Diary 2012

November 2012

Diary 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (13 chapters)
  1. January 2012
  2. January 2010
  3. February 2012
  4. March 2012
  5. April 2012
  6. May 2012
  7. June 2012
  8. July 2012
  9. August 2012
  10. September 2012
  11. October 2012
  12. November 2012
  13. December 2012

1نومبر 2012

خواجہ کلیم الدین صاحب امریکا میں رہتے ہیں ۔ انھوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ امریکا کے مسلمان فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ میں تو ایک فیملی اور ینٹیڈ انسان ہوں ۔ اِ س کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جاب کے بعد جو وقت بچتا ہے ، اس کو میں اپنی فیملی میں گزارتا ہوں ، میری خوشیوں کا مرکز فیملی ہے ۔

میں نے کہا کہ یہ کوئی اچھی علامت نہیں ۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن کی اِس آیت میں بیا کیا گیا ہے : وکان فی أھلہ مسروراً (84:13)یعنی وہ اپنے اہل وعیال کے درمیان مگن رہتا تھا۔

2نومبر 2012

حبیب بھائی کے والد بابو بھائی (غلام محمد ) حیدر آباد میں رہتے ہیں۔ ان کا انتقال 1987میں ہو گیا ۔ انتقال کے وقت ان کی عمر صرف 53سال تھی ۔

بابو بھائی کو الرسالہ سے والہانہ تعلق تھا ۔ وہ الرسالہ مشن کے لیے وقت اور پیسہ دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ ان کی وفات کے وقت ان کے بیٹے حبیب بھائی نے کہا کہ -آپ کا ایک عاشق چلا گیا ۔ حبیب بھائی نے بتایا کہ وفات کے بعد جب وہ اُن کے کمرے میںگئے تو ان کے بستر پر تکیہ کے پاس میری کتاب ’’آخری سفر ‘‘ رکھی ہوئی تھی ۔ حبیب بھائی نے بتایا کہ اپنے آخری زمانے میں وہ زیادہ تر اِسی کتاب کو پڑھا کرتے تھے ، بابو بھائی حیدر آباد میں الرسالہ مشن کا ستو ن تھے ۔ ان کے بعد حیدر آباد میں اِس طرح کا کوئی آدمی اِ س مشن کے لیے نہ مل سکا ۔ میں اب تک یہ دریافت نہ کر سکا کہ بابو بھائی جیسے قیمتی انسان کی موت اتنی کم عمری میں کیوں ہو گئی ۔

(بابو بھائی پر میرے تاثراتی مضمون کے لیے ملاحظہ ہو ، مان نامہ الرسالہ ، ستمبر 1987،صفحہ 25)

3نومبر 2012

تاریخ کے ہر دور میں یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ رہنما اور مفکرین سماجی اور سیاسی حالا ت کو لے کر تحریکیں چلاتے ہیں۔ وہ سیاسی اور سیاسی برائیوں کو دو ر کرنے کے نام پر ہنگامے کرتے ہیں ، لیکن عملاً یہ نشانہ تاریخ میں کبھی پورا نہیں ہوا۔ اِس کا سبب کیا ہے ۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ لوگ خدا کے منصوبے کو جانے بغیر تحریکیں چلاتے ہیں۔ خدا کا منصوبہ یہ ہے کہ انسانی آزادی کو بر قرار رکھتے ہوئے کام کیا جائے ،جب کہ رہنماؤں اور مفکروں کی تحریک کی کامیابی اُس وقت ممکن ہے جب کہ انسانی آزادی کو منسوخ کر دیا جائے۔

4نومبر 2012

آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :

The Importance of Wisdom in Islam

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کی تقریر ہوئی ۔ تقریر کے بعد سوال و جواب پر پروگرام ہوا۔

سی پی ایس کے تحت ایک دہلی فیلڈ ٹیم (DFT)کی تشکیل گزشتہ بر س ہوئی ہے ۔آج اس کی ماہانہ میٹنگ تھی۔ یہ میٹنگ ہر ماہ سے پہلے اتوار کو ہوتی ہے ۔

5نومبر 2012

آ ل انڈیا ریڈیو پر روزانہ آدھے گھنٹے کا ایک پروگرام آتا ہے ۔ اِس میں اسٹال مارکیٹ کی معلومات ہوتی ہیں ۔ اِس پروگرام کا نام ہے منی ٹاک (Money Talk)۔ اس میں ہر دن ایک اکسپرٹ بلایا جاتا ہے۔ جو ٹیلی فون پر لوگوں کے سوالات کا جواب دیتا ہے ۔ آج اکسپرٹ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ایک اصطلاح استعمال کی۔

ہائی رٹرن ڈپازٹ (High Return Deposit)۔ جو لوگ اپنے پیسوں کو بینکوں میں لگاتے ہیں ، اس میں مختلف صورتیں ہوتی ہیں ۔ ایک صورت وہ ہوتی ہے جس میں پیسہ لگانے سے زیادہ بڑا رٹرن (Return)ملتا ہے اور دوسری صورت وہ ہے جس میں کم رٹرن ملتا ہے ۔ اِس پروگرام کو سنتے ہوئے مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آئی جس میں کہا گیا ہے کہ جو اللہ کو قرض دے گا ، اس کو آخرت میں اصغافِ کثیرہ (2:245)کی صورت میں اِس کا رٹرن ملے گا۔

6نومبر 2012

کشمیر کے حاجی محمد شفیع ڈار (Tel: 09906479729) ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ۔ میں نے کہا کہ 1947کے بعد کشمیر میں جو قیامت ابھری ، اُس پر اب 60سال سے زیادہ کی مدت گزر چکی ہے ۔ اِس قیادت کے نمائندہ شیخ محمد عبد اللہ اور سید علی شاہ گیلانی جیسے لوگ تھے۔ اِس قیادت کو کشمیر میںزبردست مقبولیت حاصل ہوئی ۔ مگر 60سال سے زیادہ مدت تک پُر شور ہنگاموں کے باوجود اہل کشمیر کو نقصان کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوا ۔ اب آپ لوگوں کو۔ مکمل معنوں میں یو ٹرن لینا چاہیے میں نے کہا کہ ہم نے ایک کتاب چھاپی ہے ۔ اس کا نام ہے ’’صبح کشمیر ‘‘ ہے۔ وہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے ۔ آپ خود بھی اِس کتاب کو پڑھیں اور تمام کشمیریوں کو اس کا م طالعہ کرائیں ۔

7نومبر 2012

پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے نیشنل منجمینٹ کالج ( اسلام آباد ) میں وہاں کے طلبا اور استاذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہ کہ وہ دن گئے جب ملکی استحکام کا تعین ٹینکوں اور میزائلوں کی تعداد سے ہو ا کرتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آج قومی سلامتی کا تعین اپنے عوام کی فلاح و بہبو د اور ان کے حقوق کے تحفظ سے ہوتا ہے ۔ (روزنامہ راشٹر یہ سہارااردو، نئی دہلی ، 7نومبر 2012)

پاکستا ن کے چیف جسٹس کا یہ بیان بظاہر ایک خوش نمابیان ہے ، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کا ارتکاب ہے ۔ پاکستان کی اصل کمزوری یہ ہے کہ اس کی بنیاد اینٹی ہندو نظریے پر رکھی گئی ، اور آج بھی وہ مزید اضافے کے ساتھ اینٹی غیر کے نظریے پر قائم ہے ۔ پاکستان کو جب تک اِس منفی جنگل سے نہ نکالا جائے اور وہاں مثبت فکر کورواج نہ دیا جائے، اُس وقت پاکستان میں کوئی سدھار آنے والا نہیں۔ پاکستا ن میں کسی نئے آغاز کا امکان صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ وہاں کے لوگ کھلے طور پر یہ اعلان کریں کہ : ہم غلطی پر تھے۔ ہم نے ایک باطل نظریے پر پاکستان کی بنیاد رکھی ۔ اور پاکستان بننے کے بعد اِس باطل نظریے کو فروغ دیتے رہے ۔ ہندو اور مسلمان دو قومیں ہیں اور ہندو ابدی طور پر مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ یہی وہ نظریات ہے پاکستان کو قائم کیا گیا اور یہ نظریات بلاشہ مکل طور پر بالکل باطل ہیں۔

8نومبر 2012

شفاعت کے مسئلے پر ارشد جمال قادری ( امبیڈ نگر ، یوپی ) کا ایک خط موصول ہوا۔ میرے علم کے مطابق، شفاعت پر مبنی نجات کا تصور اسلام میں بلاشبہ ایک اجنبی تصور ہے ۔ اصل میں دو چیزیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک چیز ہے سفارش (Reccomendation)اور دوسرا ہے ، تعار (Introduction)۔شفاعت بمعنی سفارش ، اسلام میں بلا شبہ ایک اجنبی چیز ہے ۔ البتہ شفاعت بمعنی تعارف ایک فطری چیز ہے اور اس کا تصور اسلام میں موجود ہے ۔ اصحاب ِ اعراف یہی لوگ ہیں جو تعارف کرنے کے لیے مقامِ بلند پر کھڑے کیے جائیں گے ۔

تاہم تعارف کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ایسی بات بتانا جن کا علم اللہ تعالیٰ کو نہیں ہے ۔ یہ در اصل اصحاب ِ اعراف یا دُعاۃ بشمول انبیا ، سے اکرام کے لیے ہوگا۔ جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول کی شفاعت پر لوگوں کو آخرت میں جنت ملے گی ، وہ بلاشبہ رسول سے بھی بے خیر اور اللہ سے بھی بے خیر ۔ اِس قسم کی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو فنیات کے عالم تو ضرور ہیں ، لیکن وہ معرفت کے علم نہیں۔

9نومبر 2012

دہلی میں میرا قیام 1967سے ہے۔ شروع میں جب میں دہلی آیا، اُس وقت دہلی کے تعلیم یافتہ مسلمان یہ کہتے تھے کہ ٹائمس آف انڈیا ایک اینٹی مسلم اخبار ہے ۔ وہ مسلمانوں کی کوئی چیز نہیں چھا پتا ۔ میرا تجربہ اس کے بر عکس ہے ۔ ٹائمس آف انڈیا ہندوستان کا سب سے بڑا اخبار ہے۔ وہ میرے مضامین مستقل طور پر چھاپ رہا ہے ۔ ٹائمس آف انڈیا میں میرا پہلا مضمون 1993میں چھپا تھا۔ اس کے بعد سے برابر میرے مضامین ٹائمس آف انڈیا میں چھپ رہے ہیں ۔ 7نومبر 2012کو ٹائمس آف انڈیا میںمیرا ایک مضمون چھپا ہے ۔ اس کو لے کر اب تک اس میں 55مضامین چھپ چکےہیں۔ انٹر وئیٹ کے مطابق، میرے یہ مضامین بہت زیادہ پڑھے جارہے ہیں ، حتی کہ ہندو لکھنے والوں بے بھی زیادہ ۔ میرا تجربہ ہے کہ منفی سوچ اگر ایک بار آدمی کے اندر پیدا ہو جاتی ہے تو ہمیشہ کے لیے وہ اس کو اندھا بہرا بنا دیتی ہے ، اللہ ماشاء اللہ۔

10نومبر 2012

آج صبح کراچی (پاکستان ) سے عبد الطیف صاحب کا ٹیلی فون آیا ۔ وہ پاکستان میں الرسالہ مشن کے لیے باقاعدہ کام کر رہے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ انھوںنے ایک صاحب کو میرا ایک لکچر سنایا ۔ انھوں نے لکچر کو سن کر کہا کہ ان کی باتیں سب کر اکابر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ میںنے کہا کہ یہ کوئی اسلام کی بات نہیں ہے ۔ یہ زوال یافتہ نفسیات کے تحت نکلا ہوا کلام ہے ۔ پہلے زمانے میں جب کہ اسلام زندہ تھا، اُس وقت کہنے والا یہ کہتا تھا کہ : ایتوفیی بشیی من کتاب اللہ حتی أقول ۔ اب آج کل کے مسلمان اِس کے بجائے یہ کہتے ہیں کہ : ایتوفیی بشیی من أکابر نا حتی أقول ۔ اس قسم کی نفسیات کا اسلام سے بلا شبہ کوئی تعلق نہیں۔

11نومبر 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :

موجودہ زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل :

Issues in Islam.

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا ۔ اس کے بعد سوال و جواب پر پروگرام ختم ہوا۔ اس کے بعد ظہر کی نماز با جماعت ادا کی گئی۔

12نومبر 2012

ندائے دارالعلوم وقف ( دیوبند، سہارن پور ) کے شمارہ ستمبر -نومبر 2012میں مفتی برکت اللہ ( سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک فورم ، لندن) کی ایک تقریر چھپی ہے ۔ ان کی آٹھ صفحے کی اس تقریر کا ایک حصہ یہ ہے :

’’جیسا کہ کہا گیا ہے کہ ہم نے حدیث کو فقہ کا تابع بنا دیا ہے ۔ کیو ں کہ ہمارا مزاج فقہی ہو گیا ہے ۔ میںاپنے آپ کو بھی اس میں شال کرتا ہوں۔ میں بھی ا س ترتیب کا پڑھا ہوا ہوں، تو حدیث کو آزاد کرنے کی ضرورت ہے ‘‘۔(صفحہ37)۔

فاضل مقرر نے اُسی نظام ِ تعلیم میں تعلیم حاصل کی ہے جہاں حدیث کو فقہ کے تابع قرار دے کر درس و تدریس کا کام کیا جاتا ہے ۔ پھر فاضل مقرر کو کیے معلوم ہوا کہ حدیث کو فقہ کے تابع کر دیا ہے ۔ یہاں مقرر سے ’’کہا گیا ہے ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ، مگر انھوں نے کہنے والےکا نام نہیں بتایا ۔ میرے علم کے مطابق ، یہ بات صرف میں نے کہی ہے ۔ تقریباً یقینی ہے کہ انھوں نے میری تحریر سے اس کو جانا ہے ، لیکن انھوںنے اپنی تقریر میں دوسرے بعض افراد کے نام لیے ہیں، لیکن انھوںنے میرا نام نہیں لیا -موجودہ زمانے میں اہل علم کے درمیان یہ طریقہ بہت عام ہے ۔

13نومبر 2012

کچھ مسلم نو جوان میر ے پاس آئے ۔ وہ ہمارے مشن سے متاثر ہیں ۔ انھوں نے شادی کے بارے میں میں میرا مشورہ پوچھا ۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں شادی کا معاملہ ایک بے حد سنجیدہ معاملہ ہے ۔ اپنے تجربے کی روشنی میں میں کہوں گا کہ -آدمی یا تو شادی نہ کرے، اگر شادی کر لیا ہے تو بچہ پیدا نہ کرے ، اور اگر بدہ پیدا کر لیا ہے ۔ تو اس کو وہ اپنا کنسرن (Concern)نہ بنائے ۔ میںنے کہا کہ یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے ۔ میں موجودہ زمانے کے بارے میں یہ بات اپنے لمبے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔

14نومبر 2012

آج میں نے سی پی ایس ( نئی دہلی ) کی ایک ممبر مز نغمہ صدیقی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جب برائی اتنی زیادہ بڑھ جائے کہ تم اس کی اصلاح کے لیے اپنے آپ کو عاجز محسوس کرنے لگو تو تم اپنی فکر کرو۔ (علیک نفسک و دع عند العرام)

میں نے کہا کہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم محسوس کرو کہ تم اصلاح پر قادر نہیں ہو تو اُس وقت تم اپنے آپ کو غیر جانب دار (Indifferent)بنا لو۔

15نومبر 2012

صغیر اسلم صاحب پاکستا ن میں پیدا ہوئے ۔ نو جوانی کی عمر میں وہ امریکا چلے گئے ۔ وہاں انھوں نے کیلی فورنیا میں بزنس کرکے کافی پیسہ کمایا ۔ اس کے بعد انھوں نے کچھ لوگوں کے تعاون سے کیلی فورنیا میں مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک اسکول قائم کیا ۔ اُن کا خیال تھا کہ اِس اسکول میں تعلیم دے کر وہ امریکا میںمقیم مسلمانوں کی نئی نسل کو امریکی کلچر کے مفاسد سے بچا سکیں گے ، مگر اُن کا اسکول اِس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اب دوسری تدبیر کے طور پر وہ پاکستان گئے ہیں ، وہاں انھوں نے اپنے وطن ( کمالیہ ، پنجاب ) میں ایک یتیم خانہ (Orphnage)قائم کیا ہے ، جس میں یتیم بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے ۔ اِس سلسلے میں میں نے صغیر اسلم صاحب کا ایک انٹر ویو میں سنا انٹرنیٹ پر سنا۔

اس انٹر ویو میں انھوں نے اپنے نئے منصوبے کا تعارف کرتے ہوئے کہا کہ -ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم آج کے کمزور ترین کو کل کا طاقت ور ترین بنائیں۔

اُن کا یہ جملہ سن کر میں نے سوچا کہ صغیر اسلم صاحب نے اپنے لیے صحیح مقصد کا انتخاب نہیں کیا ہے ۔ یہ مقصد یقینی طور پر پورا نہیں ہوگا اور آخر کار اُن کے حصے میں نا کامی کے احساس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔

Our Vision is to help and promote the weakest of today to make them the most powerful of tomorrow.

16نومبر 2012

آج صبح کو میں سو کر اٹھا تو گھڑی میں چار بجے کا وقت تھا۔ فجر کے وقت کو ابھی تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی دیر تھی۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔ گھر کے اندر اُس وقت صرف دو آدمی تھی-ایک کمرے میں میں ، او ر دوسرے کمرے میں فریدہ ۔ تنہائی کے اِس ماحول میں مجھے وہ واقعہ یاد آیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ ثور میں تھے اور آپ کے ساتھ صرف ابو بکر تھے۔ اُس وقت رسول اللہ کی زبان سے یہ جملہ نکلا تھا۔ما ظنک ٔباتبغن اللہ ثالتہا مجھے محسوس ہو کہ میں دوبارہ گویا ایک غارِ ثور میں ہوں، اور فرشتہ اُن تاریخی الفاظ کا اعادہ کرتے ہوئے کہہ رہا ہے: ما ظنک ٔباتبغن اللہ ثالتہا۔

17نومبر 2012

حضرت موسی کے زمانے میں فرعون کے دربار میں ایک ایسا شخص نکلا ، جس نے حضرت موسی کی حمایت کی۔ اِس شخص کو قرآن میں ’’رجل من ألِ فرعون ‘‘(40:28)یہ صرف ایک شخص کی بات نہیں ، بلکہ وہ ایک سنت اللہ کی بات ہے ۔ یہ اللہ کی ایک سنت ہے کہ جب دعوت حق کے لیے عمومی تعاون نہ ملے تو اللہ ہر مقام پر ایک فرد کھڑا کر دیتا ہے ، جو دعوت الی اللہ کے کام کا معاون بن سکے۔ الرسالہ مشن کے ساتھ ، اللہ کے فضل سے ایسا ہی معاملہ ہوا۔ اِس مشن کو مسلمانوں کا عمومی تعاون نہیں ملا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اِس مشن کو کامیاب کرنے کے لیے یہ کیا کہ بڑے بڑے شہروں میں ہر جگہ ایک فرد کھڑا کر دیا جو کہ اپنے آپ کو وقف کر کے اِس مشن کو چلا رہے ہیں ۔ مثلاً امریکا میں خواجہ کلیم الدین ، انگلینڈ میں شمشادمحمد خاں، مسقط میں مولانا محمد اکرام الزہری ، بنگلور میں سارہ فاطمہ ، جنوبی ہند میں مولانا اقبال احمد عمری ، ممبئی میں ہارون شیخ ، پاکستان میں مولانا عبد اللطیف کراچی ، لکھنؤ میں حافظ محمد سلمان نوری ، وغیرہ۔

18نومبر 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا عنوان یہ تھا :

Age of Peace

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا۔ آج کے پروگرام میں کئی نئے لوگ بھی موجود تھے مثلاً ممبئی کے مولانا عبد اللہ قاسمی ، وغیرہ ۔ مولانا عبد اللہ قاسمی الرسالہ مشن سے پورا تفاق رکھتے ہیں اور ممبئی اور اس کے اطراف میں الرسالہ مشن کے تحت دعوتی کام کر رہے ہیں ۔

19نومبر 2012

مولانا اسرار الحسن خطیب عمری ( تمل ناڈو ) اِس سال حج کے لیے گئے تھے۔ انھوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ بظاہر حج میں حاجیوں کی تعداد بہت ہوتی ہے ، لیکن اسپرٹ مقصود ہے ۔ انھوں نے کئی واقعات اور تجربات بتائے ۔ ایک واقعہ تھا کہ ہوائی جہاز میں انھوں نے ہوائی جہاز کا عملہ (Crew)کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ اِس کے بعد ایک ائر ہاسٹس جس کا نام ریکھا تھا ، اُن کے پاس آئی ۔ اس نے بتایا کہ میرا یہی پیشہ ہے اور میں برابر ہوائی جہاز میں جاتی ہوں، لیکن سب سے زیادہ پریشانی مجھ کو حاجیوں کے جہاز میں ہوتی ہے ، کیوں کہ وہ لوگ لڑائی جھگڑا بہت کرتے ہیں اور بات نہیں سنتے۔ اُس نے ایک واقعہ بتایا میں ایک حاجی معذور تھا۔ ریکھا نے اس کو ایک مناسب سیٹ پر بٹھا دیا۔ اس کے بعد ایک حاجی آئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سیٹ میری ہے، اِس مسافر کو یہاں سے ہٹائیے ۔ ریکھا نے بہت سمجھایا، مگر وہ نہیں مانے ۔ انھوں نے معذور حاجی کے سرکے بال پکڑ کر اس کو کھینچا اور زبردستی سیٹ سے ہٹا دیا۔

20نومبر 2012

تاریخ کے تمام جھگڑے اور لڑائیاں بنیادی طور پر ایک غلطی کا نتیجہ ہیں، اور وہ ہے اوور ری ایکشن (Overreaction)اوور ری ایکشن کے لیے اردو یا فارسی یا عربی میںکوئی لفظ موجود نہیں، اِس لیے مسلم علماء اور رہنما اِس کو سمجھ نہیں پائے اور بار بار دو اِس میں مبتلا ہوئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ کسی نا موافق صورت حال پر اوور ری ایکٹ نہ کیا جائے، مگر حدیث اور سیرت کی کتابوں میں یہ لفظ موجود نہیں ، اِس لیے کوئی اِس کو سمجھ نہیں پایا ۔ مثال کے طور پر قابیل نے جب ہابیل کو قتل کیا تو وہ اوور ی ایکشن کا معاملہ تھا۔ یہ مثال انسانی تاریخ کے آغاز ہی میں قائم کر دی گئی تھی، مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری تاریخ میں کوئی بھی شخص اِ س کو سمجھ نہیں پایا، مسلم بھی اور نان مسلم بھی ، کیو ں کہ لوگوں کی ڈکشنری میں اس کے لیے کوئی واضح لفظ موجود نہ تھا۔ ؎

21نومبر 2012

مسلمانوں کے درمیان علم کو فقہ کہا جاتا ہے ۔ اس کا صحیح نام علمِ احکام ہونا چاہیے ۔ فقہ کا لفظ تفقہ سے نکلا ہے ، اور تفقہ کا مطلب تدبر ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، فقہا کے یہاں تدبر اور نفقہ بالکل حذف ہے ۔ وہ لوگ صرف فنی اعتبار سے دین کے احکام کا تعین کرتے ہیں ، اِس لیے علم ِ فقہ کا صحیح نامِ علم احکام یا علم مسائل ہونا چاہیے ۔ یہ معاملہ در اصل غلط تسمیہ (Wrong Nomenclature)کا معاملہ ہے۔ اِس غلط تسمیہ کی بنا پر پوری امت ایک غلطی میں مبتلا ہو گئی ۔ لوگ فقہی مسائل کے مطابق ، دینی احکام پر عمل کر تے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ادین دار بن گئے ، حالاں کہ اِس قسم کی دین داری ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص ایک میوے کا قِشر (چھلکا) لے لے اور اس کا مغز چھوڑ دے۔

22نومبر 2012

موجودہ علماء کے یہاں عام طور پر دین کا جو تصور ہے، وہ ہے فقہی احکام کے مطابق، زندگی گزارنا ، مگر یہ درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ ربانی اسپرٹ کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام دین ہے ۔ دین داری کا تعین آدمی کی داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ آدمی کے خارجی اعمال یا ظاہری اعمال کے اعتبار سے ۔ یہی بات حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: انما الأعمال بالنیات۔

23نومبر 2012

ایک مفکر نے کہا ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق جو اقداد کا مجموعہ ہے :

Man is a mixture of opposites.

زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انسان کو اِس دنیا میں تضادات کے درمیان جینا پڑتا ہے ۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اِس تضاد کو مینج کر سکے۔ صحیح اور غلط کے ڈھیر میں صحیح کو دریافت کر نا، اشتعال انگریز واقعات کے درمیان اشتعال کے بغیر رہنا، منفی حالات کے درمیان اپنی مثبت سوچ کو بر قرار رکھنا۔ اکثر علما نے یہ کیا ہے کہ وہ دین میں جہاد بمعنی قتال کو اصل قرار دیتے ہیں ، مگر صحیح یہ ہے کہ دین کی اصل بنیاد صبر ہے ، نہ کہ جہاد و قتال اِسی صبر پر انسان کے لیے آخرت میں جنت ہے : ذلک جز نیاھم بنا صبروا۔

24نومبر2012

قیامت کیا ہے ۔ قیامت وہ دن ہے جب کہ مستور حقیقت ایک مشہور حقیقت بن جائے گی۔ پوری بشری تاریخ میں دو حقیقتیں ایسی تھیں جن کا ظہور نہ ہو سکا۔ اُن میں سے ایک ہے خالق کا اعراف جس کو قرآن میں حمد کہا گیا ہے ۔ اور دوسری چیز یہ ہے کہ انسان موجودہ دنیا میں ایک کامل فل فل مینٹ (Fulfilment)نہ مل سکا۔ قیامت کا دن اِنھیں دونوں حقیقتوں کےظہور کا دن ہوگا۔ ایک طرف وہ خالق کے کامل اعتراف کا دن ہوگا۔ اِسی بات کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وقیل الحمد للہ رب العالمین ۔ دوسری طرف وہ انسان کے لیے کامل فل فل منٹ کا دن ہوگا ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار اہل جنت اِس طرح کریں گے: وأو رتنا الؤرصف نبتدأ من الجنۃ حیث نشاء۔

25نومبر 2012

آج حسب معمول اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی۔ آج کی تقریر کا موضوع یہ تھا :

Physical Science or Divine Science.

اِس موضوع پر ایک گھنٹے کا خطاب ہوا ۔ خطاب کے بعد سوال و جواب اور ظہر کی نماز باجماعت کے بعد پروگرام ختم ہوا ۔ آج کے پروگراموں میں کئی نئے لوگ آئے تھے۔ مثلاً شفیع محمد ڈاکٹر کشمیری ، وغیرہ۔

26نومبر 2012

عمری گروپ میں سات نو جوان شامل ہیں جو جامعہ دارالسلام ( تمل ناڈو) سے فارغ اشخص ہیں ۔ اُن کو میں سات عمری (Seven Umaris)کہتا ہوں ۔ تقریباً ماہ سے ہر روز صبح کو ٹیلی فون پر اُن کا پروگرام ہوتا تھا۔ میںدہلی میں ہوتا تھا اور عمری حضرات مختلف مقامات سے بولتے تھے-مدارس، بنگلور ، قطر اور مکہ وغیرہ ۔ آج اس پروگرام کا آخری دن تھا۔ میرا احساس ہے کہ ایک با شعور انسان کی زندگی میں تعلیم اور تعلیم دونوں ایک ساتھ جاری رہتا ہے ۔ میں روزانہ 40منٹ تک ان لوگوں کو خطاب کرتا تھا۔ اس کےسے مجھ کو بھی سیکھ (Learning)ملتی تھی۔ ایک بات جو اِ س دوران میرے ذہن میں آئی ، وہ یہ تھی کہ -قدرت اپنی آخری حد پر پہنچ کر رحم بن جاتی ہے ، اور عجر اپنی آخری حد پر پہنچ کر استحقاق بن جاتا ہے ۔

میں نے اپنے مطالعے کے ذریعے دین کا جو خلاصہ سمجھا ہے ، وہ یہ ہے کہ نجات کا مدار حقیقتاً کسی دوسرے کی سفاعت پر نہیں ہے ، بلکہ آدمی کے خود اپنے عجز پر ہے ۔ ایک شخص کو جب اپنے عجز کا کامل شعور ہو جائے تو یہی عجز کامل کا شعور اس کے لیے نجات کی سفارش ہے۔ نہ کہ کوئی خارجی رکمنڈیشن (Reccomendation)۔ پیغبر کی شفاعت در اصل اِسی واقعے کی تصدیق ہے ، نہ کہ معروف معنوی میں سفارش ۔

27نومبر 2012

آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں -آل راؤنڈر اور سنگل راؤنڈر ۔ مجھے صرف سوچنا آتا ہے، اس کے سوا کوئی اور کام نہیں آتا۔ میں صرف ایک تھنکنگ انیمل ہوں۔ کوئی دوسرا معاملہ پیش آتا ہے تو میں وہی کہہ دیتا ہوں جو حسان بن ثابت انصاری نے غزوہ خندق کے موقع پر کہا تھا : ما أنا بصاعیب ھذا۔

آج سوچتے ہوئے میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑا عطیہ یہ ہے کہ وہ اس کو محروم کردے ۔ غالبا ً میرے ساتھ یہی معاملہ ہوا۔ سوچنے کے سوا مجھ کو ہر چیز سے محروم کر دیا گیا ، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے یہ کیا کہ بچپن سے لے کر اب تک کسی نہ کسی عورت یا مرد کو میرے ساتھ کھڑا کر دیا جو میری کمیوں اور محرومیوں کی تلافی کرے۔

28نومبر 2012

آج عمری صاحبان دہلی آئے۔ بر وقت اُن میں سے 5آدمی دہلی آئے ہیں ۔ لیکن مجموعی طور پر وہ 7ہیں، اِس لیے میںاُن کو سات عمری (Seven Umaris)کہتا ہوں۔

عمری صاحبان کے تعلق سے مجھے ذاتی طور پر کئی باتیں سمجھ میں آئیں۔ مثلاً آج اُن کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھ کو قرآن کی یہ آیت یاد آئی : لأنذرکم بہ ومن بلغ (6:19)بوقت نزول اِس آیت سے مراد وہ لوگ تھے جو پیغمبر سے ملی ہوئی باتوں کو سنتے تھے اور بول کر اُسے دوسرے لوگوں کو پہنچاتے تھے ، مگر اکیسویں صدی کے اِن عمری صاحبان نے اِس معاملے میں ایک اور مثال قائم کی ہے ۔ وہ میری باتوں کو ریکارڈ کرتے ہیں اور پھر ریکارڈ کی ہوئی باتوں کو سی پی ایس کی ویب سائٹ پر ڈال دیتے ہیں ۔ اِس طرح وہ ساری دنیا کے لوگوں کےلیے قابلِ سماعت بن جاتی ہے ۔ یہ گویا ’لأنذر کم بہ ومن بلغ‘ کا ایک نیا اظہار ہے جو ماڈرن کمیونکیشن کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ۔

29نومبر 2012

انسان کےلیے سب سے بڑی چیز معرفت ہے۔ میری سمجھ میںیہ آتا ہے کہ معرفت کے تین درجے ہیں۔ پہلا درجہ معرفت بذریعہ وحی کا ہے ۔ یہ معرفت اللہ کے رسولوں کو ملتی ہے ۔ معرفت کا دوسرا درجہ وہ ہے جو بذریعہ صاحبِ وحی حاصل ہوتا ہے۔ اِس درجے کی معرفت اصحاب رسول کو ملی۔ معرفت کا تیسرا درجہ وہ ہے جس کو میں بذریعہ علم کہتا ہوں ۔ معرفت کا یہ تیسرا درجہ اُن لوگوں کے لیے مقدر ہے جن کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے ۔ اِن تین درجوں کے سوا معرفت کا تیسرکوئی اور درجہ نہیں۔

30نومبر 2012

موجودہ زمانے میں تعداد کے اعتبار سے ’’مسیحت دنیا ‘‘ کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ تعداد کے حسا ب سے دوسرا نمبر مسلمانوںکا ہے ۔ بعد کے زمانے میں مسیحی اور مسلمان دونوں بگاڑ کا شکار ہوئے، البتہ دونوں کے بگاڑ میںایک فرق ہے۔ مسیحی حضرات کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے مذہب میں تحریف کردی۔ لیکن مذہب کے نام پر لڑائی سے وہ بڑی حد تک بچے رہے۔ مسلمان خدا کی کتاب قرآن میں تحریف تو نہ کر سکے ، لیکن انھوں نے مذہب کے نام پر ساری امت کو نفرت اور تشدد میں مبتلا کر دیا۔ مسیحی حضرات کےیہاں مقابلۃً امن ہے، لیکن محفوظ کتاب نہیں ۔ مسلمانوں کے یہاں محفوظ کتاب ہے ، لیکن اُن کے یہاں امن نہیں۔ مسیحی حضرات کے یہاں یہ ہوا کہ امن کی بنا پر دعوت کا تصور باقی رہا ۔ اِس کے بر عکس مسلمانوں کے یہاں متشددانہ ذہن کی بنا پر دعوت کا تصور حذف ہو گیا۔