرآن کی سماعت کی تکمیل ہو گئی۔

20اگست 2012

ایک عالم کا قول ہے : من حرم الأصول ، حُرم الوصول (جو آدمی اصول کے اعتبار سے محروم رہا، وہ اپنے مقصد تک پہنچنے سے محروم رہے گا )۔

یہ ایک نہایت درست قول ہے ۔ اِس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اصول (Principle)کی پابندی کرے، ورنہ وہ بظاہر کوشش کرنے کےک باوجود ناکام رہے گا۔ اصول سے مراد ہے -فطرت کے اصول ، تاریخ کے اصول ، سماجیات کے اصول ، وغیرہ۔ (محمد ذکوان ندوی )

21اگست 2012

مسٹر حمید اللہ حمید ایم اے کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ عید کے دن ہندوستان اور پاکستان کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول محدود طور پر کھول دی جاتی ہے ۔ دونوں طرف کے لوگ سر حد کے دونوں طرف جا کر اپنے رشتہ داروں سے ملتے ہیں ۔ انھوں نے بتا یا کہ ہمارے ایک ساتھی کو بھی عید الفطر (20اگست 2012)کے دن سرحد کے دوسری طرف جانے کا موقع ملا۔ اُن کے ساتھ صبحِ کشمیر (Dawn Over Kashmir)کے کچھ نسخے موجود تھے۔ انھوں نے پاکستانی سائڈ کے لوگوں کو کچھ کتابیں دیں۔ اِس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے حمید اللہ حمید نے موبائل پر یہ میسج بھیجا ہے ۔

22اگست 2012

میرا تجربہ ہے کہ اکثر بڑے بڑے علما جو دعوت الی اللہ کا کام نہیں کرتے، بلکہ وہ کسی اور کام میں زندگی گزار دیتے ہیں ، ان کو آخر میں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ میں نے اپنی عمر ضائد کر دی۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ وقتی تقاضوں کے رد عمل کے تحت ان کی زندگی کا ایک نشانہ بن جاتا ہے ، لیکن بعد کو اپنے علمِ دین کی بنا پر وہ شدت سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ اصل کام تو دعوت الی اللہ تھا، وہ میںنے کیا نہیں ، چناں چہ شروع زمانے کا یقین بعد کے زمانے میں مایوسی میں بدل جاتا ہے ۔ غالباً یہی مطلب ہے اُسی آیت کا جس میں کہا گیا ہے : وان مرۃ أھل الکتاب لیؤمننّ بہ قبل موتہ(4:159)

23اگست 2012

مسٹر شاہ نواز (اوکھلا ) ملاقات کے لیے آئے۔ انھوںنے بتایا کہ میں ایک ٹریولنگ کمپنی میں 6مہینے سے کام کر رہا ہوں ۔ کمپنی کے پاس نے مجھ سے کہہ دیا ہے کہ آپ اپنے یلے دوسرا جاب تلاش کرلیں ۔ ہم آپ کو مزید نہیں رکھ سکتے۔ میں نے کہا کہ بات صرف اتنی ہی نہیں ہو سکتی ۔ اس میں ضرور آپ کی کوئی کمزوری شامل ہے ۔ آخر کار پوچھتے پوچھتے معلوم ہوا کہ وہ سی پی ایس سے جڑے ہوئے ہیں اور کمپنی میں لوگوں سے سی پی ایس کی باتیں کرتیں ہیں ۔ میں نے کہا کہ یہی اصل وجہ ہے ۔ آپ اپنے طور رپ یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں قرآن مشن کی بات کر رہا ہوں ، لیکن کمپنی کے نزدیک آپ کا کیس یہ ہوگا کہ آپ کمپنی میں اپنا ایجنڈ چلاتے ہیں ۔ میں نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ مشن اور پروفیشن کو ایک دوسرے سے الگ کریں ۔ آپ ہر گز ایک کو دوسرے سے نہ ملائیں۔

24اگست2012

حدیث میں آیا ہے کہ انسان کے حشر کے میدان میں چار چیزوں کی بابت سوال ہوگا ۔ ان میں سے ایک یہ ہے : وعن شبابہ فیما أفنا ہ (جوانی کی بابت کہ اس کو کس کام میں لگایا)۔

اِسی حدیث کے بارے میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ اِس میں بچپن اور بڑھاپے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے ، صرف جوانی کے بارے میں کیا گیا ہے ۔ یہ بات بہت اہم ہے ۔ جدید مطالعے سے یہ معملوم ہوا کہ بچپن اور بڑھاپے کے درمیان کی عمر پختگی (Maturity)کی عمر ہوتی ہے ۔ خاص طور پر 30سال اور50سال کے درمیان کی عمر۔ عمر کا یہ حصہ کسی آدمی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے ۔ جو آدمی اِس حصہ عمر کو کھودے ، وہ دوبارہ اس کو پانے والانہیں ۔

25اگست 2012

ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن جو لوگ عرشِ الہٰی کے سایے میں ہوں گے ، اُن میں سے ایک وہ جو ان ہے جس کی جوانی عبادت الہٰی میں بسر ہوئی (شاب نشا فی عبادۃ اللہ )

اِس حدیث سے جوانی کی عمر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے ۔ جوانی کی عمر وہ عمر ہے جلب کہ کوئی انسان اپنی بھر پور توانائی کے دور میں ہوتاہے ، جسمانی اعتبار سے بھی اور ذہنی اعتبار سے بھی ۔ اِس دور میں آدمی کام کرسکتا ہے ، وہ اس کے لیے نہ بچپن کے دور میں ممکن ہوتا ہے اور نہ بڑھاپے کے دور میں ممکن ہوتا ہے ۔

اِس سلسلے میں میرا ذاتی معاملہ یہ ہے میں نے جوانی کی عمر میں بہت سے غیر دعوتی کام کرنا چاہا، مگر ہر کام فیل ہو گیا۔ مثلاً 1942میں جامعہ ملیہ میں داخلے کی کوشش ، اُسی زمانے میں اپنے مدرسے کے ساتھی مقصود احمد اصلاحی کے ساتھ جون پور اور کان پور میں بزنس ، جو اپنے آغاز ہی میں ناکام ہو گیا۔ اُس زمان میں جو کام میں نے کرنا چاہا ، ان میں سے کوئی ایک کام بھی اگر کامیاب ہو جاتا تو میری جوانی کی عمر اُسی میں بسر ہو جاتی ، مگر اِن کاموں میں ناکام ہونا میرے لیے اِس کا سبب بن گیا کہ میری جوانی کی عمر پوری دین کے کام میں صرف ہو ۔ یہ اللہ کے فیصلے کے تحت ہوا۔ اِس میں میرے کسی ارادے کا کوئی دخل نہیں ۔

26اگست 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :

سورہ العصر : تعمیر ِ شخصیت کا اصول :

Principles of Personality Development

27اگست 2012

میرے بڑے لڑکے ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں دہلی سے ایک انگریزی پندرہ روز ہ ()ملی گزٹ ()کے نام سے نکال رہے ہیں ۔ اب اس کو 13سال ہو چکے ہیں۔ مجھے اُن کے نام سے اتفاق نہیں، میرے نزدیک وہ منفی نوعیت کا ایک قومی کام ہے۔ مثبت معنوں میں وہ کوئی دینی کام نہیں ۔ مگر اسی کے ساتھ میں ان کا بہت زیادہ معترف ہوں اور ان کے لیے برابر دعا کرتا رہتاہوں ۔ انھوں نے ہمارے مشن میں ایک ایسا کام کیا ہے جو صرف وہی کر سکتے تھے۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی دوسرا شخص نہیں جو یہ کا انجام دے سکے، اور وہ ہے میری اردو کتاب کا عربی ترجمہ جو الاسلام یتحدی کے نام سے شائع ہوئی اور ساری عرب دنیا میں پھیلی ۔ اِس کتاب کا ترجمہ جس اعلیٰ معیار پر ہوا، وہ صرف ظفر الاسلام ہی کر سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اُن کو اِس کام کےلیے زیادہ سے زیادہ اجر عطا فرمائے۔

28اگست 2012

سید کیف محمود (27سال)پروفیسر ظاہر محمود کے بیٹے ہیں ۔ وہ تعلیم کے لیے کیمرج گئے تھے۔ وہاں تقریباً ایک سال رہے ۔ آج کل وہ دہلی میں ہیں ۔ اُن کے سگے ماموں مسٹر حسن سرور لندن میں رہتے ہیں ۔وہ ’’ہندو ‘‘ اخبار کی طرف یو کے میں اس کے کورسپونڈینٹ (UK Correspondent)ہیں ۔ مسٹر حسن سرور کی عمر اس وقت 63سال ہے ۔وہ Ultra Secularکی حیثیت سے مشہور ہیں ۔ کثرت سے شرا ب پینے کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہو چکی ہے ۔ انھوں نے ایک گفتگو کے دوران کیف محمود سے کہا:

میں موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں اگر مجھے پتہ ہو تا کہ تم جانتے ہو کہ موت کے بعد کیا ہے تو میں تم سے اس کی بھیک مانگتا۔

Had I known that yu know what will come after death, I would have begged you to tell me.

29اگست 2012

ایک انگریزی میگزین کی طر ف سے یہ سوال کیا گیا کہ انڈیا کے مسلمان آج کل تیزی سے تعلیم کی طرف بڑ ھ رہے ہیں ۔ اس کے بارے میں آپ کا تبصرہ کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست ہے ، لیکن میں اس کو زیادہ مند صلاحیت نہیں سمجھتا ۔ کیوں کہ مسلمان حالات کے دباؤ کے تحت ایسا کر رہے ہیں ، نہ کہ شعوری دریافت کے طور پر ۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو تعلیم کے ذریعے جاب تو مل جائے گا ، لیکن وہ کوئی بڑی ترقی حاصل نہ کر سکیں گے ۔ بڑی ترقی کے لے ضروی ہے کہ مسلمان تعلیم کو ذہنی ارتقا کے لیے حاصل کریں ، نہ کہ صرف معاش جاب کے لیے ۔

30اگست 2012

ایک مسلم خاتون ملاقات کے لیے آئیں ۔ وہ ممبئی کی ایک یونی ورسٹی میں پروفیسر ہیں ۔ اپن کا سبجیکٹ مذاہب عالم ہے ۔ انھوں نے باتایا کہ میرے کلاس میں ایک پارسی لڑکی ہے ۔ اس کا پارسی باپ مسلمانوں کے بارے میں بہت منفی سوچ رکھتا ہے ۔ وہ اپنی بیٹی سے مسلمانوں کے خلاف بولتا رہتا تھا۔ چناں چہ بیٹی بھی مسلمانوں کے بارے میں منفی ہوگئی ۔ مذکورہ خاتون نے بتایا کہ میرے کلاس میں اِ س پارسی لڑکی نے اسلام پر سنا اور کچھ کتابیں بھی پڑھیں ۔ اِس کے بعد اُس نے اپنے گھر جا کر فائٹنگ کے انداز میں سخت گفتگو کی۔ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ نے مجھ کو اسلام کے بارے میں بہت غلط انفارمیشن دی۔ باپ پر اِس کا بہت اثر پڑا ۔ اِس کے بعد وہ یو نی ورسٹی آیا اور مذکورہ مسلم خاتون سے معافی مانگی۔

31اگست2012

ممبئی سے محبوب بھائی کا ٹیلی فو ن آیا ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے وطن بیجا پور (کرناٹک ) گئے تھے ۔ بیجا پور میں ایک ٹاپ کے ڈاکٹر ہیں ، وہ کارڈ یا لاجسٹ ہیں ۔ 7اگست 2012کو انھوں نے ڈاکٹر صاحب سے اپائنٹ مینٹ لیا۔ ان کا نام ڈاکٹر اگروال ہے۔ ان کی عمر تقریباً 60سال ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اول وقت میں اپائنٹ مینٹ دیا تھا۔ محبوب بھائی جب وہاں پہنچے تو ہاں کافی فریض آچکے تھے، لیکن ڈاکٹر صاحب نے سب سے پہلے محبوب بھائی کو بلایا۔ محبوب بھائی نے اپنے بیگ سے انگریزی ترجمہ قرآن کا ایک نسخہ ڈاکٹر صاحب کو پیش کیا۔ قرآن کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر اگروال اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ انھوںنے جھک کر اپنے دونوں ہاتھوں سے قرآن کو لیا اور کہا کہ آپ کا دھنیہ واد ۔ ابھی تک مجھے کسی نے قرآن نہیں دیا تھا ، آپ کی وجہ سے مجھے قرآن مل گیا۔

محبوب بھائی نے بتایا کہ اپائنٹ مینٹ کےلیے جب انھوں نے ٹیلی فون کیا تو ڈاکٹر سے بہت مختصر گفتگو ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ میں علاج کے لیے نہیں ، بلکہ ایک پرسنل کام کے لیے آپ سے ملنا چاہتا ہوں، لیکن ڈاکٹر سے اپائنٹ مینٹ دے دیا۔