Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
قبل از وقت اقدام نہیں۔ پیغمبر اسلام تقریباً 13 سال تک مکے میں رہے، یہاں کی اکثریت آپ کی مخالف بنی رہی۔ انہوں نے ہر طرح آپ کو ستایا۔ تاہم آپ کے دعوتی جدوجہد کے نتیجے میں وہاں کے تقریباً 200 مرد اور عورت اسلام میں داخل ہو گئے۔
یہ لوگ بار بار آپ سے یہ کہتے کہ ہم ظلم کے خلاف جہاد کریں گے، مگر آپ ہمیشہ انہیں صبر کی تلقین کرتے رہے۔ مثلاً حضرت عمر فاروق نے قریش کے مظالم کے خلاف جہاد کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: "یا عمر، إنّا قليل" سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 441۔ یعنی: اے عمر، ہم تھوڑے ہیں۔ مکی دور کے آخر میں مدینے کے تقریباً 200 آدمی اسلام میں داخل ہو گئے۔
ان لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ مکے کے لوگ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں، تو انہوں نے بھی کہا کہ ہم کو ان ظالموں کے خلاف لڑنے کی اجازت دیجیے۔ مگر ان سے بھی آپ نے یہی فرمایا کہ صبر کرو، کیونکہ مجھے قتال کی اجازت نہیں دی گئی۔ اصبروا فإني لم أُؤمر بالقتال پیغمبر اسلام نے ہر قسم کے ظلم و زیادتی کے باوجود تقریباً 15 سال تک ایک طرفہ طور پر صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے بعد پہلی بار آپ غزوہ بدر کے موقع پر اپنے اصحاب کو لے کر دشمنوں سے مقابلے کے لیے نکلے۔
یہ بھی آپ نے اس وقت کیا جبکہ اللہ کی طرف سے یہ کھلا وعدہ آ گیا کہ آسمان سے فرشتے تمہاری مدد کے لیے آئیں گے۔ سورہ الانفال، آیت 9۔ پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ نہیں کہ جب بھی کوئی ظلم کرے تو فوراً اس کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے۔ آپ کی سنت یہ ہے کہ ظلم کے باوجود صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
عملی اقدام صرف اس وقت کیا جائے جبکہ اس کا نتیجہ خیز ہونا یقینی بن گیا ہو۔ کتاب مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 92۔