Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
1مئی 2012
ہزاروںنوری سال کے فاصلے پر نئی کھکھشاں دریافت
Newsclip
(روزنامہ انقلاب دہلی ، 30اپریل 2012،صفحہ9)
2مئی 2012
مشرقی ہندکے مسلمان اور جنوبی ہند کے مسلمانوں کے درمیان ایک عجیب فرق پایا جاتا ہے ۔ مشرقی ہند کے مسلمان عام طور پر جذباتی ہوتے ہیں ، اور جنوبی ہند کے مسلمان عام طور پر متحمل مزاج ۔ اِ س فرق کا ایک تجربہ ہمارے مشن میں ہوا ۔ سلمان گروپ ( لکھنؤ) ہمارے یہان کے شائع شدہ لٹریچر کو لوگوں میں تقسیم کر رہا تھا ۔ اِس پر اُن کے ادارے کے ذمے دار ( مولانا افضال الرحمٰن قاسمی ) سے ان کا اختلاف ہوا۔ چناں چہ حافظ سلمان اور مولانا افضال الرحمٰن قاسمی کے درمیان گفتگو ہوئی۔ حافظ سلمان نے کہا کہ آپ کے گرد جو لوگ جمع ہیں۔ وہ منافق قسم کے لوگ ہیں ۔ میرے نزیک یہ ایک جذباتی ریمارک ہے ، وہ کئی علمی تبصرہ نہیں ۔
دوسری طرف فیاض گروپ ( جامعہ داراسلام ، عمر آباد ) کا اختلاف اِس طرح جامعہ دار سلام کے ذمے داروں سے ہوا۔ عمری گروپ نے جواب میں صرف ایک بات کہی ، وہ یہ کہ ہم کو عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر درکار ہے ۔ آپ اگر سی پی ایس (نئی دہلی ) کے سوا کوئی دوسرا لٹریچر دے دیں تو ہم اُسی کو استعمال کریں گے اور سی پی ایس کے لٹریچر کو چھوڑ دیں گے۔
اختلاف ایک فطری امر ہے ، لیکن اختلاف کے وقت آدمی کو چاہیے کہ وہ علمی اسلوب میں اظہار خیال کرے۔ پرسنل ریمارک دینے سے وہ سختی کے ساتھ پر ہیز کرے۔
3مئی 2012
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن کے مطابق ، بندے کے اندر اللہ کے لیے خوف ِ شدید اور حبِ شدید ہونا چاہیے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ خوفِ شدید تو بہت سے افراد کے اندر پیدا ہوا، لیکن غالباً جب شدید کی اعلیٰ مثال تاریخ میں موجود نہیں ۔ اِس کا سبب غالباً یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جب شدید کے لیے انسان کے پاس ڈاٹا(Data)موجود نہیں تھا ۔ جدید سائنس نے پہلی بار انسان کو فطرت کی چھپی ہوئی نعمتوں سے باخبر کیا جو وہ ڈاٹا فراہم کرتی ہیں جو حبِ شدید پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں ۔ غالباً اِسی فرق کی بنا پر قرآن میں خوفِ شدید کی آیت جملہ فیصلہ کی صورت میں ہے اور حب شدید کی آیت جملہ اسمیہ کی صورت میں ، یعنی پہلی چیز کا ذکر بطور واقعہ ہے اور دوسری چیز کا ذکر بطور امکان ۔ صوفیا کے یہاں عشقِ الہیٰ کا جو تصور ہے ، اس کا عشقِ الٰہی سے کوئی تعلق نہیں۔ صوفیا آنکھ بند کر کے خدا کی جھلک دیکھتے تھے ، حب کہ حب شدید کا سر چشمہ یہ ہے کہ آڈمی کائنات ِ فطرت میں غور کر کے رحمت الٰہی سے اجزا دریافت کرے۔
4مئی 2012
سفر میرے لیے کبھی پسندیدہ چیز نہ تھا۔ سفر میرے لیے پہلے بھی مصیبت تھا اور اب بھی مصیبت ہے ۔ اگر چہ جہاں مجھ کو جانا ہوتا ہے ، وہاں ہر قسم کے عمدہ انتظامات موجود رہتےہیں ، مگر مجھے اُس سے کوئی راحت نہیں ملتی ۔ اِس کے باومود سفر کو چھوڑنے کی ہمت نہیں۔ کیوں کہ سفر میں جو تجربات ہوتے ہیں ۔ ان کا کوئی بل نہیں۔ آدمی کتنا ہی زیادہ مطالعہ کرے، لیکن سفر کے دوران تجربات کے ذریعے جو لرننگ ہوتی ہے ، وہ سفر کے علاوہ کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کی جاسکتی۔
5مئی 2012
استنبول کے توپ کاپی پیلیس میں ہم لوگ گئے۔ یہ عثمانی خلفا کا محمل تھا، اس کو میوزیم بنا دیا گیا ہے، اِس میوزیم میں جو چیز یں ہیں ، ان میں حضرت موسیٰ کا عصا، حضرت داؤد کی تلوار ، حضرت یوسف کی پگڑی ، وغیرہ۔ جیسی چیزیں بھی شامل ہیں ۔ یہ چیزیں بلا شبہ فرضی ہیں ۔ خلیفہ کے زمانے میں لوگ اِس طرح کی چیزیں لاتے تھے اور ان کو خلیفہ کے طرف سے بڑے بڑے انعام دیے جاتے تھے۔ ان چیزوں کو دیکھ کر مین نے سوچا کہ یہ خلفا زیادہ تو ہم پرست ہوں گے کہ ان چیزوں کو انھوں نے حقیقی سمجھ لیا اور اس پر بڑے بڑے انعامات دیے۔
6مئی 2012
آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ میں چوں کہ دہلی میں موجود نہیںتھا ، اِس لیے آج کے کلاس میں لوگوں کو میرا ایک ویڈیو لکچر دکھا یا گیا۔
7مئی 2012
آج صبح کو میں ترکی کے سفر سے واپس آیا۔ دہلی کے ائرپورٹ پر ایک واقعہ ہوا۔ایک ہندو نو جوان جو میری وھیل چیر چلا رہا تھا ، میری لڑکی فریدہ خانم نے اس کو دو ڈالر دینا چاہا۔ اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ آپ تو مجھ کو آشیرواد دیجئے۔ میرے بھائی کا امتحان ہونے والاہے، وہ اس میں پاس ہو جائے ۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کے لیے دعا کی۔
8مئی 2012
ترکی کی کانفرنس میں کچھ بڑے لوگوں کی آمد متوقع تھی۔ مگر وہ کسی وجہ سے نہ آسکے ۔ مثلاً فتح اللہ گولن ، شیخ محمد عمارہ ، وغیرہ۔ غالباً ایسا خدائی منصوبے کے تحت ہوا، کانفرنس میں اس کے منتظمین نے مجھ کو پرائم رول دیا۔ مذکورہ بڑے لوگ اگر وہاں آتے تو شاید ایسانہ ہوتا ۔ ترکی کے سفر کے بعد مجھ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالباً اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اہل ترکی کو ان کا دعوتی رول بتایا جا ئے۔ یہ کام معروف قسم کے بڑے ہر گز نہیں کرسکتے تھے، بلکہ وہ رکاوٹ بن جاتے ۔ اب میں نے یہ طے کیا ہے کہ انشاءاللہ اِسی موضوع پر ایک کتاب چھاپی جائے جس میں اہل ترکی ان کا دعوتی رول بتایا گیا ہو۔
9مئی 2012
آج کے روزنامہ انقلاب ( نئی دہلی ) میں یہ خبر چھپی ہے کہ ناناوتی سے دو نفری کمیشن پر اب تک حکومت کا 6کروڑروپیے خرچ ہو چکا ہے ۔ ناناوتی کمیشن گجرات فساد (2002)کے بعد فساد کی تحقیق کےلیے قائم کیا گیا تھا۔ تقریباً یقینی ہے کہ اس کمیشن کا کوئی بھی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ یہی اس قسم کے تمام کمیشنوں کا حال ہے ۔ کچھ دن تک وہ میڈیا کی خبروں میں رہتے ہیں اور اس کے بعد وہ ختم ہو جاتے ہیں ۔ اِس قسم کے کمیشنوں کی حیثیت سفید ہاتھی (White Elephant)کے سوا اور کچھ نہیں۔
10مئی 2012
ترکی کے سفر ( یکم مئی -6مئی 2012)کے بعد میرا احساس یہ تھا کہ موجود ہ زمانے کے علماء جدید ترکی کے مکمل طور پر بے خبر ہیں ۔ وہ جدید ترکی کو منفی ذہن ے تحت دیکھتے ہیں ، نہ کہ مثبت کے طور پر ۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے علماء کا یہی منفی ذہن دوسرے ممالک کے بارے میں بھی ہے ۔ مثلاً امریکا ، یورپ، اسرائیل وغیرہ۔ ہر ایک کے بارے میں ان کا خیال یہی ہے۔
11مئی 2012
روزنامہ انقلاب ( نئی دہلی ) میں ایک مشہور ندوی عالم کا بیان چھپا ہے ۔ اس میں وہ کہتےہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں پر پس ماندگی تھوپی گئ ہے۔یہ کوئی ایک شخص کی بات نہیں ۔ ہندوستان تقریباً تمام مسلمان خوان وہ مسٹر ہوں یا مولوی، بے رش ہو ں، یا با رش ، مذہبی ہوں ، یا غیر مذہبی ، سب ہندوستان کے بارے میں اِسی طرح کی سوچ رکھتے ہیں ، مگر یہ ۔
جب میں اِس قسم کی باتیں پڑھتا ہوں تو میں سوچتا ہوں کہ اِن لوگوں کے اندر آخرت کا ذرا بھی ڈر نہیں ۔ انھیں یہ احساس نہیں کہ ایسی باتیں کر رکے وہ یہ رسک ()لے رہے ہیں کہ آخرت میں ان کو مقصد اللہ ہر جگہ نہ ملے، آخرت میں وہ صرف مقعد کرب پڑھتے ہے۔
12مئی 2012
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ معرفت الگ چیز ہے اور اخلاص الگ چیز ہے ۔ معرفت کا تعلق شعور سے ہے اوراخلاص کا تعلق نیت (Intention)سے۔ وہ انسان مخلص انسان کہا جائے گا جس کے عمل کا محرک دنیوی مفاد نہ ہو، بلکہ آخرت کی نجات ہو ۔ لیکن معرفت شعوری ارتقا کی ایک حالت کا نام ہے ۔ اخلاص کسی کے اندر شعوری ارتقا کے بغیر پایا جا سکتا ہے ، لیکن معرفت کا حصول شعوری ارتقا کےک بغیر ممکن نہیں ۔ میں نے کہا کہ قرون مشہود لہا بالخیر کے بعد کو اخلاص کی تو ہزاروں مثالیں پائی جاتی ہیں، لیکن اعلیٰ معرفت ( شعوری ارتقا ) کی مثال غالباً کوئی موجود نہیں ،اور اگر ہے تو وہ ابھی تک میرے علم میں نہیں آئی ۔
13مئی 2012
آج اتوار کی ہفتے وار اسپریچول کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
The Problem of Intellectual Stagnation
اِس موضوع پر ایک گھنٹے کے خطاب میں میںنے ترکی کے اپنے حالیہ سفر کے کچھ تاثرات متفرق اندا ز میں بتائے ۔
لکھنؤ سے حافظ محمد سلمان نوری اپنے ساتھیوں مولانا راشد وحید قاسمی، وغیرہ کے ساتھ مارچ2012سے مسلسل ہر اتوار کی کلاس میں شرکت کے لیے لکھنؤ سے دہلی آتے ہیں ۔ وہ آج بھی کلاس میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ شریک تھے۔
14مئی 2012
مسٹر عادل آزاد مارکیٹ ( دہلی ) میں رہتے ہیں ۔ وہ اپنی ماں کو لے کر آئے۔ ان کی ماں کی عمر 61سال ہے۔ عرصہ ہوا، اُن کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل غم میں رہتی ہیں ۔ ان کے حالات سننے کےبعد میں نے ان کو دو مشورے دئے-ایک یہ کہ گھر کے معاملات کو آپ اپنے بیٹے کے حوالے کر دیجئے ۔ اس کے سوا گھر کے کسی معاملے کی خود سے ذمہ داری نہ لیجئے۔ کیوں کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ گھر کےک ہر معاملے کو اپنے ذمے لیے رہتی ہیں اور اس کی وجہ سے مسلسل پریشان رہتی ہیں ۔ دوسرا مشہورہ میں نے یہ دیا کہ آپ میرا فامولا پکڑ لیجئے -اپنے آپ کو بچاؤ اور دوسری ہر چیز کو بھاڑ میں ڈال دو :
Save yourself. Let everything else go the 'Bhar'.
بھاڑ والی بات پر وہ ہنس پڑیں۔ شوہر کے انتقال کے بعد غا لباً پہلی بات ، ان کو ہنسی آئی تھی۔
15مئی 2012
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میرے تجربے کےمطابق، آدمی کو چاہیے کہ وہ کامل یقین میں جیے ۔ یقین میں جینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی واقعات کی ایسی تو جیہہ کرے کہ واقعات اس کے لیے عقلی طور پر قابل فہم بن جائیں ۔ اِس قسم کی توجیہہ کے لیے اکثر بڑی شخصیتوں پر تنقید کرنا پڑتا ہے ۔ اِ س معاملے میں میرا تجربہ یہ ہے کہ آدمی اگر بد نیت نہ ہو تو اس کو حق ہے کہ وہ کسی بھی شخصیت یا کسی بھی واقعے پر آزادانہ تنقدی کرے ۔ تنقید مکمل طور پر ایک درست فعول ہے ، بشر طیکہ اس میں نیت کا بگاڑ شامل نہ ہو۔
یقین میں جینا اِس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یقین میں جینے کا مطلب ہے خدا کی تخلیق کو کامل معنوں میں ایک حکمانہ تخلیق کی حقیقت سے دریافت کرنا۔ اِس اعتبار سے جتنی کمی ہوگی، اتنی ہی ایمان میں کمی ہو جائے گی ۔ اپنے ذاتی احساس کے تحت میں اِس طرح مرنا نہیں چاہتا کہ خدا کی تخلیق اور تاریخ کے بارے میں ادنی درجے میں بھی کسی قسم کا شک میرے ذہن میں موجود ہو۔ میرا ذہن یہ ہے کہ خدا اور اس کی تخلیق کے بارے میں اپنے آپ کو یقین ِ کامل تک پہنچانے کے لیے آدمی کو حق ہے کہ وہ آخری حد تک اپنی قوتِ تفکیر کو استعمال کرے۔
16مئی 2012
آج ٹیلی فون کے ذریعہ معلوم ہوا کہ میری بیٹی ام اسلام کا نانڈیٹر میں انتقال ہو گیا ۔ ان کی عمر 62سال تھی۔ میرے تمام بچوں میں ام اسلام سب سے زیادہ نیک مزاج تھیں ۔ وہ اللہ کے اُن بنددوں میں سے تھی جن کےک دل میں برائی کا خیال بھی نہیں آتا۔ آخر عمر میں وہ Bed Riddenہو گئی تھی ۔ میرے دعوتی مشن میں اُن کے شوہر عثمان چاؤشی کا کافی حصہ تھا۔ تاہم ام السلام اپنی دعاؤں کے ذریعہ میرے مشن میں ہمیشہ شریک رہیں۔
ام اسلام کی۔
17مئی 2012
آج صبح کو امریکا سے خواجہ کلیم الدین صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ مب میں امریکا میں آتا تو یہاں میں ایک اسکول کا ٹیچر بن گیا۔ پھر امریکا کے بنیکوں میںایک تحریک چلی جس کو کہا جاتا تھارسکی انوسٹ مینٹ (Risky Investment)یعنی آدمی کےک سوائل کی جانچ کیےبغیر اس کو بڑا بڑا قرض دینا ۔ اُس وقت میں نے بھی بینک سے بڑا قرض لے کر فیلڈ یلفیا میں ایک بہت بڑا مکان خرید لیا۔ بعد کو مجھے معلوم ہوا کہ میرے جیسے ایک اسکول ٹیچر کے لیے اس کی قسطیں ادا کرنا نا ممکن ہے ۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ ہمارے اسکول میں ایک بلیک خاتون پرنسپل ہو کر آگئیں ۔ وہ ایک مختلف قسم کی عورت تھیں ۔ میں نے اس سے پہلے امریکا اور نائجیریا کے کئی اسکولوں میں کام کیا تھا ۔ اس کاتون پرنسپل نے اُس ساری مدت کو میرے سینئرٹی میں شامل کر لیا اور میر ی تنخواہ بہت بڑھا دی ۔ اِس طرح میں اِس قابل ہو گیا کہ میں ہاؤس لون (House Loan)کی قسطیں بینک کو ادا کر سکوں۔
میرے بچے ادھر ادھر جا کر سیٹل ہو گئے ۔ اب اس گھر میں صرف میں اور میری بیوی رہ گئے ۔ میں سمجھتا تھا کہ اتنا بڑ ا گھر خرید کر میں نے بیوقوفی کی ہے ، مگر اب میں بہت مطمئن ہوں ، کیوں کہ اِس بڑے گھر کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ میں دعوت کے کام کو زیادہ سے زیادہ پھیلا سکوں۔
میں جون 2011میں امریکا گیا تھا ۔ اُس وقت میں نے خواجہ کلیم الدین صاحب کا مکان کو دیکھا تھا ۔ اُس میں دعوت کا کام اتنے بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے کہ اس کو دیکھ کر میں نے کلیم الدین صاحب سے کاہ کہ -آپ نے تویہاں ایک دعوہ انڈسٹری کھولی ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی اگر اللہ کے کام کےلیے اخلاص کے ساتھ اپنے آپ کو چھونک دے تو اللہ ضرور اس کی مدد کرتا ہے ۔
18مئی 2012
آج ریڈیو پر اناؤنسر نے البرٹ آئن سٹائن کا یہ قول سنایا کہ -زندگی کی مثال با ئسکل کی سواری جیسے ہے ۔ تم اپنے جسم کا توازن بر قرار رکھو اور تم منزل پر پہنچ جاؤ گے :
Life is like a bicycle. Maintain your balance and you will reach the destination.
19مئی 2012
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے ۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حدیبیہ پرسنل کوئی سادہ چیز نہیں ۔ وہ تاریخ انسانی میں ایک نئے دور کا آغاز تھا:
It was to reduce a new concpet in the history of mankind.
اسلام سے قبل ہزاروں سال سے ساری دنیا میں لوگ ایک ہی طریقے کو جانتے تھے۔ وہ تھا بنی بر شمیشر طریقہ ۔ قدیم زمانے کا اصول تھا : الحرب أنفی للحرب (War for War)۔ حدیبیہ کے ذریعے تاریخ میں ایک نئے اصول کی متعارف کیا گیا ۔ وہ تھا : السلمہ أنفی للحرب(Peace for War)
مسلم علماء اور مفکرین نے صحابہ کا نمونہ یہ سمجھا ہے کہ ہر زمانے میں شمشیری جہاد کرتے رہیں ۔ میرے نزدیک یہ صحابہ کا نمونہ نہیں ۔ صحابہ کا صل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بے پناہ ۔ قربانیوں سے دور ِ شمشیر کو ختم کیا اور دورِ امن کا اغاز کیا۔ مگر میرے علم کے مطابق ، ہزار سالہ مسلم تاریخ میںکوئی بھی شخص نہیں جو اِس راز کو صحیح طور پر جانتا ہو۔ عبد اللہ بن عمر اور عمر بن عبد العزیز کے اقوال اس سلسلے میں پائے جاتے ہیں ، مگر وہ محض اقوال بن کر رہ گئے ، کیوں کہ بعد کے علماء اِن اقوال کی بنیاد پر کوئی مکمل آئڈیا لوجی نہ بنا سکے۔
20مئی 2012
آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :
اسپریچول سائنس اور میٹریل سائنس
اِس موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ آج کی تقریر میں بہت سے نئے لوگ آئے تھے۔ مثلاً حافظ محمد سلمان کے ساتھی-مولانا ادریس لکھنوی ، حافظ توصیف لکھنوی اور بعض دوسرے حضرات۔
21مئی 2012
ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ دہلی میں قائم شدہ ایک جرمن کمپنی میں کام کرتے ہیں، مجھ سے گفتگو ہوئی ۔ آخر میں میں نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ -پیسے سے بچیے مت دوڑیے ، پیسے کو اپنے پیچھے دوڑنے دیجئے۔
Don't chase moeny, let money chase you!
اِس کا فلسفہ یہ ہے جو آدمی پیسے کے پیچھے نہ دوڑے ، وہ اپنی ساری توجہ اپنی لیاقت کو بڑھانے میں لگا دے گا۔ اور جب وہ زیادہ لائق انسان بن جائے گا تو فطری طور پر ایسا ہوگا کہ پیسے والے اس کو تلاش کریں گے ، اس کو ضرورت نہ ہوگی کہ وہ پیسے کے پیچھے دوڑے۔
22مئی 2012
بنگلور کے عمری گروپ سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ۔ گفتگو کا موضوع شفاعت تھا۔ میں نے کہا کہ شفاعت کے مروّجہ تصور کو میں یقینی طور پر بے بنیا د سمجھتا ہوں ۔ شفاعت کا تصور ، اللہ کی قدرتِ کاملہ میں اروژن (Erosion)کے ہم معنی ہے ۔ دوسری بات میںنے یہ کہی کہ شفاعت کے مروجہ تصور سے نجات کے بارے میں یقین پیدا ہوتا ہے ، جب کہ حدیث میں آیا ہے کہ : الایمان بین الخوف الرحاء ۔ میں نے کہا کہ جو لوگ شفاعت کے مروجہ تصور کو مانیں ، اُن کے اندر اللہ سے خوف ِ شدید پیدا نہیں ہو سکتا۔
اس کے علاوہ نفسیاتی اعتبار سے غور کیا جائے تو سفاعت کا مروجہ تصور ذہنی ارتقا کے لیے قابل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ غالباً یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ بعد کی صدیوں میں مسلم علماء اور غیر علماء کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل تقریباً رک گیا ، کیوں کہ بعد کے زمانے میں عمومی طو ر پر مسلمانوں نے شفاعت کے تصور کو مان لیا۔ میں نے کہا کہ یہ بات یقینی ہے کہ شفاعت کا مروجہ تصور قرآن سے ثابت نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں کسی عالم کا قول اس معاملے میں کوئی بنیاد نہیں بن سکتا۔
23مئی 2012
بنگلور سے ٹیلی فون آیا۔ وہاں سارہ فاطمہ صاحبہ کے دعوۃ سنٹر پر کچھ امریکن آئے۔ یہ سب مذہبی لوگ تھے ۔ اس میں سے ایک مس اریکا (Ericka)تھیں سارہ فاطمہ نے ان سے بات کرتے ہوئے ان سے کہا کہ مجھے آخرت کی پکڑ کا بہت ڈر رہتا ہے ۔ امریکن لیڈی نے کہا کہ مجھے تو کئی ڈر نہیں ۔ ’’جب میں مسیح میں عقیدہ رکھتی ہوں تو مجھے آخرت کا کوئی ڈر نہیں ۔ کیوں کہ اٹونمنٹ (Attonment)کے عقیدہ کے مطابق مسیح سولی پر چڑھ کر میرے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں ۔
I believe in Jesus and I am sure that Jesus will save me. So there is no question to fear.
یہی عقیدہ خود مسلمانوں میںبھی شفاعت کے نام سے ہے ۔ اٹونمنٹ یا شفاعت کا نتیجہ یقینی نجات (Guranteed Salvation)کا تصور پیدا کرتا ہے ۔
24مئی 2012
ایک مسلمان لڑکی ملنے کے لیے آئی۔ اس کے ساتھ اس کی بڑی بہن بھی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ ائر انڈیا میں ائر ہاسٹس ہے اور وہ ہندو پائلٹ سے شادی کرنا چاہتے ہے۔ میںنے کہا کہ اِس معاملےکا ایک پہلو جائز اور نا جائز سے ہے ۔ میں اِس سے کچھ نہیں کہوں گا ۔ دوسرے پہلو کا تعلق نباہ سے ہے ۔ نباہ کے معاملے میں میں ایک بنیادہ بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں ، وہ یہ کہ شاعی میں نباہ کے لیے کلچرل مواقفت بہت ضروری ہے ۔اس لیے یا تو آپ ہندو کلچر کو اختیار کر لیں یا وہ پائلٹ مسلم کلچر کو اختیار کر لے ۔ اگر آپ دونوں میں سے کوئی ایسا نہ کرے تو یقیناً یہ شادی کسی نہ کسی دن ٹوٹ جائے گی۔ میں نے مشورہ دیا کہ آپ اِس قسم کی شادی نہ کریں بلکہ آپ کے والد جو کہیں ، آپ اُس پر عمل کریں۔
25مئی 2012
میں الرسالہ مشن اور سی پی ایس کے ساتھیوں سے ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ آپ لوگ اپنی بیویوں کو اپنا مقصد ی رفیق بنائیے ، یعنی مشن کا ساتھی ۔ ایک صاحب سے بارے میںمجھے معلوم ہوا کہ انھوں نے میری بات سنی، اس کے بعد انھوں نے باہر جاکر کہا کہ یہ تو ہر لوگوں کو زن مرید بنا نا چاہتے ہیں
یہ ایک نا سمجھی کا تبصرہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ مشن کا ساتھی یا مقصدی رفیق بننے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں -کامل وفاداری ، اور اعلیٰ شعوری ارتقا ۔ تجربہ یہ ہے کہ لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں جیتے ہیں کہ وہ کسی اور کے لیے کامل وفادار نہیں بنتے۔ مگر بیوی وہ شخصیت ہے جس کے اور شوہر کے درمیان مودّت (30:21)کاتعلق پیدا ہو جاتا ہے ۔ گویا اپنے ساتھی کے لیے جو وفاداری مطلوب ہے ، وہ بیوی کے اندر اپنے آپ موجود ہو تی ہے ۔ اب آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ مودت کی قدر دانی کرتے ہوئے اپنی ساری توجہ صرف ایک چیز پر مرتکز کرے ، اور وہ ہے ذہنی ارتقا۔
تفہیم القرآن میں مودت کی تشریح اِن الفاظ میں کی گئی ہے :
’’محبت سے مراد یہاں جنسی محبت (Sexual Love)ہے جو مرد اور عورت کے اندر جذب و کش کی ابتدائ محرک بنتی ہے اور پھر انھیں ایک دوسرے سے چسپاں کیے رکھتی ہے ‘‘۔ ( جلد 3،صفحہ 745)
اِس قسم کی تفیسر بلا شبہ تخلیق کے تم تر اندازہ کے ہم معنی ہے ۔
26مئی 2012
ایک تعلیم یافتہ مسلمان پہلے میرے بارےمیں کہتے تھے کہ وہ ایک اچھے ادیب ہیں ، وہ قلم کے بادشاہ ہیں ، لیکن دین کے معاملے میں ان کی باتیں قابلِ اعتبار نہیں ۔ وہ بہت دنوں تک اِسی رائے پر قائم رہے ۔ بعد کو انھوں نے میری کتابیں پڑھیں اور پھر ان کی رائے بدل گئی ۔ ایک ملاقات میں انھوں نے مجھ سے کہا کہ اب میں دین کے معاملے میں بھی آپ کو وزن دینا ہوں ۔
میں نے کہا کہ دو باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں ۔ایک یہ کہ آپ اپنی رائے کو فکری اعتبار سے بدل لیں ، اور دوسری چیز ہے اپنی ڈی کنڈیشنگ رائے بدلنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے ساتھ آپ کی ڈی کنڈیشنگ بھی ہوگئی ۔ عین ممکن ہے کہ فکری اعتبار سے اپنی رائے بدلنے کے بعد بھی آپ کی کنڈیشنگ باقی رہے ۔ بظاہر آپ اپنے قول سے میرا اعتراف کریں ، لیکن غیر شعور ی طور پر آپ کے اندر اعترافی کا مزاج باقی رہے۔ اگر ایسا ہو تو یہ آپ کی شخصیت کی تکمیل میں ایک مسلسل رکاوٹ بن جائے گا ۔ اِس لیے صرف فکری طور پر رائے بدلنا کافی نہیں ۔ اِسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آپ اپنے محاسبہ کر کے اپنی کنڈیشنگ کو مکمل طور پر توڑ دیں۔
27مئی 2012
آج حسب معمول اتوار کے ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا:
The concept of Paradise in Islam
اِس موضوع پر ایک گھنٹہ کے خطاب ہوا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ آج کئی نئے لوگ آئے تھے ۔ مثلاً لکھنؤ سے حافظ سلمان نوری کے ہمراہ مولانا محمد عظیم خان قاسمی ، وغیرہ ۔ اِسی طرح دوسرے کئی لوگ۔
28مئی 2012
مسٹر آصف ریاض ( سنڈے میگزین ، نئی دہلی )نے بتایا کہ انھوں نے اردو کی کئی تفسریں پڑھی ہیں ۔ مثلاً تفہیم القرآن ، تدبر قرآن ، وغیرہ ۔ میں نے حال میں تذکیر القرآن ( مولانا وحید الدین خاں ) کا مطالعہ کیا۔ تذکیر القرآن اور دوسری تفسیروں میں میں نے ایک فرق پایا۔ وہ یہ کہ تذکیر القرآن کے تشریحی کوٹ پڑھ کر یہ محسو س ہوتا ہے کہ ہم ابھی تک قرآن کو پڑھ رہے ہیں ، جب کہ دوسری تفسیروں کے تشریحی نوٹ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم قرآن کو نہیں ، بلکہ خود مفسر کے حواشی میں گم ہو گئے ہیں ، ہم قرآن کو نہیں بلکہ مفسراپنے بیان کو پڑھ رہےہیں ۔ تذکیر القرآن میں جب ہم ترجمہ کے بعد تفسیر پڑھتے ہیں تو ہم کو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ابھی قرآن ہی کے ماحول میں ہیں ، ہم قرآن کے ماحول سے نکلے نہیں ہیں۔
( محمد ذکوان ندوی )
29مئی 2012
میرے خسر حافظ حسن علوی ( وفات : 1959)نہایت ذہین آدمی تھے۔ وہ باقاعدہ صوری تھے اور سلسلے میں بعیت بھی تھے ۔ محمد فاروق خاں سلطان پوری ( ایم اے ، ہندی ) اُن سے ملے ۔ فاروق خاں صاحب جماعت اسلامی ہند کے رکن تھے ، لیکن مزاج کے اعتبار سے وہ سوفیا نہ مزاج کے آدمی تھے۔ انھوں نے مولانا سعید صاحب سے کہا کہ مجھ کو آپ اپنے سلسلے میں بیعت کر لیجئے ۔ مولانا سعید صاحب کو تردد ہوا۔ کیوں کہ وہ لوگ جماعت اسلامی کے خلاف تھے۔ مولانا سعید صاحب نے اِس کا ذکر اپنے پیر حافظ حامد حسین علوی سے کیا۔ پیر صاحب نے ان کو بیعت کی اجازت دے دی۔ اُس وقت انھوں نے جو جملہ کہا تھا ، وہ بہت عجیب تھا ۔ انھوں نے اپنے خلیفہ مولانا سعید سے کہا : اجی ، آدمی دیکھا جاتا ہے کہ جماعت۔
پیر صاحب اِس جملے میں بہت بڑی بصیرت (Wisdom) ہے ۔ یہ بصیر ت کی وہ قسم ہے جو شاید موجودہ دنیا میں سب سے زیادہ کم یاب ہے۔
30مئی 2012
دوحہ (قطر ) سے مولانا عبد الباسط عمری کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ 27مئی 2012کے لیکچر کو انھوں نے آن لائن سنا۔ اِس کا موضوع جنت تھا۔ انھوں نے بتایا کہ میں اور میری اہلیہ اس سے اتنا زیادہ متاثر ہو ئے کہ اب تک ہم نے اس کو 10بار سنا اور بھی تک اس کو مزید سننے کا شوق ہے ۔
عبد الباسط عمری صاحب پہلی بار جب ہمارے یہاں آئے تھے تو ان سے بات کر کے ان کے بارے میں میری رائے اتنی زیادہ منفی ہو گئی تو میں نے اُس سے کہا کہ آپ یہاں سے جائیے ، آپ میرے بس کے نہیں ہیں ۔ اُس وقت ڈاکٹر فریدہ خانم وہاں موجود تھیں۔ انھوں نے عبد الباسط صاحب کو روکا اور مجھ سے کہا کہ ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا کیجئے ۔ وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئے اور میں نے کھڑے ہو کر ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور ان کے لیے دعا کی ان کا بیان ہے کہ دعا کے بعد ہمارے مشن کے بارے میں ان کا کنفیوژن پوری طرح ختم ہو گیا۔ اُس وقت سے اب تک وہ ہمارے مشن سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں ۔
31مئی 2012
استانبول ( ترکی ) میں ایک ادارہ قائم ہوا ہے ۔ اِس ادارے کا نام یہ ہے :
Istanbul World Political Forum
18-19مئی 2012کو اس کا تیسرا عالمی اجلاس استانبول میں ہوا۔ اس میں 48ملکوں سے دانش ور شریک ہوئے۔ اس کی بنیادی تھیم یہ تھی ۔
ملی گزٹ ( نئی دہلی ) کے ایڈیٹر ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں ترکی کے اِس پروگرام میں شریک تھے۔ ان کی رپورٹ ملی گزٹ کے شمارہ 1-5جون 2012میں چھپی ہے ۔ اِس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہاں آنے والوں نے کیا باتیں کہیں ۔ اِس رپورٹ کے چند جملے یہ ہیں :
Turkey has soft power status in the world in general and the Middle East in particular.
Turkey is fast energing as a world leader.
The world is moving east and Turkey is at the right place.
Turkey of today is a nation of tomorrow.
Turkey is the main pillar of the Alliance of Civilizations.