Masaail-e-Ijtihaad

Qanaat kamyabi ka raaz.

Masaail-e-Ijtihaad — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (165 chapters)
  1. Maujuda muslim muaasharah.(Second topic)
  2. Taqleed aur ijtehaad.(First topic)
  3. Ihteraam-e-insaniyat.
  4. Halaat ki riaayat.
  5. Nifaze ahkaam me tadreej.
  6. Maidane amal ki tabdeeli.
  7. Ijtehaadi amal ki ahmiyyat.
  8. Mutalaa-e-hadees ke darjaat.
  9. Ijtehaad kya hai.
  10. Fikri alamiyah.
  11. As sare nau ghaur karne ki salahiyat.
  12. Fiq ki tadveen daure iqtedaar me.
  13. Namuna maujud nahi.
  14. Shatme rasul ka masala.
  15. Amn ki taaqat.
  16. Maujuda fiq kafi nahi.
  17. Jadeed imkanat ka isteamal.
  18. Khilafe zamana ravish.
  19. Taqlidi nazar aur ijtehadi nazar ka farq.
  20. Tanqid aur ijtehad.
  21. Maidane badr ka inteqaab.
  22. Tanqid na sunne ka noqsan.
  23. Shakhsiyyat nahi balke usul.
  24. Tanqid ka fayeda.
  25. Sahi meayar aur ghalat meayar.
  26. Inqilabi zahen ki zarurat.
  27. Tafsir birraye.
  28. Tafsir bazaria-e-tadabbur.
  29. Sultani model,Dawati model.
  30. Do guna ghalati.
  31. Khulasa-e-bahs.
  32. Rabbani taaqqul.
  33. Ek sada misaal.
  34. Kainaat ka ibtedaee dhamaka.
  35. Zaujain ki misaal.
  36. Pakistan ke liye intekhab.
  37. Firasate momin.
  38. Nizaa ke mauqe par.
  39. Aaghaaze kaar.
  40. Tauheen ko bardaasht karna.
  41. Qab as waqt iqdaam nahi.
  42. Maqaame niza se hat jana.
  43. Aghyaar ki riaayat.
  44. Raazdari.
  45. Surate maujuda ko maan lena.
  46. Mushkil me aasaani.
  47. Tadbiri paspaee.
  48. Islaah me tadreej
  49. Amali halaat ki riaayat.
  50. Mustaqbil beeni.
  51. Fanne tafkeer(Art of thinking)
  52. Ilm baghair marifat.
  53. Zaviya-e-nazar ka farq.
  54. Do qismi soch.
  55. Danishmand ki pahchan.
  56. Secund chance.
  57. Mushkil aasaan hogaee.
  58. Ghalat soch ka noqsaan.
  59. Misalon se istedlal.
  60. Chota shar.
  61. Tahammul ki taqat.
  62. Zahni sukun.
  63. Ideal ya practical.
  64. Maqsad ki hifazat.
  65. Muamala barabar hogaya.
  66. Siyaq-o-sabaq ki ahmiyyat.
  67. Hafiza ka masala.
  68. Qanaat,taraqqi.
  69. Ektarfa adjustment.
  70. Mushkil me aasaani.
  71. Tameem ki ghalati.
  72. Sabaq lena,na ke sabaq sikhana.
  73. Amali tariqa.
  74. Iqdaam natija qayz hona chahiye.
  75. Zahni tanao.
  76. Meayaar ka farq.
  77. Bey bunyaad soch.
  78. Zahni taraqqi me rukavat.
  79. Amn kis liye.
  80. Waqt ke peeche sochna.
  81. Buraee ki jad.
  82. Soch ke baghair.
  83. Secundary position.
  84. Media culture.
  85. Ulti soch.
  86. Tanqeed koi buraee nahi.
  87. Upar uthkar sochna.
  88. Bachchon ke liye ziyada behtar tohfa.
  89. Ittehaad ka raaz.
  90. Usr ke sath yusr.
  91. Kamyaab izdiwaji zindagi.
  92. Aqida-e-Khuda aur science.
  93. Mazhab aur science.
  94. Pahla groh Bertrand Russell.
  95. Dusra groh Einstein
  96. Islam ek neamat.
  97. Qanaat kamyabi ka raaz.
  98. Amn kya hai.
  99. Kainaat ka mazhab amn hai.
  100. Quran ek kitabe amn.
  101. Amn aur tashaddud ka farq.
  102. Sulh behtar hai.
  103. Fasaad filarz nahi.
  104. Sazish ka qatima.
  105. Eak insan ka qatl sari dunya ka qatl.
  106. Shiddat pasandi nahi.
  107. Tashaddud ki aag ko bujhana.
  108. Islah ke bad fasad.
  109. Earaaz,na ke takraao.
  110. Sabr taraqqi ka raaz.
  111. Nizaa nahi.
  112. Jung sirf difaa ke liye.
  113. Pur amn nazriyyati ishaat.
  114. Sabr ka tariqa himayat yafta tariqa.
  115. Dushman ko dost banana.
  116. Khud apne amal ka natija.
  117. Ghussa ek kamzori hai.
  118. Haq par sabr ke sath jamna.
  119. Amn ki qeemat.
  120. Sulh ki peshkash ko qubul karna.
  121. Ziyada bada rizq.
  122. Amn pasandi tahaffuz ka zariah
  123. Insano ke liye rahmat.
  124. Jihad pur amn amal ka naam hai.
  125. Har haal me amn.
  126. Allah ka naam salamati.
  127. Taqatwar kaun.
  128. Samaji amn ka formula.
  129. Khamoshi me najaat.
  130. Dushman se takrao nahi.
  131. Non Violence ka tariqa.
  132. Ikhtelaf ki had.
  133. Pur amn tariq-e-kaar ziyada behtar.
  134. Lachak ka tariqa,na ke akad ka tariqa.
  135. Intezaar bhi hal hai.
  136. Pur amn shahri
  137. Khudaee intebaah,nake insani zulm.
  138. Khamoshi ki taaqat.
  139. Tashaddud mayusi ka natija.
  140. Positive statusquoism.
  141. Adawat ke masale ka hall.
  142. Tashaddud ka koi jawaz nahi.
  143. Hatyaar jama karna befayeda.
  144. Zameer behtareen judge hai.
  145. Fath bhi shikast hai.
  146. Shikayat ko fauran qatm karna.
  147. Dahshat gardi kya hai.
  148. Muslim policy ko badalne ki zarurat.
  149. Hijr-e-jameel.
  150. Ghair fitri radd-e-amal.
  151. Jung se amn tak.
  152. Amn baraye amn.
  153. Jung ka daur qatm.
  154. Sohbat ka falsafa.
  155. Umoomi sohbat.
  156. Tausiee sohbat.
  157. Chand islami masayel.
  158. Khuli mazimmat zaruri.
  159. Nakami ka case.
  160. Mazhab qatre me hai.
  161. Inteqaam se tashaddud tak.
  162. Jung ka zamana qatm.
  163. Bardaasht ki zarurat.
  164. Zamane ke qilaaf.
  165. Amn ke faaidey.

قناعت کامیابی کا راز ایک عوامی مثل ہے۔ یہ مثل زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتاتی ہے۔ اس مثل کے الفاظ یہ ہیں: "آدھی چھوڑ کے پوری دھاوے، پوری ملے نہ آدھی پاوے۔ " اصل یہ ہے کہ انسان بیشتر حالات میں اپنی خواہشات اور اپنی امنگوں، یعنی ambitions، کے تحت سوچتا ہے۔

اس بنا پر اکثر وہ ایسے اقدامات کر بیٹھتا ہے جو حقیقی حالات کے اعتبار سے اس کے لیے قابلِ حصول نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا عمل انجام کے اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوتا ہے۔ وہ ناممکن کو حاصل کرنے کی کوشش میں ممکن کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اکثر مشہور مسلم رہنماؤں کی کہانی یہی ہے۔

انہوں نے حقائق کی رعایت کیے بغیر محض اپنی خواہشوں اور امنگوں کے تحت بڑی بڑی چھلانگ لگا دی۔ اس کا نتیجہ ملت کے حصے میں تباہی کے سوا کچھ اور نہ آیا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے چند مثالیں لیجیے۔ نمبر 1: سردار شوکت حیات خان مشہور پاکستانی لیڈر ہیں۔

وہ متحدہ پنجاب کے سابق وزیراعظم مرحوم سر سکندر حیات خان کے صاحبزادے ہیں۔ سردار شوکت حیات خان نے اپنے کیریئر کا آغاز دوسری جنگ عظیم میں فوجی افسر کی حیثیت سے کیا۔ 1943 میں مسلم لیگ کی سیاست میں سرگرم طور پر شامل ہو گئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ پنجاب کے وزیر بنے اور وہاں کے دوسرے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔

سردار شوکت حیات خان نے اپنی زندگی کے حالات پر ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی ہے جس کا نام "The Nation That Lost Its Soul" ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ "گم گشتہ قوم" دسمبر 1995 عیسوی میں پاکستان سے چھپا ہے۔ کتاب کا یہ اردو ایڈیشن 461 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے ناشر جنگ پبلشرز لاہور ہیں۔

اس کتاب کے ایک باب کا عنوان "لیاقت علی خان" ہے، جو پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے۔ اس باب میں مختلف باتیں کہی گئی ہیں، ان میں سے ایک کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: "نوابزادہ لیاقت علی خان کو حقائق اور ملک کے جغرافیہ سے بھرپور واقفیت نہ تھی جس کے وہ پہلے وزیراعظم بن چکے تھے۔ " بعد میں کشپیر بعد میں کشمیر پر حملے کے دوران جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاہور آیا، ایک ڈنر جس میں لیاقت، گورنر مودی اور پنجاب کے چار وزیر موجود تھے، لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سردار پٹیل کا پیغام پہنچایا۔ پٹیل، جو ہندوستان کی ایک طاقتور شخصیت تھا، اس کا پیغام تھا کہ اس اصول کی پابندی کی جائے جو کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین ریاستوں کے مستقبل کے بارے میں طے پایا تھا، وہ یہ کہ ریاست اپنے باشندوں کی اکثریت اور سرحدوں کے ساتھ ملاپ کی بنا پر پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں گی۔

پٹیل نے کہا کہ پاکستان کشمیر کو لے لے اور حیدرآباد دکن کا مطالبہ چھوڑ دے، جہاں پر ہندو آبادی کی اکثریت تھی اور جس کا پاکستان کے ساتھ زمینی یا سمندری ذریعے سے کوئی اتصال بھی نہ تھا۔ یہ پیغام دینے کے بعد ماؤنٹ بیٹن گورنمنٹ ہاؤس میں آرام کرنے چلا گیا۔ میں کشمیر آپریشن کا مکمل نگران تھا۔ میں نے لیاقت علی خان کے پاس جا کر انہیں تجویز دی کہ ہندوستان کی فوج جو کشمیر میں داخل ہو چکی ہے، ہم قبائلیوں کی مدد سے اس کو باہر نکالنے اور کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے، یہاں تک کہ ہماری اس وقت کی فوج بھی اس کامیابی کے حصول میں شاید مددگار ثابت نہ ہو سکے گی۔

لہٰذا ہمیں سردار پٹیل کی پیشکش کو ٹھکرانا نہیں چاہیے۔ نوابزادے نے میری جانب مڑ کر کہا، "سردار صاحب، کیا میں پاگل ہو گیا ہوں کہ میں کشمیر کے پہاڑوں اور ٹیلوں کے بدلے ریاست حیدرآباد دکن کو چھوڑ دوں جو پنجاب سے بھی بڑی ریاست ہے؟ " پرائم منسٹر کے اس ردعمل کو دیکھ کر میں تو سن ہو گیا کہ ہمارا وزیراعظم ملکی جغرافیہ سے اتنا بے خبر تھا۔ اس کی ذہانت کا یہ معیار کہ وہ حیدرآباد دکن کو کشمیر پر ترجیح دے رہا ہے، یہ تو احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہے۔

بات تھی حیدرآباد کا حصول ایک سراب تھا، جبکہ کشمیر اپنے آپ مل رہا تھا۔ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ اہمیت سے وہ قطعی واقف نہیں تھے۔ چنانچہ احتجاج کے طور پر میں نے کشمیر آپریشن کی نگرانی سے استعفیٰ دے دیا۔ صفحہ 231 تا 232۔

سردار شوکت حیات خان کا یہ بیان اس دردناک حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم لیڈر کس طرح مذکورہ مثل کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ ممکن اور ناممکن کے فرق کو سمجھ نہ سکے۔ وہ نہ ملنے والی چیز کو پانے کے لیے دوڑے، نتیجہ یہ ہوا کہ ملنے والی چیز بھی ان سے کھو گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملنے والی چیز بھی ان سے کھوئی گئی، اور نہ ملنے والی چیز تو سرے سے ملنے والی ہی نہ تھی۔

نمبر 2: اب اس نوعیت کی ایک اور مثال لیجیے۔ اس مثال کا تعلق 1947 سے پہلے کے دور سے ہے، جبکہ برصغیر ہند میں انگریزوں کا سیاسی اقتدار قائم تھا۔ اس مثال کو اردو "ہفت روزہ الجمعیت" سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے اجلاس امروحہ، 3 تا 5 مئی 1930 عیسوی سے کچھ روز قبل، وائسرائے ہند کی کونسل کے ایک ذمہ دار ممبر سر میاں فضل حسین مرحوم نے صاحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی کو بلا کر یہ پیشکش کی کہ آپ جمعیت علماء کے اجلاس امروحہ میں کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل کی تجویز پاس نہ ہونے دیں۔

میں حکومت برطانیہ سے مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے ملحقہ جائیداد بمع اراضی جمعیت علماء ہند کے علمی کاموں کے لیے دلوا دوں گا۔ حضرت مولانا نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا: "میاں صاحب، تمام علمائے کرام و زعماء عظام مجھے بے وقوف نہیں بنائیں گے کہ ہم پورے ملک کو حاصل کرنے کی تجویز پاس کر رہے ہیں اور تم صرف ایک مقبرہ، وہ بھی مسلمانوں کے وقف ملکیت پر فیصلہ کر رہے ہو۔ " مولانا کے جواب سے میاں صاحب موصوف کو بہت مایوسی ہوئی۔ یہ واقعہ حضرت مولانا نے راقم الحروف سے خود بیان فرمایا تھا۔

جمعیت علمائے ہند کا پچاس سالہ عہد از شیخ عبدالحق پراچہ دہلوی، ناظم اعلیٰ جمعیت علماء صوبہ دہلی، مطبوعہ "الجمعیت ویکلی" دہلی، 2 جنوری 1970 عیسوی، صفحہ 8۔ 1930 عیسوی کے اس واقعے کو اب 75 سال کے بعد کے حالات کی روشنی میں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں وہی صورت پیش آئی جس کا ذکر مذکورہ عوامی مثل میں کیا گیا ہے۔ 75 سال پہلے کے رہنماؤں کو ایک نہایت قیمتی موقع کسی کوشش کے بغیر مل رہا تھا، مگر وہ اس قیمتی موقع سے صرف اس لیے فائدہ نہ اٹھا سکے کہ ان کے ذہن میں ایک بہت بڑی چیز بسی ہوئی تھی، اگرچہ حقیقت واقعے کے اعتبار سے وہ چیز انہیں ملنے والی ہی نہ تھی۔ انگریزوں کی مذکورہ پیشکش اپنے امکانات کے اعتبار سے وہی اہمیت رکھتی تھی جس کی پیشکش مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانے میں انگریز تاجر کو کی گئی اور اس نے اس کو فوراً قبول کر لیا۔

75 سال پہلے کے مسلم رہنما اگر انگریز کی مذکورہ پیشکش کو قبول کر لیتے اور اس کو علمی اور تعلیمی اور دعوتی مرکز بنا دیتے تو اس کے نتائج اتنے دور رس نکلتے کہ شاید تاریخ کا نقشہ ہی کچھ دوسرا ہوتا۔ اوپر جو دو مثالیں پیش کی گئیں، یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مشہور رہنماؤں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے کام کے عظیم مواقع موجود تھے، مگر تقریباً ہر ایک کا یہ حال ہوا کہ وہ ناممکن کو نشانہ بنا کر اس کی طرف دوڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن کو بھی حاصل نہ کر سکا، اور ناممکن تو حاصل ہونے والا ہی نہ تھا۔

مثلاً سید جمال الدین افغانی کو ترکی کی عثمانی سلطنت نے کام کے عظیم مواقع دیے، مگر جمال الدین افغانی خود عثمانی سلطنت کی جڑ اکھاڑنے پر تل گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ترکی کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مصر کے سید قطب کو وزارت تعلیم بہت چھوٹی چیز لگی۔ وہ خود ناصر کے سیاسی اقتدار کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہونا پڑا۔ یہی معاملہ پاکستان میں سید ابو الاعلی مودودی کے ساتھ پیش آیا۔ وہاں کے سابق حکمران صدر محمد ایوب خان نے سید ابو الاعلی مودودی اور ان کے ساتھیوں کو یہ پیشکش کی کہ وہ حکومت کے مکمل تعاون سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر ایک نیشنل یونیورسٹی بنائیں اور اس کے ذریعے وہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر کام کریں۔ مگر دوبارہ یہی ہوا کہ سید ابو الاعلی مودودی کو مذکورہ پیشکش چھوٹی معلوم ہوئی۔

انہوں نے پوری حکومت پر قبضہ کرنے کی دھواں دار تحریک شروع کر دی، مگر تمام کوششوں کے بعد آخر کار جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ وہ چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہو کر رہ گئے۔ یہی موجودہ زمانے کے اکثر مسلم رہنماؤں کی کہانی ہے۔ وہ اپنی خیالی امنگوں میں اتنا گم ہوئے کہ انہیں حقائق و واقعات کی خبر نہ ہو سکی۔ وہ بڑے بڑے نشانوں کو اپنا مقصد بنا کر ان کی طرف دوڑتے رہے، حالانکہ یہ نشانے سرے سے ان کے لیے قابلِ حصول ہی نہ تھے۔

اور جو چیز ان کے لیے حالات کے اعتبار سے قابلِ حصول تھی، وہ انہیں دکھائی ہی نہ دی۔ اسی غیر حقیقت پسندانہ مزاج کا نتیجہ ہے کہ ان مشہور رہنماؤں نے صرف ناکام اقدامات کی مثالیں قائم کیں۔ وہ کامیاب اور نتیجہ خیز اقدام کی مثال قائم نہ کر سکے۔ زیادہ کو پانے کی کوشش میں وہ تھوڑے سے بھی محروم رہے۔

مسلم رہنماؤں کی اس بھیانک غلطی کا سبب یہ تھا کہ تھوڑے کو وہ صرف تھوڑا سمجھے۔ وہ تھوڑے کو زیادہ کے روپ میں نہ دیکھ سکے۔ وہ زندگی کے اس راز سے ناآشنا رہے کہ عمل کا آغاز ہمیشہ تھوڑے سے کیا جاتا ہے۔ زیادہ سے عمل کا آغاز ممکن نہیں۔

جو آدمی اس راز کو سمجھ لے، وہ تھوڑے سے شروع کر کے آخر کار زیادہ تک پہنچ جائے گا۔ اور جو شخص اس راز کو نہ سمجھے، وہ اپنے غیر حقیقت پسندانہ مزاج کی بنا پر اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہ پائے گا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز پا لے، وہ کبھی نہ کبھی اپنی منزل تک پہنچ جائے گا۔ اور جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز نہ پائے، وہ کبھی اپنی منزل تک نہ پہنچے گا، خواہ وہ ساری عمر بے فائدہ دوڑ دھوپ کرتا رہے۔

زندگی کے اسی اصول کا نام دینی اصلاح میں قناعت ہے، اور قناعت بلاشبہ ہر قسم کی انفرادی اور اجتماعی کامیابیوں کا واحد راز ہے۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ مثلاً صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ، الترمذی، کتاب الزہد، مسند احمد بن حنبل وغیرہ۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: "إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قد أفلح من أسلم رزق كفافًا وقنعه الله بما آتاه" مسند احمد جلد 2 صفحہ 168۔

یعنی اس شخص نے فلاح پائی جس نے اسلام قبول کیا اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے اس کو اس پر قناعت دی جو اس کو اس نے دیا۔ اس حدیث کو عام طور پر انفرادی معنوں میں اور معاشی مفہوم میں لیا جاتا ہے، مگر وہ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ اس حدیث کا پورا مطلب یہ ہے کہ افراد یا قوموں کو موجودہ زمانے میں جو کچھ ملے یا حالات کے اعتبار سے جو ان کے لیے ممکن ہو، اس کو وہ خوش دلی کے ساتھ قبول کر لیں۔ اس پر راضی رہتے ہوئے وہ اپنا عمل شروع کر دیں۔

اس کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ملے ہوئے کو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ جو کچھ ان کو حال میں حاصل نہیں، وہ ان کی منصوبہ بند جدوجہد کے نتیجے میں مستقبل میں حاصل ہو جائے۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 163۔