Diary 2012

January 2010

Diary 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (13 chapters)
  1. January 2012
  2. January 2010
  3. February 2012
  4. March 2012
  5. April 2012
  6. May 2012
  7. June 2012
  8. July 2012
  9. August 2012
  10. September 2012
  11. October 2012
  12. November 2012
  13. December 2012

3جنوری 2010

قرآن کے شروع میں یہ آیت آئی ہے ؛ذلک الکتاب لارین فیہ (2؛2)اِ س آیت کی مختلف شرحیں کی گئی ۔ میرا احساس یہ ہے کہ اِس سےمراد خود کتاب (قرآن )ہے، نہ کہ کوئی دوسری چیز اِ س کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک صحیح گائڈ بک کا طالب ہے ۔ قرآن آدمی کےلیے یہی گائڈ بک ہے ۔ یہ عجیب بات ہے کہ کسی بھی انسانی کتاب میں اِس قسم کا دعویٰ نہیں کیا گیا ہے۔ غالباً تاریخ میں پہلی بار مارکس کے شاگردوں نے ، نہ کہ خود مارکس نے ، یہ دعویٰ کیا کہ مارکس کی کتا ب ’’سرمایہ ‘‘(The Capital)صداقت کا آخری اظہار ہے ، لیکن پہلی ہی نسل میں یہ دعویٰ باطل ثابت ہوگا،کیوں کہ مارکس نے انسانی تاریخ کے بار ے میں جو پیشن گوئی کی تھی، وہ غلط ثابت ہوئی ۔ مارکس نے کہا تھا کہ تاریخی اسباب سے، دنیا اور طبقوں میں بٹ جائے گی ۔ ایک محنت کش طبقہ ، اور دوسرا سرمایہ دار طبقہ ، پھر ساری دنیا کے محنت کش ایک طرف ہو جائیں گے اور ساری دنیا کے سرمایہ دار ایک طرف۔ اس کے بعد محنت کش طبقہ لڑکر سرماریہ دار طبقے کا خاتمہ کر دے گا، لیکن پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ دونوںنے اِس تصور کو باعمل ثابت کردیا، کیوں کہ ہر ملک کے محنت کش اپنے ملک کے سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر اپنے دشمن کے خلاف لڑنے لگے ۔ گویا کہ طبقہ واریت کے مقابلے میں ، قومیت زیادہ طاقت ثابت ہوئی۔

تمام انسانی کتابوں میں انسان ایک مشینی کتاب ہے ۔ اس کی کوئی پیشن گوئی غلط ثابت نہیں ہوئی ۔ مثال کے طور پر غلبہ روم کی پیشن گوئی ۔ اس لیے صرف قرآن الکتاب (The Book)ہے۔ کسی بھی انسانی کتاب کو الکتاب کو الکتاب کا درجہ نہیں دیا جاسکتا ، یعنی ہر قسم کی غلطیوں سےمیرا کتاب۔