Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
انتظار بھی حل ہے۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: «أفضل العبادة انتظار الفرج» الترمذی، کتاب الدعوات۔ یعنی کشادگی کا انتظار کرنا ایک افضل عبادت ہے۔ ہر فرد اور ہر گروہ پر ہمیشہ ایسے حالات آتے ہیں جن میں وہ اپنے آپ کو تنگی میں محسوس کرنے لگتا ہے۔
ایسے موقع پر بیشتر لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر تنگی کو ایک مستقل حالت سمجھ لیتے ہیں، اور اس کو فوراً اپنے آپ سے دور کرنے کے لیے حالات سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی لڑائی ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ تنگی پر کچھ اور مشکلات کا اضافہ کر لیا جائے۔ تنگی کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں آتی، وہ صرف وقتی طور پر آتی ہے۔
ایسی حالت میں تنگی کے مسئلے کا آسان حل صرف یہ ہے کہ انتظار کی پالیسی اختیار کی جائے۔ یعنی غیر ضروری طور پر حالات سے لڑائی نہ چھیڑی جائے، بلکہ سادہ طور پر انتظار کرو اور دیکھو۔ ویٹ اینڈ سی کی پالیسی اختیار کی جائے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کا ذہنی سکون برباد نہ ہوگا، اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ اپنے آپ، اپنے وقت پر ہو جائے گا۔
جب کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ فوراً اس کا حل نکل آئے۔ یہی اصل غلطی ہے۔ آدمی اگر پیش آئے ہوئے مسئلے کو انتظار کے خانے میں ڈال دے تو کوئی مسئلہ مسئلہ نہیں۔ کتاب «مسائل اجتہاد» مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 204۔