Diary 2012

March 2012

Diary 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (13 chapters)
  1. January 2012
  2. January 2010
  3. February 2012
  4. March 2012
  5. April 2012
  6. May 2012
  7. June 2012
  8. July 2012
  9. August 2012
  10. September 2012
  11. October 2012
  12. November 2012
  13. December 2012

1مارچ 2012

آج بنگلور میں مولانا فیاض الدین عمری کا گروپ پہنچ گیا ہے ۔ سارہ فاطمہ نے بنگلور میں ایک دعوتی ادارہ بنایا ہے ۔ آج یہاں عمری گروپ کی پہلی میٹنگ ہے۔ اِس میٹنگ میں یہ سوچا جائے گا کہ اِس علاقے میں دعوتی کام کو کس طرح آگے پڑھایا جائے۔ میں نے آج صبح ٹیلی فون پر مولانا سید اقبال احمد عمری سے بات کی۔ میں نے کہا کہ آج آپ لوگ اپنی میٹنگ کا آغاز اِس طرح کریں کہ سب سے پہلے کلمہ شہادت اجتماعی طور پر ادا کریں ۔ اس کے بعد دو سورتوں کی تلاوت کی جائے ۔ اس کے بعد دو سورتوں کی تلاوت کی جائے -سورہ الفاتحہ اور سورہ الکھف ۔ اِس کے بعد آپ لوگ اپنی میٹنگ شروع کریں۔

عمری صاحبان کل بنگلور پہنچے ہیں۔ کل شا م کو مولانا فیاض الدین عمری کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ کل جب میں بنگلور پہنچا ، اور اُس عمارت کو دیکھا جس میں سارہ نے دعوتی مرکز قائم کیا ہے تو یہ میرے لیے ایک عجیب تجربہ تھا۔ میں نے 2اپریل 2010کو دہلی میں ایک خواب دیکھا تھا ۔ اس میں مجھے ایک سفید بلڈنگ دکھائی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ تم اِسی بلڈنگ میں کام کرنا ہے۔ عجیب بات ہے کہ بنگلور کی اِسی بلڈنگ کی شکل میں وہی شکل ہے جس کو میں نے دو سال پہلے خواب میں دیکھا تھا۔

2مارچ 2012

سارہ فاطمہ نے بنگلور میں ایک دعوتی مرکز قائم کیا ہے ۔ مولانا فیاض الدین عمری کے گروپ کے لوگ یکم مارچ 2012کو یہاں آئے۔ اِس کے بعد یہ طے ہوا کہ عمری صاحبان بنگلور میں رہیں گے اور سارہ فاطمہ کی ماتحتی میں کا م کریں گے ۔ یکم مارچ کی شام کو میں نے ٹیلی فون پر اِن حضرات کو خطاب کیا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ جس طرح ساؤتھ انڈیا سے روانہ ہو کر بنگلور پہنچے ہیں ، یہ میرے نزدیک بیعت عقبہ ثانیہ کے مماثل ایک واقعہ ہے ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جس طرح ایک اسوہ ہے ، اُسی طرح آپ کی تاریخ دعوت بھی ایک اسوہ ہے ۔ رسول اللہ کے صحیح نہج پر اگر کام کیا جائے تو دوبارہ وہی تاریخی مراحل پیش آئیں گے۔ جو رسول اللہ کے زمانے میں پیش آئے تھے ۔ مگر یہ مماثلت شکلاً نہیں بلکہ معناً ہوگی۔

میں نے کہا کہ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع کی نصیحت سنی ۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان تقریباً 350کلومیٹر کا فاصلہ ہے ۔ جب کہ دہلی اور بنگلور کے درمیان تقریباً 1750کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ بیعت عقبہ ثانیہ کے وقت مدینہ والوں کو پیغمبر اسلام کی بات سننے کے لیے سفر کر کے مکہ آنا پڑا تھا، جب کہ میں آپ کو دہلی سے خطاب کر رہاہوں اور 5گنا دوری کے ذریعے عین اسی وقت آپ اس کو سن رہے ہیں۔

3مارچ 2012

سارہ فاطمہ نے بنگلور میں ایک دعوتی سنٹر بنایا ہے۔ جامعہ دارالسلام (عمر آباد ) کے 6فارغین اِس قت وہاں م وجود ہیں۔ اُن کےلیے وہاں روزانہ ایک گھنٹے کی انگریزی کلاس ہوتی ہے۔ اِس کے علاوہ ، سارہ نے اِن حضرات کےلیے دو انگریزی اخبار جاری کیے ہیں ۔ مجھ سےگفتگو ہوئی تومیں نے عمری صاحبان کو مشورہ دیا کہ آپ لوگ روزانہ انگریزی اخبار پڑھیے اور اردو اخبار کو اپنے لیے حرام سمجھئے۔ اِس کے علاوہ آپ لوگ ریڈیو کے انگریزی پروگرام سنے ۔ ٹی وی میں صرف بی بی سی لندن کی انگریزی خبر یں سنئے۔ عمری صاحبان نے یہ طے کیا ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں دعوتی کام کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں ۔

4مارچ 2012

آج اتوار کا ہفتے وار کلاس تھا۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا ؛

داعی کا کردار

The Character of Da'ee

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کے خطاب میں داعی کے کردار کی وضاحت کی گئی ۔ خطاب کے آخر میں سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔

5مارچ 2012

میرٹھ سے مولانا محمد عرفان قاسمی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ملاقات کے لیے آئے۔ یہ لوگ الرسالہ مشن کے تحت میرٹھ اور اطراف میں کام کر رہے ہیں ۔ ان لوگوں سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی ۔ اِس مجلس میں میں نے قرآن کی آیت ؛کی وضاحت کی۔ یہ ایک گھنٹے کا خطاب تھا۔ جو اُس وقت ریکارڈ کر لیا گیا ۔ اِس میں جو باتیں میں نے بتائیں ، اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ اِس آیت میں وسیلہ سے مراد مقامِ قرب ،یعنی صرف مقامِ اطاعت پر اکتفا نہ کرنا، بلکہ اپنے آپ کو قرب کے مقام پہنچانا ۔ خدا سے صرف ریٹن کے درجے کا تعلق نہ رکھنا ، بلکہ خدا سےمحبت کے درجے میں تعلق قائم کرنا۔

6مارچ 2012

ایک صاحب سے بات ہوئی ۔ انھون نے کہا کہ سی پی ایس کے ہفتے وار کلاس میں جو لوگ برابر آتے ہیں ، ان کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اُن کے اندر ایگو نہیں ۔ اِس پر غور کرتے ہوئے یہ بات سمجھ میں آئی کہ جو لوگ سنڈے کلاس میں آتے ہیں ، وہ ہر ہفتہ یہاں خدا کی عظمت کی بات سنتے ہیں ۔ اِس چیز نے ان کے اندر ایگو (Ego)کا خاتمہ کر دیا ہے ۔ دوسری مجلسوں میں یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہاں فخر کی بات ہوتی ہے یا شکایت اور نفرت کی باتیں بیان کی جاتی ہیں ، یا اکابر کی بڑائی کا چرچا ہوتا ہے۔

7مارچ 2012

مسٹر ساجد انور ایک گلاس فیکٹری (Glass Factory)میں انجینئر ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری کمپنی میں تین جرمن اکسپرٹ 5دن کےلیے آئے۔ میں نے اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ وہ بہت زیادہ خوش ہوئے۔ ایک جرمن نے کہا کہ اس سےپہلے میں نے مصر ، ایران ، سعودی عرب وغیرہ کئی ملکوں میں رہا ہوں ، مگر کسی بھی ملک میں کسی مسلمان نے مجھ کو قرآن کا ترجمہ نہیں دیا ۔ ساجد انور صاحب نے بتایا کہ اِس بات کا مجھ پر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ رات بھر مجھے نیند نہیں آئی۔

8مارچ 2012

ایک صاحب سے بات کرتےہوئے میں نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق ، انسان دو قسم کےہوتے ہیں -ایک وہ جو مضبوط شخصیت (Strong Personality)والے ہوں ۔ دوسرے، وہ جو کمزور شخصیت (Weak Personality)والے ہوں۔ دونوں ہی قسم کے انسان کا ایک مائنس پوائنٹ ہوتا ہے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے اِس مائنس پوائنٹ کو جانے اور اُس پر قابو پائے۔ اِسی میں انسان کی کامیابی کا رازہے۔

اسٹرانگ پرسنالٹی والے آدمی کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ بہت جلد اس کے اندر وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کو احساسِ برتری (Superiority Complex)کہا جاتا ہے ۔ اِس کے برعکس ، ویک پرسنالٹی والے انسان کے اندر وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کو احساسِ کمتری (Inferiority Complex)کہا جاتا ہے ۔ یہ احساسات دونوں قسم کے انسانن کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے مائنس پوائنٹ کو جانے اور اس کے منفی اثرات سےاپنے آپ کو بچائے۔

9مارچ 2012

ہمارے کالونی کے امام مکرم حسین قاسمی نے بتایا کہ جب وہ دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم تھے، اُس وقت وہاں کے استاد مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی نے ایک بار دورانِ درس کہا کہ کسی کے حوالے پر کبھی اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیشہ اس کو اصل سےملانا چاہیے۔ مولانا اعظمیٰ نے اپنے ایک استاد کا واقعہ بتایا ۔انھوں نے کہا کہ ایک بار استادِ محترم نے ہم لوگوں سےیہی بات کہی۔ میں نے کہا کہ خواہ ابن حجر کا حوالہ ہو تب بھی۔ استاذ محترم نے کہا خواہ ابن حنبل کا حوالہ ہر تب بھی۔

(محمد ذکوان ندوی)

10مارچ 2012

حیدر آباد سے مولانا عبد الروف صاحب ملاقات کے لیے آئے۔ اُن کے ہمراہ اُن کے ایک ساتھی شیخ ابراہیم حیدر آبادی بھی تھے ۔ انھوں نے حجت حدیث پر اپنے اشکال کا اظہار کیا۔ میں نے کہا کہ حجت حدیث کی اصطلاح ایک ایسی اصطلاح ہے جو قُرون مشہود لہا بالخیر کے بعد وضع ہوئی ۔ اِ س لیے اپنے علمی ذوق کے مطابق ، مجھے اِس اصطلاح سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ میرے نزدیک حدیث کی اصل اہمیت وہ ہے جو قرآن میں مذکور ہے، اور وہ حکمت (Wisdom)ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن ایک اصولی کتاب ہے ۔ خود قرآن میں بھی حکمت کی باتیں موجود ہیں ، لیکن تفصیلی حکمت ہم کو مستند طور پر صرف حدیث اور سنت سے معلوم ہوتی ہے ۔ پھر میں نے اِس کی کئی مثالیں بیان کیں ۔ ایک مثال یہ تھی کہ قرآن میںہے ؛ اذکرو اللہ ذکراً کثیراً ۔ ذکرِ کثیر کیا ہے ۔ یہ مجھ کو صرف اِس آیت سے سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ پھر میں نے حضرت عائشہ کی یہ روایت پڑھی ؛ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یذکر اللہ علی کلّ أحیانہ (صحیح مسلم ) ۔ اِس حدیث سے قرآن کی مذکورہ آیت سمجھ میں آئی۔ اِ س حدیث میں ’’حین ‘‘ کا مطلب موقع (Occassion)ہے۔ یعنی ہر موقع کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا کر اللہ کو یاد کرنا ۔ اِس کا نام حکمت ہے، اور یہ حکمت ہم کو مستند طور پر صرف حدیث سے معلوم ہوتی ہے ۔

میں نے تفصیلی طور پر اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کی۔ مولانا عبد الروف احمد اور اُن کے ساتھی خاموشی کے ساتھ میری باتیں سنتے رہے ۔ میں نے بار بار پوچھا کہ آپ انھوں نے میری بات کی تصدیق کی اور نہ تردید کی۔ میں نے بار بار پوچھا کہ آپاپنا خیال بتائیے ، مگر انھوں نے اپنا تاثر بیان نہیں کیا۔ یہ گفتگو تقریباً دو گھنٹے جاری رہی ۔

11مارچ 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا ؛

An Introduction of Islam

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔

12مارچ 2012

دہلی میں ایک مسلمان ہیں ۔ وہ ایک ذہین آدمی ہیں ۔ انھوں نے دو سبجیکٹ میں ایم اے کیا ہے ۔ ہندی اور انگریزی ۔ وہ اردو زبان بھی اچھی جانتے ہیں ۔ وہ گورنمنٹ کے ایک ڈپارٹمنٹ میں سروس کرتے تھے ۔ اب وہ ریٹائر ہو گئے ہیں اور دہلی کے ایک مسلم علاقے میں رہتے ہیں ۔ اُن کا کوئی بیٹا نہیں ۔ صرف دو بیٹیاں ہیں جو شادی کے بعد اپنے اپنے گھر وں میں رہتی ہیں ۔

ایک بار میں ڈاکٹر شمس آلافاق کے ساتھ اُن کے گھر گیا۔ ہم لوگ گفتگو کر رہے تھے۔ اِس درمیان میں اُن کے ٹیلی فون (موبائل ) کی گھنٹی بجی۔ یہ ان کی ایک بیٹی کا ٹیلی فون تھا۔ وہ نہایت ذوق و شو ق کے ساتھ ٹیلی فون پر اپنی بیٹی سے بات کر نے لگے۔ ان کا شوق اتنا بڑھا کہ بات کرتے کرتے وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے ۔ وہ اپنی بیٹی سے بات کرنے میں اتنا محو ہوئے جیسے کہ وہاں ہم لوگوں کا کوئی وجود نہیں ، بس وہ ہیں اور ان کی بیٹی ۔

یہ منظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ کیا وجہ ہے انسان کو اللہہ سے حُبّ شدید (2:165)نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ کسی غیر خدا کے ساتھ اپنے جذبات محبت کو وابستہ کیے ہوئے ہے۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کو اللہ سے حب شدید کاتجربہ ہو۔

یہ ایک سیکولر مسلمان تھی ، میرے تجربے کے مطابق ، مذہبی مسلمانون کا حال بھی یہی ہے ، حتی کہ قرآن کے مفسر اور حدیث کے سارح کا بھی ۔ مثلا ً 1971میں ، میں لاہور گیا۔ وہاں ابتداء ً میں ایک مشہور مفسرِ قرآن کے گھر میں ٹھہرا ۔ ۔ان کے ایک داماد اُس وقت بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان ) میں تھے۔ وہ پاکستانی آرمی میں کسی عہدے پر تھے۔ اُس وقت اُن کے داماد یا ان کی بیٹی کا ٹیلی فون آیا۔ مفسر موصوف اُس شوق اور محویت کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرنے لگے جس کی مثال میں نے مذکورہ سیکولر مسلمان کے یہاں دیکھی تھی۔

13مارچ 2012

Newsclip

(’’انقلاب ‘‘ ، دہلی ) 10مارچ 2012صفحہ 9

14مارچ 2012

ڈاکٹر راشد شاز ( پیدائش ؛1963)کی کتاب ؛ ’’ادراک زوال امت ‘‘ دو جلدوں میں دہلی سے چھپی ہے۔ اس کا آخری باب ’’ربانی تصور ِ حیات کی تشکیل نو‘‘ پوری کتاب کا خلاصہ ہے ۔ اس باب کو سُن کر میرا جو تاثر بنا، وہ یہ تھا کہ مصنف کے اندر غیر مقلدانہ اور مجتہدانہ تفکیر پائی جاتی ہے ۔ اُن کا اسلوب ایک پُر شکوہ اسلوب ہے ۔ اُن کا فکر بنیادی طور پر درست ہے، لیکن وہ مبنی بر اُمّہ (Ummah Based)فکر ہے ، جو کہ میرے نزدیک درست نہیں ۔

اس کتاب کے مذکورہ باب کو سن کر ایک خاص بات یہ سمجھ میں آئی کہ ڈاکٹر راشد شاز کے اسلوب اور میرے اسلوب میں ایک بنیادی فرق ہے ۔ میرے الفاظ میں وہ فرق یہ ہے کہ ڈاکٹرراشد شاز کا اسلوب آفاقی اسلوب (Universalized Style)ہے۔ اِس کے مقابلے میں میرا اسلوب انفرادی اسلوب (Personalized Style)ہے۔ اِس فرق کا یہ نتیجہ ہوگا کہ ڈاکٹر راشد شاز کی کتابوں کو پڑھ کر قاری کو معلومات اور ذہنی اہتزاز ملے گا، لیکن اس کو پڑھ کو کوئی شخصیت نہیں بنے گی ۔ اِس کے بر عکس ، میرا جو اسلوب ہے ، اس کو پڑھ کر شخصیت کی تعمیر ہو سکی ہے ۔ میرا یہ اسلوب اکتسابی نہیں ہے ، یہ ایک وہی اسلوب ہے جو پیدائشی طور پر مجھے عطا ہوا ہے ۔ دونوں اسلوب کے فرق کو ایک مثال میں اِس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اگر بندوق لے کر چاروں طرف ہوائی فائرنگ کرے تو اِس سے آواز تو کافی پیدا ہوگی، لیکن اس سے کوئی شکار نہ ہو سکے گا۔ اِس کے بر عکس ، اگر وہ درخت پر بیٹھی ہوئی ایک چڑیا کو نشانہ بنا کر فائرنگ کرے تو وہ اُس چڑیا کا شکار کرنے میں کامیاب ہو جائے گا -ڈاکٹر راشد شاز کا اسلوب سبجیکٹ کو ڈیل کرنے کا سلوب ہے ، اِس کے بر عکس ، میرا اسلوب فر د سازی کا اسلوب ہے ۔

15مارچ 2012

ڈاکٹر طاہر القادری کی ایک تقریر میں نے ٹی وی پر سنی۔ وہ نہایت جوش و خروش کے ساتھ بول رہے تھے ۔ وہ بطور خود دلیل سے یہ ثابت کر رہے تھے کہ خدا اور محمد میں کوئی فرق نہیں ۔ سارا مجمع سر شار ہو رہا تھا ، حالاں کہ ان کی دلیلیں احمقانہ حد تک بے معنی تھیں ۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ اسلام کا کلمہ ہے ؛ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰه۔اِس میں ’’واؤ‘‘ حذف ہے ۔ خدا نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ اللہ اور محمد کے درمیان عطف ہو ، اِسی طرح انھوں نے کہا کہ رسول اللہ اکثر صھابہ سے پوچھنے کے انداز میں کوئی بات کہتے تھے، تو صحابہ کہتے تھے کہ ؛ اللہ و رسولہ أعلم ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کے نزدیک ، جو اللہ کا مقام تھا، وہی محمد کا مقام ہے ۔ یہی حال موجود زمانے میں تمام مقررین کا ہے ۔ اِن تمام لوگوں کے مشن کو ایک لفظ میں یہ کہا جائے گا کہ ان کو مشن ’’تحمیق المسلمین ‘‘ کا مشن ہے ۔

16مارچ 2012

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ ان سے گفتگو کے بعد میں نے کہا کہ آپ میرے نزدیک ایک بہادر انسان ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ یاد رکھیئے اِسی دنیا میں سب سے بڑا بہادر وہ ہے جو اس کے ساتھ سب سے بڑا بزدل بھی ہو۔ نادان بہادر صرف بہادری کو جانتا ہے، دانش مند بہادر وہ ہے جو یہ جانے کہ زندگی میں کبھی آگے بڑھنا ہوتا ہے اور کبھی پیچھے ہٹنا ہوتا ہے ۔ کبھی طاقت کا اظہار مطلوب ہوتا ہے اور کبھی خاموش کا طریقہ مفید ہوتا ہے ۔ دانش مند آدمی وہ ہے جو اس فرق کو جانے۔

17مارچ 2012

قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آیا ہے ؛ لعلک باضع نفسک ألایکونو امؤمنین (26:3)قرآن کی یہ آیت ایک مکی سورہ میں آئی ہے ۔ اُس وقت مکہ کی صورتِ حال یہ تھی کہ کعبہ میں 360بت رکھے ہوئے تھے ۔ ایسی حالت میں بظاہر یہ آیت آنا چاہیے تھا کہ لعلک با خع نفک أن کعبۃ مملوءۃبالأضام

اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر انسان کی ہدایت کے لیے کتنا زیادہ خیرا خواہ ، جب کہ دوسری قسم کی آیت اگر اترتی تو اُس سے یہ ظاہر ہوتا کہ پیغمبر بتوں کے مسئلے کو لے کر بہت زیادہ غصہ اور نفرت میں جی رہا ہے ۔

18مارچ 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا ؛

Islam in a new age

ایک گھنٹے کی تقریر میں موضوع کی وضاحت کی گئی ۔ اِ س کے بعد سوا ل و جواب کا پروگرام ہوا ۔ آج کے پروگرام میں دہلی کے علاوہ عمری گروپ کے افراد تھے۔ اِس طرح لکھنؤ کے حافظ محمد سلمان نقوی اور مولانا راشد و حید قاسمی نے بھی اِس کلاس میں شرکت کی۔

19مارچ 2012

حضرت عائشہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہتی ہیں کہ ؛ خطمہ النا س (لوگوں نے آپ کو رونڈ ڈالا تھا )۔ یہ روایت مدینہ کے بارے میں ہے ، یعنی مسلمانوں کے بارے میں۔ مدینہ میں جو مسلمان تھے جن کو انصار کہا جاتا ہے ، اُن میں سے کوئی شخص نہ شراب پیتا تھا، نہ خنزیر کھاتا تھا ۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ مسلمانوں کی وہ کون سی روش تھی جس نے رسو ل اللہ کو رونڈ ڈالا تھا۔ یہ بلاشبہ کبائر نہیں تھے ۔ یہ وہی چیز تھی جس کے بارے میں ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں ؛ ایاک و محصرات الأعمال فان لہا عند اللہ طالب ۔

رسول اللہ بے حد حساس انسان تھے۔ بظاہر کوئی چھوٹی سی چیز بھی جو آدااب ایمان کے خلاف تھی، اُس پر وہ تڑپ اٹھتے تھے۔ آپ کی یہی حساسیت تھی جس سے آپ کا وہ حال کر دیا تھا جس کو حطمہ الناس کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔

20مارچ 2012

آج عمری گروپ سے بات کرتے ہوئے میں نے تفسیر قرآن کا ایک اصول بتایا میں نے کہا کہ قرآن کی موجودہ تفسیروں کا حال یہ ہے کہ وہ متن کے الفاظ کو لفظ بدل کر دوبارہ اُسی کو دہراتے ہیں ۔ اس کے قاری کو کوئی بصیرت نہیں ملتی ۔ میں نے کہا کہ تفسیر کا اصول یہ ہے کہ متن اور قاری کے درمیان مطابنت تلاش کی جائے۔ متن میں جو بات اصولی طور پر کہی گئی ہے ، قاری سے معلوم ماڈل پر منطبق کرتے ہوئے اس کو واضح کیا جائے ۔ جب تک ایسا نہ ہو ، تفسیر قاری کو الفاظ کا ایک جنگل معلوم ہوگی، اس سے قاری کا ذہن ایڈریس نہیں ہوگا۔

21مارچ 2012

نئی دہلی کے اردو اخبار ’’انقلاب ‘‘ (21مارچ 2012)میں ایک خبر اِس عنوان کے تحت چھپی ہے ؛

تعصب کی انتہا مسلم خاتون کی جیوری کی رکنیت خارج کر دی گئ ۔

لندن (ایجنسی ) مسلمانوں کے تئیں تعصب اور نفرت کا اظہار کرتے ہوئے برطانیہ کے ایک جج نے غیر معمولی حرکت کی۔ انھوں نے ایک خاتون کو محض اس لیے جیوری کی رکنیت سے خارج کر دیا کہ انھوں نے برقع اتارنے سے انکار کر دیا تھا۔ پیر کے روز اس معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس ایڈن ماران نے کہا کہ ’’برقع پہن کر قتل کرنے کی کوسس کے اس معاملے کی سماعت آپ نہیں کر سکی ہیں۔‘‘ اس کے لیے انھوں نے نہایت دلیل پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ان کے چہرے کے تاثرات پوشیدہ رہتے ہیں ۔ مذکورہ خاتون اس معاملے میں لندن کے گراؤن کورٹ میں حلف لینے والی تھی۔ اس سے قبل کہ وہ سلف نے مداخلت کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ برقع اتاردیں ۔ ذیلی میل کی رپورٹ کے مطابق بارقع اتارنے سے انکار کر نے پر انہیں بننے کو کہا گیا اور ان کی جگہ پر ایک مرارکن کی حف برادری کر دی گئی۔ اپنی نوعیت کے اس پہلے اور کھوکھلے فیصلے نے برطانیہ میںلوگوں کے درمیان ناراضگی پیدا کر دی ہے ۔ اسلامی انسانی حقوق کمیشن صدر کے مسعود شاہ نے کہا کہ’’یہ قابل قبول نہیں ہے ۔ میں اس بات کو سمجھ نہیں پا رہا ہو ں کہ سماعت کے دوران چہرے پر آنے والے تاثرات جسٹس ، فیصلے یا کسی اور چیز کو کس طرح متاثر کر سکتے ہیں ‘‘ ۔ (P1)

یہ اسلام دشمنی کا معاملہ نہیں ہے ، بلکہ وہ اپنے کلچر کے تحفظ کا معاملہ ہے ۔ دارالعلوم دیوبند میں اگر کوئی طالب علم کوٹ پتلون پہنے اور ٹائی باندھے اور کھلے سر کے ساتھ جوتا پہنے ہوئے دیوبند کے دار لحدیث میں داخل ہو نا چاہے تو اس کو ہر گز وہاں داخلہ نہیں ملے گا، کیوں کہ دارالعلوم دیوبند کا ایک کلچر ہے اور مذکورہ طریقہ دارالعلوم دیوبند سے کلچر کے خلاف ہے ۔ اِس طرح برطانیہ کا ایک کلچر ہے ۔ اور جس طرح دارالعلوم کو اپنے کلچر سے تحفظ کا حق ہے ، اِسی طرح برطانی کورٹ کو اپنے کلچر کے تحفظ کا حق ہے ۔

22مارچ 2012

مہاراشٹر سے ایک مسلمان کا ٹیلی فون آیا ۔ انھون نے کہا کہ میں ایک بزنس کرتا ہوں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ بینگ انٹرسٹ حرام ہے یا حلال۔ میں نے کہا کہ بینگ انٹرسٹ حرا ہو یا حلال، وہ یقینی طور پر پاگل پن ہے ، اور حرام میں مبتلا ہونے سے بھی زیادہ تباہ کن ہے کہ آمی پاگل پن میں مبتلا ہو جائے۔

23مارچ 2012

عبد العزیز چاؤش (ناندیٹر، مہاراشٹریہ )میرے چھوٹے نواسے ہیں ۔ اُن کے بڑے بھائی کا نام ہے عبد الرحمان چاؤش ۔ میں نے عبد العزیز کو یہ مشورہ دیا تھا کہ تم اپنے بڑے بھائی عبد الرحمٰن کو اپنا باس (Boss)بنا لو، تم پوری طرح عبد الرحمٰن کے کہنے پر چلو۔ آج عبد العزیز دہلی آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں آپ کے مشورے پر چلتا ہوں ، لیکن گھر کی عورتیں مجھ پر غصہ ہوتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ کیا تمھارے باپ نے ایسا لکھ دیا تھا کہ تم عبد الرحمان کی بات ماننا ۔ میں نے کہا کہ باپ نے خوا لکھا ہو یا نہ لکھا ہو، سارے زمین و آسمان میں یہ بات لکھی ہوئی ہے ۔ پھر میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سو لر سسٹم کو دیکھے ، سولر سسٹم میں ایک سورج ہے اور بہت سے سیارے اور سیارچے ہیں۔ یہ تمام سیارے اور سارچے سورج کے تابع(Settalite)بنے ہوئے ہیں۔ سب کے سب سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ سیاروں اور سیارچوں نے سورج کو اپنا باس بنا رکھا ہے۔

24مارچ 2012

آج سی پی ایس کے ہال میں ایک ایکسٹر اکلاس ہوئی ۔ اس میں میں نے ایک گھنٹہ تقریر کی۔ اِس تقریر کا موضوع تھا ؛

اخوانِ رسول کا رول

اِس پروگرام میں سی پی ایس دہلی کے علاوہ عمری گروپ کے لوگ اور لکھنؤ کے حافظ سلمان نوری اور مولانا راشد وحید قاسمی بھی موجود تھے۔

25مارچ 2012

آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آ ج کی تقریر کا موضوع یہ تھا ؛

Divine Management of History

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کے خطاب میں بتایا گیا کہ مادی دنیا (Material World)قانونِ فطرت کے تحت کنٹرول ہو رہی ہے اور انسانی دنیا (Human World)کو خدا مینج (Manage)کر رہا ہے ۔ تقریر کے آخر میں سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ آج کے پروگرام میں دہلی کے علاوہ ، کرناٹک ، تمل ناڈو ، مہاراشٹریہ ، ناگ پور ، لکھنؤ کے مختلف افراد بھی تھے۔

26مارچ 2012

عمری صاحبان کے 6افراد کا ایک گروپ دہلی آیا اور 10دس یہاں رہا۔ اِس دوران اُن سے بہت سی باتیں ہوئیں ۔ آخری دن نصیحت کے طور پر میں نے اُن سے کہا کہ بنگلور میں آپ لوگوں کو دعوتی کام کے جو مواقع ملے ہیں ، وہ آپ کے لیے گولڈن چانس کی حیثیت رکھتے ہیں اور ایک مشہور مقولے کے مطابق ، گولڈن چانس صرف ایک بار کسی کا دروازہ کھٹکھٹا تا ہے ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اپنے اندر قابلِ پیشن گوئی کردار (Predictable Character)پیدا کریں ، اِس طرح آپ کامل طور پر اپنے آپکو نوپر ابلم انسان بنالیں ۔

27مارچ 2012

آج صبح دو حہ (قطر) سے مولانا عبد الباسط عمری کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں عمری لوگوں کا ایک بڑا حلقہ ہے۔ اس کے امیر جو خود بھی ایک عمری ہیں ، پہلے وہ ہمارے مشن کے مخالف تھے۔ مگر کل ایک نیا واقعہ ہوا۔ انھوں نے کل خود ٹیلی فون کر کے مجھ سے کتابوں کے بارے میں معلوم کیا۔ میں نے کہا کہ تمام کتابیں انٹرنیٹ پر موجود ہیں ، آپ اس کو انٹرنیٹ پر پڑھ سکتے ہیں ۔ عبد الباسط عمری نے کہا کہ کئی ماہ پہلے مولانا اقبال احمد عمری نے خواب دیکھا تھا کہ مذکورہ عالم اُن کے پاس آئے ہیں اور کہہ رے ہیں کہ مجھے کتابیں دو ، میں اس کو پڑھوں گا۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہےکہ مذکورہ عمری عالم کے اندر ہمارے مشن کے بارے میں ایک نیا تجسس پیدا ہوا ہے۔ وہ ایک ذہین آدمی ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ کتابوں کے مطالعے کے بعد اُن پر حقیقت کھل جائے۔

28مارچ 2012

آج صبح حیدر آباد سے حبیب بھائی کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نے کہا کہ کل میں ایک اجتماع میں گیا۔ یہ اہل قرآن گروپ کا اجتما ع تھا۔ وہاں سب کے سب مجھے احمق (Idiots)نظر آئے۔ میں نے کہا کہ آپ کے سنٹر پر اِسی قسم کے احمق لوگ آتے ہیں ۔ انھوں نے آپ کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا دیا ہے ۔ پھر میں نے کہا کہ پہلے آپ میری لائن پر چل رہے تھے ، بعد کو آپ نے انڈپنڈینٹ پوزیشن لے لیا۔ انڈپنڈینٹ پوزشن لینے کے لیے بہت اسٹرانگ اسکالر شپ درکار ہے۔ وہ آپ کے اندر موجود نہیں ۔

ٹیلی فون پر یہ گفتگو کافی دیر تک جاری رہی ۔ میں نے کہا کہ آپ بہت طاقت ور لہجے میں بولتے ہیں ، اِس لیے آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مدلل بات کہہ رہے ہیں ، حالاں کہ علمی اعتبار سے آپ کی باتیں طفلانہ ہوتی ہیں ۔ میں نے کہا کہ آپ کے والد سے زیادہ آپ کا خیرخواہ ہوں ۔ آپ کو میرا خیر خواہانہ مشورہ ہے کہ آپ صرف میری کتابیں پڑھیں اور پہلے کی طرح میری لائن پر کام کریں ۔ اگر آپ نے اِس سے انحراف کیا تو یقیناً آپ بھٹک جائیں گے ۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ااپ کا کیس بھی وہی بنجائے گاجو اکثر لوگوں کا کیس ہے۔ آخرت میںآپ دوسروں کی طرح حسرت کے ساتھ کہیں گے ؛

Mine was a case of missed opportunity.

آخر میں حبیب بھائی نے کہا کہ میں دہ مہینے کا وقفہ (Pause)لیتاہو ں ۔ دو مہینے تک میں اِس پر غور کروں گا ، پھر میں جس نتیجے پر پہنچوں گا ، وہ آپ کو بنا دوں گا۔

29مارچ 2012

آج کے اخباروں میں ایک رپورٹ آئی ہے ۔ ٹائمس آف انڈیا کے مطابق، اِس خبر کی سرخی یہ ہے ؛

Pak addicted to anti-India-terror use

پاکستان کا انڈیا کے خلاف نفرت میں اڈکٹ ہو جانا کوئی استثنائی واقعہ نہیں ۔ یہ اُس عمومی مزاج کا یک حصہ ہے جو کہ موجودہ زمانے کے تمام مسلمانوں میں پایا جاتا ہے ۔ موجودہ زمانے سےمسلمان مختلف اسباب سے تمام غیر مسلم قوموں سے نفرت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ نفرت بعض مقامات پر تشدد میں تبدیل ہو گئی ہے ۔ اِس نفرت اور تشدد کا جواز مسلمانوں نے جہاد میں تلاش کر رکھا ہے ۔ یہی منفی مزاج ، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے ۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مسئلہ نہ کسی کی سازش ہے اور نہ کسی کی دشمنی ۔ مسلمانوں کا اپنا منفی مزاج اُن کے تمام مسائل کا اصل سبب ہے ۔

30مارچ 2012

آج میری ایک کتاب ’’صبح کشمیر ‘‘ طباعت کے لیے پریس گئی ہے ۔ اِس کتاب میں میں نے اہل کشمیر کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ کشمیر پر انڈیا کے موجودہ غلبہ کو مان لیں اور سیاسی ٹکراؤ کے بغیر دعو ت الی اللہ کے میدان کو اپنا میدان عمل بنائیں ۔

یہ مشورہ روایتی مسلم ذہن کے بالکل خلاف ہے ۔ روایتی مسلم ذہن یہ ہے کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو۔ وہاں لازماً مسلم اکثریت ہونا چاہے ۔اِسی روایتی ذہن کی بنا پر کوئی مسلم عالم کشمیر یوںکو مذکورہ مشورہ نہ دے سکا۔ میرا مشورہ اجتہاد پر مبنی ہے ۔ موجودہ زمانے میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں ، اُس نے سیاسی اقتدار کو عملاً اضافی (Relative)بنا دیا ہے ۔ اگر کشمیری مسلمان انڈین آرمی کے ٹکراؤ نہ کریں تو کشمیر میںان کو وہ تمام دینی آزادیاں مزید اضافے کے ساتھ حاصل ہو جائیں گی جو کسی نام نہاد مسلم ملک میںلوگوں کو ملی ہوئی ہیں۔

31مارچ 2012

مولانا ابو البیان حماد عمری ( پیدائش ؛1923)کا ایک تعارفی خاکہ نئی دہلی کے اردو بک ریویو (جنوری -مارچ 2012)میں شائع ہوا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا عمری نے کہا کہ -میرے نزدیک ، سیکولر تعلیم کا مفہوم اِس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ الحاد ، ،دین بیزاری اور آخرت فراموش پر مبنی ہے۔ اِسی طرح مولان عمری ے پوچھا گیا کہ وہ کون سی کتاب ہے جس کو آپ بار بار پڑھنا چاہتے ہیں ۔ اِس کے جواب میں مولانا عمری نے کہا ؛ قرآن ۔ (صفحہ 11)

سیکولر ازم اصلاً ایک علمی نقطہ نظر ہے ، نہ کہ لامذہبی نقطہ نظر ۔ سیکولر اشم نام رلیجس(Non Religious)فکر پر مبنی ہے، مگر ہمارے علماء غلط فہمی کی بنا پر سیکولر ازم کو اینٹی رلیجس (Anti Religious)فکر کے ہم معنی سمجھتے ہیں ۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کا نام محض فیشن کے طور پر لیتے ہیں ۔ اگر وہ حقیقۃً قرآن کو پائے ہوئے ہوتے تو اُن کے اندر سراوفکر پیدا ہو جاتا۔