Diary 2012

January 2012

Diary 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (13 chapters)
  1. January 2012
  2. January 2010
  3. February 2012
  4. March 2012
  5. April 2012
  6. May 2012
  7. June 2012
  8. July 2012
  9. August 2012
  10. September 2012
  11. October 2012
  12. November 2012
  13. December 2012

1جنوری 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا -ذہنی تناؤ اور روحانیت ؛

Stress and Spirituality

اِ س موضوع پر میں نے ایک گھنٹہ تقریر کی ۔ اس کے بعد سوال و جواب ہوا۔ یہ ایک لائیو (Live)پروگرام تھا جو انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کے مختلف مقامات میں دیکھا جاتا ہے ۔ تقریر کے بعد دنیا کے مختلف مقامات سے سوال کئے جاتے ہیں ۔ مثلاً امریکا، پاکستان ، وغیرہ ۔

میں نے اپنی تقریر میں خاص طور پر دوباتیں کہیں -ایک ، یہ کہ ذہنی بناؤ کا اصل سبب یہ ہے کہ لوگ خالق کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر زندگی گزارنا چاہتے ہیں ۔ خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، زندگی گزاری جائے تو اس سےذہنی سکون ملتا ہے ، اور اگر اس منصوبے کے خلاف زندھی گزاری جائے تو اس سے ذہنی تناؤ پیدا ہوتا ہے ۔ مثلاً خالق کے تخلیقی منصوبہ کے مطابق، مبنی پر قناعت زندگی کا طریقہ درست ہے ، لیکن لوگ مبنی برتکاثر زندگی گزارنا چاہتے ہیں ۔ اِس کا نتیجہ ذہنی تناؤں ہے۔

دوسری بات میں نے یہ کہی کہ زندگی کا دوطریقہ ہے ، ایک ہے ، گاڈ میڈ (God Made)دنیا میں جینا، اور دوسرا ہے ، مین میڈ (Man Made)دنیامیں جینا ۔ جو آدمی گاڈمیڈ دنیا میں جیئے ، اس کو جینے کے لیے لا محدود وسعت حاصل ہو جائے گی ۔ اس کے برعکس ، جو شخص مین میڈ دنیا میں جئے ، اس کو صرف محدود دنیاملے گی ۔ حسب معمول اِ س پروگرام کی ویڈیو ریکارڈ نگ کی گئی ۔ اورپروگرام کے بعد ظہر کی نماز باجماعت ادا کی گئی ۔ اپریل 2005سے سی پی ایس میںمولانا محمد ذکوان ندوی نماز کی امامت کرتے ہیں ۔ نماز کے بعد ٹیم کے لوگ میٹنگ کرتےہیں ۔ اس کے بعد پروگرام ختم ہوتا ہے ۔

2جنوری 2012

قرآن کی عربی تفسیریں قرآن فہمی کے لیے بہت زیادہ مفید ہیں ،لیکن اِن تفسیروں کو پڑھتے ہوئے خاص طور پر دو با توں کو ملحوظ رکھنا چاہیے ۔اس کے بغیر اِن تفسیروں کے مطالعے کی اِفادیت بہت کم ہو جائے گی؛

۱۔ ایک یہ کہ ان تفسیروں میںاکثر شانِ نزول کے طور پر کچھ روایتیں نقل کی جاتی ہیں۔ یہ روایتیں قرآن فہمی کے لیے بہت مفید ہیں ، لیکن شانِ نزول کی روایتیں صرف نزول ِ آیت کے پس منظر (Background)کو بتاتی ہیں، وہ آیت کی حتمی تفسیر نہیں۔

۲۔ عربی تفسیروں میں دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ اکثر کسی آیت کے تحت کئی اقوال نقل کئے جاتے ہیں ۔ اِن اقوال کو مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آیتوں کے مفہوم میں تعددّ ہے ، یعنی ایک آیت کے کئی مفہوم ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی آیت کا اصل مفہوم ایک ہی ہوتا ہے ، البتہ متعلقات کے اعتبار سے آیت کے مفہوم میںتعدد ہوتا ہے ۔ اِس معاملے میں اصول یہ ہے کہ کسی آیت کا اصل مفہوم ہمیشہ ایک ہوتا ہے ، البتہ اس کے پہلو (Aspects)ایک سے زیادہ ہوتے ہیں۔

4جنوری 2012

آج کےاخباروں میں ایک خبر چھپی ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کشمیر (بارہ مولہ ) کے علاقے میں پولس کی فائرنگ سےایک نو جوان (الطاف) ہلاک ہو گیا۔ قصہ یہ ہے کہ اِس علاقے کے لوگوں میں بجلی کی ناقص سپلائی کی بنا پر کچھ شکایت تھی۔ لوکل لیڈروں اِن شکایتوں کو لے کر ان کو بھڑ کایا۔ چناں چہ لوگ جلوس کی شکل میں گھروں سے باہر آگئے ۔ یہ لوگ لیڈروں کی تقریروں کو سن کر غصہ سےمشتعل ہو رہے تھے۔پولس ان کو کنٹرول کرنے کے لیے آئی تو اِن لوگوں نے پولس کو پتھر مارے ۔ اِس سنگ بازی میں انسپکٹر جنرل آف پولس (IG)بھی زخمی ہو گیا ۔ اِس کےبعد پولس نے جوابی فائرنگ کی ۔ اس فائرنگ میں کچھ کشمیری ذخمی ہوئے ، اور ایک کشمیری نو جوان الطاف ہلاک ہو گیا۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ایک سو سال سے بھی رائد عرصے سے اِسی قسم کی لیڈری رائج ہے ، یعنی شکایت کے نام پر لیڈری کرنا۔ ایسے لیڈر بلا شبہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ سچا لیڈر و ہ ہے جو امکانات (Opportunities)کے نا م پر لیڈری کرے، جو لوگوں کو امکانات سے آگاہ کرے۔ مواقع کے نام پر لیڈری قوم کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے، اور شکایت کےنام پر لیڈری صرف قوم کی تباہی میں اضافہ کر تی ہے ۔

5جنوری 2012

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب میںمسلمان کی جو حالت ہوئی ، اس کا بیان حضرت عائشہ نےاِن الفاظ میں کیا ہے ؛صار المسلمون كالغتهم المسيطرة في الليلة الثانية لفقد نبيهم ( البداية و النهاية لإبن كثير279/5)

یعنی اپنےنبی کے فقدان کی بنا پر مسلمانوں کا حال ایس ہو گیا ، جیسے سردی کی بارس میں بھیگی ہوئی بکری ۔

میں نے اپنے تمام تر عجز کے باوجود 1976میں ایک دعوتی مشن شروع کیا۔ 1992(انہدام بابری مسجد )کے بعد تمام مذہبی طبقے نے میری اتنی زیادہ مخالفت کی کہ میری زندگی ہی میں اِ س مشن کا حال جاڑے کی بارش میں بھیگی ہوئی بکری سے بھی زیادہ ابتر ہو گیا۔ میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ دعوتی مشن کبھی اِس حالت کے باہر آسکتا ہے ۔ اس کے بعد غیر متوقع طور پر اللہ تعالیٰ کی نصرت ظاہر ہوئی ۔ یہ نصرت خاص طور پر قرآن کا انگریزی ترجمہ (2009)تھا۔ قرآن کے 50سے زیادہ انگریزی ترجمے چھپ چکے ہیں ، لیکن ہمارے یہاں سے چھپنے والا انگریزی ترجمہ واضح طور پر دوسرے ترجموں سے ممتاز تھا، اِس لیے ہو بہت جلد ساری دنیا میں عمومی طور پر پھیل گیا۔ انگریزی ترجمہ وجود میں آنے کے بعد ہمارے ایک ایک ساتھی اچانک ہیرو بن گئے۔ مزیدیہ کہ اِس ترجمے کی بنا پر عام مسلمانوں میں ہم کو ایسے ساتھی مل گئے جو کسی اور بنیاد پر نہیں مل سکتے تھے ۔ یہ انگریزی ترجمہ بلاشبہ اللہ کی ایک نصرت تھا۔ اِس ترجمے کے چھپنے کے بعد میرے مخالفین نے جگہ جگہ یہ کوشش کی کہ وہ اس میں غلطی نکالیں ، مگر کوئی بھی شخص اس میں غلطی نہ نکال سکا۔

6جنوری 2012

قران میں بتایاگیا ہے کہ نماز ذکر الٰہی کے لیے ہے (أقم الصلاۃ لذکریی) دوسری طرف قرآن میں ہے کہ ؛الذین یذکرون اللہ قیاماًوقعوداًوعلیٰ جند بہم(191؛3)۔اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر ایک دائمی عمل ہے ۔ اب یہ سوال ہےکہ پنج وقتہ ذکر اور دائمی ذکر میں کیا نسبت ہے ۔جہاں تک میں نے سمجھا ہے ، ذکر الٰہی بندے سے ہر وقت مطلوب ہے ۔یہی اصل ذکر ہے ۔نمازکی حیثیت اِس معاملے میں معاون کی ہے ۔ نماز گویا وقت پر یاددلانے والاذکر (Reminder by Routnie)ہے ۔گویا کہ مستقل ذکر اختیاری ہے ، اور پنج وقتہ نماز لازمی ۔

7جنوری 2012

میں 1948میں جماعت اسلامی ہند کا ممبر بنا ۔ اس کے بعد تقریباً 10سال تک میں اس کا سر گرم ممبر رہا ۔ اس کے بعد مجھے جماعت اسلامی سے نظریاتی اختلاف ہو گیا۔ اِس کے بعد تقریباً 5سال تک جماعت کے ذمے داروں سے اختلافی بحث جاری رہی ۔ آخر کار ، 1963میں میں جماعت اسلامی سے الگ ہو گیا۔

جس زمانے میں میں جماعت اسلامی کے ساتھ سر گرم تھا، جے پر کاش نارائن کی آمد پر اعظم گڑھ میں ایک جلسہ ہوا۔ اُس موقع پر میں نے جماعت اسلامی کی طرف سے وہاں ایک بک اسٹال لگایا۔ اِس بک اسٹال کے سامنے ایک بورڈ لگایا گیا تھا جس کے الفا ظ یہ تھے؛

Go through the revolutionary literature of Islamic movement, and play your role in building of a new world.

یہ واقعہ مجھے یاد آیا تو میں نے سوچا کہ 50 سال پہلے میری سوچ مبنی پر خارج سوچ تھی ۔ اب میری سوچ مبنی بر داخل سوچ ہے ، یعنی جماعت اسلامی کی کتابیں پڑھ کر میری جو سوچ بنی تھی، وہ جماعت اسلامی کے دوسرے افراد کی طرح عالمی انقلاب سے تصور پر مبنی ہوتی تھی۔ اب ذاتی مطالعے کے بعد میری جو سوچ بنی ہے ، وہ شخص انقلاب کے تصور پر مبنی ہے۔

8جنوری 2012

آج کے ہفتے وار کلاس کا موضوع یہ تھا ؛

A Brief Survery of Six Major Religion

یہ چھ مذاہب یہ ہیں -زرتشنی مذہب ، بدھ ازم ، یہودیت ، عیسائیت اور ہندو ازم اور اسلام ۔ اِس میں بتایا گیا کہ ہر مذہب میں انسانی تعبیر (Human Interpretation)کی بنا پر تبدیلیاں ہوئی ہیں ۔ یہی معاملہ بعد کے زمانے میں خود اسلام کے ساتھ پیش آیا ہے ۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ دوسرے مذاہب کا اصل متن محفوظ نہیں ، جب کہ اسلام کا اصل متن پوری طرح محفوظ ہے ۔ اِس بنا پر اسلام میں یہ ممکن ہے کہ انسانی تعبیرات کو الگ کر کے اصل الہامی ہدایت کو دوبارہہ دریافت کیا جا سکے ۔

تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ ہر بار کچھ نئے لوگ بھی کلاس میں آتے ہیں ۔ یہ زیادہ تر نو جوان طبقے کے لوگ ہوتے ہیں ۔

9جنوری 2012

سینما کے ایکٹر ایکٹنگ کے دوران جو ڈائیلاگ بولتے ہیں اس کی وہ بہت زیادہ مشق کرتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ایک حوالہ ٹائمس آف انڈیاکا ضمیمہ IDIVAکے صفحہ نمبر32(6جنوری 2012)قابل نقل ہے ۔ ایک بار آرکشن فلم کی شوٹنگ کے دوران امیتابھ بچن نے سیف علی خان سے کہا؛

It was not about being competitive but being good at what you are doing. You have to learn your lines and remeber them, when you are in the gym, in the shower and when falling asleep.

یعنی کسی سے مسابقت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ جو تم خود کر رہے ہو ، اس کو اچھا کرنے کا مسئلہ ہے ۔ اپنے مکالہ کو یاد کرو اور پھر اس کو پر موقع پر دہراتے رہو خواہ تم جم میں خو خوان تم نہارہے ھو خوان تم سونے جا رہے ہو۔

اس واقعہ کو پڑھ کر مجھے قرآن کی سورہ آل عمران کے وہ الفاظ یا آئے ؛

10جنوری 2012

موجودہ زمانے میں بہت سے تعلیم یافتہ مسلمان ہیں جنھوں نے مغربی علم کو پڑھنا چا ہا ، لیکن ان سب کی مشترک غلطی یہ تھی کہ اُن سب نے فلسفہ کو اہمیت دی۔ شیخ ندیم الجسر (الجزائر)، ڈاکٹر محمد اقبال (پاکستان) ، عبد الماجد دریابادی (انڈیا) ، وغیرہ۔ اِس طرح کے بہت سےمسلمان ہیں جنھوں نے مغربی فکر کا مطالعہ کیا، مگر اِن تمام لوگوں نے صرف فلسفے کا مطالعہ کیا۔ اِن میں سے کسی نے بھی سائنس کا مطالعہ نہیں کیا، جب کہ جدید مغرب علم کا اصل نمائندہ موضوع سائنس تھا، نہ کہ فلسفہ۔

11جنوری 2012

سلمان رشدی کے دورۂ انڈیا کے بارے میں راشٹریہ سہارا میں ایک رپورٹ چھپی ہے ۔ یہ رپورٹ یہاں نقل کی جاتی ہے ؛

Newsclip

(روزنامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی، 11جنوری 2012صفحہ 1)

ٹائمس آف انڈیا (بمبئی) کے مسٹر وجیہہ الدین کا اِس موجوع پر ٹیلی فون آیا۔ میں نے کہا کہ اِس معاملے میں علماء بلاشبہ غلطی پر ہیں۔ علماء کو یہ حق ہے کہ وہ سلمان رشدی کی کتاب (Satanic Universe)سے جواب میں ایک اور کتاب لکھیں ، جیسا کہ ڈاکٹر رفیق زکریا نے ’’محمد اور قرآن‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی ، لیکن علماء کو یہ حق نہیں کہ وہ حکومتِ ہند سے یہ مطالعہ کریں کہ سلمان رشدی کی ہندوستان آمد کو ممنوع قرار دیا جائے۔

12جنوری 2012

دکتور عبد الحلیم عویس مصر کے ایک معروف ادیب اور مورخ تھے۔ وہ 13جون 1234میں پیدا ہوئے ، اور 11دسمبر 2011کو قاہرہ میں اُن کا انتقال ہوا۔ وہ کئی بار دہلی میں مجھ سے ملے تھے ۔ قاہرہ کے ایک سفر میں انھوں نے مجھ کو اپنے مکان پر کھانے پر بلایا تھا جس میں کئی عرب شریک تھے ۔ اُن کو ہمارے مشن سے بہت گہرا تعلق تھا ۔ انھوں نے اپنے ادارہ دارالوفاء (مصر) سے کئی راقم الحروف کی کتابوں کے عربی ترجمے شائع کئے تھے۔ مثلاً ۔ ان کی وفات لمبی بیماری کے بعد 68سال میں ہوئی۔ اِس سلسلے میں میں نے عربی اور انگریزی جرائد میں کئی رپورٹیں پڑھیں ، مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ان کو کیا بیماری تھی۔

13جنوری 2012

سی اپی ایس ٹیم کی ایک ممبر مز استتھی نے خواب دیکھا کہ میرے کمرے میں دہلی کی سی پی ایس ٹیم کے تمام افراد جمع ہیں ۔ یہ لوگ آپس میں باتیں کر رہے ہیں ۔ میں اپنی کرسی پر خاموش بیٹھا ہوا ہوں۔ اچانک کہتا ہوں ؛’’سب لوگ چپ ہو جائیں ،ا ب خدا بولے گا ‘‘۔

اِس خواب کو سن کر مجھے صورِ اسرائیل کا معاملہ یاد آیا ۔ میں نے کہا کہ صورِ اسرائیل کا مطلب کیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق نے لوگووں کو موقع دیا اور سب لوگ اپنی اپنی بول بولنے لگے ، یہاں تک کہ مقرر مدت پوری ہو گئی ۔ اُس وقت فرشتہ اسرافیل صور پھونکے گا جو اِس بات کا اعلان ہوگا کہ تمام لوگ اپنی اپنی بولیا ں بند کریں ، اب رب العالمین تخلیق کے بارے میں اپنا فائنل بیان دے گا۔

14جنوری 2012

13جنوری 2012کو ایک بحری حادثہ پیش آیا۔ اٹلی کا ایک لگزری شپ (Costa Concordia)ایک جزیرہ (Giglio)کے پاس ایک زیر آپ چٹان سے ٹکرا گیا ۔ یہ ریت کی ایک چٹان تھی۔ جہاز میں اُس وقت چار ہزار سے زیادہ آدمی سوار تھے۔ کچھ لوگ ہلاک ہو گئے ، تاہم زیادہ افراد لائف بوٹ (Life Boat)کے ذریعہ تیر کر ساحل پرآگئے ۔ جہاز کے کیپٹن فرانسو نے کہا کہ مجھ کو جو ناٹکل چارٹ (Nantical Chart)دیا گیا تھا ، اُس میں اِس زیر آپ چٹان کو دکھایا نہیں گیا تھا ۔ اس لیے میں اُس سے بے خبر رہا ۔ یہ حادثہ اٹلی کے مغربی ساحل پر پیش آیا۔جس وقت یہ حادثہ پیش آیا ، اُس وقت جہاز کے مسافر جہاز کے رسوواں میں شام کا کھانا کھا رہے تھے۔

اِس حادثے میں ایک سبق ہے ۔ جس طرح سمندر میں زیر آب چٹانیں ہوتی ہیں ، اسی طرح زندگی کے سفر میں بھی غیر مرئی چٹانین ہوتی ہیں ۔ اگر آدمی کو اِن غیر مرئی چٹانوں سے واقفیت نہ ہو تو وہ اِن چٹانوں سے ٹکرا گیا ۔ اس کی بے خبری اس کو تباہی سے نہ بچا سکے گی ۔ زندگی کے سفر میں یہ زیر آپ چٹانیں کیا ہیں۔ یہ انسان کی خواہشیں (Desires)ہیں۔

15جنوری 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا ؛

لا تغضب کلچر

ایک گھنٹہ کے خطاب میں بتایا گیا کہ زندگی میں آدمی کو جو نقصانات پیش آتے ہیں ، وہ عموماً غصہ کے نتیجے میں پیش آتے ہیں ۔ غصہ آدمی کی عقل کو معطل کر کے اس کے جذبات کو اس پر غالب کر دیتا ہے ۔ اِس سلسلے میں مختلف مثالوں کے ذریعے موضوع کی وضاحت کی گئی۔ آخر میں سوال و جواب کا پروگرام تھا۔

16جنوری 2012

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (15جنوری 2011)میں میرا ایک آرٹیکل چھپا ہے جس کا عنوان یہ ہے ؛

No Thought Crime

اس ٹائمس آف انڈیا میں اسی صفحہ پر سینئر جنرلسٹ مسٹر دلیپ پدگاؤکر (Dileep Padgaonkar)کا ایک آرٹیکل بھی چھپا ہے۔ دلیپ پڈگاؤکر نے اپنے اس آرٹیکل میں میرے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں ؛

In the recent Salman Rushaid's controversy, the nobleset utterance has come from the outstanding Islamic scholar, Maulana Wahiduddin Khan: "The answer to a book is a book, not a ban". (Spring Tree, P.1)

17جنوری 2012

کشمیر سے حمید اللہ صاحب کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نے بتایا کہ کشمیر میں غیر متوقع طور پر حالات بالکل بدل گئے ہیں۔ انھوں نے اس کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کل میںنے کشمیر کے ایک اخبار میں کشمیر کے جہادی لیڈر مسٹر گیلانی کا ایک بیان پڑھا۔ اس میں انھوں نے پولس کی ایک کاروائی کا حوالہ دیتےہوئے کہا تھا کہ ہم بجلی مانگتے ہیں اور گولی سے ہم کو جواب دیا جاتا ہے ۔ انھوں نےکہا کہ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ گیلانی صاحب کا بیان اخبار کے آخری صفحے پر غیر نمایاں انداز میں چھپا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ کشمیر کے حالات میں جو تبدیلی ہوئی ہے ، وہ ایک عظیم حقیقت کا پتہ دیتی ہے۔ کشمیر کے ساتھ عجیب و غریب طور پر یہ معاملہ پیش آیا کہ ظاہر حالات کے خلاف وہ پاکستان کا حصہ نہیں بنا۔ وہ عملاً ہندوستان کا حصہ ہے ، لیکن دستورِ ہند کی دفعہ 370کی بنا پر وہ دوسری ہندوستانی ریاستوں سے الگ ہے ۔ اِس کو یہاں اسپیشل اسٹیٹس (Special Status)حاصل ہے ۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسا خدائی منصوبے کے تحت ہوا ہے ۔ وہ ہمارے دعوتی مشن کے لیے ایک خدائی تحفہ کی حقیقت رکھتا ہے ۔ مجھے قوی امید ہے کہ کشمیر اکیسویں صدی میں ، پُر امن اسلام کا نمائندہ بنے گا۔

18جنوری 2012

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ -علم کا راز ہے اپنی بے علمی کا اعتراف ۔ بے علمی در اصل شعور کے اعلیٰ ارتقا کا نام ہے ۔ جب کسی انسان کا شعور کا مل ارتقا تک پہنچتا ہے تو اُس وقت اس کو شدید طور پر یہ احساس ہو نے لگتا ہے کہ میں تو نہیں جانتا۔ یہ احساس ِ بے علمی بے حد اہم ہے ۔ کیوں کہ جو آدمی احساس ِ بے علمی کے اِس درجے تک پہنچتا ہے ، وہی اپنے آپ کو اِس کا مستحق بناتا ہے کہ اس کو خدا کا فیضان (Inspiration)پہنچنے لگے۔احساسِ بے علمی کسی آدمی کو ربانی الہام کا مہبط بنا دیتی ہے ۔

اصل یہ ہے کہ علم کی دنیا لا محدود تک وسیع ہے۔ آدمی جب اپنی ذات کے اعتبار سے سوچے تو اس کا یہ احساس ہوتا ہے کہ ’’میں جانتا ہوں‘‘ لیکن جب وہ عالمِ حقائق (Universe of Facts)کی نسبت سے سوچتا ہے تو اس کو اِس حقیقت کی دریافت ہوتی ہے کہ عالمِ حقائق کی نسبت سے میں کچھ نہیں جانتا۔

19جنوری 2012

ایک صاحب سے تربیتِ افراد کے موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ میں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہندسے تعلق کے زمانے میں میں پہلی بار ایک تربیتی کیمپ میں اعظم گڑھ شریک ہوا۔ یہ غالباً 1955کا زمانہ تھا ۔ رام پور میں جماعت اسلامی کے تحت ایک پندرہ روزہ تربیتی کیمپ لگایا گیا ، اِس سے میری اور ذمے دار مولانا سید حامد علی شاہ جہاں پوری تھے ۔ 15دن کے اندر ہم لوگوں کو ایک نظام کے تحت قرآن اور حدیث کے منتخب اجزا کا اجتماعی مطالعہ کرایا گیا اور عبادت اور تہجد کے کورس سے گزارا گیا۔ اِس پروگرام میں تقریباً 20افرادشریک تھے۔ مگراِس کا کوئی بھی تربیتی فائدہ نہیں ہوا۔ جلد ہی اِس نظام کو ختم کر دیا گیا ۔

میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی مقرر کورس تربیت افراد کے لیے کار آمد نہیں ۔ اصل تربیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر یہ شدید احساس پیدا کر دیا جائے کہ وہ اپنی تربیت آپ کرنے لگے۔ تربیت میں اہم ترین چیز محاسبہ خویش (Self-Introspection)ہے۔ مرئی کاکام تربیت کرنا نہیں ہے ، بلکہ مرئی کا کام یہ ہے کہ وہ زیر تربیت افراد کے اندر اپنی تربیت آپ کا شدید جذبہ پید ا کردے ۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت دہلی میں ہفتے وار کلاس اِسی طرزِ تربیت کی ایک کوشش ہے ۔

20جنوری 2012

کپواڑ ہ (کشمیر) سے ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ آپ کے پاس آئے ہیں ااور انھوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے ۔ اِس خواب کی تعبیر میرے نزدیک یہ ہے کہ ان شاء اللہ کشمیر میں سی پی ایس کے ذریعے امن قائم ہوگا۔ وہاں اینٹی انڈیا اور پرو پاکستانی ذہن ختم ہو جائے گا ۔ کشمیر کے لوگ تشدد کا طریقہ چھوڑ کر پُر امن تعمیر کا طریقہ اپنا لیں گے ۔ یہ وہ مقصد ہے جو انڈیا کی حکومت ہر قسم کی کوشش کے باوجود حاصل نہ کر سکی۔ سی پی ایس کی تحریک کے ذریعے یہ مقصد حاصل ہوگا۔ اب وہ وقت آنے والا ہے جب کہ کشمیر کی یہ تبدیلی اتنی زیادہ واضح ہو جائے کہ گورنمنٹ آف انڈیا اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے۔

21جنوری 2012

میں اپنے کمرے میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ اِس دوران میرے لڑکے ڈاکٹر ثانی اثنین خاں اور میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم میرے کمرے میں داخل ہوئے۔ انھوں نے خاموشی سے ایک نیا صوفہ سیٹ میرے کمرے میں رکھوادیا۔ نماز سے فراغت کے بعد جب میں نے صوفہ سیٹ کو دیکھا تو میں بہت پریشان ہوا۔ میں نے کہا کہ میں کسی قیمت پر اِس صوفہ سیٹ کو اپنے کمرے میں نہیں رہنے دوں گا۔ آخر کار جب ان لوگوں نے دیکھا کہ میں اِس مسئلے پر سمجھوتہ کرنے والا نہیں ہوں تو انھوں نے مجبوراً صوفہ سیٹ کو میرے کمرے سے نکال دیا۔

اِس طرح کے معاملات میں میرا مزاج بالکل مختلف ہے۔ مجھے سادگی میں سکون ملتا ہے ۔ ہر معاملے میں سادگی کو پسند کر تاہوں ۔ سادگی کا مطلب ہے -بقدرِ ضرورت پر اکتفا کرنا، جو چیز ضرورت کے درجے میں مطلوب نہ ہو، اس کو چھوڑ دینا۔

22جنوری 2012

Life After Death

Desired Baesed Culture, Duty-Based Culture

مواقع برائے عاجلہ، مواقع برائے آجلہ

فیملی کے اندر مشفق ، فیملی کے اندر سرور

DNAمیں موت کا اندراج نہیں

موت کا استحصار ، Master Strokeموتو اقبل أن تموتوا)

موت (Compulsory Eviction)

موت رخی منصوبہ بندی (Death Oriented Planning)

الکیس من دان نفتہ عمل جمابعد الموت

موت کا سفر ، رٹرن ٹکٹ نہیں۔

It is to leave the temporary these of life and enter the permanent phase of life. Everyone is born with a death spoon in his mouth.

ہر ایک کا کاؤنٹ ڈاؤن۔

موت آدمی کو کٹ ٹو سائز پر سن بنا تی ہے ۔

ہر آدمی کا ایک جلوسہ جو موت پر ختم۔

23جنوری 2012

میں حافظ سید اقبال احمد عمری (عمرآباد ، تمل ناڈو) مولانا سے دعوت اور نصرت کی تربیت پانے کےلیے حاضر ہوتا ہوں۔مجھے مولانا کے پاس ایسی باتیں ملتی ہیں جو میں نے کسی اور مجلس میں نہیں پائیں ۔ ایک اہم بات جو میں لکھنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ۔ ’’ذہنی وایمانی ارتقاء بذریعہ توسم ‘‘ یہ شعوری طور پر کسی کے یہاں ‏میں نے نہیں پایا ۔ تو سم کا مطلب ہے غور و فکر کی زندگی گزارنا ، اپنے تجربات اور اپنے آس پاس کی دنیا سےمسلسل طور پر نصیحت اور سبق لیتے رہنا ۔ کسی بھی لمحے سے خدا اور آخرت کا شعوری احساس کرنا ۔ اور اسکو دعاؤں کی شکل میں ڈھالنا ، یہی ایک عملی شکل ہے جس کو اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ۔ اور یہی یہ تصور میری روحانی غذا کا کام کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر ۔

ایک رات میرے چھوٹے لڑکے اشھاد کو سخت بخار تھا ۔ میں نے اس کو اپنے ہاتھ میں اٹھایا ۔ اس وقت بے ساختہ طور پر میں نے کہا اور رونے لگا کہ خدا یا اس دنیا میں تومسلسل میرے ناز برداشت کر رہا ہے ، میرے لیے ہر طرح کے سکون کا انتظام کیا ہے ، اور پوری کائنات کو میرے آرام کے لیے دے دیا گیا ہے، خدا یا جب میں یہاں سے مرنے کے بعد تیرے پاس آؤنگا تو میرے ناز کو تیرے سوا کون برادشت کریگا ، کیا تو وہاں پر میرے سکون کی پروا کیے بغیر مجھے جہنم میں جلتاہوا دیکھنا پسند کریگا ۔

ایک مرتبہ پھلوں سے لدی ہوئی گاڑی جا رہی تھی ، جس میں مختلف قسم کے لذیذ پھل تھے ۔ میں دیکھ رہا تھا اور احساس کر رہا تھا کہ خدا یا ، تو نے آج اتنے لذیذ پھل کا انتظام کیا ہے ، بلا استحقاق تو نے مجھے کیا ہے اگر میں کل پھل کھانے کا سوال تیرے پاس حاضر ہونے کے بعد کرونگا تو کیا تو ’’زقوم ‘‘ کے کڑوے پھل سے میری ضیافت کریگا۔

یہی ہے الدعاء ھو العبادۃ اِس عبادت کی لذت کو توسم کے بغیر حاصل کرنا گویا صرف الفاظ کو دھرا دینا ہے ۔

سید اقبال احمد عمری ۔09994436917

(18.08.1976)

iqbalomeeri@gmail.com

24جنوری 2012

میں فرہا داحمد دربھنگہ بہار۔ حال مقیم عمر آباد ، تمل ناڈو ۔ مولانا کے پاس پہلی مرتبہ حاضر ہو ا ہوں ۔ مولانا کے ہر ایک درس اور نصیحت نے مجھے غفلت اور بے شعوری سے باہر نکالا ہے ۔ یہاں میں اس میں سے ایک بات نقل کرتا ہوں ۔ مولانا نے صبر کا فارمولا یہ بتایا تھا ؛

Negative Reaction, No.

Positive Response, Yes

صبر کے اِس فارمولہ نے صبر کو میری زندگی سے شعوری طور پر قریب کر دیا ہے ۔ ورنہ اس سے پہلے یہ میرے لیے ایک معمہ تھا ۔ مولانا نے اسی کو مزید وضاحت کے ساتھ بتایا تھا کہ زندگی میں ہمیشہ مثبت رہنا کبھی بھی منفی نہیں ہونا ہے ۔

فرہاد احمد سلفی عمر آباد ، تمل ناڈو (مولد1980)

موبائل نمبر 09500462084

25جنوری 2012

26جنوری 2012تا 6فروری 2012مولانا وحید الدین خاں صاحب سےعلمی و ایمانی اضافہ کی غرض سے دہلی میں قیام رہا، اس دوران ایک اہم بات جو میں نے مولانا سے سنی وہ یہ تھی کہ -

کوئی بھی سرگرمی اور عمل کو جاننے کے لیے کہ کیا وہ خدا کی مطلوب سر گرمی اور عمل ہے ، اس کا ایک معیار ہے ، وہ معیار یہ ہے کہ خود آپ نے کیا پایا؟ جو بھی سر گرمی آپ کر رہے ہیں ، اس کو خارج کے اعتبار سے مت جانیے ، بلکہ داخل کے اعتبار سے جانیے ۔

جس کا م سے آپ کی شخصیت ایک مثبت شخصیت بن رہی ہے تو سمجھیے کہ وہ کام خدا کا کام ہے ۔ اور اگر اس کام سے آپ کے اندر منفی شخصیت Emergeہو رہی ہے تو سمجھیے کہ وہ کام خدا کا مطلوب کام نہیں ۔ معیار یہ ہے کہ ۔ خود آپ نے کیا پایا۔

فیاض الدین العمری

گلبرگہ کرناٹک

9448651644

3/2/2012

26جنوری 2012

میں خطیب اسرار الحسن عمری (تمل ناڈو)مولانا وحید الدین خاں صاحب سے براہ راست ایک ہفتے سے استفادہ کر رہا ہوں ، مولانا سے بہت سی نئی حقیقتوں کا علم ہوا جس سے میں اِس سےقبل نہیں جانتا تھا ، ان میں سے ایک فنی حقیقت یہ ہے کہ ؛

دعوت الی اللہ کا کام اللہ اپنے فرشتوں سے لیتا ہے ۔ اِس کے لیے Human Faceکی ضرورت ہے ، رسول اللہ اور اصحاب رسول بھی Human Faceہی تھے ایسے ہی آج ادخال کلمہ کےلیے Human Faceکی ضرورت ہے ۔ جوآپ Human Faceبنیں گے تو ادخالِ کلمہ کا سارا کا سارا کام فرشتے انجام دے دیں گے ۔ جس آپ ادخالی کلمہ کےلیے کھڑے ہو جائیں ۔

یہ حقیقت پہلی بار مجھے معلوم ہوئی اور یہ میرے لیے Boosterہے۔ اللہ سے دعا ہےکہ اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ادخالِ کلمہ کےلیے Human Faceبنا ئے ۔ آمین۔

خطیب اسرار الحسن عمری

پرنام بٹ تمل ناڈو

919790853944

Email: asrar.k@hotmail.com

27جنوری 2012

میں محمد یعقوب عمری سن پیدائش 1980ءشولاپور مہاراشٹر 26جنوری 2012سے بعرض مولانا سے استفادہ دہلی میں مقیم ہوں۔ مولانا سے استفادہ نے میرے خشک عقیدہ میں ایک نئی روح پھونک دی ہے ۔ یعنی اب تک میں جس توحید کو مانتا تھا وہ توحید کا صرف تھا۔ اور مولانا سے میں نے توحید کے معنی کو جانا ہے ۔ اور یہ جانا کہ توحید ایک بہت بڑا سمند ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

اب تک میں توحید کو صرف In Terms of Numbersجانتا تھا ۔ یعنی تعدد کے مقابلہ میںتوحید

مگر مولانا نے بتایا کہ

توحید یہ ہے کہ عظمتیں کلی طور پر خدا کے لیے خاص کر دی جائیں

توحید یہ ہے کہ بندہ خدا کو صاحب کمال کی حیثیت سے اور اپنے کو اور ساری مخلوق کو صاحب عجر کی حیثیت سے دریافت کرے۔

توحید یہ ہے کہ خدا میر ی زندگی کا Sole Concernبن جائے۔

اس کی علامت یہ ہے کہ اجتماعی محفلیں ہوں یا نجی مجلس ہر جگہ اسی کا چرچا ہو۔ اور عظمت خداوندی ہی موضوع ِ گفتگو ہو۔

محمد یعقوب عمری

شولاہور ، مہاراشٹر

09860423630

3/2/2012

28جنوری 2012

میں عنایت اللہ عمری بنگلور (پیدائش1983)جنوری 2012کی 26تاریخ کو میں اپنے رفقاء کے ساتھ دہلی آیا۔ مولانا وحید الدین خاں سے استفادہ کی غرض سے، اِس قسم کے اسفار میں اِس سے پہلے بھی کر چکا ہوں۔

میں نے مولانا سے شکر کا سُپر فارمولا پایاہے ۔ وہ یہ کہ جب تک آپ ملی ہوئی نعمتوں کے بارے میں خود کو کامل طور پر غیر مستحق نہیں سمجھیں گے ، اُس وقت تک آپ کو ملی ہوئی نعمتیں بڑی نہیں معلوم ہو ں گی جسکی وجہ سے ہم بڑا شکر بھی کر نہیں پائیں گے ۔ سُپر شکر کا یہ فارمولہ نہ میں نےکہیں پڑھا اور نہ ہی کسی عالم سے سنا ہے ۔

عنایت اللہ عمری بنگلور

9845400045

29جنوری 2012

آج اتوار کی ہفتے وار کلاس کا موضوع یہ تھا

Reengineering of the Muslim Mind

اِس موضوع پر ایک گھنٹہ کا خطاب ہوا ۔خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ اِس وقت سی پی ایس کا پورا ہال سامعین سے بھرجاتا ہے۔ دہلی کے علاوہ ، باہر سے بھی کئی لوگ اِس ہفتے وار اجتماع میں شرکت کےلیے آتے ہیں۔ مثلاً مسٹر ساجد انور انجئینر (AIS)رُڑکی (اتراکھنڈ) سے اِس پروگرام میں شرکت کے لےی آتے ہیں۔

30جنوری 2012

میں شارق حُسین ریاضی (پیدائش؛1986)بمقام دہلی ۔ 2009سے مولانا کے پاس بغرض استفادہ آرہا ہوں ۔ مولانا کے یہاں مجھے حقیقی دین ملا۔ اس سے پہلے بھی روایتی دین پڑھا ۔ مولانا کے یہاں سے مجھے دین کی اسپرٹ کا ٹیسٹ ملا ، اس سے پہلے میں فارم پر تھا۔ یہاں میں اس تعلق سے صرف ایک چیز کا ذکر کر رہا ہوں ۔ جو مجھے یہاں سے ملی۔ وہ ہے کہ واقعات کو صرف واقعاتی پہلو سے نہ دیکھ کر ان کو اخروی پہلو سے دیکھا جائے ۔ اور پھر ان واقعات و تجربات کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا کر خدا سے دعا کی جائے۔

اس سے پہلے ہی اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات و تجربات کو صرف واقعاتی پہلو سے دیکھنا اور سننا تھا ۔ لیکن اب وہ ہی واقعات میر ی روح کی غذا بن جاتے ہیں اور مجھے خدا سے قریب کر دیتے ہیں ۔

مثال کے طور پر ؛ حال ہی میں ۔ میں ایک صاحب کے پاس ملاقات کے لیے گیا۔ وہ ایک دیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ دورانِ گفتگو ان کا ایک لڑکا اپنے ہاتھ میں شادی کا ایک Invitation Cardلے کر دوڑا ہوا آیا اور بولا ’’ہاہا دیکھو ‘‘ یہ کارڈ کتنا اچھا ہے ۔ اپنے لڑکے کی اس بات پر ان صاحب نے کہا کہ ’’بیٹا یہ سوچو کہ کارڈ ایسا اچھا ہے تو کھانا کیسا ہوگا ‘‘۔ اس کو سن کر اچانک میرا ذہن آخرت کی طرف مائل ہو گیا اور میرے منھ سے یہ جملہ نکلا کہ جب دنیا اتنی خوبصورت ہے تو جنت کیسی ہوگی ۔ لوگ شادی کارڈ کی خوبصورتی سے کھانے کی لذت کا اندازہ کر لیتے ہیں ۔ لیکن دنیا کی لذت میں وہ جنت کی لذت کو دریافت نہیں کر پاتے ۔

یہ ایک مثال تھی ۔ اِس طرح کے واقعات کثرت سے میرے ساتھ پیش آتے ہیں ۔ جن ہے میں پہلے صرف واقعاتی پہلو سے دیکھتا تھا ،ا ب اخروی لحاظ سے دیکھتا ہوں اور پھر یہ میرے تزکیہ کا ذریعہ بنتے ہیں ۔

شارق حسین ریاضی

دہلی

09999372710

03/02/2012

31جنوری 2012

مجھے اپنی زندگی میں کئی علمی اداروں سے وابستہ رہنے کا موقع ملا۔ اسرالاصلاح ، سرائے میر، شعبہ تصنیف و تالیف ، جماعت اسلامی ہند ، مجلس تحقیقات و نشریات ِ اسلام ، لکھنؤ ، الجمعۃ ویکلی ، دہلی ۔

عجیب بات ہے کہ اِن مسلم اداروں میں سے کسی ادارے نے مجھے بحیثیت ادارہ کبھی نہیں بلایا۔ بلکہ ہر جگہ کوئی ایک فرد میرے لیے وہاں پہنچنے کا ذریعہ بنا ۔ مدرسہ الاصلاح کے لیے صوفی عبد المجید خاں، جماعت اسلامی ہند کے تفسی ادارے کے لیے مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی ، مجلس تحقیقات ونشریات اسلام کے لیے مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ، الجمعیۃویکلی کے لیے سید اسعد مدنی ۔ مجھ کو اپنی پوری زندگی میں افراد کے تعاون ملا، نہ کہ اداروں سے۔